06/06/2026
اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ (2026 CLC 1)
— فقہ جعفریہ میں طلاق کے متعلق
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر میاں بیوی فقہ جعفریہ (شیعہ فقہ) سے تعلق رکھتے ہوں تو طلاق کے مؤثر ہونے کے لیے صرف تحریری طلاق نامہ یا نوٹس کافی نہیں، بلکہ قانون میں بیان کردہ شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
مقدمے کا پس منظر
خاتون (بشریٰ حسین) اور شوہر (ارسلان عبداللہ) کی شادی فقہ جعفریہ کے مطابق ہوئی تھی۔ شوہر نے طلاق کے نوٹس دیے اور بعد ازاں چیئرمین آربٹریشن کونسل نے طلاق کے مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔
خاتون نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ:
فقہ جعفریہ کے مطابق عربی صیغۂ طلاق (Seegha Jaat) ادا نہیں کیا گیا۔
دو گواہوں کی موجودگی کی شرط پوری نہیں ہوئی۔
طلاق کے نوٹس کے بعد فریقین میں صلح ہوگئی تھی اور وہ دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے لگے تھے۔
اس لیے طلاق کا سرٹیفکیٹ غیر قانونی ہے۔
عدالت کے اہم نکات
1۔ صیغۂ طلاق ضروری ہے
عدالت نے قرار دیا کہ فقہ جعفریہ کے مطابق:
شوہر خود یا وکیل کے ذریعے
عربی الفاظ میں صیغۂ طلاق ادا کرے
کم از کم دو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں
تب ہی طلاق مؤثر ہوگی۔
2۔ صرف تحریری طلاق کافی نہیں
عدالت نے کہا کہ طلاق نامے میں موجود تحریری الفاظ صیغۂ طلاق کا متبادل نہیں ہیں۔
3۔ "May" کا مطلب "Must" ہے
قانون میں استعمال ہونے والے لفظ "May" کے بارے میں عدالت نے قرار دیا کہ یہاں اس کا مطلب اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے، کیونکہ قانون ساز کا مقصد فقہ جعفریہ کے ماننے والوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔
4۔ چیئرمین آربٹریشن کونسل کی ذمہ داری
عدالت نے واضح ہدایات جاری کیں کہ آئندہ:
فقہ جعفریہ کے معاملات میں صیغۂ طلاق کی تصدیق کی جائے۔
دو گواہوں کی موجودگی کی جانچ کی جائے۔
صیغۂ طلاق کی تصدیق کے بغیر طلاق کا مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا جائے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ:
ابتدائی طلاق کا سرٹیفکیٹ قانونی تقاضوں کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔
صیغۂ طلاق بعد میں 20 جون 2023 کو ادا کیا گیا۔
اس لیے طلاق اسی تاریخ سے مؤثر تصور ہوگی۔
قانونی اصول
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ:
"فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے نکاح، طلاق اور اس سے متعلقہ معاملات ان کے شخصی مذہبی قانون کے مطابق طے کیے جائیں گے، اور قانونی ادارے اس کی پابندی کے پابند ہیں۔"
عام فہم خلاصہ
اگر میاں بیوی شیعہ (فقہ جعفریہ) ہوں تو:
صرف طلاق نامہ لکھ دینا کافی نہیں۔
عربی صیغۂ طلاق پڑھنا ضروری ہے۔
دو شرعی گواہوں کی موجودگی ضروری ہے۔
آربٹریشن کونسل کو ان شرائط کی تصدیق کرنا لازم ہے۔
ان شرائط کے بغیر طلاق مؤثر نہیں ہوگی۔
یہ فیصلہ فقہ جعفریہ کے ماننے والوں کے عائلی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک نہایت اہم نظیر (precedent) کی حیثیت رکھتا ہے۔