12/04/2026
ہاؤسنگ سوسائٹیز میں ہم مڈل کلاس طبقے کو نقصان کیسے ہوتا ؟
گزشتہ دس سالوں میں نے رئیل اسٹیٹ کے اتار چڑھاؤ کی دنیا کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ کئی دوستوں کو اس میدان میں سرخرو ہوتے دیکھا اور بہت سو کو اپنی جمع پونجی گنواتے ہوئے بھی دیکھا ہے ۔ آخر وہ کون سی وجہ ہے کہ ایک ہی سوسائٹی میں کچھ لوگ کروڑ پتی بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ دہائیاں دیتے رہ جاتے ہیں؟"
اس کا جواب راکٹ سائنس نہیں بلکہ ہماری "مڈل کلاس نفسیات" اور انویسٹمنٹ کے بنیادی اصولوں سے لاعلمی میں چھپا ہے۔
1. "سب جانتا ہوں" کا کمپلیکس (The Ego Trap)
2.
ہم مڈل کلاس لوگ عموماً محدود وسائل اور زیادہ مسائل کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ یہ کوئی بری بات نہیں لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب ہم اس محدود تجربے کے باوجود خود کو بہت "ہوشیار" سمجھنے لگتے ہیں۔ میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ ایلیٹ کلاس یا پروفیشنل انویسٹر ہمیشہ سوال کرتا ہے، وہ جاننا چاہتا ہے کہ ماہر کی رائے کیا ہے۔ اس کے برعکس ہماری کلاس کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جاننے سے زیادہ "جتلانے" پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ "سیانا پن" ہی اکثر ہمیں غلط فیصلے کی طرف لے جاتا ہے۔
2. غیر متعلقہ مشورے (Unprofessional Advice)
پراپرٹی میں نقصان کی پہلی سیڑھی وہ "مشورہ" ہے جو کسی ناتجربہ کار قریبی عزیز یا دوست سے لیا جاتا ہے۔ ہم پلاٹ کی بکنگ کے لیے عموما ان لوگوں سے رائے مانگتے ہیں جنہوں نے خود کبھی زندگی میں کامیاب انویسٹمنٹ نہیں کی ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو آپ اتنے کنفیوز ہو جاتے ہیں کہ بہترین موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے یا پھر کسی غلط جگہ پھنس جاتے ہیں۔ یاد رکھیں مخلص ہونا اور تجربہ کار ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ مشورہ ہمیشہ اس سے کریں جس کے پاس اس فیلڈ کا عملی ثبوت یعنی ٹریک ریکارڈ موجود ہو۔ جو خود تجربات سے گزر کر بہت کچھ جان چکا ہو
3. ڈسکاؤنٹ کی لالچ اور بڑا نقصان (The Discount Trap)
یہ سب سے اہم نکتہ ہے۔ ہم عمر بھر کی کمائی کسی سوسائٹی میں لگاتے وقت اچانک چند ہزار کے "ڈسکاؤنٹ" کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ایک ڈیلر ہمیں 50 یا 60 ہزار چھوڑ رہا ہے تو ہم نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں میں نے بہت سے لوگوں کو پھنستے دیکھا ہے ۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ کس طرح ہم عمر بھر کی جمع پونجی انویسٹ کرتے وقت چند ہزار کے لالچ میں سب برباد کر بیٹھتے ہیں
رئیل اسٹیٹ میں ہر ڈیلر کی رسائی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک پروفیشنل اور بااثر ڈیلر یعنی مین ڈیل اٹھانے والے کے پاس "فرنٹ" کی بکنگ اور سوسائٹی مینجمنٹ کے ساتھ خاص ضمانتیں ہوتی ہیں۔ وہ شاید آپ کو موقع پر ڈسکاؤنٹ نہ دے لیکن وہ آپ کو "ایگزٹ سٹریٹیجی" اور "پریمیم لوکیشن" دیتا ہے۔
مثال کے طور پر میں نے چند سال قبل ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے بارے میں لکھا کہ اس کا پہلا بلاک شروع ہو رہا ہے وہاں انویسٹمنٹ کر لیں ۔اس وقت ایک نمبر بھی دیا اور بتایا کہ یہاں رابطہ کر لیں یہاں یہ ضمانت موجود ہے کہ دو سال بعد یعنی اقساط مکمل ہونے سے پہلے بیچنا ہو تو یہ منافع پر واپس خرید لیں گے ۔ وہ میں ڈیل اٹھانے والے ایسے انویسٹر /پروفیشنل کا نمبر تھا جس نے سوسائٹی کے پہلے بلاک کی فرنٹ کی ساری بکنگ خرید لی تھیں ۔ جن دوستوں نے ان سے بکنگ کروائی انہوں نے بعد میں منافع پر انہیں ہی واپس بیچ دیا ۔ میرے ایک بہت قریبی دوست نے ان سے انفارمیشن لیں پھر کسی اور ڈیلر سے انہیں 50 یا 60 ہزار روپے کا ڈسکاؤنٹ مل رہا تھا تو اس سے ڈسکاؤنٹ آفر پر بکنگ کروا لی ۔ مجھے بتایا کہ میں نے اتنے ڈسکاؤنٹ پر بکنگ کروا لی ہے آپ کے دوست نے تو صاف کہہ دیا تھا وہ ڈسکاؤنٹ نہیں دے رہے۔ ظاہر ہے میں اس وقت مسکرا کر اس "کامیابی " پر "مبارک باد " ہی دے سکتا تھا ۔ دو سال بعد باقی دوستوں نے منافع پر پے بیک کیا لیکن اس دوست کو ہے بیک پر کٹوتی کے ساتھ ڈھائی لاکھ کا نقصان ہو رہا تھا ۔انہوں نے مجھے کہا اور میں نے اپنے دوست سے رابطہ کیا کہ ان سے بھی منافع پر واپس لے لیں ۔ اس نے صاف کہا کہ شاہ جی جو بکنگ میں نے سیل کی تھیں وہ فرنٹ کی تھیں میں نے اس وقت سوسائٹی سے کم منافع لے کر یہ ڈیل کی تھی ۔آپ کے دوست کی بکنگ بہت پیچھے جا کر ہے اس وقت فرنٹ کے پلاٹ مل رہے ہیں تو کوئی اتنا پیچھے جا کر کیوں خریدے گا ۔ میں تو ہے بیک میں اپنے کسٹمر کو منافع دے رہا ہوں تو وہی پلاٹ دوبارہ بیچ کر خود بھی منافع لے رہا ہوں ۔ اپنے دوست سے کہیں مزید کچھ سال انتظار کر لے تو وہاں بھی ریٹ مل جائے گا ابھی تو بیچنے پر اسے نقصان ہے ۔ خیر مجھے یقین ہے میرے وہ دوست سب ساری عمر یہی کہتے رہیں گے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں نقصان ہوتا ہے وہ یہ کبھی نہیں سوچیں گے کہ نقصان ہوتا تو ان کے ساتھ ہی اسی سوسائٹی میں پلاٹ بک کروانے والے ہمارے دیگر مشترکہ دوستوں کو منافع کیسے مل گیا
۔
4. ڈیلر کی پہچان کیسے کریں؟
مارکیٹ میں آپ کو دو طرح کے لوگ ملیں گے
پروفیشنل کنسلٹنٹ: یہ آپ کو ڈسکاؤنٹ کا لالی پاپ نہیں دے گا بلکہ حقیقت بتائے گا۔ وہ آپ کے "وسائل" اور "مسائل" کو سمجھ کر ڈیل دے گا اور مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
موقع پرست سیلز مین: یہ آپ کو ہر صورت ڈیل بیچنے کی کوشش کرے گا۔ جیسے ہی اسے لگے گا کہ آپ ہاتھ سے نکل رہے ہیں وہ "خصوصی ڈسکاؤنٹ" یا "کمپنی آفر" کا جھانسہ دے کر آپ کو فائل تھما دے گا اور پھر کبھی نظر نہیں آئے گا۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہو گا کہ کسی طرح وہ سیل کر لے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری کلاس کے زیادہ تر لوگ اپنے لالچ اور جلد بازی یا سیانے پن کا شکار ہو کر انہیں کے ہاتھوں پھنس جاتے ہیں ۔ آپ کو بڑا بزنس مین ، ایلیٹ کلاس اور بڑا انویسٹر اس قسم کا رونا روتا نہیں ملے گا کیونکہ وہ جانتا ہے اس نے کب انویسٹمنٹ کرنی ہے اور کب منافع لینا ہے ۔ وہ انویسٹمنٹ کے وقت "منافع" نکالنے کی طرف نہیں جاتا اسے علم ہوتا ہے کہ منافع "ٹوکن " یا "کوپن" نہیں ہوتا ۔ یہی بات ایک پیمنٹ کمپنی نے اپنے اشتہار میں بھی سمجھائی ہے ۔ ٹوکن کے بغیر صرف ماسٹر پینٹ ۔۔۔ ٹوکن مزدور کا منافع یا لالچ اور مالک مکان کے گھر کے پینٹ کی تباہی ہے ۔ یہی فارمولا یہاں بھی لاگو ہوتا ہے ۔ کوپن والی ڈیل سے بچ جائیں تو اچھا ہے
یاد رکھیں زمین کا ہر ٹکڑا قیمتی ہے لیکن ہر پلاٹ ہر شخص کے لیے نہیں ہوتا۔ درست وقت پر درست شخص کے ذریعے درست جگہ کا انتخاب ہی اصل کامیابی ہے۔ اپنی زندگی کی جمع پونجی کو چند ہزار کے ڈسکاؤنٹ کی نذر نہ کریں بلکہ سیکیورٹی اور پریمیم لوکیشن کو ترجیح دیں۔پریشانی سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آپ "ہوشیاری" کے بجائے "دانشمندی" سے کام لیں۔(سید بدر سعید)
پراپرٹی سے متعلق معلومات اور خرید و فروخت کے لیے رابطہ کریں
📱03006341010
📧 Email : [email protected]