Goraya Legal Consultant

Goraya Legal Consultant Creative solution for people
Tax Consultant
We provide IncomeTax facilities Return Filling
NTN Issuance
Sales Tax
Company Registration
With SECP

Creative solution for You

07/07/2025

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!

اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت ازسرنو اسیسمنٹ کی کارروائی شروع کی۔ ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز "Undisclosed Income" ہیں، لہٰذا انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔
لیکن ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس بذات خود "Definite Information" نہیں ہوتیں کیونکہ یہ صرف لین دین کا ریکارڈ ہیں، ان سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آمدن ہے، یا یہ کسی مخصوص ٹیکس ایئر کی آمدن سے متعلق ہے۔
ماتحت عدالت نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا جسے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلہ:
بینک اسٹیٹمنٹس صرف ایک لین دین کا ریکارڈ ہیں، یہ خود بخود "Definite Information" نہیں بنتیں جب تک یہ مخصوص اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ کسی آمدنی سے واضح تعلق ظاہر نہ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ "سیکشن 122(5A) کے تحت کوئی بھی کارروائی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب معلومات واضح، مخصوص اور قابلِ تصدیق ہوں، محض قیاس یا شبہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔
اہم نکات: بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود "Definite Information" نہیں ہے۔
معلومات کا ٹیکس ایبل آمدنی سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔
صرف قیاسی یا عمومی معلومات کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت نوٹس غیرقانونی ہوگا۔
عدالت نے ایف بی آر کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔.

18/12/2024

حکومت کا نان فائلرز کے گرد شکنجہ مزید سخت کرنے کی تیاری

ٹیکس لاء ترمیمی بل 2024-25 قومی اسمبلی میں پیش

نان فائلرز پر آٹھ سو سی سی سے زائد گاڑیاں خریدنے پر پابندی ہوگی، مجوزہ ترمیم

نان فائلرز مخصوص حد سے زیادہ جائیداد نہیں خرید سکیں گے، مجوزہ ترمیم

نان فائلرز پر مخصوص حد سے زیادہ شئیرز کی خریداری پر بھی پابند ہوگی، مجوزہ ترمیم

نان فائلر بینک اکاؤنٹ اوپن نہیں کر سکیں گے، مجوزہ ترمیم

نان فائلز ایک حد سے زیادہ بیکنگ ٹرانزیکشنز نہیں کر سکیں گے، مجوزہ ترمیم

نان فائلرز کو موٹر سائکل، رکشہ اور ٹریکٹر خریدنے کی اجازت ہوگی، مجوزہ ترمیم

غیر رجسٹرڈ کاروباری افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے، مجوزہ ترمیم

غیر رجسٹررڈ کاروباری افراد جائیداد ٹرانسفر نہیں کر سکیں گے، مجوزہ ترمیم

غیر رجسٹرڈ افراد کی پراپرٹی کاروبار حکومت سیل کرنے کی مجاز ہوگی، مجوزہ ترمیم

سیلز ٹیکس رجسٹریشن نہ کرانے پر بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے، مجوزہ ترمیم

سیلز ٹیکس رجسٹریشن نہ کرانے پراپرٹی ٹرانسفر پر پابندی ہوگی، مجوزہ ترمیم

سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے دو دن بعد ان فریز کر دیئے جائیں گے، مجوزہ ترمیم

فائلر کے والدین اور اولاد 25 سال تک کی عمر کے بچے اور بیوی فائلرز تصور ہونگے، مجوزہ ترمیم

FBR HAS INTRODUCED THE SYSTEM OF E-PAYMENTS IN IRIS.
11/11/2024

FBR HAS INTRODUCED THE SYSTEM OF E-PAYMENTS IN IRIS.

07/10/2024

As per news not confirmed.

حکومت کی طرف سے بیان کردہ 15 پابندیوں میں شامل ہیں:

1. غیر مذہبی سفر پر پابندی: نان فائلرز کو غیر مذہبی سفر کرنے سے منع کیا جائے گا۔
2. نقد رقم نکالنے کی حد: نان فائلرز کے لیے سالانہ کیش نکالنے کی حد 30 ملین روپے ہوگی۔
3. اثاثوں کی خریداری پر پابندی: نان فائلرز کو جائیداد یا گاڑیاں خریدنے سے روک دیا جائے گا۔
4. سرمایہ کاری کی پابندیاں: نان فائلرز کو اسٹاک مارکیٹ اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
5. کرنٹ اکاؤنٹ کی حدود: نان فائلرز کی کرنٹ بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اہلیت پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔
6. زیادہ ودہولڈنگ ٹیکس: نان فائلرز کو مختلف لین دین پر ٹیکس کی زیادہ شرح کا سامنا کرنا پڑے گا۔
7. جائیداد کی خریداری کے لیے آمدنی کا ثبوت: زیادہ آمدنی والے فائلرز کو جائیداد کے حصول کے لیے اپنی آمدنی کے ذرائع کا جواز پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔
8. دیگر خریداریوں کے لیے وضاحتیں: کم آمدنی والے فائلرز کو اہم خریداریوں کے لیے وضاحت فراہم کرنی چاہیے۔
9. بینکوں کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ: نان فائلرز کے بارے میں معلومات بینکوں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ چیک نکالنے کو محدود کیا جا سکے۔
10. مارکیٹ ویلیو سے کم جائیداد کی خریداری: حکومت ٹیکس گوشواروں میں مارکیٹ ویلیو سے کم درج جائیداد خریدے گی۔
11. چیک استعمال کی پابندیاں: کچھ لین دین کے لیے چیک کے استعمال پر پابندیاں ہوں گی۔
12. لین دین پر پابندی: نان فائلرز کے لیے 15 قسم کے لین دین پر بتدریج پابندی نافذ کی جائے گی۔
13. کوئی ٹیکس چھوٹ نہیں: نان فائلرز کسی بھی ٹیکس کٹوتیوں یا چھوٹ کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔
14. کاروباری مواقع کی حدیں: نان فائلرز کو کاروباری سرگرمیاں کرنے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
15. جانچ میں اضافہ: نان فائلرز پر بہتر آڈٹ اور جانچ کا اطلاق کیا جائے گا۔

30/09/2024
30/09/2024

*نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، اور بین الاقوامی سفر، اکاؤنٹ کھولنے پر پابندی ہوگی*

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرکے ٹیکس نہ دینے والوں پر15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 5 ابتدائی طور پر لگائی جائیں گی جن میں جائیداد، گاڑیوں، بین الاقوامی سفر ، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری پرپابندیاں شامل ہیں۔

ایف بی آر نے نان فائلرز کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پابندیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا تاکہ ٹیکس کمپلائنس کو بڑھایا جا سکے اور ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے، نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر دیا جائے گا۔

ابتدائی پابندیوں میں جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری، کرنٹ اکاؤنٹس کھولنے اور بین الاقوامی سفر (مذہبی سفر کے علاوہ) شامل ہیں۔

حکومت نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ افراد جو پہلے ان لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے ایک معمولی فیس ادا کرتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکیں گے۔

ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لانگریال نے انکشاف کیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر 5 کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، یہ اقدامات ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں، جسے وزیر اعظم کی منظوری مل چکی ہے۔

ایک سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ اس اقدام کو ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، اور ایف بی آر پہلے ہی اس کے قواعد پر کام کر رہا ہے اور قانون کی وزارت کو اس عمل میں شامل کر رہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے اورتوجہ ٹیکس کمپلائنس کرنے والے اور نہ کرنے والے افراد پر مرکوز ہونی چاہیے۔"ہم جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے جبکہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں کیا جا سکا، نئی پالیسیوں کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاؤنٹس کھولنے سے روکا جائے گا، سوائے کم آمدنی والے افراد کے بنیادی اکاؤنٹس کے، اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے، ایف بی آر ملک بھر میں اہم داخلی مقامات پر آٹومیشن اور افرادی قوت کو بڑھا رہا ہے۔

26/09/2024

پاکستان میں درج ذیل افراد کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے:

1. ملازمین (تنخواہ دارافراد):

اگر ان کی سالانہ آمدنی چھ لاکھ سے زیادہ ہو۔

2. کاروباری افراد:

اگر ان کی سالانہ آمدنی چار لاکھ سے زیادہ ہو۔

3. پراپرٹی مالکان:

اگر ان کی پراپرٹی سے حاصل ہونے والی کرایہ کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپے سے زیادہ ہو۔

4. گاڑیوں کے مالکان:

وہ افراد جو ایک ہزار سی سی یا اس سے زیادہ انجن کی گاڑی رکھتے ہوں۔

5. زمین کے مالکان:

اگر ان کی ملکیت میں ایسی غیر منقولہ جائیداد ہو جس کی مالیت پچاس لاکھ سے زیادہ ہو۔

6. غیر ملکی آمدنی کمانے والے:

اگر ان کی غیر ملکی آمدنی دس ہزار سے زیادہ ہو۔

7. منافع بخش لین دین کرنے والے افراد:

وہ افراد جنہوں نے پراپرٹی، شیئرز یا کسی بھی قسم کی کیپیٹل گینز کی لین دین سے منافع حاصل کیا ہو۔

8. رجسٹرڈ کمپنیاں اور فرمز:

تمام کمپنیاں اور رجسٹرڈ فرمز اپنی آمدنی کی پرواہ کیے بغیر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی پابند ہیں۔

9. پچھلے سال کے غیر فائلرز:

اگر کوئی شخص پچھلے سال ٹیکس فائل کرنے کا پابند تھا مگر اس نے فائل نہیں کیا۔

2024 کے لیے ملازمین کے لیے ٹیکس سلیب:

1. PKR 600,000 تک:

کوئی ٹیکس نہیں

2. PKR 600,001 – PKR 1,200,000:

چھ لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پہ اڑھائی فیصد ٹیکس

3. PKR 1,200,001 – PKR 2,400,000:

بارہ لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پہ ساڑھے بارہ فیصد جمع پندرہ ہزار روپے ٹیکس

4. PKR 2,400,001 – PKR 3,600,000:

چوبیس لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن پہ بیس فیصد جمع ایک لاکھ پینسٹھ ہزار روپے ٹیکس

5. PKR 3,600,001 – PKR 6,000,000:

چھتیس لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پہ پچیس فیصد جمع چار لاکھ پانچ ہزار روپے ٹیکس

6. PKR 6,000,001 اور اس سے زیادہ:

ساٹھ لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پہ ساڑھے بتیس فیصد جمع دس لاکھ پانچ ہزار روپے ٹیکس

اگر کسی شخص کی سالانہ آمدنی چھ لاکھ روپے سے کم ہے تو اسے ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ تاہم، ٹیکس فائلنگ کے قواعد کے مطابق، ایسے افراد کو پھر بھی ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے۔

اگر وہ ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے، تو ایک حالیہ خبر کے مطابق ان پر مختلف پندرہ مالی پابندیاں لگ سکتی ہیں، مثلاً نان فائلر نیا کرنٹ بینک اکاؤنٹ نہیں بن سکے گا، بیرون ملک سفر پہ پابندی، گاڑی جائیداد کی خرید و فروخت پہ پابندی، بینک ٹرانزیکشنز میں اضافی ٹیکس دینا، میوچل فنڈ میں انویسٹ کرنے پہ پابندی وغیرہ۔

فائلر بننے کے کئی فوائد ہیں، جیسے فائلر ہونے کی صورت میں بہت سی سرکاری خدمات پر کم ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

12/09/2024

معزز ٹیکس گزار - مالی سال 2024 کا انکم ٹیکس گوشوارہ پہلی فرصت میں جمع کروائیں - گوشوارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2024 ہے اور اس میں توسیع ہر گز نہ ہو گی-

23/07/2024

Address

Chamber No. 25 Chamber Complex New Complex Daska. 2nd Off: Gt Road Near Allied School College Chowke
Daska
51010

Opening Hours

Monday 09:00 - 15:00
16:00 - 21:00
Tuesday 16:00 - 21:00
Wednesday 16:00 - 21:00
Thursday 16:00 - 17:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 16:00 - 21:00
Sunday 10:00 - 21:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Goraya Legal Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Goraya Legal Consultant:

Share