09/07/2026
اگر عدالت کے پاس Jurisdiction نہ ہوں تو کیا اس کا فیصلہ قانونی حیثیت رکھتا ہے؟؟
الجواب👇👇👇👇
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: جب کسی معاملے کے لیے
خصوصی قانون موجود ہو تو سول کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی
یہ مقدمہ ضلع اٹک میں واقع زرعی اراضی سے متعلق تھا۔ درخواست گزاروں نے سول کورٹ میں دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ 20 کنال 17 مرلہ زمین کے مالک اور قابض ہیں، جبکہ مخالف فریق کا اس زمین پر کوئی قانونی حق نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ زمین کی کنسولیڈیشن (Consolidation of Holdings) کے دوران بنائی گئی اسکیم اور کنسولیڈیشن افسران کے احکامات غیر قانونی ہیں، لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
ٹرائل کورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دے دیا، لیکن مخالف فریق نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ اپیلٹ کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ قرار دیا کہ سول کورٹ کو اس نوعیت کے مقدمے کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔ اس فیصلے کے خلاف درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ، راولپنڈی بینچ سے رجوع ہوئے۔
📍لاہور ہائیکورٹ کے اہم قانونی اصول
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی معاملے کے بارے میں خصوصی قانون (Special Law) موجود ہو اور اس قانون کے تحت کسی مخصوص فورم یا اتھارٹی کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہو، تو عام سول کورٹ اس معاملے کی سماعت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کنسولیڈیشن آف ہولڈنگز آرڈیننس، 1960 کی دفعہ 26 صراحت کے ساتھ سول کورٹ کے اختیارِ سماعت پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اس لیے کنسولیڈیشن اسکیم یا کنسولیڈیشن افسران کے احکامات کو براہِ راست سول کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگرچہ سول کورٹ عام طور پر تمام دیوانی معاملات سننے کا اختیار رکھتی ہے، لیکن جہاں قانون واضح طور پر کسی دوسرے فورم کو اختیار دیتا ہو، وہاں سول کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔
درخواست گزاروں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ کنسولیڈیشن کی کارروائی فراڈ پر مبنی تھی، اس لیے سول کورٹ کو اختیار حاصل تھا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ 2018 میں سیکشن 9 سی پی سی میں ترمیم کے بعد قانون کا دائرہ مزید واضح ہو گیا ہے۔ اب اگر کسی معاملے کے لیے کوئی جنرل یا اسپیشل قانون موجود ہو تو صرف فراڈ کا الزام لگا دینے سے سول کورٹ کو اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔ پہلے متعلقہ قانون کے تحت دستیاب قانونی فورمز سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی مقدمے میں سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ اگر عدالت کے پاس اختیار ہی موجود نہ ہو تو وہ مقدمے کی میرٹ پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے اس بنیادی سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ کر دیا، جبکہ اپیلٹ کورٹ نے درست طور پر پہلے اختیارِ سماعت (Jurisdiction) کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ایسی عدالت نے دیا جسے قانونی اختیار حاصل ہی نہیں تھا، لہٰذا وہ فیصلہ Coram Non Judice یعنی قانون کی نظر میں غیر مؤثر تھا۔
عدالت نے ایک اور اہم نکتہ بھی واضح کیا کہ درخواست گزار پہلے ہی کنسولیڈیشن حکام کے سامنے اپیل کر چکے تھے۔ اگرچہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)/کلیکٹر کنسولیڈیشن نے انہیں سول کورٹ جانے کا مشورہ دیا، لیکن کسی افسر کا ایسا مشورہ یا مشاہدہ سول کورٹ کو وہ اختیار نہیں دے سکتا جو قانون نے اسے دیا ہی نہیں۔ عدالت کا اختیار صرف قانون سے پیدا ہوتا ہے، کسی افسر کی رائے سے نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ جب ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے سے مختلف ہوں تو ریویژن کی سماعت کرتے ہوئے عام طور پر اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو ترجیح دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ قانون اور شواہد کے مطابق ہو۔ اس مقدمے میں اپیلٹ کورٹ نے قانون کے مطابق درست فیصلہ دیا اور درخواست گزار یہ ثابت نہ کر سکے کہ اس فیصلے میں کوئی قانونی غلطی، بے ضابطگی یا اختیار سے تجاوز موجود ہے۔
📍عدالت کا حتمی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ کنسولیڈیشن سے متعلق تنازعات کی سماعت کے لیے خصوصی قانون موجود ہے، اس لیے سول کورٹ کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق درست قرار دیا گیا اور درخواست گزاروں کی سول ریویژن ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کر دی گئی۔
📍اس فیصلے سے حاصل ہونے والے اہم قانونی اصول
اس فیصلے سے یہ اصول واضح ہوتے ہیں کہ جہاں کسی معاملے کے لیے خصوصی قانون اور مخصوص فورم موجود ہو وہاں سول کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی؛ صرف فراڈ کا الزام لگا دینا سول کورٹ کو اختیار نہیں دیتا؛ عدالت سب سے پہلے اپنے اختیارِ سماعت کا تعین کرتی ہے؛ کسی سرکاری افسر کی رائے یا مشورہ عدالت کو قانونی اختیار فراہم نہیں کر سکتا؛ اور ریویژن میں اپیلٹ کورٹ کے قانونی طور پر درست فیصلے میں بلاوجہ مداخلت نہیں کی جاتی۔