District Bar Association Bahawalnagar

District Bar Association Bahawalnagar District Bar Association Bahawalnagar Punjab, Pakistan.

مشترکہ اراضی کی تقسیم کے لیئے اب askfortaqseem پورٹل سے کہیں زیادہ جدید اور موؑثر RCMS ریونیو کورٹ مینیجمنٹ سسٹم پورٹل۔ ...
05/08/2026

مشترکہ اراضی کی تقسیم کے لیئے اب askfortaqseem پورٹل سے کہیں زیادہ جدید اور موؑثر RCMS ریونیو کورٹ مینیجمنٹ سسٹم پورٹل۔ اب اپنی تقسیم اراضی کے لیئے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

https://rcms.punjab-zameen.gov.pk/login

Golden Principles of Advocacy — مضبوط کیس کی بنیاد بہترین تیاری ہےوکالت میں کامیاب اور مؤثر Advocacy کا انحصار صرف عدالت...
31/07/2026

Golden Principles of Advocacy —
مضبوط کیس کی بنیاد بہترین تیاری ہے

وکالت میں کامیاب اور مؤثر Advocacy کا انحصار صرف عدالت میں صرف زبردست Arguments کرنے پر نہیں ہوتا، بلکہ اصل کامیابی Case Preparation، Legal Research اور بہترین Drafting میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

جب کوئی مقدمہ عدالت میں فائل کیا جائے تو اسے اس انداز میں تیار کیا جانا چاہیے کہ اس کے تمام بنیادی Facts، Legal Grounds، Questions of Law، Applicable Provisions اور Relief Claimed مکمل وضاحت کے ساتھ عدالت کے سامنے موجود ہوں۔ مقدمے کی Drafting اس قدر جامع، مربوط اور قانونی بنیادوں پر مبنی ہونی چاہیے کہ معزز عدالت عالیہ کیس کو پڑھتے ہی یہ سمجھ سکے کہ اصل تنازع کیا ہے، کون سا قانونی اصول لاگو ہوتا ہے، کون سی دفعہ attract کرتی ہے اور کون سی نہیں، اور آخرکار عدالت کو کس قانونی نکتے پر فیصلہ کرنا ہے۔

ایک اچھا وکیل عدالت میں صرف Arguments نہیں کرتا، بلکہ اس سے پہلے ہی اپنے Pleadings اور Case File کے ذریعے عدالت کو یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے کیس کی اصل بنیاد کیا ہے۔

کیس تیار کرتے وقت ہمیشہ Supreme Court of Pakistan اور متعلقہ High Courts کے تازہ ترین اور اہم Judgments کو تلاش کرنا اور ان کا حوالہ دینا انتہائی ضروری ہے، خصوصاً وہ فیصلے جو مقدمے کے بنیادی قانونی نکتے کو براہِ راست support کرتے ہوں۔ اہم judgments کے citations کو pleadings میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ دورانِ Arguments بھی ان پر reliance کیا جانا چاہیے۔

یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عدالت کسی مقدمے کی سماعت سے قبل اس کی فائل، pleadings اور available material کا مطالعہ کرتی ہے اور مقدمے کے قانونی نکات پر اپنا ابتدائی ذہنی framework تیار کرتی ہے۔ اس لیے وکیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کیس اس انداز میں تیار کرے کہ عدالت کے لیے Facts، Law اور Relief کو سمجھنا آسان ہو اور مقدمے کا اصل قانونی سوال واضح طور پر سامنے آ جائے۔

Golden Rule of Advocacy:"A well-prepared case requires fewer arguments, because a well-drafted case speaks for itself."

لہٰذا ایک کامیاب وکیل کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ عدالت میں کتنا اچھا بولتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ عدالت میں آنے سے پہلے اپنے کیس کو کتنی گہرائی، تحقیق، محنت اور قانونی بصیرت کے ساتھ تیار کرتا ہے۔

Strong Advocacy begins before the Courtroom — with Strong Preparation, Precise Drafting and Powerful Legal Research.

Sharetoeducate⚖️ اہم قانونی آگاہیبہت سے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ عدالتوں کی گرمیوں یا سردیوں کی تعطیلات کے دوران بچوں سے ...
31/07/2026

Sharetoeducate

⚖️ اہم قانونی آگاہی
بہت سے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ عدالتوں کی گرمیوں یا سردیوں کی تعطیلات کے دوران بچوں سے ملاقات (Visitation) بھی معطل ہو جاتی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے 22 دسمبر 2017 کے نوٹیفکیشن جو کہ آج بھی نافذ العمل ہے کے ذریعے واضح ہدایت دی کہ:
✅ اگست اور دسمبر میں بھی گارڈین کورٹ کے ملاقاتی احکامات معمول کے مطابق نافذ کیے جائیں گے۔
✅ تعطیلات کے دوران ڈیوٹی جج اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملاقات کے عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد ہو۔
لہٰذا اگر کوئی والد یا والدہ عدالتی حکم کے باوجود تعطیلات کا بہانہ بنا کر ملاقات سے انکار کرے، تو یہ قانون کے مطابق درست نہیں۔
بچے کا دونوں والدین سے تعلق برقرار رکھنا اس کی فلاح و بہبود کا بنیادی حصہ ہے۔

25/07/2026

انتہائی کمال کا نبوی نسخہ !

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

یہ صرف 12 الفاظ کی دعا ہے، مگر اس میں ساری دنیا اور آخرت کی بھلائی سمو دی گئی ہے۔ ایک ایک لفظ کو کھول کر دیکھیے:

1. اللَّهُمَّ
- یا اللہ! خاص اللہ کے نام سے شروع، جو سارے ناموں کا سرِ چشمہ ہے۔ اس ایک لفظ میں کامل توحید ہے۔

2. اكْفِنِي
- مجھے کافی کر دیں، بے‌نیاز کر دیں، محفوظ رکھیں، میری حاجت روائی کر دیں۔

- "اکفنی" میں تینوں طرح کی کفایت مانگی گئی:


1. کفایتِ رزق (مال کی)


2. کفایتِ نفس (دل کی)

3. کفایتِ عقل (سوچ کی)

3. بِحَلَالِكَ

- آپ کے حلال سے، یعنی وہ رزق جو آپ کی طرف سے پاک ہو، برکت والا ہو، طیب ہو،،آپ کے حکم کے مطابق ہو۔

- یہاں بندہ یہ کہہ رہا ہے:

"اے اللہ! میرا رزق آپ کے ہاتھ سے ہو، مخلوق کے ہاتھ سے نہیں۔"

4. عَنْ حَرَامِكَ

- آپ کے حرام کردہ امور سے بے‌نیاز کر دیں۔
-

- یہاں صرف "حرام نہ کھانے" کی دعا نہیں، بلکہ تین اعلیٰ درجے مانگے گئے:

1. حرام کی مجبوری نہ ہو
2. حرام کی طرف رغبت نہ ہو

3. حرام کی طرف نظر بھی نہ جائے


یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:


"یہ دعا پڑھنے والا حرام سے اس طرح بچ جاتا ہے جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔"

5. وَأَغْنِنِي
- اور مجھے غنیٰ کر دیں، بے‌نیاز کر دیں۔

- غنا دو طرح کا ہوتا ہے:
- غنای مال (دولت)
- غنای نفس (دل کی بے‌نیازی)

اس دعا میں دوسرا غنا مانگا گیا، جو افضل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

"لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ"
(بخاری، مسلم)

6. بِفَضْلِكَ

- آپ کے فضل سے، نہ کہ میری محنت سے، نہ میری عقل سے، نہ میرے کاروبار سے۔

- یہ لفظ بندے کی عاجزی کی انتہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ! میں کچھ بھی نہیں، سب آپ کا فضل ہے۔"
عَمَّنْ سِوَاكَ

- آپ کے سوا سب سے۔ یعنی: لوگوں سے مانگنے سے بچالیں

- قرض لینے سے بچا لیں
- چاپلوسی کرنے سے بچا لیں

- کسی کے احسان تلے دبنے سے بچا لیں
- دنیا کے کسی طاقتور کے آگے جھکنے سے بچالیں

یہ عزتِ نفس کی آخری حد ہے۔

علماء کی تشریحات

امام غزالی (احیاء العلوم)

یہ دعا قناعت کا سب سے بڑا نسخہ ہے۔ جو اسے پڑھتا ہے، اس کا دل دنیا سے نکل جاتا ہے۔

ابن القیم (عدة الصابرین)

یہ دعا توحیدِ ربوبیت، توحیدِ الوہیت اور توحیدِ اسماء و صفات کا نچوڑ ہے۔

شیخ عبدالقادر جیلانی

جو اس دعا کو صبح و شام 7 بار پڑھے، اللہ اسے حلال سے مالا مال اور حرام سے پاک کر دیتا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی

یہ دعا پڑھنے سے رزق میں ایسی برکت ہوتی ہے کہ تھوڑا بہت بہت نظر آنے لگتا ہے۔
شیخ البانی

اس دعا کی متعدد صحابہ سے صحت، اسے "متواتر معنوی" بنا دیتی ہے۔

یہ دعا کیوں بہت افضل ہے؟

کیونکہ اس میں بندہ چار سب سے بڑی چیزوں سے نجات مانگ رہا ہے:

1. حرام کی مجبوری

2. حرام کی خواہش

3. مخلوق کی غلامی

4. دل کی تنگدستی

اور چار سب سے بڑی چیزیں طلب کر رہا ہے:

1. حلال کی برکت


2. دل کی قناعت

3. اللہ کا فضل

4. عزتِ نفس

اے اللہ! ہمارے لیے رزقِ حلال کے تمام اسباب آسان فرما دے، اور ہمارے جن بہن بھائیوں کے پاس روزگار نہیں ہے، انہیں اپنے غیب کے خزانو سے بہترین اور باوقار روزگار عطا فرما۔ ان کے لیے حلال و برکت والے راستے کھول دے اور ان کی تمام پریشانیاں دور فرما۔ آمین!

تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021(Parents Protection Ordinance, 2021)PLD 2022 Lahore 559"بوڑھے والدین کو ان کے اپنے گھر سے بےدخ...
24/07/2026

تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021

(Parents Protection Ordinance, 2021)

PLD 2022 Lahore 559

"بوڑھے والدین کو ان کے اپنے گھر سے بےدخل کرنا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ اولاد کو والدین کو ان کے گھر سے نکالنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں۔"

قانونی دفعات کا حوالہ

1. تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 (Parents Protection Ordinance, 2021):

سیکشن 3: اگر کوئی اولاد اپنے والدین کو ان کے گھر سے نکالتی ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو والدین متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔

سیکشن 5: اولاد کو گھر خالی کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

سیکشن 7: خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

عدالتی تجزیہ

عدالت نے واضح کیا کہ والدین کو ان کے گھر سے نکالنے یا بےدخل کرنے کی کوشش قانوناً قابلِ مواخذہ ہو سکتی ہے۔

اگر والدین نے گھر اولاد کو رہائش کے لیے دیا ہو تو محض رہائش کی اجازت کی بنیاد پر اولاد مستقل قبضے یا ملکیتی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔

قانون والدین کو اپنی رہائش، تحفظ اور وقار کے دفاع کے لیے خصوصی قانونی چارہ جوئی کا حق فراہم کرتا ہے۔

---

متعلقہ قوانین کی روشنی میں قانونی تجزیاتی جائزہ

عدالت: لاہور ہائی کورٹ
فیصلہ: PLD 2022 Lahore 559

مرکزی نکات

عدالت نے والدین کے تحفظ، رہائش اور عزت و وقار کے قانونی حق کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

قانون کے تحت والدین کو مخصوص حالات میں اپنے بچوں کو اپنے زیرِ ملکیت یا قانونی تصرف میں موجود گھر سے بےدخل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔

---

تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 کا قانونی تجزیہ

نافذ العمل: 8 مئی 2021
اجراء: صدرِ پاکستان

اہم دفعات

1. سیکشن 3: والدین کو ان کی رہائش سے غیر قانونی طور پر بےدخل کرنے کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

2. سیکشن 5: مخصوص قانونی شرائط کے تحت والدین کو اپنی اولاد کو گھر خالی کرنے کا نوٹس دینے اور قانونی کارروائی کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔

3. سیکشن 7: قانون یا مجاز اتھارٹی کے حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی نتائج اور سزا کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

4. متعلقہ انتظامی اختیارات: مجاز انتظامی اتھارٹی والدین کی شکایت پر قانون کے مطابق کارروائی کر سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر پولیس کی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔

5. اپیل کا حق: متاثرہ فریق کو قانون میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق متعلقہ فورم پر اپیل یا قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔

---

قانونی اور اخلاقی اہمیت

یہ قانون والدین کے حقوق، رہائش، تحفظ اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونی اقدام ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں انہیں اپنی ہی اولاد کی جانب سے بےدخلی، دباؤ یا ناروا سلوک کا سامنا ہو۔

عدالتی نظائر نے بھی والدین کے وقار اور ان کے قانونی حقِ رہائش کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

---

تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 اور عدالتی دائرۂ اختیار

تحفظِ والدین آرڈیننس، 2021 کے تحت پیدا ہونے والے مخصوص حقوق اور کارروائیاں عمومی طور پر Family Courts Act, 1964 کے روایتی دائرۂ اختیار سے مختلف قانونی نوعیت رکھتی ہیں۔

1. Family Courts Act, 1964 کے تحت دائرۂ اختیار

فیملی کورٹس بنیادی طور پر ان معاملات کی سماعت کرتی ہیں جو Family Courts Act, 1964 کے Schedule میں شامل ہیں، مثلاً:

- نان و نفقہ (Maintenance)
- حضانت و ملاقات (Custody and Visitation)
- نکاح، فسخِ نکاح اور خلع
- حق مہر
- جہیز اور بعض دیگر ازدواجی و خاندانی معاملات

تحفظِ والدین یا والدین کو بالغ اولاد سے تحفظ فراہم کرنے کے معاملات کے لیے متعلقہ خصوصی قانون میں علیحدہ قانونی طریقۂ کار فراہم کیا جا سکتا ہے۔

---

2. Parents Protection Ordinance, 2021 کے تحت کارروائی

یہ ایک خصوصی قانون (Special Statute) ہے، جس کے تحت متعلقہ مجاز اتھارٹی کو مخصوص اختیارات دیے گئے ہیں۔

والدین، قانون میں بیان کردہ حالات میں، اولاد کی جانب سے بےدخلی یا دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔

مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق:

- انکوائری کر سکتی ہے؛
- متعلقہ فریقین کو سن سکتی ہے؛
- گھر خالی کرنے یا دیگر مناسب احکامات جاری کر سکتی ہے؛
- ضرورت کے مطابق پولیس یا انتظامیہ کی معاونت حاصل کر سکتی ہے۔

---

اگر والدین کو عدالت سے رجوع کرنا ہو؟

کیس کے حقائق اور مطلوبہ ریلیف کے مطابق مختلف قانونی راستے دستیاب ہو سکتے ہیں، مثلاً:

- خصوصی قانون کے تحت مجاز اتھارٹی سے رجوع؛
- ملکیت، قبضہ یا دیگر سول حقوق کے تنازع کی صورت میں مجاز سول عدالت سے رجوع؛
- کسی انتظامی حکم یا سرکاری کارروائی کے خلاف آئینی دائرۂ اختیار کے تحت متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع؛
- تشدد، دھمکی، جبر یا کسی فوجداری جرم کی صورت میں پولیس اور متعلقہ فوجداری قانون کے تحت کارروائی۔

مختصر نتیجہ

تحفظِ والدین سے متعلق کسی مقدمے میں درست فورم کا تعین مطلوبہ ریلیف، جائیداد کی ملکیت، فریقین کے قانونی حقوق اور متعلقہ خصوصی قانون کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔ Family Court، Civil Court، انتظامی اتھارٹی اور Constitutional Court کے دائرۂ اختیار کو ایک دوسرے سے الگ رکھتے ہوئے ہر مقدمے کے حقائق کے مطابق قانونی چارہ جوئی اختیار کی جانی چاہیے۔

📖 سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ | PLD 2026 Supreme Court 42سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جس اقرار نامہ پر گواہوں کے مکمل کوائف،...
18/07/2026

📖 سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ | PLD 2026 Supreme Court 42
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جس اقرار نامہ پر گواہوں کے مکمل کوائف، مثلاً شناختی کارڈ نمبر اور پتے درج نہ ہوں، وہ مشکوک اور ناقابلِ اعتماد دستاویز ہو سکتی ہے۔
⚖️ قانونی معاملات میں ہر دستاویز کی درست تیاری اور قانونی تقاضوں کی تکمیل نہایت ضروری ہے۔

عدالت میں جج کو مخاطب کرنے کے لیے احتراماً استعمال ہونے والے الفاظ (Forms of Address)عدالت میں وکلاء جج یا عدالت کو احتر...
15/07/2026

عدالت میں جج کو مخاطب کرنے کے لیے احتراماً استعمال ہونے والے الفاظ (Forms of Address)

عدالت میں وکلاء جج یا عدالت کو احترام کے ساتھ مختلف انداز میں مخاطب کرتے ہیں۔ پاکستان میں ان الفاظ کا استعمال عدالت کی سطح، مقامی روایت اور عدالتی ماحول کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ کسی مخصوص خطاب کا عمومی طور پر کوئی لازمی قانونی تقاضا نہیں، البتہ احترام، شائستگی اور مناسب عدالتی آداب کی پابندی ضروری ہے۔

خطاب| عام استعمال
My Lord / My Lords
ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں روایتی طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
Your Lordship / Your Lordships
زیادہ رسمی انداز میں جج یا بنچ کو مخاطب کرنے کے لیے۔
Your Honour
ماتحت عدالتوں میں عام استعمال، جبکہ بعض اعلیٰ عدالتوں میں بھی قابلِ قبول۔
Hon'ble Court / Honourable Court
زبانی دلائل، تحریری درخواستوں اور قانونی دلائل میں عام اور محفوظ انداز۔
The Court
عدالت کا حوالہ دیتے وقت۔
Learned Judge / Learned Court
تحریری دلائل، عدالتی فیصلوں اور قانونی بحث میں احتراماً۔
The Learned Trial Court
ماتحت عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے وقت۔
The Learned Magistrate / Learned Judge
متعلقہ مجسٹریٹ یا جج کا ذکر کرتے وقت۔

عام عدالتی جملے

ہائی کورٹ / سپریم کورٹ

- My Lord, it is respectfully submitted that...
- My Lords, the learned counsel for the petitioner submits...
- With utmost respect, My Lord...

ماتحت عدالت
- Your Honour, it is respectfully submitted that...
- It is respectfully prayed before this Honourable Court that...
عام خطابات
- جنابِ عالی
- معزز عدالت
- جناب والا
- باعزت عدالت
اہم بات
عدالت میں اصل اہمیت احترام، شائستگی اور مضبوط قانونی دلائل کی ہوتی ہے۔ مختلف عدالتوں اور ججز کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے مقامی عدالتی روایت اور عدالتی آداب کے مطابق مناسب خطاب اختیار کرنا بہتر ہے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہل...
19/06/2026

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہلا اور شاندار فیصلہ۔۔۔۔۔

وفاقی آئینی عدالت نے بی بی امینہ وغیرہ کیس میں خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ /تحریری مفاہمت کیلئے 13سخت قانونی اصول جاری کر دیئے

آئندہ تمام ملکی عدالتیں، ریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات میں درج ذیل اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرینگے

پہلا حکم:تمام عدالتیں اورریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات کی دستاویزات پراعلی درجے کی احتیاط اور توجہ دیںگے

دوسرا حکم:کسی تحریری راضی نامہ والی دستاویز کی بنیاد پر انتقال وغیرہ (چاہے تصدیق شدہ ہی کیوں نہ ہو)تب تک درست تصور نہیں کیا جائیگا جب تک اس راضی نامہ کی رضامندی کا آزادانہ ثبوت نہ ہو اور راضی نامہ کے تمام اجزا بارے مکمل آگاہی نہ ہو۔

تیسرا حکم:وراثتی تنازعات میں خواتین کی تحریری مفاہمت /راضی نامہ کے آزادانہ ماحول میں ہونےکو ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوگا جو اس راضی نامے سے فائندہ لینے والا ہوگا۔

چوتھا حکم: تمام عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیںگی کہ کیا ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ یا وراثت سے دست برداری کی بابت کو خواتین کو مکمل آگاہی اور علم تھا۔

پانچواں حکم: یہ لازمی ثابت ہونا چاہیےکہ وراثتی تنازعات میں راضی نامہ لکھنے والی یا دستبرداری لکھنے والی خواتین کو تحریر سے قبل وراثتی حقوق اور تحریر کی بابت آزادانہ مکمل قانونی رہنمائی دستیاب تھی ۔

چھٹا حکم:وراثتی تنازعات کی مفاہمت کی جانچ پڑتال ایسے کی جائیگی کہ اس میں کسی قسم کا کوئی دبائو، سماجی برتری، فراڈ، غلط بیانی یا دبائو کا عنصر تو شامل نہیں تھا۔

ساتواں حکم:جہاں کہیں معاوضہ کا عنصر شامل ہو تو اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ یہ معاوضہ خواتین قانونی طریقے سے واقعی ہی ملا ہے اور معاوضہ مناسب اور حقیقی ہے کہ نہیں۔

آٹھواں حکم:جو بھی دستاویز لکھی جائیگی، اس دستاویز کے تمام عناصر یا اجزا عام فہم زبان بالخصوص اس زبان میں ہوگی جو خواتین کیلئے آسانی سے سمجھ آنے والی ہو۔

نواں حکم:عدالتی اس امر کی تصدیق کرینگی کہ راضی نامہ یا مفاہمت لکھنے والی خواتین کوجلد بازی یا دبائو کے بغیرمشاورت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا ہے۔

دسواں حکم :ہر اس ٹرانزیکشن کو سختی سے مسترد کیا جائیگا جو شعوری نہ ہو، غیرمناسب ہو اور خاتون وارث کے حق متاثر کرتی ہے، تاوقت یہ کہ اس کیخلاف ٹھوس شہادت نہ آ جائے۔

گیارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازع کے اردگرد کے تمام مشکوک حالات و اقعات کو فائدہ لینے والا قابل اطمینان وضاحت کرے گاورنہ وہ مشکوک حالات اور واقعات فائدہ لینے والے کیخلاف پڑھے جائیں گے۔

بارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازعات میں انہیں وراثتی حقوق سے مفاہت کے ذریعے دستبربرداری کی بابت فیصلہ دینے سے پہلے عدالتیں لازمی طور پر خواتین کی رضامندی اور آگاہ شدہ آگاہی کی بابت اپنی مثبت فائنڈنگ ریکارڈ کرینگی۔

تیرہواں حکم: تمام ریونیو حکم وراثتی انتقالات درج کرنے سے پہلے آئینی عدالت کے ان12احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔

17/06/2026

خواتین کے حقوق وراثت کے تحفظ کے لیے وفاقی آئینی عدالت کی عدالتوں اور محکمہ مال کو دی گئی انتہائی سخت ہدایات
All courts, revenue authorities, and other forums entrusted with the adjudication, recognition, or enforcement of inheritance rights, particularly those concerning female legal heirs, shall exercise heightened vigilance and judicial scrutiny in such matters and are directed to ensure compliance with the following indispensable safeguards while examining any compromise, relinquishment, family arrangement, settlement, gift, mutation, consent statement, or other instrument having the effect of affecting, curtailing, compromising, or extinguishing the inheritance rights of women

i. All courts and revenue authorities shall, while adjudicating instruments affecting inheritance rights of female heirs, apply a rule of heightened judicial scrutiny, treating such matters as involving vulnerable class protection.

ii. No presumption of validity shall arise merely from ex*****on, attestation, registration, mutation, or appearance of consent, unless the same is supported by strict proof of voluntariness and informed understanding.

iii. The burden shall remain heavily upon the beneficiary of the transaction to affirmatively establish, through credible and unimpeachable evidence, that the instrument represents a free, informed, and conscious act of the executant.

iv. Courts shall ensure that it is proved on record that the executant had clear knowledge of the nature of the transaction and the exact inheritance rights being affected or relinquished. v. It must be established that the executant had access to independent, competent, and disinterested advice, sufficient to enable informed decision-making free from influence or dependence.

vi. Any transaction shall be scrutinized to exclude the presence of coercion, fraud, misrepresentation, undue influence, or familial or social domination.

vii. Where consideration is alleged, courts shall require strict proof that it was lawful, real, adequate, and actually received in a verifiable manner.

viii. The contents of all documents must be shown to have been read over, explained, and translated in a language fully understood by the executant.

ix. Courts shall verify that the executant was afforded a reasonable opportunity for reflection and consultation, without haste or pressure.

C.P.L.A.143-Q of 2025
Mst. Bibi Amina and others Versus Shamsullah and others
04.06.2026

وراثتی ​جائیداد اور شیعہ سنی 'مسالک' کا فرق، عدالت نے شیعہ ہونے کے دعویدار خاندان کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اسے سنی ڈیکلی...
17/06/2026

وراثتی ​جائیداد اور شیعہ سنی 'مسالک' کا فرق،

عدالت نے شیعہ ہونے کے دعویدار خاندان کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اسے سنی ڈیکلیئر کر دیا۔

​منڈی بہاؤالدین کے علی محمد صاحب دنیا سے رخصت ہوئے تو پیچھے جائیداد اور صرف بیٹیاں چھوڑ گئے۔ اب قانون کا ایک بڑا دلچسپ پہلو سامنے آیا؛ اگر مرحوم سنی (حنفی) ہوں تو جائیداد کا کچھ حصہ کزنز (رشتہ داروں) کو بھی جاتا ہے، لیکن اگر مرحوم شیعہ (جعفریہ) ہوں تو پوری جائیداد صرف بیٹیوں کی ہو جاتی ہے۔ بس پھر کیا تھا، بیٹیوں نے راتوں رات پٹاری سے "ڈیتھ سرٹیفکیٹ" نکالا جس پر والد کا مسلک شیعہ درج تھا، اور تمام جائیداد اپنے نام کروا لی۔
​یہ دیکھ کر مرحوم کے کزن خوشی محمد عدالت پہنچ گئے کہ "علی محمد تو کٹر سنی تھے، بیٹیوں نے جائیداد کے چکر میں باپ کا مسلک ہی بدل ڈالا!" کیس سول کورٹ سے ہوتا ہوا لاہور ہائی کورٹ پہنچا، جہاں جج صاحب کے سامنے حقائق کی ایسی فلم چلی کہ بیٹیاں اپنے ہی جال میں پھنس گئیں:

​باغِ فدک سے لاعلمی:
بیٹی نے دعویٰ کیا کہ وہ 30 سال سے مجالس سن رہی ہیں، مگر جب جج صاحب نے شیعہ تاریخ کے سب سے معروف موضوع "باغِ فدک" کا پوچھا، تو وہ بالکل کورے کاغذ کی طرح لا علم نکلیں۔

​عشر بمقابلہ خمس:
بیٹی نے مانا کہ والد فصلوں پر 'عشر' (سنی طریقہ) دیتے تھے، جبکہ شیعہ مسلک میں 'خمس' (پانچواں حصہ) دیا جاتا ہے۔

​نکاح و جنازہ کا تضاد:
بیٹی کا اپنا نکاح سنی مولوی نے پڑھایا تھا، اور بیٹیوں کے گواہ یہ تک نہ بتا سکے کہ والد کا جنازہ کس نے پڑھایا۔ دوسری طرف کزن نے اصل امام مسجد ہی عدالت میں کھڑا کر دیا جس نے مرحوم کا جنازہ پڑھایا تھا۔

​عدالت کا حتمی فیصلہ:
​لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں ہر مسلمان کو بنیادی طور پر "سنی" ہی مانا جاتا ہے جب تک کہ ٹھوس ثبوت نہ ہو۔ بیٹیوں نے جائیداد ہتھیا نے کے لیے بعد میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر مسلک تبدیل کروایا جو کہ ایک سوچی سمجھی چال تھی۔
​عدالت نے بیٹیوں کی اپیل خارج کر کے مرحوم کو "سنی" قرار دیا اور کزن کو اس کا وراثتی حصہ دلوا دیا۔

Address

Distt & Sessions Courts D. C. Office Road Bahawalnagar
Bahawalnagar
62300

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00

Telephone

+923007920679

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District Bar Association Bahawalnagar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to District Bar Association Bahawalnagar:

Shortcuts

Share