24/07/2026
تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021
(Parents Protection Ordinance, 2021)
PLD 2022 Lahore 559
"بوڑھے والدین کو ان کے اپنے گھر سے بےدخل کرنا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ اولاد کو والدین کو ان کے گھر سے نکالنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں۔"
قانونی دفعات کا حوالہ
1. تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 (Parents Protection Ordinance, 2021):
سیکشن 3: اگر کوئی اولاد اپنے والدین کو ان کے گھر سے نکالتی ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو والدین متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔
سیکشن 5: اولاد کو گھر خالی کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
سیکشن 7: خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
عدالتی تجزیہ
عدالت نے واضح کیا کہ والدین کو ان کے گھر سے نکالنے یا بےدخل کرنے کی کوشش قانوناً قابلِ مواخذہ ہو سکتی ہے۔
اگر والدین نے گھر اولاد کو رہائش کے لیے دیا ہو تو محض رہائش کی اجازت کی بنیاد پر اولاد مستقل قبضے یا ملکیتی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
قانون والدین کو اپنی رہائش، تحفظ اور وقار کے دفاع کے لیے خصوصی قانونی چارہ جوئی کا حق فراہم کرتا ہے۔
---
متعلقہ قوانین کی روشنی میں قانونی تجزیاتی جائزہ
عدالت: لاہور ہائی کورٹ
فیصلہ: PLD 2022 Lahore 559
مرکزی نکات
عدالت نے والدین کے تحفظ، رہائش اور عزت و وقار کے قانونی حق کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
قانون کے تحت والدین کو مخصوص حالات میں اپنے بچوں کو اپنے زیرِ ملکیت یا قانونی تصرف میں موجود گھر سے بےدخل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔
---
تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 کا قانونی تجزیہ
نافذ العمل: 8 مئی 2021
اجراء: صدرِ پاکستان
اہم دفعات
1. سیکشن 3: والدین کو ان کی رہائش سے غیر قانونی طور پر بےدخل کرنے کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
2. سیکشن 5: مخصوص قانونی شرائط کے تحت والدین کو اپنی اولاد کو گھر خالی کرنے کا نوٹس دینے اور قانونی کارروائی کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔
3. سیکشن 7: قانون یا مجاز اتھارٹی کے حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی نتائج اور سزا کا اطلاق ہو سکتا ہے۔
4. متعلقہ انتظامی اختیارات: مجاز انتظامی اتھارٹی والدین کی شکایت پر قانون کے مطابق کارروائی کر سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر پولیس کی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔
5. اپیل کا حق: متاثرہ فریق کو قانون میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق متعلقہ فورم پر اپیل یا قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔
---
قانونی اور اخلاقی اہمیت
یہ قانون والدین کے حقوق، رہائش، تحفظ اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونی اقدام ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں انہیں اپنی ہی اولاد کی جانب سے بےدخلی، دباؤ یا ناروا سلوک کا سامنا ہو۔
عدالتی نظائر نے بھی والدین کے وقار اور ان کے قانونی حقِ رہائش کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
---
تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 اور عدالتی دائرۂ اختیار
تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 کے تحت پیدا ہونے والے مخصوص حقوق اور کارروائیاں عمومی طور پر Family Courts Act, 1964 کے روایتی دائرۂ اختیار سے مختلف قانونی نوعیت رکھتی ہیں۔
1. Family Courts Act, 1964 کے تحت دائرۂ اختیار
فیملی کورٹس بنیادی طور پر ان معاملات کی سماعت کرتی ہیں جو Family Courts Act, 1964 کے Schedule میں شامل ہیں، مثلاً:
- نان و نفقہ (Maintenance)
- حضانت و ملاقات (Custody and Visitation)
- نکاح، فسخِ نکاح اور خلع
- حق مہر
- جہیز اور بعض دیگر ازدواجی و خاندانی معاملات
تحفظِ والدین یا والدین کو بالغ اولاد سے تحفظ فراہم کرنے کے معاملات کے لیے متعلقہ خصوصی قانون میں علیحدہ قانونی طریقۂ کار فراہم کیا جا سکتا ہے۔
---
2. Parents Protection Ordinance, 2021 کے تحت کارروائی
یہ ایک خصوصی قانون (Special Statute) ہے، جس کے تحت متعلقہ مجاز اتھارٹی کو مخصوص اختیارات دیے گئے ہیں۔
والدین، قانون میں بیان کردہ حالات میں، اولاد کی جانب سے بےدخلی یا دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔
مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق:
- انکوائری کر سکتی ہے؛
- متعلقہ فریقین کو سن سکتی ہے؛
- گھر خالی کرنے یا دیگر مناسب احکامات جاری کر سکتی ہے؛
- ضرورت کے مطابق پولیس یا انتظامیہ کی معاونت حاصل کر سکتی ہے۔
---
اگر والدین کو عدالت سے رجوع کرنا ہو؟
کیس کے حقائق اور مطلوبہ ریلیف کے مطابق مختلف قانونی راستے دستیاب ہو سکتے ہیں، مثلاً:
- خصوصی قانون کے تحت مجاز اتھارٹی سے رجوع؛
- ملکیت، قبضہ یا دیگر سول حقوق کے تنازع کی صورت میں مجاز سول عدالت سے رجوع؛
- کسی انتظامی حکم یا سرکاری کارروائی کے خلاف آئینی دائرۂ اختیار کے تحت متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع؛
- تشدد، دھمکی، جبر یا کسی فوجداری جرم کی صورت میں پولیس اور متعلقہ فوجداری قانون کے تحت کارروائی۔
مختصر نتیجہ
تحفظِ والدین سے متعلق کسی مقدمے میں درست فورم کا تعین مطلوبہ ریلیف، جائیداد کی ملکیت، فریقین کے قانونی حقوق اور متعلقہ خصوصی قانون کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔ Family Court، Civil Court، انتظامی اتھارٹی اور Constitutional Court کے دائرۂ اختیار کو ایک دوسرے سے الگ رکھتے ہوئے ہر مقدمے کے حقائق کے مطابق قانونی چارہ جوئی اختیار کی جانی چاہیے۔