The LawYers

The LawYers Justice Delayed is Justice Deniyed ⚖️⚖️
For any legal issue Contact Us
WhatsApp
03011100014

The page Is About the law and the information which share must be Useful for all of thr page members.

اگر عدالت کے پاس Jurisdiction نہ ہوں تو کیا اس کا فیصلہ قانونی حیثیت رکھتا ہے؟؟الجواب👇👇👇👇لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: جب...
09/07/2026

اگر عدالت کے پاس Jurisdiction نہ ہوں تو کیا اس کا فیصلہ قانونی حیثیت رکھتا ہے؟؟
الجواب👇👇👇👇
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: جب کسی معاملے کے لیے

خصوصی قانون موجود ہو تو سول کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی

یہ مقدمہ ضلع اٹک میں واقع زرعی اراضی سے متعلق تھا۔ درخواست گزاروں نے سول کورٹ میں دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ 20 کنال 17 مرلہ زمین کے مالک اور قابض ہیں، جبکہ مخالف فریق کا اس زمین پر کوئی قانونی حق نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ زمین کی کنسولیڈیشن (Consolidation of Holdings) کے دوران بنائی گئی اسکیم اور کنسولیڈیشن افسران کے احکامات غیر قانونی ہیں، لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔

ٹرائل کورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دے دیا، لیکن مخالف فریق نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ اپیلٹ کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ قرار دیا کہ سول کورٹ کو اس نوعیت کے مقدمے کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔ اس فیصلے کے خلاف درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ، راولپنڈی بینچ سے رجوع ہوئے۔

📍لاہور ہائیکورٹ کے اہم قانونی اصول

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی معاملے کے بارے میں خصوصی قانون (Special Law) موجود ہو اور اس قانون کے تحت کسی مخصوص فورم یا اتھارٹی کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہو، تو عام سول کورٹ اس معاملے کی سماعت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کنسولیڈیشن آف ہولڈنگز آرڈیننس، 1960 کی دفعہ 26 صراحت کے ساتھ سول کورٹ کے اختیارِ سماعت پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اس لیے کنسولیڈیشن اسکیم یا کنسولیڈیشن افسران کے احکامات کو براہِ راست سول کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگرچہ سول کورٹ عام طور پر تمام دیوانی معاملات سننے کا اختیار رکھتی ہے، لیکن جہاں قانون واضح طور پر کسی دوسرے فورم کو اختیار دیتا ہو، وہاں سول کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔

درخواست گزاروں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ کنسولیڈیشن کی کارروائی فراڈ پر مبنی تھی، اس لیے سول کورٹ کو اختیار حاصل تھا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ 2018 میں سیکشن 9 سی پی سی میں ترمیم کے بعد قانون کا دائرہ مزید واضح ہو گیا ہے۔ اب اگر کسی معاملے کے لیے کوئی جنرل یا اسپیشل قانون موجود ہو تو صرف فراڈ کا الزام لگا دینے سے سول کورٹ کو اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔ پہلے متعلقہ قانون کے تحت دستیاب قانونی فورمز سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی مقدمے میں سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ اگر عدالت کے پاس اختیار ہی موجود نہ ہو تو وہ مقدمے کی میرٹ پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے اس بنیادی سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ کر دیا، جبکہ اپیلٹ کورٹ نے درست طور پر پہلے اختیارِ سماعت (Jurisdiction) کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ایسی عدالت نے دیا جسے قانونی اختیار حاصل ہی نہیں تھا، لہٰذا وہ فیصلہ Coram Non Judice یعنی قانون کی نظر میں غیر مؤثر تھا۔

عدالت نے ایک اور اہم نکتہ بھی واضح کیا کہ درخواست گزار پہلے ہی کنسولیڈیشن حکام کے سامنے اپیل کر چکے تھے۔ اگرچہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)/کلیکٹر کنسولیڈیشن نے انہیں سول کورٹ جانے کا مشورہ دیا، لیکن کسی افسر کا ایسا مشورہ یا مشاہدہ سول کورٹ کو وہ اختیار نہیں دے سکتا جو قانون نے اسے دیا ہی نہیں۔ عدالت کا اختیار صرف قانون سے پیدا ہوتا ہے، کسی افسر کی رائے سے نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ جب ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے سے مختلف ہوں تو ریویژن کی سماعت کرتے ہوئے عام طور پر اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو ترجیح دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ قانون اور شواہد کے مطابق ہو۔ اس مقدمے میں اپیلٹ کورٹ نے قانون کے مطابق درست فیصلہ دیا اور درخواست گزار یہ ثابت نہ کر سکے کہ اس فیصلے میں کوئی قانونی غلطی، بے ضابطگی یا اختیار سے تجاوز موجود ہے۔

📍عدالت کا حتمی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ کنسولیڈیشن سے متعلق تنازعات کی سماعت کے لیے خصوصی قانون موجود ہے، اس لیے سول کورٹ کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق درست قرار دیا گیا اور درخواست گزاروں کی سول ریویژن ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کر دی گئی۔

📍اس فیصلے سے حاصل ہونے والے اہم قانونی اصول

اس فیصلے سے یہ اصول واضح ہوتے ہیں کہ جہاں کسی معاملے کے لیے خصوصی قانون اور مخصوص فورم موجود ہو وہاں سول کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی؛ صرف فراڈ کا الزام لگا دینا سول کورٹ کو اختیار نہیں دیتا؛ عدالت سب سے پہلے اپنے اختیارِ سماعت کا تعین کرتی ہے؛ کسی سرکاری افسر کی رائے یا مشورہ عدالت کو قانونی اختیار فراہم نہیں کر سکتا؛ اور ریویژن میں اپیلٹ کورٹ کے قانونی طور پر درست فیصلے میں بلاوجہ مداخلت نہیں کی جاتی۔

سپریم کورٹ  نے 71 سال قبل انتقال ہبہ کے ذریعے جائیداد سے محروم کی جانیوالی بہنوں اور والدہ کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ ...
02/07/2026

سپریم کورٹ نے 71 سال قبل انتقال ہبہ کے ذریعے جائیداد سے محروم کی جانیوالی بہنوں اور والدہ کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ دینے کا حکم دے دیا۔ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور انتقال ہبہ کالعدم قرار .
وراثت مردوں کی مہربانی نہیں بلکہ شرعی و قانونی حق ہے، خواتین کو محروم کرنے کے لئے جعلی ہبہ، فراڈ اور خاندانی دباؤ ہرگز قبول نہیں، 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے نور محمد کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، عدالت نے واضح کیا کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی مہربانی یا صوابدید نہیں بلکہ ہر وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خود بخود منتقل ہو جاتا ہے۔

فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کیلئے جعلی ہبہ، جعلی انتقال، فراڈ، خاندانی دباؤ یا رسم و رواج کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، عدالتوں پر لازم ہے کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی ہر ٹرانزیکشن اور معاہدے کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لیں تاکہ کسی بھی خاتون کے بنیادی حق کو سلب نہ ہونے دیا جائے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے میں لکھا کہ خواتین کے وراثتی حصے علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں، خواتین کو خاندانی عزت، روایت یا سماجی دباؤ کے نام پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست، عدالتیں اور ریونیو حکام خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، جبکہ خواتین کو صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا حق ملنا چاہیے، عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون کا جھکاؤ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے خاتمے کی طرف۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا، درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ زبانی ہبہ جعلسازی کے ذریعے منظور کرایا گیا سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوتا ہے جو اس سے فائدہ حاصل کر رہا ہو۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے بارِ ثبوت کا درست جائزہ لینے کے بجائے خود ہبہ کو ہی ثبوت تسلیم کر لیا، جو قانون کے سراسر منافی تھا، عدالت کے مطابق ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے حقائق اور قانون دونوں کے برعکس تھے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ ہائی کورٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ زبانی ہبہ کو کئی دہائیوں تک چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم تاخیر کے باوجود ہبہ ثابت کرنا فائدہ اٹھانے والوں کی ذمہ داری تھی، ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ معاہدے کے بعد کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو زمین کی آمدن میں حصہ ملتا رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں مبینہ ہبہ سے لاعلم رکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کی بنیاد بھی مسترد کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی اپیل منظور کر لی اور تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

The right of inheritance is not a bounty to be bestowed at the pleasure of male family members nor a concession dependent upon custom, convenience or familial goodwill. It is a vested Shari and legal right which devolves upon the heirs immediately upon the death of the predecessor-in-interest and cannot be defeated through private arrangements, social pressures, dubious revenue entries or procedural stratagems. This Court has repeatedly emphasized that the law of inheritance occupies a unique position in Islamic jurisprudence because it embodies the Divine scheme of distribution of wealth and seeks to ensure economic justice within the family and society at large. The experience of the courts, however, demonstrates that women continue to be deprived of their lawful inheritance through a variety of devices, including fabricated gifts, manipulated revenue entries, fraudulent relinquishments, coercive family arrangements and prolonged litigation designed to exhaust those asserting their rights.

The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan does not countenance the deprivation of women from their lawful inheritance. Article 2A incorporates the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice as enunciated by Islam, while Article 25 guarantees equality before law and equal protection of law. Articles 23 and 24 recognize and protect the right to acquire, hold and enjoy property and prohibit deprivation thereof save in accordance with law. Article 35 further obligates the State to protect the family, the mother and the child. Article 227 further mandates that all laws shall be brought in conformity with the Injunctions of Islam. These constitutional guarantees, when read in conjunction with the Islamic injunctions relating to inheritance, leave no room for ambiguity. The State is not a passive spectator where women are deprived of property lawfully devolving upon them through succession. The constitutional guarantee of equality before law becomes illusory if women are denied ownership of property that has vested in them by operation of law. Likewise, the constitutional protection of property rights is rendered meaningless if inheritance rights can be defeated through coercion, fraud, social pressure, manipulated revenue entries, dubious family arrangements or prolonged litigation. The Constitution, therefore, imposes a positive obligation upon all organs of the State, including the courts and revenue authorities, to ensure that female heirs are able to obtain, retain and enjoy their lawful inheritance in a practical and effective manner and not merely as a matter of abstract legal entitlement. Any custom, practice, arrangement or device which has the effect of excluding a female heir from her lawful share not only offends the injunctions of Islam but is also inconsistent with the constitutional commitment to equality, dignity, social justice and protection of property rights.

The responsibility, however, does not rest upon the State alone. Families, Community leaders, Islamic Scholars and Orators, members of the legal profession, revenue authorities and civil society all share a collective obligation to ensure that the rights conferred by Almighty Allah are neither diluted nor defeated. A society that celebrates the virtues of justice while tolerating the deprivation of women from their lawful inheritance suffers from a contradiction that cannot be reconciled with either constitutional values or Islamic principles. The true measure of a legal system lies not in the rights it proclaims but in the rights it protects. Courts must, therefore,remain vigilant to ensure that inheritance laws are not circumvented through artificial devices and that women receive, in substance and not merely in theory, the shares to which they are lawfully entitled.

We accordingly observe that all courts and revenue authorities dealing with inheritance disputes must remain mindful that the law leans in favour of protecting, rather than defeating, the inheritance rights of women, the vulnerable segment of the society, and any transaction having the effect of excluding a female heir from succession must be examined with the utmost care, caution and judicial scrutiny.

C.P.L.A.1103-L/2016
Noor Mohammad,etc v. Ghulam Haider,etc
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
30-06-2026

پاکستان کا سماج معاشی طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7 کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہ...
12/06/2026

پاکستان کا سماج معاشی طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7 کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں۔ غربت کا معیار ماہانہ 8500 روپے رکھا گیا ہے۔ اس رقم میں ایک ہفتہ گزارنا بھی مشکل ہے لیکن کروڑوں لوگ اپنا پورے ماہ کا خرچہ اس رقم سے پورا کررہے ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ہر 3 بچوں میں سے ایک بچہ stunted growth کا شکار ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کو اپنی نشو نما کے لئے پوری خوراک تک نصیب نہیں ہورہی جس کی وجہ سے وہ جسمانی اور زہنی کمزوری کا شکار ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت تمام ممالک کا سائنس اور ٹیکنالوجی میں شدید مقابلہ چل رہا ہے جبکہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ ایک تہائی بچے جسمانی و زہنی کمزوری کا شکار ہیں۔ ہم آنے والی نسلوں کے لئے کیا مستقبل چھوڑ کر جارہے ہیں اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

یہ کہانی چند لوگوں کی کرپشن کے ساتھ ساتھ ایک سرمایہ دارانہ نظام کی عکاسی کرتی ہے جس میں محنت کش عوام کو اشرافیہ کی عیاشیوں کے لئے قربان کیا جاتا ہے۔ 1990 کی دہائی سے دنیا بھر میں یہ بیانیہ بنایا گیا کہ معیشیت کے ہر پہلو پر حکومتی قدغنیں ختم کرکے فری مارکیٹ یعنی آزاد منڈیوں کے حوالے کیا جائے۔ اس کا دلیل یہ تھا کہ حکومتی مداخلت کے بغیر نجی سرمایہ کاری ہوگی جس سے ملک ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہوگا۔ اس بیانئے کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت پاکستان کے بیروکریٹ، سیاست دانوں اور جنر شاہی کی مکمل حمایت حاصل ہوگئی اور بینکوں سے لے کر کھاد اور بجلی بنانے سے لے کر تعلیمی نظام کو نجی کمپنیوں کے حوالے کردیا گیا۔

امید یہ کی جارہی تھی کہ ان اقدامات سے انڈسٹری اور زراعت کا شعبہ ترقی کرے گا۔ لیکن صرف اس سال کے اعداد و شمار دیکھ لیں تو حقیقت آپ کو معلوم ہوجائے گی۔ اس سال تمام دعوں کے باوجود سرمایہ کاری کم ہوئی ہے اور پچھلے کئی سالوں سے صنعت پاکستان میں بند ہوکر ویتنام، بنگل دیش اور دیگر ممالک میں منتقل ہورہی یے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مارچ 2022 سے ایک عام محنت کش کی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہ 27 فیصد کم ہوگئی ہے جبکہ 1 کروڑ 90 لاکھ لوگ بیروزگار ہیں۔ اسی طرح زراعت کے شعبے میں کسان تباہ ہوچکا ہے جبکہ زرعیی شعبے میں growth صرف 2۔89 فیصد تک رہ گئی ہے جس کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے ماہرین معیشت دہاتوں میں بڑھتی ہوئی غربت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

لیکن دوسری جانب اسی معیشیت کے اندر اس سال پاکستان کے بینکوں کے منافعے671 ارب روپے، شوگر مافیا کے 300 ارب روپے، پیٹرول کمپنیاں کے 113 روپے، کھاد کمپنیاں کے 141 ارب، فارما سوٹیکل کمپنیاں کے 42 ارب، جبکہ آئی پی پیز کے واجبات 1 ٹریلین روپے سے زائد ہوچکے ہیں۔ سوال یہ ہے جب معیشیت میں کوئی جان موجود نہیں، تو پھر یہ افلاطون اتنا پیسہ کیسے بنارہے ہیں؟

یہاں پر نظام کی درندگی واضح ہوجاتی ہے۔ "آزاد منڈی" درحقیقت حکمران طبقات کو ریاستی مدد سے مکمل لوٹ مار کی اجازت دینے کا دوسرا نام ہے۔ بینکوں نے صنعت، ٹیکنالوجی یا زراعت کو قرضے دینے کے بجائے سرکار کو قرضے دینا شروع کردیئے۔ سرکار نے آگے آئی پی پیز کو پیسے دینا شروع کردئیے، چاہے یہ کمپنیاں بجلی بنارہی ہوں یا ان کے پاور پلانٹ بند پڑے ہوں۔ کھاد کمپنیوں اور شگر مافیا نے زراعت کی پیداوار پر قبضہ جمالیا جبکہ سکول مافیا اور ہیلتھ مافیا نے تعلیم اور صحت کے شعبے پر اجارہ داری قائم کرلی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام اندرونی تضادات کے باوجود، یہ سیکٹر (اس میں رئیل اسٹیٹ اور ٹرانسپورٹ کو بھی شامل کر لیجئے) ایک ہی طبقے کی ملکیت ہے جو قرضوں کے زریعے ایک دوسرے کو نواز رہے ہیں اور اپنے بینک بیلینس اور پراپرٹیاں بیرون ملک منتقل کررہے ہیں۔

لیکن یہ قرضے واپس کیسے کرتے ہیں؟ یہاں پر عوام کی ضرورت پڑتی ہے۔ اشرافیہ پر ٹیکس لگانے کے بجائے پٹرول پر ٹیکس لگا کر مہنگا کردیں تاکہ پوری قوم کو یہ قرضے واپس کرنے پڑیں۔ کھاد مہنگی کردیں تاکہ کسان کی حیثیت ایک دہاڑی دار مزدور کی طرح رہ جائے جو صرف کمپنیوں کے منافعوں کے لئے محنت کررہا ہے۔ بجلی مہنگی کردیں تاکہ آئی پی پیز کا کاروبار بڑھتا رہے۔ تعلیم اور صحت کا بجٹ کم کردیں اور عوام سے کہیں کے اگر بچوں کو۔پڑھانا ہے تو نجی اداروں کو پیسے دے تو کیونکہ تماری تعلیم اور صحت کی زمہ داری سے ریاست دستبردار ہوچکی ہے۔ اسی طرح کھانے پینے کی اشیا کو بھی مہنگا کردو تاکہ شوگر اور دیگر مل مافیا کو فائدہ ہوجائے اور بینکوں کے قرضے بھی واپس ہو چائیں، چاہے اس کی وجہ سے پاکستانی بچوں کو اتنی کم خراک ملے کہ وہ معزور ہوجائیں اور پوری دنیا سے پیچھے رہ جائیں۔

اس سال جو ٹیکس بڑھیں، اس کا ایک مزید بھیانک پہلو یہ ہے کہ 38 فیصد اضافہ صرف سرکاری عملوں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اسی طرح جو مختلف طریقہ کار سے اشرافیہ کے کو مراعات دی جاتی ہیں اس سال کے اعداد و شمار کے مبابق ان کی تعداد 2400 ہزار ارب روپے ہے۔ یعنی یہ ایک امیروں کی فلاحی ریاست ہے جو غریبوں کی محنت، صحت اور خواب نچوڑ کر چند لوگوں کی عیاشیان پوری کررہی یے۔ اس لئے یہ ہرگز بھی تعجب کی بات نہیں کہ ریاستی جبر بڑھتا جارہا ہے کیونکہ حکمران طبقات کے پاس عوام کو بھوک، ننگ اور مفلسی دینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اس طبقاتی حقیقت کو کارل مارکس نے بہت پہلے یہ کہہ کر بیان کہا تھا کہ سرمایہ داری میں ایک طرف بے پناہ دولت اور دوسری جانب غربت اور نا انصافیوں کا ڈھیر جما ہوجاتا ہے۔ ایک طبقہ محنت نہیں کرتا لیکن ریاستی کنٹرول اور زرائع پیداوار پر قبضے کے زریعے محنت کشوں کی محنت کو لوٹ کر اپنی دولت میں مسلسل اضافہ کرتا رہتا ہے۔ موجودہ حکومت اس ظالمانا نظام میں تیزی لارہی ہے کیونکہ یہ پنڈی کے علاوہ کسی کو بھی جواب دہ نہیں۔ لیکن ہماری جدوجہد کا مرکز محض ایک حکومت کو ہٹانا نہیں ہوسکتا بلکہ اس طبقاتی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت ہونی چاہئے۔ اس سے مراد استحصالی طبقے کے مراعات ختم کرنا، آئی پی پیز اور کمرشل بینکوں کو قومی تحویل میں لینا، صنعت اور زراعت پر کی ترقی پر توجہ دینا، قرضوں کے جال سے نکل کر عوام کے لئے معیاری تعلیم و صحت کے نظام کا انتظام کرنا اور ریاست پر جنرل شاہی، ججوں، جاگیر داروں اور بیروکریٹوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہماری بنیادی ترجیحات مکں شامل ہونی چاہئے۔

05/06/2026

اہم ٹیکس آگاہی۔
سیکشن 75A انکم ٹیکس آرڈیننس 2001۔

حکومتِ پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے معیشت کو دستاویزی بنانے، کالے دھن کی روک تھام اور مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سیکشن 75A کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس قانون کے تحت مخصوص مالیت سے زائد اثاثوں کی خریداری صرف بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سیکشن 75A کیا کہتا ہے؟
سیکشن 75A کے مطابق اگر کوئی شخص مخصوص حد سے زائد مالیت کا اثاثہ خریدتا ہے تو اس کی ادائیگی نقد رقم کے بجائے بینکنگ ذرائع سے کرنا ضروری ہوگی تاکہ لین دین کا مکمل ریکارڈ موجود رہے اور اس کی تصدیق کی جا سکے۔

کن اثاثوں پر یہ قانون لاگو ہوتا ہے؟

غیر منقولہ جائیداد
اگر مالیت 50 لاکھ روپے سے زائد ہو، مثلاً:
▪️ پلاٹ
▪️ گھر
▪️ فلیٹ
▪️ دکان
▪️ کمرشل بلڈنگ

دیگر اثاثے
اگر مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہو، مثلاً:
▪️ گاڑیاں
▪️ مشینری
▪️ صنعتی آلات
▪️ کاروباری سامان
▪️ قیمتی اثاثے۔

ادائیگی کن ذرائع سے کی جا سکتی ہے؟
قانون کے مطابق درج ذیل ذرائع قابل قبول ہیں:

✔ کراس چیک
✔ پے آرڈر
✔ ڈیمانڈ ڈرافٹ
✔ بینکنگ انسٹرومنٹ
✔ آن لائن بینک ٹرانسفر
✔ ڈیجیٹل ادائیگی
✔ ایک بینک اکاؤنٹ سے دوسرے بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست ٹرانسفر۔

متعلقہ قانونی دفعات:
▪️ سیکشن 75A — اثاثوں کی خریداری بینکنگ چینل کے ذریعے
▪️ سیکشن 22 — ڈپریسی ایشن الاؤنس
▪️ سیکشن 23 — ابتدائی الاؤنس
▪️ سیکشن 24 — فرسٹ ایئر الاؤنس
▪️ سیکشن 25 — غیر محسوس اثاثوں کی امارٹائزیشن
▪️ سیکشن 76 — اثاثے کی لاگت کا تعین۔

اگر قانون پر عمل نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟
اگر مقررہ حد سے زائد مالیت کا اثاثہ نقد رقم سے خریدا جائے تو:

سیکشن 22، 23، 24 اور 25 کے تحت ٹیکس فوائد، ڈپریسی ایشن اور دیگر الاؤنسز نہیں مل سکیں گے۔

سیکشن 76 کے تحت خریداری لاگت تسلیم نہ کیے جانے کا خطرہ ہوگا، جس کے نتیجے میں فروخت کے وقت زیادہ ٹیکس بن سکتا ہے۔

۔ FBR شوکاز نوٹس، انکوائری اور جرمانہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

لین دین کو غیر دستاویزی یا مشکوک تصور کیا جا سکتا ہے۔
بینکنگ ٹریل نہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں قانونی اور ٹیکس تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہدایات:

√ہر بڑی ادائیگی بینکنگ چینل کے ذریعے کریں۔
√ اپنی بینک اسٹیٹمنٹ، رسیدیں اور معاہدے محفوظ رکھیں۔
√ ادائیگی ہمیشہ اپنے ہی بینک اکاؤنٹ سے کریں۔
√ غیر دستاویزی کیش لین دین سے مکمل اجتناب کریں۔
√ کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے پہلے ٹیکس ماہر سے مشورہ ضرور کریں.
Adv Zawar Ahmad

بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے چئیرمین عمران خان جیل میں ملاقات کی رپورٹ جو سپریم کورٹ پیش کی گئی
12/02/2026

بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے چئیرمین عمران خان جیل میں ملاقات کی رپورٹ جو سپریم کورٹ پیش کی گئی

27/01/2026

Price of Being a Young Lawyer in Pakistan
Published on: January 20, 2026 9:37 AM.
A worthy Read.

Imdad Ali, a 25-year-old law graduate from University Law College, Quetta, never walked into a courtroom after his graduation in December 2024. Instead, he opts for a different destination: preparing for competitive exams.

“From the onset, I have decided not to join a law firm because my college seniors warned me about the financial hardships in legal practice; according to them, juniors are either underpaid or not paid at all,” Imdad utters in a sorrowful tone.

“In our society, the profession of law is deemed a prestigious field. As people see lawyers and judges on TV, where they are portrayed in such a way that it seems like being a lawyer is a brilliant profession, replete with money, respect, and opportunities. But in reality, the truth is very different. The path to becoming a lawyer is extremely Herculean. It takes five years to complete an LLB degree and a further five years to earn a name in the profession,” says Imdad.

Imdad’s story is not uncommon. Throughout Balochistan and Pakistan, young law graduates confront a harsh reality: a profession with prestige, discipline, and dedication but guarantees no financial stability, job security or career advancement.

The Struggle of Young Lawyers

Muhammad Umer, a 2024 law graduate from the University of Turbat, shares his experience of a chamber in Turbat. “I regularly attended court proceedings from 9AM to 2PM, while later I went to my senior chamber from 5PM to 10PM for three consecutive months, reading case files, conducting research, and drafting applications,” he remarks. “But I earned zilch. My senior would provide me tiny amounts occasionally, but nothing regular. I am looking for a job to switch.”

Siraj Karim Dashti, who completed his LLB from Gujrat Law College, is currently practising in the courts of Karachi. “There is a very bizarre hierarchy in law, especially with seniors. Even after studying for five years and entering the profession, the student is treated perpetually like a junior or subordinate. Financially, he struggles as he gets dependent on the family during practising years, and the respect he expects is not given to him,” he explains. “At this stage, in an effort to earn a name for himself, the student often feels compelled to take shortcuts and abandon the profession.”

According to a survey, less than 20% of law graduates in smaller cities secure paid internships or employment after completing their LLB. Most either abandon the profession permanently or switch fields due to financial constraints.

Adnan Sarwar obtained his LLB degree from the Islamia University of Bahawalpur in 2025. According to him, the path to becoming a lawyer is largely difficult, and it is a journey replete with financial woes and mental agonies. “When a student completes their LLB and wears the tie and the formal lawyer’s uniform, society pins expectations on him, and the family feels proud and thinks he has achieved something huge. But only that student knows how tough and challenging the journey actually is,” he elaborates.

Similarly, Waqar Hafeez, a practising lawyer based in Islamabad, says entry-level lawyers are supposed to work lengthy hours without compensation, while senior advocates capture the larger share of cases and clients. “There is neither balance nor fairness in the legal profession. I am planning to pursue an LLM in a foreign country, which is more secure in terms of academic prospects than squandering my precious years in a cycle that provides no reward in return,” he states.

According to a survey, less than 20% of law graduates in smaller cities secure paid internships or employment after completing their LLB. Most either abandon the profession permanently or switch fields due to financial constraints.

The Monopoly of Senior Advocates

Senior advocates acknowledge the disparity exists but assert it is structural. Advocate Mohib Ullah Mengal, a senior advocate in Quetta, noted, “Young lawyers must be equipped with legal knowledge to grow in the legal market. However, they also need to work hard to gain practical experience and make themselves deserving members of a firm. Law firms cannot pay every junior lawyer unless and until they have proven themselves competent, as the legal market is highly competitive,” Mohib Ullah asserts. “What appears to be an imbalance or exploitation is, in fact, the result of inexperience as well as the demand and supply of junior lawyers in the legal field.”

However, some junior lawyers refute this argument. “It is not about experience alone; it is about monopoly,” Imdad clarifies. “Seniors dominate client management, dictate who handles cases, and make the junior lawyers work for free. Even when juniors contribute meaningfully, they are barely acknowledged.”

Another High Court Advocate, Mehran Maqsoodi, practising in Turbat, notes, “There is a pressing need for a regulated framework, a fixed stipend for juniors, fair distribution of cases and money, and mentorship protocols. Currently, the profession is governed by established customs rather than equity and fairness. Reform is mandatory.”

A System in Dire Need of Reform

Bar councils across Pakistan have neither set fixed stipends for juniors nor curbed the monopoly of seniors over cases. This unregulated framework often pushes young lawyers into doing side jobs, preparing for competitive exam preparation, or switching to other professions for survival.

According to Tayyaba Munir, a judicial clerk at the Supreme Court, one of the most entrenched problems in our legal system is the unpaid nature of junior work, whether described as an internship or associate training. “The stipend problem will never be resolved without firm intervention from the bar: while some seniors do pay their juniors fairly, many do not, and voluntary compliance has repeatedly failed,” Tayyaba Munir expresses her opinion.

As per Tayyaba, a mandatory, bar-regulated minimum stipend, uniformly applied across all chambers and firms, is therefore essential and must be strictly enforced to dismantle the culture of unpaid labour.

Arfa Azhar Khan, a gold medallist in an LLB degree, is currently running a food delivery service named ‘Doctor of Hunger’. “I am more inclined towards entrepreneurship because legal practice is more challenging and less rewarding, and I don’t want to waste my prime years in a tiresome struggle that might only reward me after ten years,” Arfa points out. “Being a woman, I want to be fully independent-financially, socially, and culturally-and legal practice won’t guarantee me that.”

Amanullah Kakar, a practising advocate in Quetta, demonstrates dismay over the disunity of junior advocates. “If the juniors unite and decide together that we will not handle even a single case for the seniors, the seniors will be compelled to pay.” Amanullah emphasizes. “Junior lawyers should also have a fixed salary, just like doctors who get a salary for their house job.”

Hope for a change

Law graduates like Imdad hope for change but are cautious. “I still love law, but I cannot gamble with my future. Chambers should become more accountable, seniors more responsible, and bar councils must actively intervene to safeguard the interests of juniors. Until then, young lawyers will keep facing this silent exploitation.”

Unless substantive reforms are introduced, the chamber culture in Pakistan will continue to function less as a professional training and more as an institutionalised exploitation. For numerous young graduates, the option is no longer between success and struggle, but between survival and surrender.

Mandatory stipends, professional standards, and ethical mentorship are the need of the hour. Without such reforms, Pakistan stands to lose an entire generation of capable lawyers, not because they lack commitment and competence, but because the system has failed to deliver fairness to those who seek to uphold it.

The writer is a lawyer based in Quetta.

Address

Bajaur Bar Association
Bajauri Koruna

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The LawYers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The LawYers:

Shortcuts

Share