Tax Help

Directions

Tax Help 🅾🆄🆁 🆅🅰🅻🆄🅴🆂
• INTEGRITY
• TEAMWORK
• FAIRNESS
• PROFESSIONALISM

سرچارج کے حوالے سے پاکستاں ٹیکس بار ایسوسی ایشن  کا چئیرمین ایف بی آر کے نام خطپاکستان ٹیکس بار ایسو سی ایشن نے چئیر مین...
02/07/2026

سرچارج کے حوالے سے پاکستاں ٹیکس بار ایسوسی ایشن کا چئیرمین ایف بی آر کے نام خط
پاکستان ٹیکس بار ایسو سی ایشن نے چئیر مین ایف بی آر کے نام ایک محبت نامہ لکھ بھیجا ہے اور انہیں بتانے کی کوشش کی قانون کے مطابق آپ ٹیکس ائیر 2025 کے لئے 25،000 والا سرچارج نہیں لگا سکتے ، مہربانی کر کے عنایت خسروانہ سے کام لیتے ہوئے پرال کو کہیں کہ سسٹم کو کریکٹ کریں یہ قانون ریٹراسپیکٹو نہیں پراسپیکٹو یعنی آنے والے سالوں کے لئے نافذ ہونا چاہیئے دوسرے لفظوں میں دو ہزار چھبیس کی ریٹرن اگر کوئی شخص وقت پر فائل نہیں کرتا تو اس کے لئے نافذ ہونا بنتا ہے۔۔
اگر آپ یہ بھی نہیں کرتے تو کم از کم تب تک پچیس ہزار پر عمل درآمد رکوا دیں جب تک آئرس پورٹل پر 2026 کی ریٹرن دستیاب نہیں ہوتی

26/06/2026

مالی سال 2026–2027 کے مجوزہ بجٹ میں سیلز ٹیکس قوانین کی دفعات (Sections) کے مطابق تفصیلی اور منظم رپورٹ درج ذیل ہے:

1۔ ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس نظام (Digitalization & Faceless System)

سیکشن 11H (فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ):

ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست رابطے کو ختم کر کے شفافیت کے لیے فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ کا نظام نافذ کیا جائے گا۔

سیکشن 30AA (فیس لیس جُرِسڈکشن):

علاقائی حدود کے روایتی تصور کو ختم کرتے ہوئے ڈیجیٹل اور فیس لیس دائرہ اختیار (Jurisdiction) متعارف کرایا جائے گا۔

سیکشن 32C (نیشنل فیس لیس سینٹر کا قیام):

پورے ملک کے ٹیکس نظام کو خودکار بنانے اور مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ طور پر "نیشنل فیس لیس سینٹر" قائم کیا جائے گا۔

سیکشن 45C (فیس لیس اپیل پروسیجر):

اپیلوں کے عمل میں انسانی مداخلت اور سفارش کلچر کو روکنے کے لیے فیس لیس اپیل کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

سیکشن 47AA (الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم):

ٹیکس تنازعات اور تصفیوں کو مینوئل کے بجائے جدید کمپیوٹرائزڈ الگورتھم کے تحت حل کیا جائے گا۔

سیکشن 47AAA (انڈیپنڈنٹ کیس اسکرٹنی کمیٹی):

آڈٹ اور اسیسمنٹ کے کیسز کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کے لیے ایک آزاد اسکرٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

2۔ مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ اقدامات (Monitoring & Enforcement)

سیکشن 21 (جعلی اور فلائنگ انوائسز پر کارروائی):

جعلی اور فلائنگ انوائسز کے ذریعے ٹیکس چوری روکنے کے لیے اس سیکشن میں ترمیم کر کے سخت سزائیں اور جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔

سیکشن 30DDDB (ڈی جی فیلڈ کمپلائنس کا قیام):

فیلڈ میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل (DG) فیلڈ کمپلائنس کا نیا عہدہ/شعبہ قائم کیا جائے گا۔

سیکشن 40C (پروڈکشن مانیٹرنگ اور ویڈیو اینالیٹکس):

فیکٹریوں کی پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اینالیٹکس اور الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔

سیکشن 40F (ضبط شدہ اشیاء کی نیلامی):

ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر ضبط کیے گئے سامان کی شفاف اور فوری نیلامی کا طریقہ کار نافذ کیا جائے گا۔

بغیر ٹیکس اسٹیمپ/اسٹیکر اشیاء کی ضبطی:

مارکیٹ میں سپلائی ہونے والی ایسی اشیاء جن پر قانونی ٹیکس اسٹیمپ یا اسٹیکر موجود نہیں ہوگا، انہیں فوری ضبط کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔

الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم کا نفاذ:

کاروباری لین دین کو ریئل ٹائم مانیٹر کرنے کے لیے لازمی الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔

ٹائر-1 ریٹیلرز کی نئی تعریف:

ایسے ریٹیلرز جن کا سالانہ ٹرن اوور 200 ملین روپے یا اس سے زائد ہے، انہیں ٹائر-1 (Tier-1) کی تعریف میں شامل کر کے پوائنٹ آف سیل (POS) سے منسلک کیا جائے گا۔

3۔ انوائسنگ، ریکارڈ اور تجارتی اصلاحات (Invoicing & Trade Reforms)۔

سیکشن 56B (سنٹرلائزڈ ڈائریکٹری کا قیام): ٹیکس دہندگان کے ریکارڈ، انوائسز اور ڈیٹا کی مرکزی جانچ کے لیے ایک سنٹرلائزڈ ڈائریکٹری قائم کی جائے گی۔

بارہواں شیڈول / Twelfth Schedule (امپورٹڈ اشیاء کی فروخت پر پابندی):

امپورٹڈ اشیاء کو اسی حالت (Same State/Procurement) میں آگے فروخت کرنے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ مل سکے۔

ایگزمپٹ سپلائیز پر انوائس کی لازمی شرط:

ایسی اشیاء جن پر سیلز ٹیکس چھوٹ (Exempt) حاصل ہے، ان کی ترسیل پر بھی سیلز ٹیکس انوائس کا اجرا لازمی قرار دیا جائے گا۔

ایڈوانس ریسیٹ انوائس:

سپلائی سے قبل حاصل ہونے والی ایڈوانس رقم (Advance Receipt) پر انوائس جاری کرنے کی نئی تعریف اور ضابطہ متعارف کرایا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل ڈیبٹ اور کریڈٹ نوٹس: مینوئل کے بجائے صرف ڈیجیٹل طور پر جاری کردہ ڈیبٹ اور کریڈٹ نوٹس کو ہی قانونی تسلیم کیا جائے گا۔

اشیاء کی ترسیل کے وقت (Time of Supply) کی وضاحت:
ٹیکس کے نفاذ کو درست وقت پر یقینی بنانے کے لیے سامان کی ترسیل کے وقت کا واضح تعین کیا گیا ہے۔

4۔ آڈٹ، ٹیکس اسٹرکچر اور ویلیوایشن (Audit & Tax Structure)۔

سیکشن 6 (اسٹیل سیکٹر پر ٹیکس):

اسٹیل ملز اور متعلقہ انڈسٹری پر سیلز ٹیکس کے مینوئل حساب کے بجائے بجلی کے استعمال شدہ یونٹس (Electricity Units) کی بنیاد پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

سیکشن 8B (ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی حد):

فیڈرل بورڈ کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی حد (90% کی موجودہ لمٹ) میں ردوبدل کر سکے۔

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور CMAs کے ذریعے آڈٹ:

ایف بی آر کے علاوہ اب رجسٹرڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (CAs) اور کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (CMAs) کو بھی کمرشل آڈٹ کرنے کی قانونی اجازت دی جائے گی۔

ویلیوایشن آؤٹ سورسنگ کا اختیار:

فیڈرل بورڈ کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اشیاء کی درست مارکیٹ ویلیو (Valuation) کے تعین کا کام کسی تیسرے فریق (Third Party) کو آؤٹ سورس کر سکے۔

خلاصہ:
مالی سال 2026–2027 کی یہ تجاویز پاکستان کے ٹیکس کلچر کو مینوئل سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف منتقل کرنے، ٹیکس چوری کا سداد کرنے اور بزنس کمیونٹی کے لیے فیس لیس ماحول قائم کرنے کی جانب ایک انقلابی قدم ہیں۔

14/06/2026
سپر ٹیکس لگانا اتنا آسان نہیں!پہلے Income Tax Ordinance 2001 سیکشن 122 لازمی… ورنہ Income Tax Ordinance 2001 Section 4C ...
25/04/2026

سپر ٹیکس لگانا اتنا آسان نہیں!
پہلے Income Tax Ordinance 2001 سیکشن 122 لازمی… ورنہ Income Tax Ordinance 2001 Section 4C بھی ناکام!

یہ فیصلہ Appellate Tribunal Inland Revenue لاہور کا ایک نہایت اہم اور اصولی نوعیت کا فیصلہ ہے، جس میں سپر ٹیکس کے نفاذ کے طریقۂ کار کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ معاملہ دراصل اس وقت پیدا ہوا جب ٹیکس دہندگان اپنی ریٹرنز فائل کر چکے تھے اور وہ قانون کے تحت Income Tax Ordinance 2001 Section 120 کے مطابق “deemed assessment” بن چکی تھیں، یعنی وہ ایک مکمل اور مؤثر اسیسمنٹ آرڈر کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔ اس کے باوجود محکمہ ان لینڈ ریونیو نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ٹیکس دہندگان نے Income Tax Ordinance 2001 Section 4C کے تحت سپر ٹیکس ادا نہیں کیا، اس لیے وہ براہِ راست اسی سیکشن کے تحت ٹیکس کا تعین اور وصولی کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ پہلے اس اسیسمنٹ کو قانون کے مطابق تبدیل کیا جائے۔

ٹریبونل نے اس پورے معاملے کو نہایت باریک بینی سے دیکھتے ہوئے یہ اصول واضح کیا کہ ٹیکس قانون ایک منظم نظام کے تحت چلتا ہے، جس میں چارج، اسیسمنٹ اور ریکوری کے مراحل الگ مگر آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگرچہ سیکشن 4C ٹیکس لگانے کا اختیار دیتا ہے، لیکن جب ایک ریٹرن پہلے ہی سیکشن 120 کے تحت اسیسمنٹ بن چکی ہو، تو اس میں کسی بھی نئی ذمہ داری کو شامل کرنے کے لیے لازمی ہے کہ پہلے Income Tax Ordinance 2001 Section 122 کے تحت اس میں ترمیم کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف انکم کا ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ٹیکس دہندہ نے سپر ٹیکس کی ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، کیونکہ قانون میں تسلیم شدہ ذمہ داری وہی ہوتی ہے جو باقاعدہ طور پر calculate اور declare کی گئی ہو۔

مزید برآں، ٹریبونل نے محکمہ کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ سیکشن 4C ایک خود مختار راستہ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے وہ بغیر کسی اور قانونی کارروائی کے ٹیکس نافذ کر سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق ایسا مان لینا نہ صرف اسیسمنٹ کے پورے نظام کو غیر مؤثر بنا دے گا بلکہ قانون میں موجود وقت کی پابندیوں اور دیگر حفاظتی اقدامات کو بھی ختم کر دے گا۔ اسی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جب تک سیکشن 122 کے تحت اسیسمنٹ میں ترمیم نہیں کی جاتی، اس وقت تک سپر ٹیکس کا تعین اور اس کی وصولی قانونی طور پر ممکن نہیں۔

آخرکار، ٹریبونل نے یہ فیصلہ دیا کہ سیکشن 4C کے تحت براہِ راست جاری کیے گئے تمام آرڈرز دائرہ اختیار سے باہر، غیر قانونی اور ابتدا ہی سے کالعدم ہیں، لہٰذا انہیں ختم کیا جاتا ہے۔ تاہم، محکمہ کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اگر چاہے تو قانون کے مطابق درست طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ دراصل اس بنیادی اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ قانون میں صرف حق ہونا کافی نہیں، بلکہ اس حق کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہے، اور اگر طریقہ کار کی خلاف ورزی ہو تو پورا اقدام غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔

FBR کا بڑا فیصلہ! پراپرٹی بیچنے پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ (2026)پاکستان میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا معاملہ ہمی...
04/04/2026

FBR کا بڑا فیصلہ! پراپرٹی بیچنے پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ (2026)

پاکستان میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا معاملہ ہمیشہ سے عوام کے لیے ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی شخص اپنی جائیداد فروخت کرتا ہے تو اس پر ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 236C کے تحت وصول کیا جاتا ہے۔ تاہم حال ہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ایک اہم سرکلر جاری کیا ہے جس میں کچھ مخصوص افراد کو اس ٹیکس سے ریلیف دینے کی وضاحت کی گئی ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم اس نئے فیصلے کو سادہ اور واضح انداز میں سمجھیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس طرح۔

سیکشن 236C کیا ہے؟

سیکشن 236C کے تحت جب بھی کوئی شخص پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد (پلاٹ، گھر یا کمرشل پراپرٹی) فروخت کرتا ہے تو اس سے ایک مخصوص شرح کے مطابق ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس فائلرز اور نان فائلرز کے لیے مختلف شرحوں پر ہوتا ہے اور عام طور پر رجسٹری کے وقت ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔

سیکشن 7F کیا ہے؟

سیکشن 7F ایک خصوصی ٹیکس نظام ہے جو خاص طور پر بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ان کی آمدن کا تعین روایتی طریقے کے بجائے ایک مقررہ فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے، اور وہ اسی حساب سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب وہ بلڈرز اور ڈیولپرز جو پہلے ہی سیکشن 7F کے تحت ٹیکس ادا کر رہے تھے، جب اپنی پراپرٹی فروخت کرتے تو ان سے دوبارہ سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تھا۔ اس صورتحال کو عملی طور پر دوہری ٹیکسیشن جیسا سمجھا جا رہا تھا، جس سے ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ پڑ رہا تھا۔

FBR کا نیا مؤقف

31 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے سرکلر میں FBR نے اس معاملے کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص:

- سیکشن 7F کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داری پوری کر چکا ہے
- اور اس کی کوئی دوسری قابلِ ٹیکس آمدن نہیں ہے

تو ایسے شخص پر سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس لاگو نہیں ہونا چاہیے۔

کیا یہ ریلیف خودکار ہے؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ریلیف خود بخود نہیں ملے گا۔ اس کے لیے متعلقہ ٹیکس دہندہ کو باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔

ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ کیسے حاصل کریں؟

متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے پاس درخواست جمع کروائیں اور ایک ایکسیمپشن سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔ اس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے انہیں یہ اجازت مل جاتی ہے کہ ان کی پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔

درخواست کی جانچ پڑتال

کمشنر ان لینڈ ریونیو ہر درخواست کو الگ الگ بنیاد پر جانچتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ درخواست گزار تمام شرائط پر پورا اترتا ہو۔ صرف اہل افراد کو ہی یہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

اہم تنبیہ

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ سہولت ہر شخص کے لیے نہیں ہے۔ عام تنخواہ دار افراد، سرمایہ کار یا وہ لوگ جو سیکشن 7F کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان پر بدستور سیکشن 236C کے تحت ٹیکس لاگو ہوگا۔

نتیجہ

FBR کا یہ فیصلہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے ایک اہم ریلیف ہے جو پہلے ہی ایک مخصوص ٹیکس نظام کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے درست معلومات، بروقت درخواست اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ تمام مراحل صحیح طریقے سے مکمل کیے جائیں تو پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس سے بچنا ممکن ہے۔

---

اسامہ شفیق، ٹیکس کنسلٹنٹ
📞 03142908505

⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی نوعیت ⚖️اسلام آباد ہائی کورٹ نے ITR No. 26/2022 میں ای...
29/03/2026

⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی نوعیت ⚖️
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ITR No. 26/2022 میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے جائیداد کی فروخت سے ہونے والے منافع پر ٹیکس کے حوالے سے ابہام ختم کر دیا ہے۔
اہم نکات:
• کاروباری آمدنی بمقابلہ کیپیٹل گین: عدالت نے قرار دیا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد (Immovable Property) کی فروخت سے حاصل ہونے والا منافع Capital Gain (Section 37-1A) تصور ہوگا، اسے Business Income (Section 18) قرار نہیں دیا جا سکتا۔
• پراپرٹی ڈیلر اور عام شہری میں فرق: عدالت کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 37(1A) ایک 'خصوصی قانون' ہے جو ہر قسم کی جائیداد کی فروخت پر لاگو ہوتا ہے۔ چاہے بیچنے والا باقاعدہ پراپرٹی ڈیلر ہو یا کوئی عام شہری، اس کا منافع 'کیپیٹل گین' ہی کہلائے گا۔
• قانون کی برتری: عدالت نے واضح کیا کہ جہاں 'خصوصی قانون' (Specific Law) موجود ہو، وہاں 'عمومی قانون' (General Law) لاگو نہیں ہوتا۔ لہٰذا جائیداد کے معاملے میں سیکشن 37(1A) کو سیکشن 18 پر فوقیت حاصل ہے۔
• ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم: ہائی کورٹ نے ایپلٹ ٹربیونل کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا جس میں جائیداد کے منافع کو کاروباری آمدنی قرار دے کر زیادہ ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔
نتیجہ: یہ فیصلہ ان تمام ٹیکس گزاروں کے لیے بڑی ریلیف ہے جنہیں محکمہ ٹیکس کی جانب سے جائیداد کی فروخت پر 'بزنس انکم' کے نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں۔

یہ کیس Appellate Tribunal Inland Revenue کے کراچی بینچ کے سامنے آیا، جہاں ایک انفرادی ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2018 سے متع...
17/03/2026

یہ کیس Appellate Tribunal Inland Revenue کے کراچی بینچ کے سامنے آیا، جہاں ایک انفرادی ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2018 سے متعلق اپیل دائر کی۔ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ٹیکس دہندہ نے اپنی ٹیکس ریٹرن آن لائن جمع کروائی جس میں اس نے آمدنی اور قابلِ ادا ٹیکس دونوں صفر (Nil) ظاہر کیے۔ بعد میں Federal Board of Revenue کے ٹیکس حکام نے اس کا آڈٹ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اس نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 11,258,046 روپے کو بطور فارن ریمیٹنس ظاہر کیا ہے، مگر اس کے ساتھ کوئی دستاویزی ثبوت منسلک نہیں کیا گیا تھا۔
ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا، جس کے جواب میں ٹیکس دہندہ نے Proceeds Realization Certificates (PRCs) پیش کیے۔ یہ وہ دستاویزات ہوتی ہیں جو بینک جاری کرتے ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ رقم بیرونِ ملک سے باقاعدہ بینکنگ چینل کے ذریعے پاکستان آئی ہے۔ جب کیس کو Deputy Commissioner Inland Revenue نے دیکھا تو اس نے نوٹ کیا کہ چار ریمیٹنس میں سے دو رقوم — 28,670 روپے اور 4,491,000 روپے — دراصل خود ٹیکس دہندہ کی طرف سے بھیجی گئی تھیں (self-remitted)۔ ٹیکس افسر نے اس وضاحت کو تسلی بخش نہ سمجھتے ہوئے 4,519,670 روپے کو ٹیکس دہندہ کی آمدنی میں شامل کر دیا اور اس پر 875,401 روپے کا ٹیکس ڈیمانڈ بنا دیا۔
ٹیکس دہندہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، مگر Commissioner Inland Revenue Appeals نے بھی ٹیکس افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ نتیجتاً معاملہ بالآخر ٹریبونل کے سامنے آ گیا جہاں پورے کیس کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔
ٹریبونل نے قانون کا تفصیل سے مطالعہ کرتے ہوئے Section 111(4) کی تشریح کی۔ اس دفعہ کے مطابق اگر کوئی رقم بیرونِ ملک سے نارمل بینکنگ چینل کے ذریعے پاکستان بھیجی جائے اور پاکستانی روپے میں تبدیل ہو جائے تو اسے ٹیکس سے استثنا حاصل ہوتا ہے۔ ٹریبونل نے واضح کیا کہ قانون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اگر کوئی شخص اپنی ہی رقم بیرونِ ملک سے خود پاکستان بھیجے تو وہ اس رعایت سے محروم ہو جائے گا۔ لہٰذا صرف اس بنیاد پر کہ ریمیٹنس "self-remitted" ہے، اسے ٹیکس کے دائرے میں لانا درست نہیں۔
مزید برآں، ٹریبونل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ نچلی ٹیکس اتھارٹیز نے Section 51 کو نظر انداز کیا، جس کے تحت بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی بیرونی آمدنی کو مخصوص حالات میں ٹیکس سے استثنا دیا جاتا ہے۔ ٹریبونل نے کہا کہ اگر ایسے افراد سے غیر ضروری ٹیکس وصول کیا جائے تو اس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ پاکستان کو ریمیٹنس بھیجنے سے گریز کر سکتے ہیں۔
آخرکار ٹریبونل اس نتیجے پر پہنچا کہ ٹیکس دہندہ نے PRCs پیش کر کے یہ ثابت کر دیا تھا کہ رقم قانونی طریقے سے بیرونِ ملک سے آئی تھی اور اس لیے اسے قانون کے تحت استثنا حاصل ہے۔ چنانچہ ٹریبونل نے ٹیکس دہندہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے نچلی اتھارٹیز کے تمام احکامات کو کالعدم قرار دے دیا اور ٹیکس ڈیمانڈ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ یوں یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ اگر فارن ریمیٹنس قانونی بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان آئے تو اسے صرف اس بنیاد پر ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا کہ وہ رقم خود بھیجی گئی تھی۔

Address

Burewala
61010

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tax Help posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category