29/05/2026
ازدواجی خاندانی مصالحتی معاہدہ، غیر ضروری دباؤ (Undue Influence)، رقم کی قدر میں کمی (Inflation/Depreciation of Money)، مخصوص نفاذ، ہرجانہ اور عدالتی اختیار برائے Moulding of Relief کا قانونی جائزہ
*Enforceability of Matrimonial Family Settlement, Impact of Inflation on Monetary Relief, Plea of Undue Influence and Moulding of Relief..
2026 LHC 3194
عدالت نے دلائل سنے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔
درخواست گزارہ (بیوی) کا دعویٰ 07-10-2010 کے ایک معاہدہ/رضامندی نامہ پر مبنی تھا۔ تنازع کے درست فہم کے لیے معاہدہ کی شرائط درج کی گئیں۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ فریقین کے درمیان ازدواجی تنازع پیدا ہوا تھا، جس کے بعد خاندان کے بزرگوں اور معززین کے ذریعے صلح کی کوشش کی گئی۔ ان کے ہاں ایک کمسن بیٹا نوراللہ پیدا ہوا تھا، جو والدہ کے ساتھ رہ رہا تھا۔
معاہدہ کی اہم شرائط یہ تھیں:
شوہر بیوی کو ماہانہ 2,000 روپے بطور خرچہ ادا کرے گا۔
شوہر کے والد محمد بشیر احمد نے اپنے پوتے نوراللہ کے حق میں پانچ مرلہ زمین بطور ہبہ منتقل کر دی تھی (انتقال نمبر 3408)، اور زمین کا قبضہ بیوی اور بچے کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
شوہر تین ماہ کے اندر اس پانچ مرلہ زمین پر کم از کم 13 لاکھ روپے لاگت سے گھر تعمیر کرے گا۔ اگر اس نے خلاف ورزی کی تو وہ بطور جرمانہ/ہرجانہ 25 لاکھ روپے ادا کرنے کا پابند ہوگا، جس کی وصولی عدالت کے ذریعے بھی ممکن ہوگی۔
شوہر بیوی کو علیحدہ رہائش فراہم کرے گا اور ہر لحاظ سے اس کی حفاظت کرے گا۔
شوہر دونوں بیویوں کے ساتھ برابر حقوق کا سلوک کرے گا اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا پابند ہوگا۔
معاہدہ بغیر جبر، نشہ، دباؤ یا اکراہ کے آزاد مرضی سے گواہوں کی موجودگی میں کیا گیا۔
بعد ازاں شوہر نے اس معاہدے کی منسوخی کا دعویٰ دائر کیا۔ اس نے یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ معاہدہ جعلی تھا بلکہ اس نے تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر اسی نے خریدا تھا، تاہم اس کا مؤقف تھا کہ اسے "غیر ضروری دباؤ" (Undue Influence) کے تحت معاہدہ قبول کرنا پڑا۔
اس نے دعویٰ میں کہا کہ بیوی بچے کی پیدائش کے بعد گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اس نے اسے واپس لانے کی بہت کوشش کی۔ بعد میں خاندان کے معززین کے ذریعے بات چیت ہوئی۔ بیوی اور اس کے رشتہ داروں نے کہا کہ اسٹامپ خریدیں، ہم اپنی شرائط لکھیں گے اور پھر بیوی واپس آ جائے گی۔ چونکہ شوہر ہر قیمت پر بیوی کو واپس لانا چاہتا تھا اس لیے وہ مجبور ہو گیا۔
اس نے دعویٰ کیا کہ معززین کی بیٹھک میں اس پر دباؤ ڈال کر یکطرفہ شرائط والا رضامندی نامہ لکھوایا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ مؤقف معاہدہ کے انکار پر مبنی نہیں تھا۔ خود شوہر نے تسلیم کیا کہ:
اس نے اسٹامپ پیپر خریدا۔
صلح کی کارروائی ہو رہی تھی۔
معاہدہ انہی کارروائیوں کے دوران تیار ہوا۔
لہٰذا یہ کوئی اچانک یا یکطرفہ دستاویز نہ تھی بلکہ ازدواجی تنازع کے حل کی ایک باقاعدہ کوشش کا حصہ تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ جب شوہر اسٹامپ خریدنے اور معاہدہ بننے کا اعتراف کر چکا تو پھر یہ بوجھ اسی پر تھا کہ وہ ثابت کرے کہ معاہدہ قانونی طور پر ناقابلِ عمل تھا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ:
"غیر ضروری دباؤ" کا دعویٰ نہ تو مکمل تفصیل کے ساتھ کیا گیا اور نہ ہی اس کے حق میں قابل اعتماد ثبوت پیش کیے گئے۔
شوہر کو یہ ثابت کرنا چاہیے تھا:
دباؤ کس نے ڈالا؟
کس طریقہ سے ڈالا؟
دباؤ کی نوعیت کیا تھی؟
اس کی آزاد مرضی کیسے ختم ہوئی؟
صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ رشتہ داروں نے مجبور کیا۔
شوہر نے اپنے دستخطوں سے بھی انکار نہیں کیا۔
معاہدہ میں واضح درج تھا کہ:
یہ معاہدہ جبر، نشہ یا دباؤ کے بغیر آزاد مرضی سے گواہوں کی موجودگی میں کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ اس تحریری بیان کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مزید عدالت نے اہم بات نوٹ کی کہ:
شوہر کے والد پہلے ہی پانچ مرلہ زمین بچے کے نام منتقل کر چکے تھے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ:
خاندان اس صلح سے واقف تھا۔
اس کی منظوری موجود تھی۔
معاہدہ پر جزوی عمل بھی ہو چکا تھا۔
اس سے شوہر کا یہ مؤقف کمزور ہو گیا کہ صرف اس پر زبردستی کی گئی تھی۔
عدالت نے مزید اصول بیان کیا کہ دستاویز کی تشریح کرتے وقت چند الگ جملوں کو نہیں بلکہ پوری دستاویز اور اس کے حالات کو دیکھا جاتا ہے۔
عدالت نے 2026 SC 20 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا:
"کسی معاہدہ میں ابہام کی صورت میں فریقین کی حقیقی نیت معلوم کرنا ضروری ہے۔"
عدالت نے کہا کہ پورا معاہدہ پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد:
ازدواجی ہم آہنگی بحال کرنا،
بیوی کے لیے رہائش اور خرچہ محفوظ کرنا،
دوسری بیوی کی موجودگی کے باوجود مساوی سلوک یقینی بنانا،
اور بچے کے مستقبل کا تحفظ تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ خاندانی صلح ناموں کو عموماً برقرار رکھا جاتا ہے، خصوصاً جب ان کا مقصد میاں بیوی اور بچوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔
عدالت نے شوہر کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ بیوی پہلے واپس گھر آتی پھر معاہدہ پر عمل ہوتا۔
عدالت نے کہا کہ:
معاہدہ کی اصل بنیاد ہی یہ تھی کہ پہلے شوہر الگ رہائش فراہم کرے۔
بیوی کو دوبارہ اسی ماحول میں بھیجنا جس سے تنازع پیدا ہوا تھا، معاہدہ کے مقصد کے خلاف تھا۔
ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ:
شوہر نے الگ گھر نہیں دیا؛
تین ماہ میں گھر بھی تعمیر نہ کیا۔
یہ معاہدہ کی معمولی شرائط نہیں تھیں بلکہ اصل بنیاد تھیں۔
عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ بیوی ایک دن کے لیے شوہر کے گھر گئی بھی تھی، جس سے معلوم ہوا کہ اس نے معاہدہ مسترد نہیں کیا بلکہ صلح کی کوشش کی۔
اس کے بعد عدالت نے اپیلیٹ عدالت پر تنقید کی کہ اس نے بیوی کی معاہدہ کے وقت عدم موجودگی کو بہت اہم سمجھا۔
عدالت نے کہا:
ہمارے معاشرتی ماحول میں شادی کے معاملات میں عورت کی جانب سے اس کے والد یا رشتہ دار مذاکرات کرتے ہیں، یہ غیر معمولی بات نہیں۔
بیوی خود معاہدہ کو تسلیم کر رہی تھی، اس لیے اس کی عدم موجودگی دعویٰ کے لیے نقصان دہ نہیں۔
عدالت نے آخر میں کہا کہ شوہر نے:
گھر تعمیر کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا؛
الگ رہائش فراہم نہیں کی۔
اس لیے وہ معاہدہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔
ٹرائل کورٹ نے درست فیصلہ دیا تھا جبکہ اپیلیٹ عدالت نے شواہد کو غلط پڑھا۔
لہٰذا درخواست منظور کی جاتی ہے اور اپیلیٹ عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے۔
البتہ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ:
معاہدہ 2010 میں ہوا اور حقِ دعویٰ 2011 میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے بعد کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔
لہٰذا صرف 25 لاکھ روپے کی پرانی رقم وصول کرنا کافی نہیں ہوگا۔
اسی لیے عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزارہ 25 لاکھ روپے کی رقم وصول کرتے وقت اپنی مرضی سے:
امریکی ڈالر کے موجودہ ریٹ کے مطابق؛ یا
سونے کی موجودہ قیمت کے مطابق
اس کی مساوی مالیت وصول کرنے کی حق دار ہوگی۔
اخراجات کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔
جسٹس راحیل کامران
یہ فیصلہ خاندانی مصالحتی معاہدوں، Undue Influence، فیملی سیٹلمنٹ، Specific Performance اور Decree Moulding کے حوالے سے اہم نظیر رکھتا ہے۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
2026 LHC 3194
یہ فیصلہ خاندانی تنازعات میں کیے گئے مصالحتی معاہدوں کی قانونی حیثیت، ان کی نفاذ پذیری، غیر ضروری دباؤ کے دعویٰ، اور عدالت کے اس اختیار سے متعلق نہایت اہم ہے کہ وہ حالات کے مطابق ڈگری کی شکل تبدیل (mould) کر سکتی ہے۔
مقدمہ کا مختصر پس منظر
میاں بیوی کے درمیان ازدواجی اختلافات پیدا ہوئے۔ خاندان کے بزرگوں اور معززین نے صلح کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 07-10-2010 کو ایک تحریری رضامندی نامہ مرتب ہوا۔
معاہدہ کے مطابق:
بیوی کے لیے الگ رہائش؛
ماہانہ خرچہ؛
بچے کے حق میں پانچ مرلہ زمین؛
تین ماہ میں گھر کی تعمیر؛
خلاف ورزی پر 25 لاکھ ہرجانہ؛
طے کیا گیا۔
بعد میں شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یہ معاہدہ "Undue Influence" کے تحت کرنے پر مجبور ہوا۔
ٹرائل کورٹ نے معاہدہ نافذ کیا جبکہ اپیلیٹ عدالت نے اسے ختم کردیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپیلیٹ فیصلہ کالعدم کرکے ٹرائل کورٹ بحال کر دی۔
بنیادی قانونی سوالات
عدالت کے سامنے درج ذیل سوالات تھے:
کیا معاہدہ حقیقی تھا؟
کیا Undue Influence ثابت ہوئی؟
کیا خاندانی صلح نامہ قابلِ نفاذ ہے؟
کیا شوہر کی ذمہ داریاں مشروط تھیں؟
کیا عدالت وقت گزرنے کے باعث مالی ریلیف کی شکل بدل سکتی ہے؟
پہلا قانونی اصول
اقرار کے بعد ثبوت کا بوجھ (Burden of Proof)
عدالت نے قرار دیا:
شوہر نے یہ تسلیم کیا:
اسٹامپ پیپر اسی نے خریدا؛
معاہدہ مصالحتی عمل میں تیار ہوا؛
دستخط بھی اس کے تھے۔
اس کے بعد قانونی بوجھ شوہر پر منتقل ہوگیا۔
اس اصول کی بنیاد:
Burden shifts after admission
Burden shifts after admission
اگرچہ یہ ریاضی فارمولا نہیں بلکہ قانونی اصول کی نمائندگی ہے، اس لیے سادہ انداز میں:
جس شخص نے بنیادی حقائق تسلیم کر لیے ہوں، اسے بعد میں معاہدہ کالعدم ثابت کرنے کے لیے مضبوط ثبوت دینا پڑتا ہے۔
متعلقہ قانون
Qanun-e-Shahadat Order, 1984
آرٹیکل 117:
جو شخص کسی حقیقت کا دعویٰ کرے ثبوت بھی اسی پر ہوگا۔
آرٹیکل 113:
اقرار شدہ حقیقت مزید ثبوت کی محتاج نہیں۔
دوسرا قانونی نکتہ
Undue Influence کی قانونی حیثیت
شوہر نے کہا کہ:
"مجھے دباؤ ڈال کر دستخط کرائے گئے۔"
عدالت نے یہ مؤقف مسترد کیا۔
کیونکہ ثابت نہ کیا گیا:
دباؤ کس نے ڈالا؟
کب ڈالا؟
کس انداز سے؟
آزاد مرضی کیسے ختم ہوئی؟
متعلقہ قانون
Contract Act, 1872
دفعہ 16:
جب ایک فریق دوسرے پر ایسا اثر رکھتا ہو کہ وہ اس کی آزاد مرضی ختم کر دے تو Undue Influence وجود میں آتی ہے۔
لیکن صرف الزام کافی نہیں۔
عدالت کی اہم آبزرویشن
صرف یہ کہنا:
"رشتہ داروں نے مجبور کیا"
قانونی ثبوت نہیں۔
تیسرا قانونی نکتہ
Family Settlement
کی خصوصی قانونی حیثیت
عدالت نے کہا:
یہ عام کاروباری معاہدہ نہیں تھا۔
یہ:
خاندانی تنازع ختم کرنے؛
ازدواجی تعلقات بحال کرنے؛
بچے کے مستقبل کے تحفظ
کے لیے کیا گیا۔
پاکستانی عدلیہ عموماً ایسے معاہدے برقرار رکھتی ہے۔
عدالتی اصول
فیملی سیٹلمنٹ کو وسیع انداز سے پڑھا جاتا ہے۔
معاہدہ کو لفظ بہ لفظ نہیں بلکہ مجموعی ارادے سے سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے حوالہ دیا:
Mst. Fakhra Jabeen v. Wasif Ali
اصول:
معاہدہ کی تشریح میں اصل نیت دیکھی جائے گی۔
چوتھا قانونی نکتہ
دستاویز کی تشریح کا اصول
عدالت نے قرار دیا:
دستاویز کو الگ الگ فقروں سے نہیں پڑھا جا سکتا۔
بلکہ:
پس منظر
حالات
فریقین کے ارادے
سب دیکھے جائیں گے۔
پانچواں قانونی نکتہ
شوہر کی ذمہ داریاں بنیادی تھیں یا ضمنی؟
شوہر نے کہا:
بیوی پہلے گھر آتی پھر میری ذمہ داری بنتی۔
عدالت نے اسے رد کیا۔
کیونکہ:
الگ گھر دینا معاہدے کا بنیادی حصہ تھا۔
یہ صرف ضمنی شرط نہیں تھی۔
قانونی اصول
بنیادی شرط کی خلاف ورزی پورا معاہدہ متاثر کرتی ہے۔
متعلقہ قانون
Contract Act, 1872
دفعہ 37:
فریق معاہدہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے پابند ہیں۔
چھٹا قانونی نکتہ
جزوی نفاذ (Part Performance)
عدالت نے اہم مشاہدہ کیا:
شوہر کے والد پہلے ہی:
پانچ مرلہ زمین بچے کے نام منتقل کر چکے تھے۔
اس سے ثابت ہوا:
معاہدہ حقیقی تھا؛
خاندان مطلع تھا؛
اس پر عمل شروع ہوچکا تھا۔
قانونی اثر
جزوی عمل:
معاہدہ کی سچائی کو تقویت دیتا ہے۔
ساتواں قانونی نکتہ
بیوی کی عدم موجودگی
اپیلیٹ عدالت نے کہا:
بیوی میٹنگ میں موجود نہ تھی۔
ہائی کورٹ نے یہ نقطہ رد کردیا۔
عدالت نے کہا:
پاکستانی معاشرے میں:
والد
چچا
بزرگ
اکثر عورت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
لہٰذا محض عدم موجودگی معاہدہ ختم نہیں کرتی۔
آٹھواں قانونی نکتہ
Moulding of Relief
یہ اس فیصلے کا سب سے اہم قانونی پہلو ہے۔
معاہدہ 2010 کا تھا۔
حق دعویٰ 2011 میں پیدا ہوا۔
2026 تک:
روپیہ کی قدر نمایاں کم ہو چکی تھی۔
اگر صرف 25 لاکھ دئیے جاتے:
تو اصل مقصد فوت ہوجاتا۔
متعلقہ قانون
Code of Civil Procedure, 1908
سیکشن 151 CPC:
عدالت کے موروثی اختیارات۔
عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق مناسب حکم دے سکتی ہے۔
عدالت نے حکم دیا:
رقم وصول کرتے وقت:
یا
امریکی ڈالر
یا
سونے کی موجودہ قیمت
کے مطابق مالیت دی جائے۔
یہ غیر معمولی مگر انصاف پر مبنی ریلیف تھا۔
اپیلیٹ عدالت کی قانونی غلطیاں
ہائی کورٹ کے مطابق:
اپیلیٹ عدالت نے:
اسٹامپ خریدنے کے اعتراف کو نظر انداز کیا؛
Undue Influence
کے ناقص دعویٰ کو تسلیم کیا؛
Gift Mutation
نظرانداز کیا؛
معاہدہ کے مقصد کو غلط سمجھا؛
شوہر کی خلاف ورزیوں کو اہمیت نہ دی۔
فیصلے سے اخذ شدہ قانونی اصول
Family settlements
کو عدالتیں ترجیح دیتی ہیں۔
Undue Influence
ثابت کرنے کے لیے تفصیلی شواہد ضروری ہیں۔
اقرار کے بعد ثبوت کا بوجھ بدل جاتا ہے۔
دستاویز مجموعی طور پر پڑھی جاتی ہے۔
جزوی عمل معاہدہ کی صداقت ثابت کرتا ہے۔
عدالت انصاف کی خاطر ڈگری کی شکل تبدیل کرسکتی ہے۔
کرنسی کی قدر میں کمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ خاندانی صلح ناموں کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط نظیر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔