Apka Wakeel

Call Directions Website Contact the business

Apka Wakeel Our team of experienced lawyers is committed to deliver personalized service.

"ApkaWakeel.pk is a leading law firm in Pakistan, dedicated to providing expert legal guidance and representation to individuals, businesses, and organizations.

06/10/2026

📌 زبانی معاہدہ اور تمعیل مختص (Specific Performance): مبینہ معاہدے کی غیر یقینی صورتحال پر اہم قانونی اصول ⚖️
معاہدہ جات کے قانون (Contract Act, 1872) اور سول مقدمات کے اصولوں کے تحت دعویٰ برائے تمعیل مختص بیع (Suit for Specific Performance) کے لیے یہ لازمی ہے کہ معاہدے کی شرائط، موضوع اور تفصیلات بالکل واضح اور حتمی ہوں۔ اگر دعویٰ مبہم ہو یا قانون کی شقوں پر پورا نہ اترتا ہو، تو عدالت ایسے دعوے کو خارج کر دیتی ہے۔
اہم قانونی نکات اور عدالتی اصول:
1️⃣ دعویٰ میں بنیادی تفصیلات کا فقدان: اگر کسی مبینہ زبانی معاہدے کی بنیادی تفصیلات اور حقائق مدعی کے اصل دعوے میں درج ہی نہ ہوں، تو قانون کے مطابق جس چیز کی استدعا اور وضاحت دعوے میں موجود نہ ہو، اسے بعد میں شواہد کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
2️⃣ کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کی دفعہ 29 (Section 29): کنٹریکٹ ایکٹ کی دفعہ 29 کے تحت وہ تمام معاہدے جن کے الفاظ یا موضوع غیر یقینی (Vague or Uncertain) ہوں اور جن کی شرائط واضح نہ کی جا سکیں، وہ قانون کی نظر میں کالعدم (Void) تصور ہوتے ہیں۔ ایسے غیر یقینی اور مبہم معاہدے کو قانون کے تحت خاص طور پر نافذ (Specific Performance) نہیں کروایا جا سکتا۔
3️⃣ تمعیل مختص کا دعویٰ خارج: چونکہ معاہدہ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے قابلِ نفاذ نہیں تھا اور دعوے میں اس کی درست وضاحت موجود نہیں تھی، اس لیے عدالت نے مدعی کا دعویٰ برائے تمعیل مختص بیع (زبان) سرے سے خارج کر دیا۔

📌 سالانہ نان نفقہ میں 10 فیصد سے زائد اضافہ: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ (C.P.L.A. No. 4959/2025) ⚖️فیملی کورٹس کے اختیارات ...
06/10/2026

📌 سالانہ نان نفقہ میں 10 فیصد سے زائد اضافہ: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ (C.P.L.A. No. 4959/2025) ⚖️
فیملی کورٹس کے اختیارات اور بچوں و خواتین کے نان نفقہ (Maintenance) کی ادائیگی کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک انتہائی اہم اور واضح اصول طے کیا ہے کہ فیملی کورٹ کے پاس یہ صوابدیدی اختیار موجود ہے کہ وہ حالات، مہنگائی اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نان نفقہ میں سالانہ اضافہ 10 فیصد سے زیادہ بھی مقرر کر سکتی ہے。
فیصلے کے اہم ترین قانونی نکات:
1️⃣ دفعہ 17-A(3) کا پس منظر اور خودکار اصول (Default Mechanism):
پنجاب فیملی کورٹس (ترمیمی) ایکٹ 2015 کے تحت شامل کی جانے والی دفعہ 17-A(3) کے مطابق، اگر فیملی کورٹ اپنے فیصلے یا ڈگری میں سالانہ اضافے کی شرح واضح نہ کرے، تو نان نفقہ کی رقم ہر سال خودکار طور پر 10 فیصد بڑھ جاتی ہے۔ یہ شق بنیادی طور پر ایک "ڈیفالٹ میکانزم" ہے، نہ کہ کوئی حتمی یا لازمی حد (Ceiling)۔
2️⃣ 10 فیصد سے زائد اضافے کا اختیار:
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اس قانونی دفعہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ عدالتیں صرف 10 فیصد سالانہ اضافہ ہی کرنے کی پابند ہیں۔ فیملی کورٹ حالات و واقعات کی نزاکت اور مہنگائی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے 10 فیصد سے زیادہ سالانہ اضافہ بھی مقرر کر سکتی ہے، اور یہ اضافہ "کمپاؤنڈ بنیاد" پر بھی کیا جا سکتا ہے جو قانوناً بالکل درست ہے۔
3️⃣ فیصلے کا حوالہ:
* مقدمہ: Sadiq Subhani v. Sadia Urooj and others (C.P.L.A. No. 4959/2025)
* معزز جج: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
* تاریخ: 22 ستمبر 2026

05/10/2026

📌 شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ: اسلامی قانونِ وراثت کے اہم احکام ⚖️

اسلامی قانونِ وراثت (فقهِ اسلامی) کے مطابق شوہر کے ترکے یا جائیداد میں بیوی (یا بیویوں) کے حصے کا ضابطہ انتہائی واضح اور حتمی ہے۔ اس حوالے سے دو بنیادی اور اہم شرعی اصول درج ذیل ہیں:
اہم قانونی اور شرعی نکات:
1️⃣ اولاد ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ (1/8): اگر مرحوم شوہر کی کوئی اولاد موجود ہو، تو ایسی صورت میں بیوی کا کل ترکہ یا جائیداد میں سے آٹھواں حصہ (1/8) مقرر ہوتا ہے۔
2️⃣ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں تقسیم: اگر مرحوم شوہر کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں (مثلاً دو، تین یا چار)، تو بھی ان کا کل مجموعی حصہ وہی آٹھواں (1/8) ہی رہے گا۔ یہ آٹھواں حصہ تمام بیویوں کے درمیان آپس میں برابر برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

📌 اے ڈی سی آر راولپنڈی ملیحہ سحر کا شوہر کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ: قانون سب کے لیے برابر! ⚖️معاشرے میں گھریلو تشدد ا...
05/10/2026

📌 اے ڈی سی آر راولپنڈی ملیحہ سحر کا شوہر کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ: قانون سب کے لیے برابر! ⚖️
معاشرے میں گھریلو تشدد اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے یہ ایک انتہائی اہم اور عزمِ نو کا حامل واقعہ ہے کہ راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (ADCR) ملیحہ سحر نے اپنے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد اور قانونی خلاف ورزیوں پر خود مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ یہ قدم اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی عہدہ یا شخصیت قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
اہم قانونی اور معاشرتی نکات:
1️⃣ قانون کی بالا دستی اور مساوات:
چاہے کوئی عام شہری ہو یا اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز کوئی خاتون افسر، گھریلو تشدد (Domestic Violence) اور ظلم کسی بھی صورت میں برداشت کے قابل نہیں۔ اس قدم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ قانون کے دروازے ہر مظلوم کے لیے یکساں کھلے ہیں۔
2️⃣ خواتین کے حقوق اور تحفظ کے قوانین:
پاکستان کے مختلف صوبائی قوانین اور فوجداری ضابطوں کے تحت گھریلو تشدد، زبانی و جسمانی ہراسانی، اور استحصال سنگین جرائم ہیں۔ قانون متاثرہ خواتین کو یہ مکمل حق دیتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ اور انصاف کے لیے آواز اٹھائیں اور مجرم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔
3️⃣ خاموشی توڑنے کی ضرورت:
ملیحہ سحر کا یہ اقدام ان تمام خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے جو گھریلو تشدد یا ظلم کا شکار ہوتی ہیں لیکن معاشرتی دباؤ کی وجہ سے خاموش رہتی ہیں۔ انصاف کے حصول کے لیے قانون کا سہارا لینا ہی اصل راستہ ہے۔
> "گھریلو تشدد نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ قانوناً بھی قابلِ سزا ہے۔ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔"

📌 جسٹس سید منصور علی شاہ کی فیڈرل آئینی عدالت کے فیصلے پر سخت تنقید: خواتین کی ہراسانی، آئینی شقیں اور عدالتی بحران ⚖️جس...
05/10/2026

📌 جسٹس سید منصور علی شاہ کی فیڈرل آئینی عدالت کے فیصلے پر سخت تنقید: خواتین کی ہراسانی، آئینی شقیں اور عدالتی بحران ⚖️
جسٹس سید منصور علی شاہ نے فیڈرل آئینی عدالت کے 16 ستمبر کے ایک فیصلے پر انتہائی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے خواتین کے حقوق، قانون کی روح اور عدالتی نظائر کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ کام کی جگہ پر خواتین کی ہراسانی اور اس کی قانونی تشریح سے جڑا ہے۔
مقدمے کے پس منظر اور فیصلے کے اہم نکات:
1️⃣ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اور الزامات:
مقدمے میں محتسب اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ایک سینئر بینکر نے اپنے ڈیسک کے شیشے پر نازیبا تصویریں بنائیں، ایک خاتون ساتھی کو اپنے نام لینے پر مجبور کیا، اس کے کپڑے پھاڑنے کی دھمکی دی، اور ایک دوسرے افسر نے اس کے لباس پر فحش تبصرے کیے۔ افسران نے ہائی کورٹ میں اس ہراسانی کا کوئی انکار بھی نہیں کیا تھا۔
2️⃣ فیڈرل آئینی عدالت کا مؤقف اور تنقید:
آئینی عدالت نے یہ کہہ کر فیصلہ الٹ دیا کہ 2010 کے قانون کے تحت ہراسانی صرف وہی عمل ہے جو جنسی نوعیت کا ہو۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اس تنگ سوچ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل صاف طور پر جنسی تھا، اور ہراسانی کا تعلق صرف جنسی خواہش سے نہیں بلکہ عورت کی عزت، وقار اور آرٹیکل 14 سے ہے۔
3️⃣ عالمی تناظر اور سابقہ عدالتی فیصلے:
* نادیہ ناز نظرثانی کیس (جسٹس عائشہ ملک) اور عظمیٰ نوید (2022) و محمد دین کیس (2025 - تحریر کردہ جسٹس منصور علی شاہ) میں یہ طے ہو چکا ہے کہ ہراسانی صرف جنسی عمل تک محدود نہیں ہے۔
* امریکی اسکالر وکی شلٹز، 2022 کی ترمیم، اور امریکہ، کینیڈا، بھارت اور ILO کنونشن 190 بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں کہ ہراسانی صنفی امتیاز اور وقار کا مسئلہ ہے۔
* حیرت انگیز طور پر آئینی عدالت نے محمد دین کیس کو مسترد کر دیا اور عظمیٰ نوید کا ذکر تک نہیں کیا، جبکہ اسی دن ایک دوسرے کیس ("علاجی آدم کیس") میں لفظ بہ لفظ وہی پیراگراف دہرائے گئے یہاں تک کہ گواہوں کے نام بھی غلط لکھ دیے گئے، جو آزادانہ غور و فکر کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
4️⃣ آرٹیکل 189 اور عدالتی نظائر کی خلاف ورزی:
آرٹیکل 189 کے تحت 27ویں ترمیم سے پہلے کے سپریم کورٹ کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہیں۔ پرانے عدالتی نظائر کو ختم کرنے کے لیے تین رکنی بینچ کا ایک جملے میں انکار کافی نہیں تھا بلکہ اس کے لیے معقول وجہ اور بڑے بینچ کی ضرورت تھی۔
5️⃣ نئی آئینی عدالت کی تشکیل اور خدشات:
جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق اصل مسئلہ خود یہ نئی عدالت ہے جو 27ویں ترمیم کے ذریعے چلتی ہوئی سپریم کورٹ کو توڑ کر بنائی گئی۔ اس عدالت کے پہلے بینچ کی تشکیل میں شفافیت کا فقدان رہا، کوئی خاتون جج شامل نہیں کی گئی، اور اس کی مراعات و مدت سپریم کورٹ سے زیادہ رکھی گئیں۔
6️⃣ وکلاء برادری کی خاموشی اور فیض کا پیغام:
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو وکلاء 2007 میں ججوں کی بحالی کے لیے نکلے تھے، وہ 26ویں اور 27ویں ترمیم پر خاموش رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی عدالتیں اختیارات سے نہیں بلکہ حقوق کے تحفظ سے پرکھی جاتی ہیں، اس لیے وکلاء، اساتذہ اور عوام کو فیض احمد فیض کے الفاظ میں "لب آزاد ہیں" تو بولنا چاہیے اور چراغ جلائے رکھنا چاہیے۔

📌 الحمدللہ! ٹیم "آپ کا وکیل" (ApkaWakeel.Pk) کی ایک اور قانونی کامیابی ⚖️لاہور ہائی کورٹ میں دورانِ سماعت، فاضل عدالت نے...
05/10/2026

📌 الحمدللہ! ٹیم "آپ کا وکیل" (ApkaWakeel.Pk) کی ایک اور قانونی کامیابی ⚖️

لاہور ہائی کورٹ میں دورانِ سماعت، فاضل عدالت نے درخواست گزاران کے وکیل رانا ایوب خاور ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد، ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف دائر رِٹ پٹیشن پر کارروائی کرتے ہوئے ایگزیکیوشن کی تمام کارروائیوں کو معطل (Stay) کرنے کا حکم صادر فرما دیا ہے۔

آپ کا وکیل (ApkaWakeel.pk)
🏛️️ عاطف بشارت ہائٹس، 13-فین روڈ، لاہور
👨‍⚖️ رانا ایوب خاور | ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

04/10/2026

📌 پردہ نشیں اور ناخواندہ خواتین کے جائیداد کے معاملات: فریب زدہ انتقال (Fraudulent Mutations) اور فائدہ اٹھانے والے کی ذمہ داری ⚖️

پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 (Punjab Land Revenue Act) اور دیوانی قوانین کے تحت پردہ نشیں، ناخواندہ یا کمزور خواتین کے ساتھ جائیداد کی خرید و فروخت یا انتقال کے معاملات میں عدالتی نظائر نے ہمیشہ کڑی شرائط رکھی ہیں تاکہ کسی بھی دھوکہ دہی یا استحصال کی روکا جا سکے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ (2021 SCMR 19) ایک بنیادی قانونی سند کی حیثیت رکھتا ہے۔
فیصلے کے اہم ترین قانونی اور بنیادی نکات:
1️⃣ فائدہ اٹھانے والے پر ثبوت کی ذمہ داری (Burden of Proof): اگر کوئی شخص کسی پردہ نشیں، ناخواندہ یا گھریلو خاتون سے جائیداد کا انتقال یا لین دین کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے، تو قانون کی رو سے یہ ذمہ داری اسی فائدہ اٹھانے والے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالت میں یہ ثابت کرے کہ وہ لین دین بالکل شفاف، مرضی کے مطابق اور کسی دباؤ کے بغیر تھا۔
2️⃣ رہنمائی کے لیے وکیل یا خاندان کے مرد کی موجودگی: عدالت عظمیٰ کے مطابق، ایسے کسی بھی لین دین کے وقت یہ ثابت کرنا لازمی ہے کہ ٹرانزیکشن یا انتقال کے وقت خاتون کی مناسب قانونی و اخلاقی رہنمائی کے لیے اس کا کوئی قریبی مرد رشتہ دار (خاندان کا فرد) یا بااعتماد وکیل وہاں موجود تھا، اور اسے معاملے کے تمام نفع و نقصان کا مکمل ادراک کروایا گیا تھا۔
3️⃣ فریب زدہ اور مشکوک انتقال (Fraudulent Mutations): اگر کوئی شخص ناخواندہپن یا پردہ نشینی کا استحصال کرتے ہوئے بوگس یا مشکوک انتقال کروا لے، اور بعد میں اس بات کا تسلی بخش ثبوت نہ دے سکے کہ خاتون کو اس کی پوری سمجھ تھی، تو ایسے انتقال کو قانوناً فریب زدہ اور کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

Address

Office No. 309, Atif & Basharat Heights, 13 Fane Road Near Lahore High Court, Lahore
Imbulgoda

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923322220242

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apka Wakeel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apka Wakeel:

Shortcuts

Share