District Bar Association Bahawalnagar

District Bar Association Bahawalnagar District Bar Association Bahawalnagar Punjab, Pakistan.

03/06/2026

بعض مدیون شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ فیملی کورٹ کی ڈگری کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ایک سال قید کاٹ لینا کافی ہے، حالانکہ قانون اس کے برعکس ہے۔

فیملی کورٹ کی ڈگری کی عدم ادائیگی پر ایک سال تک قید ہو سکتی ہے، لیکن قید کاٹ لینے سے ڈگری ختم نہیں ہوتی۔ ڈگری بدستور واجب الادا رہتی ہے۔ مدیون کے نام موجود جائیداد، گاڑی یا دیگر اثاثے قرق اور نیلام کیے جا سکتے ہیں۔ اگر مقدمہ دائر ہونے کے بعد جائیداد کسی رشتہ دار یا دوسرے شخص کو منتقل کی گئی ہو تو ایسی منتقلی بھی کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔

حتیٰ کہ اگر مدیون کے پاس فی الحال کوئی جائیداد نہ ہو اور وہ سزا بھی کاٹ لے، تب بھی ڈگری باقی رہتی ہے اور مستقبل میں اس کے نام آنے والی کسی بھی ملکیت سے وصولی کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا قید، ڈگری سے نجات نہیں بلکہ صرف ایک قانونی کارروائی ہے؛ اصل ذمہ داری ادائیگی تک برقرار رہتی ہے۔

31/05/2026

📌 تنقیحات (Issues) — لاہور ہائیکورٹ کا انتہائی معلوماتی فیصلہ

2025 CLC 323
PLJ 2024 Lahore 253
R.F.A. No.14953 of 2022 (Abdul Rahman etc. vs Muhammad Farooq etc.)

---

🔹 قانونی اصول (Order XIV Rule 1(4) CPC 1908)

تنقیحات دو اقسام کی ہوتی ہیں:

1. مسائلِ حقیقت (Issues of Fact)

2. مسائلِ قانون (Issues of Law)
بعض اوقات یہ دونوں مخلوط بھی ہوتے ہیں (Mixed Issues of Law & Fact).

🔹 Order XIV Rule 2 کے مطابق:

اگر مقدمہ کسی قانونی ابتدائی نقطے (Preliminary Issue) پر نمٹ سکتا ہو تو عدالت اسے پہلے طے کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ تعلق رکھتا ہو:

عدالت کی حدِ اختیار (Jurisdiction) سے

کسی ایسے قانونی بار (Statutory Bar) سے جو مقدمہ کے قابلِ سماعت نہ ہونے کا سبب ہو

---

🔹 تنقیحات مرتب کرنے کا بنیادی مقصد

عدالت کا کام ہے کہ:

دعویٰ (Plaint) اور جواب دعویٰ (Written Statement) کو پڑھ کر

وکلاء کی معاونت سے

ان نکات کی نشاندہی کرے جہاں فریقین میں اصل اختلاف ہے

تنقیحات اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ:

گواہی، دلائل اور فیصلہ ایک واضح سوال کے دائرے میں محدود رہیں

فیصلہ ہر تنقیح کے مطابق واضح طور پر لکھا جائے

---

🔹 تنقیحات مرتب کرنے کے لیے عدالت جن امور کو مدِنظر رکھتی ہے:

1️⃣ دعویٰ اور جواب دعویٰ کا مطالعہ

عدالت سب سے پہلے pleadings کا جائزہ لے کر اختلافی نکات تلاش کرتی ہے۔

2️⃣ Order 10 Rule 1 — اقرار و انکار

عدالت فریقین سے سوالات کر کے یہ دیکھتی ہے کہ کون سے حقائق تسلیم شدہ ہیں اور کن پر اختلاف ہے۔

3️⃣ تسلیم شدہ حقائق پر کوئی تنقیح نہیں بنتی

در حقیقت:
متفقہ بات پر عدالت فیصلہ کر دیتی ہے، اس پر مسئلہ (Issue) نہیں بنتا۔

4️⃣ متنازعہ قانونی یا حقیقی نکات کی نشاندہی

5️⃣ گواہوں کا جائزہ (اگر ضروری ہو)

6️⃣ دستیاب ثبوتوں کا مشاہدہ

قابلِ سماعت مواد سامنے آجانے کے بعد عدالت نئی تنقیح بھی بنا سکتی ہے۔

7️⃣ Order 14 Rule 4 کے تحت دستاویزات یا گواہوں کو بلایا جا سکتا ہے

---

🔹 عدالت کن مواد سے تنقیحات مرتب کرتی ہے؟

حلف نامے/بیانات (Allegations on Oath)

Pleadings

Interrogatories کے جوابات

پیش کردہ دستاویزات

فریقین کا زبانی بیان

زبانی اعتراضات (Oral Objections)

---

🔹 تنقیحات میں ترمیم — عدالت کا اختیار

🔸 Discretionary Power (اختیاری اختیار)

عدالت ترمیم کر سکتی ہے بشرطیکہ:

کسی فریق کو ناانصافی نہ ہو

مقدمہ کی نوعیت تبدیل نہ ہو

نیا مقدمہ ایجاد نہ ہو

متضاد موقف شامل نہ ہو

🔸 Mandatory Power (لازمی اختیار)

عدالت ترمیم کرنے کی پابند ہے جب:

موجودہ تنقیحات اصل تنازعے کا احاطہ نہ کر رہی ہوں

کوئی اہم نکتہ نظر انداز ہو گیا ہو

🔸 اپیلٹ کورٹ کا اختیار

اگر ٹرائل کورٹ نے کوئی ضروری تنقیح نہیں بنائی، تو اپیلٹ کورٹ:

نئی تنقیح بنا سکتی ہے

اسے فیصلہ کے لیے ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج سکتی ہے
یہ ضروری نہیں کہ پورا مقدمہ واپس بھیجا جائے۔

---

🔹 متعلقہ قانونی دفعات (CPC 1908)

i. Order XIV Rule 1–6 — Framing of Issues
ii. Order XVIII Rule 2 — Evidence by Parties
iii. Order XX Rule 5 — Decision on Each Issue
iv. Order XLI Rule 31 — Judgment in Appeal
v. Order XV Rule 1 — Disposal of Suit at First Hearing

---

🌟 نتیجہ (Conclusion)

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ:
تنقیحات مقدمہ کا دل ہوتی ہیں۔
اگر درست نہ بنیں تو:

ثبوت غلط سمت میں جاتا ہے

فیصلہ غیر واضح ہوتا ہے

اپیل میں مقدمہ واپس بھیجا جا سکتا ہے

ازدواجی خاندانی مصالحتی معاہدہ، غیر ضروری دباؤ (Undue Influence)، رقم کی قدر میں کمی (Inflation/Depreciation of Money)، ...
29/05/2026

ازدواجی خاندانی مصالحتی معاہدہ، غیر ضروری دباؤ (Undue Influence)، رقم کی قدر میں کمی (Inflation/Depreciation of Money)، مخصوص نفاذ، ہرجانہ اور عدالتی اختیار برائے Moulding of Relief کا قانونی جائزہ

*Enforceability of Matrimonial Family Settlement, Impact of Inflation on Monetary Relief, Plea of Undue Influence and Moulding of Relief..

2026 LHC 3194
عدالت نے دلائل سنے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

درخواست گزارہ (بیوی) کا دعویٰ 07-10-2010 کے ایک معاہدہ/رضامندی نامہ پر مبنی تھا۔ تنازع کے درست فہم کے لیے معاہدہ کی شرائط درج کی گئیں۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ فریقین کے درمیان ازدواجی تنازع پیدا ہوا تھا، جس کے بعد خاندان کے بزرگوں اور معززین کے ذریعے صلح کی کوشش کی گئی۔ ان کے ہاں ایک کمسن بیٹا نوراللہ پیدا ہوا تھا، جو والدہ کے ساتھ رہ رہا تھا۔

معاہدہ کی اہم شرائط یہ تھیں:

شوہر بیوی کو ماہانہ 2,000 روپے بطور خرچہ ادا کرے گا۔

شوہر کے والد محمد بشیر احمد نے اپنے پوتے نوراللہ کے حق میں پانچ مرلہ زمین بطور ہبہ منتقل کر دی تھی (انتقال نمبر 3408)، اور زمین کا قبضہ بیوی اور بچے کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

شوہر تین ماہ کے اندر اس پانچ مرلہ زمین پر کم از کم 13 لاکھ روپے لاگت سے گھر تعمیر کرے گا۔ اگر اس نے خلاف ورزی کی تو وہ بطور جرمانہ/ہرجانہ 25 لاکھ روپے ادا کرنے کا پابند ہوگا، جس کی وصولی عدالت کے ذریعے بھی ممکن ہوگی۔

شوہر بیوی کو علیحدہ رہائش فراہم کرے گا اور ہر لحاظ سے اس کی حفاظت کرے گا۔

شوہر دونوں بیویوں کے ساتھ برابر حقوق کا سلوک کرے گا اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا پابند ہوگا۔

معاہدہ بغیر جبر، نشہ، دباؤ یا اکراہ کے آزاد مرضی سے گواہوں کی موجودگی میں کیا گیا۔

بعد ازاں شوہر نے اس معاہدے کی منسوخی کا دعویٰ دائر کیا۔ اس نے یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ معاہدہ جعلی تھا بلکہ اس نے تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر اسی نے خریدا تھا، تاہم اس کا مؤقف تھا کہ اسے "غیر ضروری دباؤ" (Undue Influence) کے تحت معاہدہ قبول کرنا پڑا۔

اس نے دعویٰ میں کہا کہ بیوی بچے کی پیدائش کے بعد گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اس نے اسے واپس لانے کی بہت کوشش کی۔ بعد میں خاندان کے معززین کے ذریعے بات چیت ہوئی۔ بیوی اور اس کے رشتہ داروں نے کہا کہ اسٹامپ خریدیں، ہم اپنی شرائط لکھیں گے اور پھر بیوی واپس آ جائے گی۔ چونکہ شوہر ہر قیمت پر بیوی کو واپس لانا چاہتا تھا اس لیے وہ مجبور ہو گیا۔

اس نے دعویٰ کیا کہ معززین کی بیٹھک میں اس پر دباؤ ڈال کر یکطرفہ شرائط والا رضامندی نامہ لکھوایا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ مؤقف معاہدہ کے انکار پر مبنی نہیں تھا۔ خود شوہر نے تسلیم کیا کہ:

اس نے اسٹامپ پیپر خریدا۔

صلح کی کارروائی ہو رہی تھی۔

معاہدہ انہی کارروائیوں کے دوران تیار ہوا۔

لہٰذا یہ کوئی اچانک یا یکطرفہ دستاویز نہ تھی بلکہ ازدواجی تنازع کے حل کی ایک باقاعدہ کوشش کا حصہ تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ جب شوہر اسٹامپ خریدنے اور معاہدہ بننے کا اعتراف کر چکا تو پھر یہ بوجھ اسی پر تھا کہ وہ ثابت کرے کہ معاہدہ قانونی طور پر ناقابلِ عمل تھا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ:

"غیر ضروری دباؤ" کا دعویٰ نہ تو مکمل تفصیل کے ساتھ کیا گیا اور نہ ہی اس کے حق میں قابل اعتماد ثبوت پیش کیے گئے۔

شوہر کو یہ ثابت کرنا چاہیے تھا:

دباؤ کس نے ڈالا؟

کس طریقہ سے ڈالا؟

دباؤ کی نوعیت کیا تھی؟

اس کی آزاد مرضی کیسے ختم ہوئی؟

صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ رشتہ داروں نے مجبور کیا۔

شوہر نے اپنے دستخطوں سے بھی انکار نہیں کیا۔

معاہدہ میں واضح درج تھا کہ:

یہ معاہدہ جبر، نشہ یا دباؤ کے بغیر آزاد مرضی سے گواہوں کی موجودگی میں کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ اس تحریری بیان کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید عدالت نے اہم بات نوٹ کی کہ:

شوہر کے والد پہلے ہی پانچ مرلہ زمین بچے کے نام منتقل کر چکے تھے۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ:

خاندان اس صلح سے واقف تھا۔

اس کی منظوری موجود تھی۔

معاہدہ پر جزوی عمل بھی ہو چکا تھا۔

اس سے شوہر کا یہ مؤقف کمزور ہو گیا کہ صرف اس پر زبردستی کی گئی تھی۔

عدالت نے مزید اصول بیان کیا کہ دستاویز کی تشریح کرتے وقت چند الگ جملوں کو نہیں بلکہ پوری دستاویز اور اس کے حالات کو دیکھا جاتا ہے۔

عدالت نے 2026 SC 20 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا:

"کسی معاہدہ میں ابہام کی صورت میں فریقین کی حقیقی نیت معلوم کرنا ضروری ہے۔"

عدالت نے کہا کہ پورا معاہدہ پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد:

ازدواجی ہم آہنگی بحال کرنا،

بیوی کے لیے رہائش اور خرچہ محفوظ کرنا،

دوسری بیوی کی موجودگی کے باوجود مساوی سلوک یقینی بنانا،

اور بچے کے مستقبل کا تحفظ تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ خاندانی صلح ناموں کو عموماً برقرار رکھا جاتا ہے، خصوصاً جب ان کا مقصد میاں بیوی اور بچوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔

عدالت نے شوہر کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ بیوی پہلے واپس گھر آتی پھر معاہدہ پر عمل ہوتا۔

عدالت نے کہا کہ:

معاہدہ کی اصل بنیاد ہی یہ تھی کہ پہلے شوہر الگ رہائش فراہم کرے۔

بیوی کو دوبارہ اسی ماحول میں بھیجنا جس سے تنازع پیدا ہوا تھا، معاہدہ کے مقصد کے خلاف تھا۔

ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ:

شوہر نے الگ گھر نہیں دیا؛

تین ماہ میں گھر بھی تعمیر نہ کیا۔

یہ معاہدہ کی معمولی شرائط نہیں تھیں بلکہ اصل بنیاد تھیں۔

عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ بیوی ایک دن کے لیے شوہر کے گھر گئی بھی تھی، جس سے معلوم ہوا کہ اس نے معاہدہ مسترد نہیں کیا بلکہ صلح کی کوشش کی۔

اس کے بعد عدالت نے اپیلیٹ عدالت پر تنقید کی کہ اس نے بیوی کی معاہدہ کے وقت عدم موجودگی کو بہت اہم سمجھا۔

عدالت نے کہا:

ہمارے معاشرتی ماحول میں شادی کے معاملات میں عورت کی جانب سے اس کے والد یا رشتہ دار مذاکرات کرتے ہیں، یہ غیر معمولی بات نہیں۔

بیوی خود معاہدہ کو تسلیم کر رہی تھی، اس لیے اس کی عدم موجودگی دعویٰ کے لیے نقصان دہ نہیں۔

عدالت نے آخر میں کہا کہ شوہر نے:

گھر تعمیر کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا؛

الگ رہائش فراہم نہیں کی۔

اس لیے وہ معاہدہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔

ٹرائل کورٹ نے درست فیصلہ دیا تھا جبکہ اپیلیٹ عدالت نے شواہد کو غلط پڑھا۔

لہٰذا درخواست منظور کی جاتی ہے اور اپیلیٹ عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے۔

البتہ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ:

معاہدہ 2010 میں ہوا اور حقِ دعویٰ 2011 میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے بعد کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔

لہٰذا صرف 25 لاکھ روپے کی پرانی رقم وصول کرنا کافی نہیں ہوگا۔

اسی لیے عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزارہ 25 لاکھ روپے کی رقم وصول کرتے وقت اپنی مرضی سے:

امریکی ڈالر کے موجودہ ریٹ کے مطابق؛ یا

سونے کی موجودہ قیمت کے مطابق

اس کی مساوی مالیت وصول کرنے کی حق دار ہوگی۔

اخراجات کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔

جسٹس راحیل کامران

یہ فیصلہ خاندانی مصالحتی معاہدوں، Undue Influence، فیملی سیٹلمنٹ، Specific Performance اور Decree Moulding کے حوالے سے اہم نظیر رکھتا ہے۔

قانونی تجزیاتی جائزہ
2026 LHC 3194

یہ فیصلہ خاندانی تنازعات میں کیے گئے مصالحتی معاہدوں کی قانونی حیثیت، ان کی نفاذ پذیری، غیر ضروری دباؤ کے دعویٰ، اور عدالت کے اس اختیار سے متعلق نہایت اہم ہے کہ وہ حالات کے مطابق ڈگری کی شکل تبدیل (mould) کر سکتی ہے۔

مقدمہ کا مختصر پس منظر
میاں بیوی کے درمیان ازدواجی اختلافات پیدا ہوئے۔ خاندان کے بزرگوں اور معززین نے صلح کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 07-10-2010 کو ایک تحریری رضامندی نامہ مرتب ہوا۔

معاہدہ کے مطابق:

بیوی کے لیے الگ رہائش؛

ماہانہ خرچہ؛

بچے کے حق میں پانچ مرلہ زمین؛

تین ماہ میں گھر کی تعمیر؛

خلاف ورزی پر 25 لاکھ ہرجانہ؛

طے کیا گیا۔

بعد میں شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یہ معاہدہ "Undue Influence" کے تحت کرنے پر مجبور ہوا۔

ٹرائل کورٹ نے معاہدہ نافذ کیا جبکہ اپیلیٹ عدالت نے اسے ختم کردیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپیلیٹ فیصلہ کالعدم کرکے ٹرائل کورٹ بحال کر دی۔

بنیادی قانونی سوالات
عدالت کے سامنے درج ذیل سوالات تھے:

کیا معاہدہ حقیقی تھا؟

کیا Undue Influence ثابت ہوئی؟

کیا خاندانی صلح نامہ قابلِ نفاذ ہے؟

کیا شوہر کی ذمہ داریاں مشروط تھیں؟

کیا عدالت وقت گزرنے کے باعث مالی ریلیف کی شکل بدل سکتی ہے؟

پہلا قانونی اصول
اقرار کے بعد ثبوت کا بوجھ (Burden of Proof)
عدالت نے قرار دیا:

شوہر نے یہ تسلیم کیا:

اسٹامپ پیپر اسی نے خریدا؛

معاہدہ مصالحتی عمل میں تیار ہوا؛

دستخط بھی اس کے تھے۔

اس کے بعد قانونی بوجھ شوہر پر منتقل ہوگیا۔

اس اصول کی بنیاد:

Burden shifts after admission
Burden shifts after admission

اگرچہ یہ ریاضی فارمولا نہیں بلکہ قانونی اصول کی نمائندگی ہے، اس لیے سادہ انداز میں:

جس شخص نے بنیادی حقائق تسلیم کر لیے ہوں، اسے بعد میں معاہدہ کالعدم ثابت کرنے کے لیے مضبوط ثبوت دینا پڑتا ہے۔

متعلقہ قانون
Qanun-e-Shahadat Order, 1984

آرٹیکل 117:

جو شخص کسی حقیقت کا دعویٰ کرے ثبوت بھی اسی پر ہوگا۔

آرٹیکل 113:

اقرار شدہ حقیقت مزید ثبوت کی محتاج نہیں۔

دوسرا قانونی نکتہ
Undue Influence کی قانونی حیثیت
شوہر نے کہا کہ:

"مجھے دباؤ ڈال کر دستخط کرائے گئے۔"

عدالت نے یہ مؤقف مسترد کیا۔

کیونکہ ثابت نہ کیا گیا:

دباؤ کس نے ڈالا؟

کب ڈالا؟

کس انداز سے؟

آزاد مرضی کیسے ختم ہوئی؟

متعلقہ قانون
Contract Act, 1872

دفعہ 16:

جب ایک فریق دوسرے پر ایسا اثر رکھتا ہو کہ وہ اس کی آزاد مرضی ختم کر دے تو Undue Influence وجود میں آتی ہے۔

لیکن صرف الزام کافی نہیں۔

عدالت کی اہم آبزرویشن
صرف یہ کہنا:

"رشتہ داروں نے مجبور کیا"

قانونی ثبوت نہیں۔

تیسرا قانونی نکتہ
Family Settlement
کی خصوصی قانونی حیثیت
عدالت نے کہا:

یہ عام کاروباری معاہدہ نہیں تھا۔

یہ:

خاندانی تنازع ختم کرنے؛

ازدواجی تعلقات بحال کرنے؛

بچے کے مستقبل کے تحفظ

کے لیے کیا گیا۔

پاکستانی عدلیہ عموماً ایسے معاہدے برقرار رکھتی ہے۔

عدالتی اصول
فیملی سیٹلمنٹ کو وسیع انداز سے پڑھا جاتا ہے۔

معاہدہ کو لفظ بہ لفظ نہیں بلکہ مجموعی ارادے سے سمجھا جاتا ہے۔

عدالت نے حوالہ دیا:

Mst. Fakhra Jabeen v. Wasif Ali

اصول:

معاہدہ کی تشریح میں اصل نیت دیکھی جائے گی۔

چوتھا قانونی نکتہ
دستاویز کی تشریح کا اصول
عدالت نے قرار دیا:

دستاویز کو الگ الگ فقروں سے نہیں پڑھا جا سکتا۔

بلکہ:

پس منظر

حالات

فریقین کے ارادے

سب دیکھے جائیں گے۔

پانچواں قانونی نکتہ
شوہر کی ذمہ داریاں بنیادی تھیں یا ضمنی؟
شوہر نے کہا:

بیوی پہلے گھر آتی پھر میری ذمہ داری بنتی۔

عدالت نے اسے رد کیا۔

کیونکہ:

الگ گھر دینا معاہدے کا بنیادی حصہ تھا۔

یہ صرف ضمنی شرط نہیں تھی۔

قانونی اصول
بنیادی شرط کی خلاف ورزی پورا معاہدہ متاثر کرتی ہے۔

متعلقہ قانون
Contract Act, 1872

دفعہ 37:

فریق معاہدہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے پابند ہیں۔

چھٹا قانونی نکتہ
جزوی نفاذ (Part Performance)
عدالت نے اہم مشاہدہ کیا:

شوہر کے والد پہلے ہی:

پانچ مرلہ زمین بچے کے نام منتقل کر چکے تھے۔

اس سے ثابت ہوا:

معاہدہ حقیقی تھا؛

خاندان مطلع تھا؛

اس پر عمل شروع ہوچکا تھا۔

قانونی اثر
جزوی عمل:

معاہدہ کی سچائی کو تقویت دیتا ہے۔

ساتواں قانونی نکتہ
بیوی کی عدم موجودگی
اپیلیٹ عدالت نے کہا:

بیوی میٹنگ میں موجود نہ تھی۔

ہائی کورٹ نے یہ نقطہ رد کردیا۔

عدالت نے کہا:

پاکستانی معاشرے میں:

والد

چچا

بزرگ

اکثر عورت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

لہٰذا محض عدم موجودگی معاہدہ ختم نہیں کرتی۔

آٹھواں قانونی نکتہ
Moulding of Relief
یہ اس فیصلے کا سب سے اہم قانونی پہلو ہے۔

معاہدہ 2010 کا تھا۔

حق دعویٰ 2011 میں پیدا ہوا۔

2026 تک:

روپیہ کی قدر نمایاں کم ہو چکی تھی۔

اگر صرف 25 لاکھ دئیے جاتے:

تو اصل مقصد فوت ہوجاتا۔

متعلقہ قانون
Code of Civil Procedure, 1908

سیکشن 151 CPC:

عدالت کے موروثی اختیارات۔

عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق مناسب حکم دے سکتی ہے۔

عدالت نے حکم دیا:

رقم وصول کرتے وقت:

یا

امریکی ڈالر

یا

سونے کی موجودہ قیمت

کے مطابق مالیت دی جائے۔

یہ غیر معمولی مگر انصاف پر مبنی ریلیف تھا۔

اپیلیٹ عدالت کی قانونی غلطیاں
ہائی کورٹ کے مطابق:

اپیلیٹ عدالت نے:

اسٹامپ خریدنے کے اعتراف کو نظر انداز کیا؛

Undue Influence
کے ناقص دعویٰ کو تسلیم کیا؛

Gift Mutation
نظرانداز کیا؛

معاہدہ کے مقصد کو غلط سمجھا؛

شوہر کی خلاف ورزیوں کو اہمیت نہ دی۔

فیصلے سے اخذ شدہ قانونی اصول
Family settlements
کو عدالتیں ترجیح دیتی ہیں۔

Undue Influence
ثابت کرنے کے لیے تفصیلی شواہد ضروری ہیں۔

اقرار کے بعد ثبوت کا بوجھ بدل جاتا ہے۔

دستاویز مجموعی طور پر پڑھی جاتی ہے۔

جزوی عمل معاہدہ کی صداقت ثابت کرتا ہے۔

عدالت انصاف کی خاطر ڈگری کی شکل تبدیل کرسکتی ہے۔

کرنسی کی قدر میں کمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ خاندانی صلح ناموں کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط نظیر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

29/05/2026

پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت زخموں یا جسمانی چوٹوں کو "Hurt" کہا جاتا ہے، اور اس سے متعلقہ دفعات 332 سے شروع ہوتی ہیں۔ 1990 کے قصاص و دیت آرڈیننس کے بعد ان میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
زخموں کی نوعیت، ان کے متعلقہ سیکشنز اور دفعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. اِتلافِ عُضو (Itlaf-i-Udw)
• تعریف: کسی شخص کے جسم کا کوئی عضو کاٹ دینا، الگ کر دینا یا مستقل طور پر بیکار کر دینا۔
• دفعہ: 333 PPC
• سزا (دفعہ 334): قصاص (اگر ممکن ہو)، ورنہ عرش (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔
2. اِتلافِ صلاحیتِ عُضو (Itlaf-i-Salahiyyat-i-Udw)
• تعریف: عضو تو موجود رہے لیکن اس کے کام کرنے کی صلاحیت مستقل طور پر ختم ہو جائے (مثلاً بینائی، سماعت یا چلنے کی طاقت ختم ہونا)۔
• دفعہ: 335 PPC
• سزا (دفعہ 336): قصاص یا عرش، اور 10 سال تک قید۔
3. شجہ (Shajjah) - سر اور چہرے کے زخم
شجہ صرف سر یا چہرے پر آنے والے زخموں کو کہتے ہیں۔ اس کی چھ اقسام ہیں:

معذرت خواہ ہوں کہ ٹیبل کاپی کرنے میں دشواری ہوئی۔ میں اسی معلومات کو سادہ ٹیکسٹ (Text) کی صورت میں نیچے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ اسے آسانی سے سلیکٹ (Select) کر کے کاپی اور پیسٹ کر سکیں۔
شجہ (سر اور چہرے کے زخموں کی تفصیل)
1. شجہ خفیہ (Shajjah-i-Khafifah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر نہ آئے۔
دفعہ: 337-A(i)
2. شجہ موضحہ (Shajjah-i-Mudihah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر آ جائے مگر ہڈی ٹوٹے نہیں۔
دفعہ: 337-A(ii)
3. شجہ ہاشمہ (Shajjah-i-Hashimah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی ٹوٹ جائے مگر اپنی جگہ سے نہ ہلے۔
دفعہ: 337-A(iii)
4. شجہ منقلہ (Shajjah-i-Munaqqilah)
تفصیل: ہڈی ٹوٹ جائے اور اپنی جگہ سے ہل (Dislocate) جائے۔
دفعہ: 337-A(iv)
5. شجہ آمہ (Shajjah-i-Ammah)
تفصیل: ایسا گہرا زخم جو دماغ کی جھلی (Membrane) تک پہنچ جائے۔
دفعہ: 337-A(v)
6. شجہ دامغہ (Shajjah-i-Damighah)
تفصیل: ایسا زخم جو دماغ کی جھلی کو پھاڑ دے یا دماغ کو نقصان پہنچائے۔
دفعہ: 337-A(vi)
غیر جائفہ (جسم کے دیگر حصوں کے زخم)
1. دامیہ (Damiyah)
تفصیل: جس زخم سے خون نکل آئے۔ (337-F-i)
2. باضعہ (Badiah)
تفصیل: جو گوشت کو کاٹ دے۔ (337-F-ii)
3. متلاحمہ (Mutalahimah)
تفصیل: جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔ (337-F-iii)
4. موضحہ (Mudihah)
تفصیل: جس میں ہڈی نظر آ جائے۔ (337-F-iv)
5. ہاشمہ (Hashimah)
تفصیل: جس میں ہڈی ٹوٹ جائے۔ (337-F-v)
6. منقلہ (Munaqqilah)
تفصیل: ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔ (337-F-vi)
ٹپ: آپ اس ٹیکسٹ پر اپنی انگلی تھوڑی دیر دبا کر رکھیں (Long Press)، پھر "Copy" کا آپشن منتخب کر لیں۔ کیا آپ کو ان دفعات کی سزاؤں یا کسی مخصوص کیس کے حوالے سے مزید معلومات چاہیے؟

4. جُرح (Jurh) - جسم کے دیگر حصوں کے زخم
سر اور چہرے کے علاوہ جسم کے کسی اور حصے پر ایسا زخم جو جلد کے اندر تک جائے، اسے "جرح" کہتے ہیں۔ اس کی دو بڑی اقسام ہیں:
(الف) جائفہ (Jaifah)
• تعریف: ایسا زخم جو جسم کے کسی ایسے خلا (Body Cavity) میں داخل ہو جائے جیسے پیٹ، سینہ یا کمر۔
• دفعہ: 337-C
• سزا: دمن (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔
(ب) غیر جائفہ (Ghayr-Jaifah)
ایسا زخم جو جسم کے خلا میں داخل نہ ہو۔ اس کی مزید اقسام یہ ہیں:
• دامیہ (Damiyah): جس میں خون نکل آئے۔ (337-E)
• باضعہ (Badiah): جو گوشت کو کاٹ دے۔
• متلاحمہ (Mutalahimah): جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔
• موضحہ (Mudihah): جس میں ہڈی نظر آ جائے۔
• ہاشمہ (Hashimah): ہڈی ٹوٹ جائے۔
• منقلہ (Munaqqilah): ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔
5. دیگر اقسام
• اتلافِ غیر عمد (Itlaf-i-Ghayr-Amd): غلطی یا غفلت سے پہنچائی گئی چوٹ (دفعہ 337-L)۔
• زہر کے ذریعے نقصان: اگر کسی کو زہر دے کر نقصان پہنچایا جائے (دفعہ 337-J)۔

پاکستان میں کسی بھی فوجداری مقدمے، خاص طور پر لڑائی جھگڑے اور جسمانی چوٹ (Hurt) کے کیسز میں میڈیکل ایگزامینیشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. میڈیکل کروانے کا متعلقہ سیکشن
پاکستان میں زخموں کے معائنے کے لیے عام طور پر درج ذیل دفعات اور قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے:
• دفعہ 174 CrPC: اگرچہ یہ زیادہ تر ناگہانی موت یا خودکشی کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن پولیس کسی بھی زخمی شخص کو طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال بھیجنے کی پابند ہے۔
• Police Rules, 1934 (Chapter 25): پولیس رولز کے باب 25 کے تحت تفتیشی افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ زخمی شخص کا فوری طور پر MLC (Medico-Legal Certificate) بنوائے۔
• دفعہ 54 CrPC (ترمیم شدہ): بعض صورتوں میں ملزم کے طبی معائنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
2. میڈیکل (MLR/MLC) کی قانونی اہمیت
عدالت میں زبانی گواہی سے زیادہ دستاویزی ثبوت یعنی Medico-Legal Report (MLR) کی اہمیت ہوتی ہے:
• جرم کا تعین: میڈیکل رپورٹ ہی طے کرتی ہے کہ ملزم پر PPC کی کون سی دفعہ لگے گی۔ مثلاً اگر ہڈی ٹوٹی ہے تو "ہاشمہ" (337-A-iii) لگے گی، اور اگر صرف معمولی خراش ہے تو "خفیہ" (337-A-i) لگے گی۔
• آلہ قتل/ضرب کا پتہ لگانا: ڈاکٹر یہ بتاتا ہے کہ زخم کسی کند آلے (Blunt Weapon) سے لگا ہے یا تیز دھار آلے (Sharp Edge) سے۔ اس سے مدعی کے بیان کی تصدیق یا تردید ہوتی ہے۔
• وقت کا تعین: ڈاکٹر رپورٹ میں لکھتا ہے کہ زخم کتنا پرانا ہے۔ یہ چیز وقوعہ کے وقت کو ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
3. میڈیکل میں تاخیر (Delay) کے قانونی اثرات
قانونی اصطلاح میں میڈیکل میں تاخیر مقدمے کے لیے "زہر" ثابت ہو سکتی ہے:
• شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): اگر زخم لگنے اور میڈیکل کروانے میں غیر ضروری تاخیر ہو (مثلاً 24 گھنٹے سے زیادہ)، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ یہ زخم "خود ساختہ" (Self-inflicted) ہو سکتے ہیں یا وقوعہ کے بعد کہیں اور سے لگوائے گئے ہیں۔
• بیان میں تضاد: اگر ایف آئی آر میں تاخیر ہو اور میڈیکل میں بھی، تو عدالت اسے مشکوک سمجھتی ہے اور ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
• توجیہ (Explanation): اگر تاخیر ہو جائے تو مدعی کو اس کی ٹھوس وجہ بتانی پڑتی ہے (مثلاً بے ہوشی، ہسپتال کا دور ہونا یا پولیس کی سستی)۔ اگر وجہ معقول نہ ہو تو کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
4. اہم قانونی نکات (Legal Points)
• ماہر کی شہادت (Expert Opinion): قانونِ شہادت آرڈر (QSO) کے تحت ڈاکٹر ایک "ماہر" (Expert) ہے اور اس کی رپورٹ دفعہ 59 کے تحت قابلِ قبول شہادت ہے۔
• تضاد (Conflict): اگر میڈیکل رپورٹ اور چشم دید گواہ کے بیان میں واضح فرق ہو (مثلاً گواہ کہے کہ گولی لگی ہے اور میڈیکل کہے کہ ڈنڈا لگا ہے)، تو عدالت میڈیکل رپورٹ کو ترجیح دیتی ہے اور گواہ کو جھوٹا تصور کیا جا سکتا ہے۔
• پرائیویٹ میڈیکل: پرائیویٹ ہسپتال کا میڈیکل قانونی طور پر اس وقت تک مستند نہیں مانا جاتا جب تک کہ اسے سرکاری میڈیکل افسر (MS یا نامزد ڈاکٹر) کی تصدیق حاصل نہ ہو۔
خلاصہ: پولیس کا جاری کردہ "رقعہ" لے کر سرکاری ہسپتال سے فوری MLC بنوانا کیس کو مضبوط بنانے کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ ہے

27/05/2026

والد کی وفات سے پہلے دھوکے سے زمین اپنے نام کروانے والوں کے لیے لاہور ہائی کورٹ کا بڑا اور عبرت ناک فیصلہ!
2026 MLD 320

عدالتی فیصلے کا خلاصہ

لاہور ہائی کورٹ نے بیوہ کے حق میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص (بیٹا یا رشتہ دار) جعلی مختارنامہ عام (Power of Attorney) کے ذریعے وراثت سے پہلے زمین ہڑپ کرنے کی کوشش کرے گا، تو قانون اسے ہرگز تحفظ نہیں دے گا۔ عدالت نے بیوہ "سلیم بی بی" کا حق بحال کرتے ہوئے تمام غیر قانونی انتقالات اور جعلی مختارنامہ منسوخ کر دیا ہے، کیونکہ دھوکے کی بنیاد پر کھڑی کی گئی عمارت ہمیشہ منہدم ہو جاتی ہے۔

اہم قانونی نکات (Legal Findings)

ثبوت کی ذمہ داری: مختارنامہ عام (GPA) کو سچا ثابت کرنے کی ذمہ داری اس شخص پر ہے جس کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہو (Beneficiary)۔

گواہان کی تعداد: قانونِ شہادت کے آرٹیکل 17 کے تحت مختارنامہ پر دو گواہوں کی گواہی لازمی ہے، صرف ایک گواہ قانونی تقاضا پورا نہیں کرتا۔

افسران کی شہادت: اگر مختارنامہ رجسٹرڈ ہے تو سب رجسٹرار کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ گواہی خلاف آئے گی۔

قریبی رشتہ دار کو منتقلی: مختارِ عام (Attorney) اپنے سگے بھائی یا کسی قریبی رشتہ دار کو زمین منتقل کرنے سے پہلے اصل مالک سے خصوصی اجازت لینے کا پابند ہے۔

دھوکہ دہی (Fraud): دھوکہ دہی سے کیے گئے تمام سرکاری اقدامات اور انتقالات قانون کی نظر میں "صفر" ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

درخواست گزار (Petitioner) کا موقف

فیصلہ ریفرنس: 2026 MLD 320 LAHORE-HIGH-COURT

درخواست گزار (محمد منشا وغیرہ) کا موقف تھا کہ زمین ان کے والد نے اپنی زندگی میں مختارنامہ عام کے ذریعے قانونی طور پر منتقل کی تھی، اس لیے بیوہ کا دعویٰ خارج کیا جائے۔ تاہم، وہ عدالت میں سب رجسٹرار، پٹواری یا تحصیلدار جیسے اہم گواہان کو پیش کرنے میں ناکام رہے۔

جواب دہندہ (Respondent) کے حق میں عدالتی ریمارکس

عدالت نے سلیم بی بی (بیوہ) کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ:

مختارنامہ عام پر گواہوں کی کمی اور اصل گواہان کو عدالت نہ لانا آرٹیکل 129(g) کے تحت درخواست گزار کے خلاف جاتا ہے۔

دھوکہ دہی (Fraud) تمام مقدس کارروائیوں کو زائل کر دیتی ہے۔

ٹرائل کورٹ کا فیصلہ غلط تھا جسے اپیلٹ کورٹ نے درست طور پر کالعدم قرار دیا، اور ہائی کورٹ نے بھی بیوہ کے حق میں اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا

PLJ 2026 SC 298اجرا میں مدیون کا شناختی کارڈ بلاک نہ کیا جا سکتا ہے Section 51 of the CPC sets out the various modes for...
23/05/2026

PLJ 2026 SC 298
اجرا میں مدیون کا شناختی کارڈ بلاک نہ کیا جا سکتا ہے
Section 51 of the CPC sets out the various modes for ex*****on of a decree. Clauses (a) to (d) set out certain specific modes, none of which is relevant for present purposes. The final clause (e) then generally allows for the decree to be executed “in such other manner as the nature of the relief granted may require”. This clause certainly confers the necessary flexibility and latitude as enables the executing Court to ensure that the decree is satisfied. However, it cannot obviously be stretched to the point where the order made in ex*****on loses all contact with the statutory provision. In the case at hand the decree is simply a money decree on a summary chapter suit. We are not at all satisfied that such a decree would require or make permissible ex*****on by blocking the CNIC of the judgment debtor by resort to s. 51(e). One might as well then (for instance) also allow the executing Court to order the blocking of utilities (such as electricity, water etc.) from the residence or workplace of a judgment debtor for ex*****on of a money decree. While a robust approach should certainly be taken to ensure ex*****on it cannot be so muscular (especially in the exercise of a general power of the nature conferred by clause (e)) as essentially deprives the judgment debtor of an essential aspect of living.

The CNIC is not a luxury or a mere statutory requirement. In these times it has become essential to being able to carry on a normal way of life in the ordinary course. In our view, to curtail a judgment debtor from this is not the proper exercise of discretion or any statutory powers as, with respect, erroneously concluded by the learned High Court.
C.P.L.A.3744/2023
Agha Abid Majeed Khan v. Idrees Ahmed and another

‏سوال:     بیوی پر تشدد کرنے اور اسے حبس بے جا میں رکھنے پر پاکستان میں کون سے دفعات عائد ہوتی ہیں اور کیا یہ قابل دست ا...
23/05/2026

‏سوال: بیوی پر تشدد کرنے اور اسے حبس بے جا میں رکھنے پر پاکستان میں کون سے دفعات عائد ہوتی ہیں اور کیا یہ قابل دست اندازی جرم ہے یعنی گرفتاری ہو سکتی ہے؟

جواب/قانونی رائے

پاکستان میں نافذ العمل قانون کے مطابق بیوی پر تشدد اور اسے حبس بے جا میں رکھنا دو الگ نوعیت کے جرائم ہیں جن پر درج ذیل دفعات عائد ہوتی ہیں:

حبس بے جا (Wrongful Confinement)👇👇 تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 342 کے تحت اگر شوہر اپنی بیوی کو کمرے میں بند کر دیتا ہے یا اس کی نقل و حرکت پر غیر قانونی پابندی لگاتا ہے تو یہ حبسِ بے جا کا جرم ہے۔ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے دوسرے شیڈول کے مطابق یہ ایک قابل دست اندازی (Cognizable) جرم ہے، جس کا مطلب ہے کہ پولیس وارنٹ کے بغیر ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے۔ اس کی سزا ایک سال قید یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہے۔ اگر یہ حبسِ بے جا تین دن سے زائد ہو تو دفعہ 343 (سزا 2 سال) اور اگر دس دن سے زائد ہو تو دفعہ 344 (سزا 3 سال) لاگو ہوگی۔

جسمانی تشدد (Physical Assault/Hurt)👇👇
بیوی پر تشدد کی صورت میں پینل کوڈ کی (Hurt) سے متعلقہ دفعات (332 سے 337 تک) عائد ہوتی ہیں۔

اگر تشدد سے ہڈی نہ ٹوٹے اور صرف نشان پڑے یا خراش آئے تو دفعہ 337-L(2) یا 337-F(i) کے تحت 1 سے 2 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔ معمولی نوعیت کا تشدد (جیسے شجہ خفیفہ یا دمیہ) عام طور پر ناقابل دست اندازی ہوتا ہے (پولیس وارنٹ کے بغیر گرفتار نہیں کر سکتی)۔ تاہم، اگر تشدد سے ہڈی ٹوٹ جائے یا کوئی عضو ضائع ہو جائے، تو وہ دفعات (جیسے 337-A(ii) یا 334) قابل دست اندازی بن جاتی ہیں۔

تحفظ کے احکامات (Protection Orders)👇
گھریلو تشدد کے خصوصی ایکٹ کے تحت متاثرہ خاتون عدالت سے 'پروٹیکشن آرڈر' (Protection Order) حاصل کر سکتی ہے۔ اگر شوہر اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے، تو یہ ایک علیحدہ جرم بن جاتا ہے جو کہ گھریلو تشدد ایکٹ 2026 کی دفعہ 12(2) کے تحت قابل دست اندازی (Cognizable) قرار دیا گیا ہے۔

حبس بے جا (بند کرنا) قابل دست اندازی جرم ہے جس پر فوری پولیس کارروائی ہو سکتی ہے۔ تشدد کی صورت میں اگر چوٹ سنگین ہے تو وہ بھی قابل دست اندازی ہوگی، بصورت دیگر متاثرہ خاتون کو مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ دائر کرنا ہوتا ہے یا گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت ریلیف حاصل کرنا ہوتا ہے۔
‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہرقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے...
22/05/2026

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ

رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا تاریخی اختیار دے دیا۔

​۱۔ کیس کے حقائق (Facts of the Case)

​شادی اور تنازع:
صنم شہزادی (سائلہ/Petitioner) کی شادی ۱۷ ستمبر ۲۰۰۹ کو محمد انور (مسئول علیہ/Respondent) سے ہوئی۔ ان کا ایک بیٹا "محمد نور اللہ" پیدا ہوا۔ محمد انور نے ایک اور خاتون (عصمت طاہرہ) سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور صنم شہزادی کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر رہنے لگی۔

​راضی نامہ/معاہدہ (07.10.2010):
دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معززین نے مداخلت کر کے میاں بیوی میں صلح کروائی۔ اس صلح کے نتیجے میں ۷ اکتوبر ۲۰۱۰ کو ایک تحریری راضی نامہ (معاہدہ نمبر 979) طے پایا، جس میں شوہر (محمد انور) نے درج ذیل ذمہ داریاں اٹھائیں:
​بیوی کو ۲,۰۰۰ روپے ماہانہ جیب خرچ دے گا۔
​بیٹے نور اللہ کے نام ۵ مرلہ زمین منتقل کرے گا (جو شوہر کے والد نے گفٹ کے ذریعے منتقل کر بھی دی تھی)۔
​اس ۵ مرلہ زمین پر ۳ ماہ کے اندر کم از کم ۱۳ لاکھ روپے کی لاگت سے بیوی کے لیے گھر تعمیر کر کے دے گا۔
​بیوی کو علیحدہ اور خوش رکھے گا۔

​خلاف ورزی کی صورت میں:
اگر شوہر نے اس معاہدے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو وہ بیوی کو ۲۵ لاکھ روپے بطور ہرجانہ/جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

​مقدمات کا آغاز:
صنم شہزادی نے الزام لگایا کہ شوہر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی (گھر تعمیر نہیں کیا اور نہ علیحدہ رہائش دی)، لہٰذا اس نے ۲۵ لاکھ روپے ہرجانے کی وصولی کا دعویٰ دائر کر دیا۔
جواب میں شوہر (محمد انور) نے اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے ایک الگ دعویٰ دائر کر دیا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اس سے یہ معاہدہ "ناجائز دباؤ" (Undue Influence) کے تحت زبردستی سائن کروایا گیا تھا اور اصل مقصد بیوی کا گھر آباد کرنا تھا، لیکن بیوی واپس نہیں آئی۔

​۲۔ سول/ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Trial Court Decision & Reasons)
​ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا (Consolidate) کیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو بیوی (صنم شہزادی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور شوہر کا معاہدہ منسوخی کا دعویٰ خارج کر دیا۔

​ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​شوہر نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صلح کے لیے اسٹامپ پیپر اس نے خود خریدا تھا اور دستخط بھی اس کے اپنے تھے۔
​شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس پر کوئی ناجائز دباؤ (Undue Influence) ڈالا گیا تھا۔
​شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے معاہدے کے تحت ۳ ماہ میں گھر تعمیر نہیں کیا، جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔

​۳۔ اپیلٹ کورٹ (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج) کا فیصلہ اور وجوہات

​شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۷ کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الٹ دیا، بیوی کا دعویٰ خارج کر دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

​اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ راضی نامے کے وقت بیوی خود اس پنچایت یا مجلس میں موجود نہیں تھی، اس لیے یہ معاہدہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔

​عدالت کا موقف تھا کہ معاہدے کا اصل مقصد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا (Cohabitation) تھا، اور چونکہ بیوی مستقل طور پر شوہر کے گھر آ کر نہیں رہی، اس لیے معاہدہ ختم ہو گیا اور شوہر ہرجانہ دینے کا پابند نہیں۔

​۴۔ لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور وجوہات

​بیوی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سول ریوائزن (Civil Revision) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ سائیڈ پر رکھ کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور بیوی کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔

​ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات

​ناجائز دباؤ (Undue Influence) کا غیر ثابت ہونا: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دباؤ تھا۔ شوہر ایک بالغ مرد تھا، اس نے یکم اکتوبر کو اسٹامپ خریدا اور ۷ اکتوبر کو معاہدہ لکھا گیا۔ اس ۷ دن کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک یا زبردستی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سوچا سمجھا معاہدہ تھا۔

​جزوی عمل درآمد (Partial Performance):
معاہدے پر لکھنے سے پہلے ہی شوہر کے والد نے پوتے کے نام ۵ مرلہ زمین گفٹ کر دی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شوہر کا خاندان اس صلح سے پوری طرح واقف تھا اور یہ ایک حقیقی خاندانی تصفیہ (Family Settlement) تھا۔

​شرطِ اول کیا تھی؟: ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس نقطے کو مسترد کر دیا کہ بیوی پہلے آ کر رہتی۔ عدالت نے کہا کہ کشیدہ تعلقات اور دوسری بیوی کی موجودگی کی وجہ سے شوہر نے ۳ ماہ میں علیحدہ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ شوہر خود اپنی شرط (گھر کی تعمیر) پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ سارا ملبہ بیوی پر نہیں ڈال سکتا۔ بیوی تو معاہدے کے بعد ایک دن کے لیے آئی بھی تھی، جس سے اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔

​مجلس میں بیوی کی غیر موجودگی:
ہمارے معاشرتی پس منظر میں میاں بیوی کی صلح کے معاملات میں خاتون کے بزرگ (والد یا چچا) اس کی طرف سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس لیے بیوی کا دستخط نہ کرنا یا وہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہونا معاہدے کو غیر قانونی نہیں بناتا، خصوصاً جب وہ خود اس معاہدے کو تسلیم کر رہی ہو۔

​۵۔ زرِ تلافی کی قدر برقرار رکھنے کا خصوصی حکم (Moulding of Relief)
​عدالت نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ چونکہ یہ معاہدہ ۲۰۱۰ کا تھا اور ہرجانے کی رقم ۲۵ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، اور اب (۲۰۲۶ میں) طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے روپے کی قدر (Value of Money) بہت کم ہو چکی ہے۔
​عدالت نے سائلہ (بیوی) کو یہ اختیار دیا کہ وہ ۲۵ لاکھ روپے کی وصولی کے لیے دو میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید برقرار رہے:
​یا تو وہ ادائیگی کے وقت کے امریکی ڈالر (US Dollar) کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے اتنی رقم وصول کرے۔
​یا پھر وہ ادائیگی کے وقت مارکیٹ میں سونے (Gold) کی قیمت کے حساب سے اس رقم کے برابر سونا یا رقم وصول کرے۔
Civil Revision 24335/17
(Sanam Shahzadi Vs Muhammad Anwar)
Mr. Justice Raheel Kamran

Address

Distt & Sessions Courts D. C. Office Road Bahawalnagar
Bahawalnagar
62300

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00

Telephone

+923007920679

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District Bar Association Bahawalnagar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to District Bar Association Bahawalnagar:

Share