29/03/2026
*جنازہ ایک لمحہ، غفلت ایک زندگی*
زندگی کی تیز رفتاری میں انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہے۔ وہ منصوبے بناتا ہے، خواب سجاتا ہے، اور دنیا کی رنگینیوں میں ایسا کھو جاتا ہے کہ اسے موت کا خیال تک نہیں آتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی ایک طرف، اور اس کا جنازہ ایک لمحے میں گزر جاتا ہے۔
جنازہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ چند لوگ کندھا دیتے ہیں، کچھ دعائیں پڑھتے ہیں، اور پھر مٹی کی چند مٹھیوں کے ساتھ ایک پوری کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ نہ عہدے ساتھ جاتے ہیں، نہ دولت، نہ شہرت سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ جو باقی رہتا ہے وہ صرف انسان کے اعمال ہوتے ہیں۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم جنازے کو دیکھتے ہیں، اس میں شریک بھی ہوتے ہیں، چند لمحوں کے لیے دل نرم بھی ہو جاتا ہے، مگر جیسے ہی قبرستان سے باہر نکلتے ہیں، ہم پھر اسی غفلت کی دنیا میں واپس چلے جاتے ہیں۔ یہی وہ غفلت ہے جو ایک لمحے کے اثر کو پوری زندگی پر غالب نہیں آنے دیتی۔
غفلت دراصل وہ پردہ ہے جو انسان کے دل اور حقیقت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کو وقتی خوشیوں میں ایسا الجھا دیتی ہے کہ وہ اصل مقصد حیات کو بھول جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، حالانکہ موت کسی وقت بھی آ سکتی ہے بغیر اطلاع، بغیر تیاری کے۔
دانشمندی یہ نہیں کہ انسان جنازے میں جا کر رو لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس منظر سے سبق حاصل کرے۔ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لے، اپنی غلطیوں کو سمجھے، اور اپنی زندگی کو درست سمت میں لے آئے۔ کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اس دنیا سے اس حال میں جائے کہ اس کا باطن مطمئن ہو اور اس کا رب اس سے راضی ہو۔
حقیقت یہی ہے کہ جنازہ واقعی ایک لمحہ ہے، مگر اس لمحے تک پہنچنے کے لیے جو زندگی ہمیں ملی ہے، وہ ایک امتحان ہے۔ اگر یہ زندگی غفلت میں گزر گئی تو وہ ایک لمحہ ہماری سب سے بڑی حسرت بن سکتا ہے۔
لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کو محض گزارنے کے بجائے سمجھ کر جئیں۔ ہر دن کو آخری دن سمجھ کر اپنے اعمال کو بہتر بنائیں، اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، اور اس غفلت کے پردے کو ہٹانے کی کوشش کریں جو ہمیں حقیقت سے دور رکھتا ہے۔
آخرکار، وہی کامیاب ہے جو جنازے کے اس لمحے سے پہلے جاگ جائے کیونکہ جو وہاں جا کر جاگتا ہے، اس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔