Malik Qayyum official

Malik Qayyum official New and used motorcycles ato exchange sell and buy

18/08/2024

Aj kl Pakistan k halat....

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی سردار اویس احمد خان لغاری کا بجلی کا بل 131 روپے ، وہ بھی جون کے مہینے کا۔ اور انکا کہنا ھے...
02/07/2024

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی سردار اویس احمد خان لغاری کا بجلی کا بل 131 روپے ، وہ بھی جون کے مہینے کا۔
اور انکا کہنا ھے کہ غریب ایسے ہی شور کر رہے ہیں کوئی بجلی مہنگی نھیں ھوئی۔۔۔غریبو کچھ سوچو ذرا

" جو میں اپنے لیے چاہتی تھی وہ مجھے کبھی نہیں ملا حالانکہ میں نے خوش رہنے کے لیے اپنے منصوبے ہزار بار بدلے اور ہزار بار ...
01/07/2024

" جو میں اپنے لیے چاہتی تھی وہ مجھے کبھی نہیں ملا حالانکہ میں نے خوش رہنے کے لیے اپنے منصوبے ہزار بار بدلے اور ہزار بار سہنے کی اور جینے کی کوشش کی۔۔۔"

لیڈی ڈیانا
یکم جولائی یومِ ولادت لیڈی ڈیانا

10/06/2024

کیا یہ درست ھے ۔۔۔اپنی قیمتی رائے دیجئے ۔

07/06/2024

یورپ میں جو لڑکی اسکول جاتی ہے۔ وہ کو ایجوکیشن اسکول ہوتا ہے۔ وہاں وہ بوائے فرینڈ بنا لیتی ہے۔ اس کے والدین کو پتہ ہوتا ہے۔ وہ اپنا لنچ اس سے شئیر کرتی ہے۔ فخر سے بتاتی ہے اپنے والدین کو۔ وہ بھی اس کو قبول کرتے ہیں۔ عام طور پر معاشرہ اس کو قبول کرتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ابھی بچپن ہے تو لڑکی ماحول سے سیکھ رہی ہے۔

دس بارہ سال کی عمر میں لڑکیاں بوائے فرینڈ کا اصل مفہوم سمجھ جاتی ہیں۔ ان میں سے ستر اسی فیصد جنسی طور پر بلوغت کی طرف بڑھتی ہیں تو اس کو فطری سمجھتی ہیں کہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ جنسی تعلقات بنا لیں۔ یہاں صرف یہ دھیان رکھیں کہ یہ تعلقات ضروری نہیں کہ مکمل جنسی عمل ہو۔ لیکن بحرحال جو بھی ہوتا ہے وہ جلد مکمل جنسی عمل کی طرف ہی جاتا ہے۔

والدین اور معاشرہ یہاں بھی دخل نہیں دیتا۔ والدین دخل دے بھی نہیں سکتے کہ ریاست کے قوانین کے مطابق وہاں بچوں کو ان کاموں سے روکا نہیں جا سکتا۔ والدین کی اکثریت نقصانات سے آگاہ ہوتی ہے لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے۔ اس لیے وہ صرف احتیاط کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں، یا گھر کی حد تک نگرانی کرتے ہیں۔ تاکہ انکی بیٹی کم عمری میں حاملہ نہ ہو جائے۔

اسکے باوجود لڑکیاں دس سے چودہ سال کی عمر میں حاملہ ہو سکتی ہیں۔ تو ریاست انکے لیے کافی سہولتیں مہیا کرتی ہے۔ انکے حمل کا سارا خرچہ، بچے کی ڈلیوری اور ڈلیوری کے بعد کافی عرصے تک بچے کے لیے اخراجات کی فراہمی۔ (یہ عیاشی نہیں ہوتی۔ بلکہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ کمسن ماں اور بچہ ذلیل ہو کر مرتے نہیں ہیں)

دوسری طرف معاشرے میں ابھی بھی ایسی کمسن ماؤں کو ترس، ہمدردی، اور کچھ طعنہ آمیز نظروں سے دیکھا ضرور جاتا ہے لیکن وہاں کی تیزرفتار زندگی میں لوگ ایک دوسرے سے ویسے بھی بیگانہ ہوتے ہیں۔ تو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی کمسن ماں کو وہاں پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں، یا کوئی ایوارڈ دیا جاتا ہے تو آپ غلط ہیں۔

اوپر جو ماحول بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے مطابق وہاں جب لڑکیاں کالج، یونیورسٹی پہنچتی ہیں تو لڑکوں سے میل جول ان کے لیے کوئی ایکسائٹمنٹ نہیں ہوتی۔ بلکہ بچپن سے اس سے واقف ہونے کی وجہ سے وہ لڑکوں کو اچھے سے ڈیل کر سکتی ہیں۔( دونوں جنسوں کا ایک دوسرے کو دھوکہ تو ساری زندگی چلتا رہتا ہے۔) ۔ ۔ سمجھدار لڑکیاں بوائے فرینڈ بنانے کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی کر لیتی ہیں، اور اپنا کیرئیر بھی بنا لیتی ہیں۔ باقی جو سمجھدار نہیں بھی ہوتیں، وہ لڑکوں سے میل جول میں اتنا پاگل نہیں ہوتیں کہ انکی پڑھائی متاثر ہو جائے۔

اب اس آخری پیراگراف میں پاکستان کی یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی زندگی کا موازنہ کر لیجیے۔
ستر اسی فیصد دیہات سے آنے والی لڑکیاں کس ماحول سے آتی ہیں؟ ایسا ماحول جہاں ابھی تک بوائے فرینڈ کا تصور یا تو موجود نہیں، یا پھر علم ہونے پر فساد اور مارا ماری تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اکثر لڑکیاں نیم مذہبی گھرانوں، یا تربیت سے آتی ہیں، اور دوپٹہ چادر کرنا انکی مجبوری ہوتی ہے۔

شہر اور دیہات کی ملا کر اسی سے نوے فیصد لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں، جن کو اسکول کے زمانے میں کسی لڑکے کی مسلسل موجودگی کی کوئی تربیت نہیں ہوتی۔

ایسے میں یہ لڑکیاں جب یونیورسٹی میں ایسے ماحول میں آتی ہیں کہ جہاں لڑکوں سے اختلاط آسان ہوتا ہے۔ جہاں لڑکے بھی ہر لمحہ انکے ایک اشارے پر دستیاب ہوتے ہیں کہ وہ جو کہیں انکے ساتھ کرنے کو تیار ہو جائیں۔ بلکہ لڑکے اس مہم پر ہوتے ہیں کہ وہ لڑکیاں کچھ بھی مان جائیں۔ ۔ کیونکہ لڑکوں کے لیے اس عمر میں لڑکی کے جسم کو فتح کرنا ایک ایڈوینچر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا (یہ الگ موضوعات ہیں، جو میں بوجوہ ٹچ نہیں کرتا) ۔

اسی ماحول میں جو لڑکیاں صرف پڑھائی کرنا چاہتی ہیں، انکو بھی انکی فرینڈز کی ڈیٹوں کی تفصیل۔ بوائے فرینڈ کے میسجز، روٹھنا منانا، جنسیت پر مبنی بات چیت، اور انکے سامنے قربت کے لمحات جیسے چیلنجز ہوتے ہیں۔ ممکن ہے آپ میں سے بہت سے لوگوں کے والدین کو یہ جملے عجیب لگیں، لیکن ایک ایسی بیٹی کو، جس کو آپ نے بیرونی ماحول سے بے خبر رکھا ہے، اچانک ایسا ایکپوزر دینا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، یہ کوئی ماہر نفسیات ہی آپ کو بتا سکتا ہے۔ وہ بھی جو مغرب زدہ لبرل نا ہو تاکہ نفسیات کے علم میں ڈنڈی نا مار دے۔ اپنے ایجنڈہ کی وجہ سے۔

ایسے ماحول میں اگر لڑکی پریگننٹ ہو جائے تو اس کے لیے زندگی موت سے بدتر ہو سکتی ہے۔ معاشرہ اس کو زندہ درگور کر دیگا۔ والدین کے لیے زمین تنگ ہو جائیگی۔ اگر پریگننٹ نا بھی ہو، مگر ان دلچسپیوں میں کھو جائے تو پڑھائی تو جائیگی ہی، اس کی نفسیات بگڑ جائیگی۔ اپنے والدین دقیانوسی اور اپنا گاؤں جہالت کا منبع لگنے لگے گا۔ (حالانکہ ساری ترقی کے باوجود انسان گندم اور چاول اسی دیہات سے کھاتا ہے۔ اسی طرح ساری ماڈرنزم کا مقصد صرف عورت کا جسم سستا کرنا اور انڈسٹری کو سستے مزدور مہیا کرنا ہی ہوتا ہے۔ )

اس ماحول سے آپ کی بیٹی کی کیا نفسیات بنتی یا بگڑتی ہے۔ وہ یونیورسٹی کے چار سالوں میں کیا سے کیا بن جاتی ہے؟ اس کا اندازہ میں بحرحال والدین پر چھوڑتا ہوں۔

میری اس تحریر کا مقصد صرف حالات کی درست نشاندہی ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بیشمار چیلنجز کا شکار ہے۔ اور ہماری تہذیب جو خواتین کے لیے بھی ایک سائبان تھی، اور مردوں کے لیے بھی سکون کا باعث تھی، اب ماڈرنزم کے مقابل بہت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اور ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل بھی موجود نہیں ہے۔

شائد بہت سے والدین کو پتہ چل جائے تو وہ خود اپنے ان مسائل کا حل نکال سکیں۔

محمود فیاض Mahmood Fiaz

04/06/2024

آج کل مارکیٹ میں نیا فراڈ آیا ہے ۔اس کو غور سے سنیں اور آگے شیئر بھی کر دیں تاکہ کوئی آ پ کا اپنا نا لٹ جاے ۔
Dera Ghazi Khan Layyah District Vehoa PTI (Pakistan)

Address

Dera Ghazi Khan

Opening Hours

09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Qayyum official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share