17/03/2026
یہ کیس Appellate Tribunal Inland Revenue کے کراچی بینچ کے سامنے آیا، جہاں ایک انفرادی ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2018 سے متعلق اپیل دائر کی۔ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ٹیکس دہندہ نے اپنی ٹیکس ریٹرن آن لائن جمع کروائی جس میں اس نے آمدنی اور قابلِ ادا ٹیکس دونوں صفر (Nil) ظاہر کیے۔ بعد میں Federal Board of Revenue کے ٹیکس حکام نے اس کا آڈٹ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اس نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 11,258,046 روپے کو بطور فارن ریمیٹنس ظاہر کیا ہے، مگر اس کے ساتھ کوئی دستاویزی ثبوت منسلک نہیں کیا گیا تھا۔
ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا، جس کے جواب میں ٹیکس دہندہ نے Proceeds Realization Certificates (PRCs) پیش کیے۔ یہ وہ دستاویزات ہوتی ہیں جو بینک جاری کرتے ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ رقم بیرونِ ملک سے باقاعدہ بینکنگ چینل کے ذریعے پاکستان آئی ہے۔ جب کیس کو Deputy Commissioner Inland Revenue نے دیکھا تو اس نے نوٹ کیا کہ چار ریمیٹنس میں سے دو رقوم — 28,670 روپے اور 4,491,000 روپے — دراصل خود ٹیکس دہندہ کی طرف سے بھیجی گئی تھیں (self-remitted)۔ ٹیکس افسر نے اس وضاحت کو تسلی بخش نہ سمجھتے ہوئے 4,519,670 روپے کو ٹیکس دہندہ کی آمدنی میں شامل کر دیا اور اس پر 875,401 روپے کا ٹیکس ڈیمانڈ بنا دیا۔
ٹیکس دہندہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، مگر Commissioner Inland Revenue Appeals نے بھی ٹیکس افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ نتیجتاً معاملہ بالآخر ٹریبونل کے سامنے آ گیا جہاں پورے کیس کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔
ٹریبونل نے قانون کا تفصیل سے مطالعہ کرتے ہوئے Section 111(4) کی تشریح کی۔ اس دفعہ کے مطابق اگر کوئی رقم بیرونِ ملک سے نارمل بینکنگ چینل کے ذریعے پاکستان بھیجی جائے اور پاکستانی روپے میں تبدیل ہو جائے تو اسے ٹیکس سے استثنا حاصل ہوتا ہے۔ ٹریبونل نے واضح کیا کہ قانون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اگر کوئی شخص اپنی ہی رقم بیرونِ ملک سے خود پاکستان بھیجے تو وہ اس رعایت سے محروم ہو جائے گا۔ لہٰذا صرف اس بنیاد پر کہ ریمیٹنس "self-remitted" ہے، اسے ٹیکس کے دائرے میں لانا درست نہیں۔
مزید برآں، ٹریبونل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ نچلی ٹیکس اتھارٹیز نے Section 51 کو نظر انداز کیا، جس کے تحت بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی بیرونی آمدنی کو مخصوص حالات میں ٹیکس سے استثنا دیا جاتا ہے۔ ٹریبونل نے کہا کہ اگر ایسے افراد سے غیر ضروری ٹیکس وصول کیا جائے تو اس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ پاکستان کو ریمیٹنس بھیجنے سے گریز کر سکتے ہیں۔
آخرکار ٹریبونل اس نتیجے پر پہنچا کہ ٹیکس دہندہ نے PRCs پیش کر کے یہ ثابت کر دیا تھا کہ رقم قانونی طریقے سے بیرونِ ملک سے آئی تھی اور اس لیے اسے قانون کے تحت استثنا حاصل ہے۔ چنانچہ ٹریبونل نے ٹیکس دہندہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے نچلی اتھارٹیز کے تمام احکامات کو کالعدم قرار دے دیا اور ٹیکس ڈیمانڈ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ یوں یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ اگر فارن ریمیٹنس قانونی بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان آئے تو اسے صرف اس بنیاد پر ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا کہ وہ رقم خود بھیجی گئی تھی۔