Bukhari & Shadow Law Consultant's

Bukhari & Shadow Law Consultant's Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bukhari & Shadow Law Consultant's, Corporate lawyer, Bukhari & shadow Law Consultant Block # 3 Near Mandar Road, Bhalwal.
(1)

Bukhari Law Consultant, led by Bakhtiar Bukhari, Advocate High Court, offers expert services in corporate, banking, compliance, employment, guiding NGOs through compliance labour issues & immigration law with 17+ years of trusted legal experience

22/05/2026

حکومت نے آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا ہے جس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔

اب سے کچھ دیر قبل ذرائع نے کہا تھا کہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں6 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل ایک ہفتے کے لیے کیا گیا ہے۔

Bukhari & Shadow Law Consultant's
20/05/2026

Bukhari & Shadow Law Consultant's

باپ کروڑ پتی ہو یا غریب، اب بچوں کے اخراجات کا فیصلہ صرف شوہر کے بیان پر نہیں بلکہ پکے ثبوتوں پر ہوگا!(2026 CLC 59 ISLAM...
20/05/2026

باپ کروڑ پتی ہو یا غریب، اب بچوں کے اخراجات کا فیصلہ صرف شوہر کے بیان پر نہیں بلکہ پکے ثبوتوں پر ہوگا!
(2026 CLC 59 ISLAMABAD | HINA VS ADIL SHAHZAD)
عدالت کا حتمی فیصلہ (آسان الفاظ میں)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نابالغ بچوں کے خرچے کے حوالے سے تاریخی اصول طے کر دیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بچوں کا ماہانہ خرچہ مقرر کرتے وقت صرف باپ کی زبانی باتوں پر یقین نہیں کیا جائے گا، بلکہ عدالت خود اس کی اصل آمدنی، بینک سٹیٹمنٹ اور جائیداد کا پتا لگائے گی۔ اگر بچہ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری یا خاص تعلیمی ضرورت کا شکار ہے، تو اس کے تمام اضافی اخراجات اٹھانا بھی قانوناً باپ کی اولین ذمہ داری ہے۔
اہم قانونی نکات (آسان اور عام فہم)
بچوں کی اصل ضروریات کا جائزہ: خرچہ مقرر کرنے سے پہلے عدالت دیکھے گی کہ بچے کس معیارِ زندگی میں رہ رہے ہیں اور ماں ان کی پرورش کیسے کر رہی ہے۔
ماں کے حالاتِ زندگی: یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا ماں اپنے گھر والوں پر بوجھ ہے؟ کیا وہ خود کماتی ہے یا اس کا کوئی آزاد ذریعہ معاش ہے؟
بچوں کی خاص ضروریات (Special Needs): اگر کسی بچے کو کوئی بیماری ہے، وہ معذور ہے، یا اسے خاص تعلیم کی ضرورت ہے، تو باپ یہ اضافی خرچہ دینے کا پابند ہے۔
باپ کی آمدنی کا پوسٹ مارٹم: عدالت باپ کو اپنی سیلری سلپ، بینک سٹیٹمنٹ اور جائیداد کے کاغذات عدالت میں جمع کروانے کا حکم دے سکتی ہے۔
عدالت کا وسیع اختیار (فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 17A): عدالت صرف باپ کے فراہم کردہ کاغذات پر منحصر نہیں ہے۔ وہ کسی بھی بینک، سرکاری محکمے یا ادارے سے باپ کے اثاثوں اور وسائل کا ریکارڈ خود منگوا سکتی ہے۔
باپ کی دیگر ذمہ داریاں: خرچہ طے کرتے وقت عدالت باپ کے دیگر واجبات (جیسے بینک لون، دوسری بیوی، دیگر بچے یا بوڑھے والدین کی کفالت) کو بھی مدِ نظر رکھے گی تاکہ ایک متوازن فیصلہ ہو سکے۔
درخواست گزار / مدعیہ (Petitioner) کی طرف سے پیش کیے گئے عدالتی فیصلے
اس فیصلے میں مدعیہ (حنا) کی جانب سے یہ اصولی موقف اپنایا گیا کہ بچوں کی بڑھتی ہوئی عمر، مہنگائی اور خصوصی ضروریات کے تحت سابقہ خرچے میں اضافہ کیا جائے اور فیملی کورٹ ایکٹ کے تحت باپ کے اصل مالی وسائل کو سامنے لایا جائے۔ ہائی کورٹ نے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے فیملی کورٹ کو باپ کے اثاثے خود چیک کرنے کی ہدایت کی۔
مدعا علیہ / جواب دہندہ (Respondent) کے حق میں عدالتی تفصیلات
عدالت نے مدعا علیہ (عادل شہزاد) کے حقوق کو بھی توازن میں رکھا اور یہ اصول واضح کیا کہ خرچہ مقرر کرتے وقت باپ پر اندھا دھند بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ عدالت کو خرچہ بڑھانے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ:
پہلے سے مقررہ خرچہ بچوں کی ضروریات کے لیے کس حد تک کافی ہے۔
مزید اضافے کی اصل وجہ اور ٹھوس ضرورت کیا ہے۔
باپ کی دیگر جائز قانونی ذمہ داریاں (جیسے دوسری شادی، دیگر بچے یا زیرِ کفالت والدین) اور قرضے کیا ہیں، تاکہ اس کی مالی حیثیت کے مطابق منصفانہ حکم جاری ہو۔
قانونی رہنمائی کے لیے رابطہ کریں
اگر آپ کو فیملی قوانین، بچوں کے خرچے (Maintenance) یا کسی بھی دیگر قانونی معاملے میں مدد یا مشاورت درکار ہے، تو آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

آرڈر XVII رول 3 سی پی سی کے تحت مدعی کا حقِ شہادت ختم کرتے ہوئے مقدمہ بھی خارج کر دیا  #(PLJ 2026 Peshawar 19)آرڈر XVII ...
13/05/2026

آرڈر XVII رول 3 سی پی سی کے تحت مدعی کا حقِ شہادت ختم کرتے ہوئے مقدمہ بھی خارج کر دیا #(PLJ 2026 Peshawar 19)
آرڈر XVII رول 3 سی پی سی کے تحت مدعی کا حقِ شہادت ختم کرتے ہوئے مقدمہ بھی خارج کر دیا گیا، کیونکہ مدعی کو شواہد پیش کرنے کے لیے مناسب وقت اور متعدد مواقع دیے گئے تھے، مگر اس نے بار بارعدالتی احکامات کی تعمیل سے گریز اور شدید غفلت کا مظاہرہ کیا۔ مدعی کو واضح نوٹس دیا گیا تھا کہ مقررہ تاریخ پر تمام شہادت پیش نہ کرنے کی صورت میں رول 3 کی تعزیری دفعات نافذ کی جائیں گی۔ ٹرائل کورٹ نے کافی مہلت اور مواقع فراہم کیے، لیکن مدعی شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، اس لیے عدالت نے درست طور پر آرڈر XVII رول 3 سی پی سی کا اطلاق کرتے ہوئے اس کا حقِ شہادت ختم کر دیا۔ یہ ایک سخت تعزیری شق ہے، اور جب کوئی فریق بار بار مواقع ضائع کرے تو عدالت اس کا مقدمہ بند کرنے میں حق بجانب ہوتی ہے۔
#(PLJ 2026 Peshawar 19)

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — بعد میں جائیداد خریدنے والا ہر شخص “Bona Fide Purchaser” نہیں ہوتا📚 Civil Appeal No. 168-L/...
13/05/2026

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — بعد میں جائیداد خریدنے والا ہر شخص “Bona Fide Purchaser” نہیں ہوتا
📚 Civil Appeal No. 168-L/14 etc.
👨‍⚖️ Mian Mohammad Mehmood Ahmed (deceased) Vs Safdar Hussain
📅 فیصلہ: 04-05-2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی جائیداد کے متعلق پہلے سے معاہدہ، دعویٰ یا قانونی تنازع موجود ہو تو بعد میں جائیداد خریدنے والے شخص پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ اس نے مکمل نیک نیتی، احتیاط اور قانونی جانچ پڑتال کے بعد جائیداد خریدی۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ خریدار “Bona Fide Purchaser” ہے، بلکہ اسے مضبوط ثبوت اور حالات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
✔️ اس نے جائیداد خریدنے سے پہلے مکمل تحقیق کی
✔️ فروخت کنندہ کے ٹائٹل اور ملکیت کی جانچ کی
✔️ کسی سابقہ معاہدے، مقدمے یا دعویٰ کا علم نہیں تھا
✔️ اس نے نیک نیتی اور احتیاط کے ساتھ خریداری کی
📌 عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر:
❌ خریداری جلد بازی میں ہوئی ہو
❌ جائیداد کی مکمل چھان بین نہ کی گئی ہو
❌ ایسے حالات موجود ہوں جن سے پہلے دعویٰ کا شک پیدا ہوتا ہو
تو بعد والا خریدار قانون کے تحت “Bona Fide Purchaser” کا تحفظ حاصل نہیں کر سکتا، اور پہلے والا معاہدہ اس کے خلاف بھی نافذ العمل رہے گا۔
⚖️ یہ فیصلہ خصوصاً:
🔹 جائیداد خریدنے والوں
🔹 اوورسیز پاکستانیوں
🔹 پراپرٹی ڈیلرز
🔹 سرمایہ کاروں
کے لیے نہایت اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
📚 قانونی بنیاد:
Section 27(b), Specific Relief Act, 1877
📌 قانونی اصول:
“صرف رجسٹری ہونا کافی نہیں، بلکہ نیک نیتی، احتیاط اور مکمل تحقیق بھی ضروری ہے۔”
⚖️

ہوشیار! مختار نامہ عام (Power of Attorney) کے ذریعے بہنوں اور بیواؤں کا حق مارنے والوں کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا عبرت ناک...
10/05/2026

ہوشیار! مختار نامہ عام (Power of Attorney) کے ذریعے بہنوں اور بیواؤں کا حق مارنے والوں کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا عبرت ناک فیصلہ! ⚖️
: 2026 MLD 320 LAHORE HIGH COURT
عدالت کا حتمی فیصلہ:
سادہ الفاظ میں 📢
لاہور ہائیکورٹ نے بیوہ اور بیٹی کے حق میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض "مختار نامہ" (Power of Attorney) کا ہونا کافی نہیں، بلکہ اسے قانونی طور پر ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔ عدالت نے بھائی کی طرف سے باپ کے مختارِ عام بن کر زمین اپنے ہی دوسرے بھائی کو منتقل کرنے کے عمل کو فراڈ قرار دے کر کالعدم کر دیا اور بیوہ کے وراثت کے حق کو بحال رکھا۔
(Key Legal Findings) 📝
ثبوت کی ذمہ داری: مختار نامہ (GPA) کو درست ثابت کرنے کی پوری ذمہ داری اس شخص پر ہے جسے اس سے فائدہ ہو رہا ہو۔
دو گواہان کی شرط: قانونِ شہادت کے آرٹیکل 17 کے تحت مختار نامے پر دو مرد گواہوں کی موجودگی لازمی ہے، ورنہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
سرکاری گواہان کی اہمیت: اگر مختار نامہ چیلنج ہو جائے تو سب رجسٹرار، پٹواری اور تحصیلدار کو عدالت میں بطور گواہ پیش نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ معاملہ مشکوک ہے۔
قریبی رشتہ دار کو منتقلی: کوئی بھی مختارِ عام (Attorney) اصل مالک کی خصوصی اجازت کے بغیر زمین اپنے قریبی رشتہ دار (جیسے بھائی) کو فروخت یا گفٹ نہیں کر سکتا۔
فراڈ کی حیثیت: قانون کا اصول ہے کہ "فراڈ تمام مقدس کارروائیوں کو بھی ملیامیٹ کر دیتا ہے"۔ اگر بنیاد (مختار نامہ) ہی فراڈ پر ہو تو اس پر کھڑی عمارت (انتقال یا رجسٹری) خود بخود گر جائے گی۔
قانونی دفعات (Legal Provisions relied upon by Plaintiff) 📚
مدعیہ (Saleem Bibi) کی جانب سے ان قانونی دفعات کا سہارا لیا گیا جنہیں عدالت نے برقرار رکھا:
آرٹیکل 17 و 79 قانونِ شہادت 1984: (گواہان کی تعداد اور پیشی کا لازمی ہونا)۔
آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت: (بہترین ثبوت چھپانے پر عدالت کا مخالفانہ تصور)۔
سیکشن 39 و 42 کنٹریکٹ ایکٹ: (دستاویزات کی منسوخی اور اعلانِ حق)۔
سیکشن 188 و 214 کنٹریکٹ ایکٹ: (مختارِ عام کے اختیارات کی حدود)۔
فیصلہ بیوہ/جواب دہندہ (Respondent) کے حق میں کیوں ہوا؟ ⚖️
عدالت نے قرار دیا کہ:
جواب دہندہ (بیوہ) نے ٹھوس دستاویزی اور زبانی شہادتوں سے اپنا کیس ثابت کیا۔
دوسری پارٹی (پٹیشنرز) نے مختار نامہ کے گواہان اور متعلقہ سب رجسٹرار کو عدالت میں پیش نہیں کیا، جس سے آرٹیکل 129(g) کے تحت یہ فرض کیا گیا کہ وہ گواہ اگر آتے تو خلاف ہی بیان دیتے۔
ٹرائل کورٹ کا فیصلہ غلط تھا جسے اپیلٹ کورٹ نے درست طور پر بدلا، اور ہائیکورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

اگر آپ ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو براہ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔

️ گارنٹی چیک سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہلاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ صرف یہ کہنا کہ چیک گارنٹی کے طور پر دیا ...
09/05/2026

️ گارنٹی چیک سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ صرف یہ کہنا کہ چیک گارنٹی کے طور پر دیا گیا تھا، کافی نہیں۔ عدالت کے مطابق اس دعوے کے لیے باقاعدہ ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ Order 37 C.P.C کے تحت Summary Suit میں کمزور دفاع قابلِ قبول نہیں ہوتا۔

📌 حوالہ: 2026 CLC 252

اگر آپ کو چیک باؤنس، ریکوری، سول مقدمات یا کسی بھی قانونی معاملے میں رہنمائی درکار ہو تو رابطہ کریں۔

📞 WhatsApp:
0300-6069773

#چیک

Address

Bukhari & Shadow Law Consultant Block # 3 Near Mandar Road
Bhalwal
40400

Telephone

+923006069773

Website

https://www.facebook.com/share/1FKuR4rr2h/?mibextid=wwXIfr

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bukhari & Shadow Law Consultant's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bukhari & Shadow Law Consultant's:

Share