Advocate Momin Musaddique Ahmed

Advocate Momin Musaddique Ahmed Ask your legal queries and get solutions.

18/01/2026
18/01/2026

18/01/2026

https://youtu.be/5UJwRq4Y78w
13/07/2023

https://youtu.be/5UJwRq4Y78w

How to keep your surrounding clean | Take Part in voting of Government to rate your City | Malegaon Corporation ka Safai Budget aur Theka ...

https://youtu.be/dL2-_LhoKAY
13/06/2023

https://youtu.be/dL2-_LhoKAY

CORRECTIONS: 1. Malegaon SUBSIDY 35% and Dhule SUBSIDY 40%. 2. Micro scale:- Investment upto 1 Cr and Turnover upto 5.3. Small Scale :- Inv upto 10 Cr and Tu...

22/05/2023

A brief guidance for exchanging currency, especially for the Haj Pilgrims of India by Advocate Momin Musaddique Ahmed.

25/08/2022

25.08.2022

(TET) ٹی ای ٹی معاملہ، قانون اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں۔


Right of Children to Free and Compulsory Education Act, 2009 جسے عام طور پر آر ٹی ای ایکٹ کہا جاتا ہے، اس قانون کے عمل میں آنے کے بعد سیکشن۲۳ کے تحت National Council for Technical Education نیشنل کونسل فور ٹیکنیکل ایجوکیشن کا قیام ایک اتھارٹی کی شکل میں عمل میں آیا۔ مذکورہ اتھارٹی نے۲۳ اگست۲۰۱۰ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اول تھا آٹھویں جماعت پڑھانے والے اساتذہ کی قابلیت طے کر دی جس میں Teachers Eligibility Test (TET) کامیاب کرنابھی قابلیت کی شرائط میں شامل تھا۔ نیشنل کونسل نے ۲۷ ستمبر ۲۰۱۱ کو ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے گزشتہ نوٹیفکیشن میں ترمیم کی اور کہا TET پاس کرنا تمام شرائط میں سے ایک شرط ہے۔ کچھ ریاستوں نے ریاستی سطح پر نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئےٹی ای ٹی کو لازمی شرط میں شامل کر دیا. جن اساتذہ کا تقرر نوٹیفیکیشن آنے سے قبل ہوا تھا ان اساتذہ کو ٹی ای ٹی پاس کرنے کے لئے وقت مہیا کر دیا گیا.

۲۰۱۶ میں مائناریٹی اداروں میں پڑھانے والے تین سو سے زائد اساتذہ کا اپرول اور انکریمنٹ تامل ناڈوریاستی حکومت نے ٹی ای ٹی پاس نا ہونے کی بنیاد پر رد کر دیا تھا۔ مذکورہ اساتذہ نے مدراس ہائی کورٹ میں ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف پٹیشن داخل کردی۔ مدراس ہائی کورٹ نے۲۴ جون ۲۰۱۶ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے پرامتی ایجوکیشنل ٹرسٹ کیس ۲۰۱۴ میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ آر ٹی ای ایکٹ کا اطلاق مائناریٹی اداروں پر نہیں ہوتا۔ اس لیے مذکورہ قانون کے تحت بنائی گئی نیشنل کونسل کے ذریعے جاری کردہ نوٹیفکیشن کا اطلاق بھی مائناریٹی اداروں پر نہیں ہوگا۔ دستور کے آرٹیکل۳۰ کے مطابق مائناریٹی اداروں کواپنے انتظامات چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے تامل ناڈو حکومت کو حکم دیا کہ تمام اساتذہ کا اپرول اور انکریمنٹ جاری کیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی تقریبا تمام ہائی کورٹ میں اسی قانونی حیثیت مطابق فیصلے سنائے جانے لگے۔

مائناریٹی اداروں کہ خود مختاری اور ان کے دستوری اختیارات کے منافی ۶ جنوری ۲۰۲۰ کو جسٹس ارون مشرا اور جسٹس للت کی دو رکنی بینچ نے نیشنل انٹریسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک فیصلہ سناتے ہوئے کہ ماینارٹی اداروں کے ذریعے اساتذہ کا انتخاب اور ان کی خود مختاری میں حکومت مداخلت کرسکتی ہے تاکہ قومی سطح پر اساتذہ کی صلاحیت اور قابلیت یکساں قائم کی جاسکے۔ اس فیصلے کی رو سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ریگولیشن کے ذریعے مائناریٹی اداروں کی خود مختاری میں مداخلت کا دروازہ کھل گیا اور بالخصوص ریاستی حکومتوں کے رولز اور ریگولیشن کا اطلاق مائنارٹی اداروں پر بھی تھوپنے کی کوشش کی جانے لگی۔

۲۶ ستمبر ۲۰۱۹ کو مدراس ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے کہاتھا کہ کوئی بھی ڈپارٹمنٹ اقلیتی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کیلئے ٹی ای ٹی لازمی قرار نہیں دے سکتا۔ اس فیصلے کے خلاف ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی۔ مذکورہ اپیل سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے ۱۴ فروری ۲۰۲۲ کو جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس ناگارتھنا کی بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ ابتدائی بحث کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ اس کیس میں ایک اہم سوال سامنے آیا ہے جس کی تفصیلی سماعت کی ضرورت ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے اقلیتی اداروں کے اساتذہ سے لازمی طور پر ٹی ای ٹی پاس کرنے کا مطالبہ کرنا دستور میں دیے گئے اقلیتی اداروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہو گی یا نہیں؟ اس کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ ۲۲ ستمبر۲۰۲۲ ہوگی۔

مہاراشٹر میں ریاستی حکومت نے ۲۴ اگست۲۰۱۹ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہاکہ جن اساتذہ نے۳۱ مارچ ۲۰۱۹ تک ٹی ای ٹی امتحان کامیاب نہیں کیا ہے ان کی سروس برخاست کر دی جائے۔ اس نوٹیفکیشن کے خلاف ضلع پریشد اور پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ نے اورنگ آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی۔ جسٹس گنگاپوروالا اور جسٹس کلکرنی کی بنچ نے ۱۱ جون ۲۰۲۱ کو اپنے فیصلے میں ٹی ای ٹی کی اہمیت و افادیت کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ٹی ای ٹی پاس قابلیت آر ٹی ای ایکٹ کے ذریعہ نافذ کی گئی ہے اور اساتذہ کو ۲۰۱۹ تک اضافی وقت بھی مہیا کیا گیا۔ اورنگ آباد ہائی کورٹ نے اساتذہ کی پٹیشن کو رد کردیا۔ اس کیس میں اقلیتی اداروں کی خود مختاری اور اس کے تحفظ کی بحث نہیں کی گئی۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ۲۹ جون ۲۰۲۱ کو اپیل داخل کی گئی جس پر سماعت ہونا باقی ہے اور عبوری طور پر سپریم کورٹ نے بغیر کسی راحت کے صورتحال کو جوں کی توں برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس کیس کی آئندہ سماعت کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

مندرجہ بالا معاملات اور سوالات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باوجود ، مدراس ہائی کورٹ نے ۲۱ اپریل ۲۰۲۲ کو ایک اور فیصلہ سناتے ہوئے قانونی حیثیت کا اعادہ کیا کہ اقلیتی اداروں کے اساتذہ کے لئے ٹی ای ٹی لازمی نہیں ہے اور ان پر زبردستی نہیں کی جاسکتی۔

مدراس ہائی کورٹ نے ہی مذکورہ بالا فیصلے سے چند ہفتے قبل ۷ اپریل ۲۰۲۲ کو فیصلہ سنایا تھا کہ ٹی ای ٹی کامیاب کئے بناء اساتذہ سروس جاری نہیں رکھ سکتے۔ لیکن واضح ہو کہ اس فیصلے میں اقلیتی اداروں کے استثناء کی بحث نہیں کی گئ تھی۔

ان تمام عدالتی فیصلوں کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آر ٹی ای ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے اب تک ملک کی بیشتر یا تقریبا سبھی ہائی کورٹ نے اور سپریم کورٹ نے آر ٹی ای ایکٹ اور اس کے تحت جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے اطلاق سے اقلیتی اداروں کو محفوظ رکھا ہے اور ان کی خود مختاری کا تحفظ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ارون مشرا اور جسٹس للت کے ۲۰۲۰ کے فیصلے کے بعد حکومت کے ذریعے کچھ رول اور ریگولیشن کے اطلاق کا دروازہ کھل گیا۔ حالانکہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی دستوری بنچ نے ۲۰۱۴ میں کہا تھا کہ آرٹی ای ایکٹ کا اطلاق اقلیتی اداروں پر نہیں ہوگا اور یہ فیصلہ آج بھی قائم ہے۔ جب ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوگا تو ایکٹ کے تحت جاری کردہ کسی حکم کا اطلاق بھی نہیں ہونا چاہئے۔

ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے ۲۴ اگست ۲۰۲۲ کو اسی طرح کے ایک معاملے میں عبوری فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں زیر سماعت پٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ یہ سوال کہ ڈپارٹمنٹ اقلیتی اداروں کے اساتذہ پر ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی قرار دے سکتا ہے یا نہیں ؟ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے فی الحال مذکورہ عرضی گزار کی سروس جس طرح جاری تھی اسی طرح برقرار رکھے اور اس میں کوئی دخل اندازی ناکی جائے۔ واضح ہو کہ یہ حکم صرف مذکورہ عرضی گزار کے لئے ہے۔

مہاراشٹر میں جو لوگ ٹی ای ٹی گھوٹالہ کا شکار ہوئے ہیں، اور تو ان میں اقلیتی اور غیر اقلیتی افراد کی تقسیم کرنا چاہیئے تاکہ ان کی قانونی پیش رفت الگ الگ انداز میں کی جائے۔ سارے افراد کا ایک ساتھ قانونی پیش رفت کرنا نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا جتنے قانونی معاملات اور کیس کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں اساتذہ کو حکومت (ڈپارٹمنٹ) کی جانب سے ان کی سروس ختم کرنے یا اپرول رد کرنے یا انکریمنٹ رد کرنے کا مکتوب دیا گیا تھا اور وہ ان سرکاری مکتوبات کے خلاف عدالت میں رجوع ہوئے تھے۔ چند معاملات میں سرکاری نوٹیفکیشن جو پالیسی سے متعلق تھا ، اس کو چیلینج کیا گیا تھا۔ تمام اساتذہ کے انفرادی سروس حالات یکساں نہیں ہوتے اس لئے کسی اور کی صورتحال کے مطابق دوسرے اساتذہ جن کی یکساں صورتحال نہیں ہے ان کے خلاف بھی عدالتی احکامات کا اطلاق ہوجاتا ہے اور وہ پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس لئے کافی غور و خوذ کے بعد قانونی پیش رفت کرنی چاہیئے۔

قانونی طور پر دیکھا جائے تو جب تک سپریم کورٹ کا کوئی نیا فیصلہ جو ۲۰۱۴ کے فیصلے سے الگ ہو نہیں آجاتا، تب تک ماضی کے جو فیصلے اور قانونی صورت ہے وہی ہر کسی کے لئے نافذ العمل ہوگی یعنی اقلیتی اداروں کے اساتذہ کا استثنی۔ عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اساتذہ کو براہ راست قانونی میدان میں اتارنے اور ان پر عدالتی فیصلے کی تلوار لٹکانے سے قبل کسی اقلیتی ادارے یا تنظیم یا افراد کو ریاستی حکومت کا نوٹیفیکیشن ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں چیلنج کرنا چاہیئے اور اسے رد کروانا چاہیئے تاکہ اساتذہ کے پاس دروازے کھلے رہیں۔

31/07/2022

ملک میں عدالتی نظام اور جیلوں کی تشویشناک صورتحال، علیحدہ قانونِ ضمانت کی اشد ضرورت۔

ممبئی میں رہائش پذیر ایک لڑکی کو ۳ دسمبر ۲۰۱۸ کو دبئی ائیر پورٹ پر گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔ اس معاملے میں قانونی معاونت انجام دینے کا موقع ملا۔ مذکورہ کیس میں دبئی کی نچلی عدالت نے ۱۲ مارچ ۲۰۱۹ اپنا فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کیس میں عدالت عالیہ نے ۵ مئی ۲۰۱۹ کو فیصلہ سنا دیا۔ اس طرح ابتدائی مرحلہ سے آخری مرحلے تک قانونی نظام دیڑھ سال کے قلیل عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اس کے بالکل برعکس ہندوستان میں نظام قانون اور عدالتی نظام کی صورتحال نا صرف یہ کہ دگر گوں ہے بلکہ مزید ابتری کی طرف گامزن ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف تعلقہ اور ضلعی سطح کی بات کی جائے تو اس وقت عدالتوں میں ۴ کروڑ ۱۸ لاکھ مقدمات زیر غور ہیں۔ پانچ سال سے زائد پرانے مقدمات کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ یعنی کل تعداد کا تقریبا پچیس فیصد ہے۔ حیرت انگیز طور پر نصف سے زائد یعنی دو کروڑ سے زیادہ مقدمات صرف چار ریاستوں یعنی مہاراشٹر، اتر پردیش، بہار اور بنگال میں ہے۔ صرف یوپی میں تعلقہ اور ضلعی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد ایک کروڑ ۳ لاکھ ہے اور ان میں سے تقریبا ۱۴ فیصد دس سال سے زیادہ عرصے سے زیر سماعت ہیں۔

کچھ ریاستوں کی عوام مقدمہ بازی میں بہت آگے ہے جبکہ کچھ ریاستوں کی عوام مقدمہ بازی سے احتراز کرتی ہے۔ عدالتی عملہ خصوصا ججوں کی عدم دستیابی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ججوں کی دستیابی کے معاملے میں یو پی سب سے پیچھے ہے جہاں ایک لاکھ ۱۳ ہزار افراد پر صرف ایک جج کا اوسط ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ میں ایک لاکھ۸ ہزار افراد پر ایک جج کا تناسب ہے جبکہ ریاست مہاراشٹر میں ۵۴،۴۵۳ افراد پر ایک جج دستیاب ہے۔ حالیہ پارلیمنٹ سیشن میں مرکزی وزارت قانون نے لوک سبھا میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فی الوقت ملک میں صرف ہائی کورٹ میں ججوں کی ۳۷۹ اسامیاں خالی ہیں۔ مزید کسی بھی علاقے میں نئی یا اضافی عدالت قائم کرنے کا بھی فی الحال حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جیلوں کی استطاعت میں کمی اور ان میں دستیاب بنیادی سہولیات کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ استعداد اور موجود قیدیوں کی تعداد پر غور کیا جائے تو جیلوں میں کافی زائد تعداد میں افراد قید ہیں جو اضافی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا افراد کی تعداد جیلوں کی استعداد کے مقابلے۱۲۸ فیصد، گجرات میں۱۱۰ فیصد، مدھیہ پردیش میں۱۵۹ فیصد، کرناٹک میں۱۲۹ فیصد، دہلی میں۱۶۰ فیصد جبکہ یوپی میں سب سے ذیادہ ۱۷۷ فیصد ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پورے ملک کی جیلوں میں قید افراد کا۶۲ فیصد حصہ ایسے قیدیوں کا ہے جنہیں سزا نہیں سنائی گئی بلکہ ان کے مقدمات زیر سماعت ہیں اور انہیں ضمانت پر رہا نہیں کیا گیاہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں زیر سماعت مقدمات میں قید افراد کا تناسب محض۱۸ سے۲۰ فیصد ہے۔ اس بنیاد پر ہندوستان میں انصاف کے نظام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عوام میں مقدمہ بازی کا رجحان اور عدالتی عملے کی کمی و بیشی نا صرف یہ کہ انصاف کے حصول میں تاخیر کا باعث بنتی ہے بلکہ قیدیوں کی مشقت میں بھی اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ ایک ہی قسم کے مقدمے میں مختلف ریاستوں میں قیدی مختلف عرصے تک جیلوں میں بند رہتے ہیں اور فیصلے کے لیے درکار عرصہ بھی مختلف ہوتا ہے جبکہ قانون تمام لوگوں کے لیے یکساں ہے۔ مثال کے طور پر مہاراشٹر، دہلی اور ہریانہ میں اگرچہ کہ زیر سماعت مقدمات کی تعداد ایک لاکھ کی آبادی پر زائد از ۴۵۰۰ ہے لیکن پھر بھی ان ریاستوں میں پانچ سال سے زائد عرصے تک معلق رہنے والے مقدمات کی تعداد ۲۵ فیصد سے بھی کم ہے جبکہ دوسری طرف بنگال اور بہار جیسی ریاستوں میں اگرچہ کے ایک لاکھ آبادی پر مقدمات کی تعداد قومی اوسط سے کم ہے مگر ان ریاستوں میں ۴۰ فیصد سے زیادہ مقدمات پانچ سال سے زائد عرصہ تک زیر سماعت رہتے ہیں۔

جیلوں میں قید تمام قیدیوں اور انڈر ٹرائل قیدی یعنی جن کے مقدمات ابھی عدالتوں میں جاری ہیں ان کی تعداد کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ۲۰۱۰ میں یہ تناسب۶۵ فیصد تھا جو ۲۰۲۰ میں بڑھ کر۷۶ فیصد ہو گیا ہے۔ جتنے مقدمات کا ایک عرصے میں تصفیہ ہوتا ہے ان سے کہیں زیادہ مقدمات اسی عرصے میں داخل ہو جاتے ہیں جس سے صورتحال مزید خرابی کی طرف گامزن ہے۔ حکومت کی جانب سے عدالتی عملے کی بروقت تعیناتی کی راہ میں حائل دشواریوں کے پیش نظر یہ عوام کے لئے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ عدالتی مقدمات کا رخ کرنے کی بجائے مصالحت کو ترجیح دے۔

سپریم کورٹ نے حال ہی میں ۱۱ جولائی ۲۰۲۲ کو ستیندر کمار بنام سی بی آئی کیس کی سماعت کے دوران گرفتاری کے یکساں اصول اور درخواست ضمانت کی سماعت کے لیے مخصوص وقت طے کرنے کی ضرورت پر بہت ساری ہدایات جاری کی ہیں تاکہ جیلوں میں بے جا افراد کو نہ رکھا جائے۔ جسٹس سدھارتھ کول اور جسٹس سندریش نے مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ وہ انگلینڈ میں مروجہ ضمانت کے قانون کی طرح ہندوستان میں بھی ایک علیحدہ ضمانت کا قانون بنائیں تاکہ گرفتاری کے اصولوں کی پاسداری کی جائے اور ضمانت کا حصول ایک مخصوص عرصے میں آسان بنایا جائے۔ حال ہی میں مشہور صحافی محمد زبیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بنیادی قانون یعنی ضمانت حق ہے اور قید استثناء پر ایک بار پھر زور دیا۔ تاکہ پولیس کی زیادتیوں اور غیر ضروری گرفتاریوں پر روک لگ سکے۔ انگلینڈ کے ضمانت کا قانون Bail Act 1976 کے تحت ضمانت کو عمومی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاکہ غیر ضروری طور پر عوام کو جیلوں میں نہ رکھا جائے۔ اس قانون کے مطابق اگر ملزم کو ضمانت ملنے چاہیے تا وقتیکہ اس کے خلاف ضمانت نامنظور کرنے کا کوئی واضح جواز ہو۔ شخصی آزادی کو انگلینڈ میں بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ان فیصلوں اوربیانات کے باوجود عمر خالد، صدیق کپن اور شرجیل عثمانی جیسے لوگوں کی درخواست ضمانت کافی عرصے سے زیر سماعت ہے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ۳۰ جولائی ۲۰۲۲ کو آل انڈیا ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کی میٹنگ میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی رہائی میں تیزی لانے پر زور دیا اور کہا کہ ہر عام ہندوستانی کا عدلیہ پر بھروسہ ہے کہ وہ عدالت کے دروازے پر کسی بھی وقت دستک دے سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے انڈر ٹرائل قیدی جو وکیل کا انتظام نہیں کرسکتے ان قیدیوں کے لئے مناسب انتظام کیا جائے اور ان کی فوری رہائی کی راہ ہموار کی جائے۔

ان تمام حالات کا جائز ہ لینے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ نظام انصاف کو بہتر بنانے لے لئے ملک میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد پر قابو پانا نہایت ضروری ہے۔ اس لئے علیحدہ قانون ضمانت کا بنانا اشد ضروری ہے جو ضمانت کو حق قرار دے اور درخواست ضمانت کی سماعت کے لئے ایک مخصوص وقفے کا تعین کرے۔ مزید عدالتی عملہ کی تعیناتی میں زبردست تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام کو سمجھتے ہوئے عوام کو سمجھنا چاہیئے کہ اس وقت عدالتوں کا رخ کرنا وقت اور پیسے کی بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس لئے حتی الامکان مصالحتی نظام کو ترجیح دینا چاہیئے۔

28/06/2022

28.06.22

شہیدوں کی یادگار، سو سال بعد بھی انتظار۔ کون ذمہ دار؟

مالیگاؤں کے ۷ شہیدان وطن میں سے ۴ یعنی محمد سلیمان شاہ (ملزم نمبر۱)، اسماعیل اللہ رکھا( ملزم نمبر ۳)، محمدشعبان بھکاری (ملزم نمبر۲۹)، اور بدھو فریدن ملزم نمبر(۹۴) کو ۶ جولائی۱۹۲۲ کو پھانسی دی گئی تھی۔ اس واقعے کو عنقریب سو سال مکمل ہونے والے ہیں لیکن شہیدان وطن کا نام شہیدوں کی یادگار پر لکھوانا آج بھی ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ قصور صرف فرقہ پرستوں اور متعصب حکام کا نہیں بلکہ کچھ اپنوں نے بھی اس کام میں دانستہ نا دانستہ روڑے اٹکائے ہیں۔

جو فرقہ پرست تنظیمیں جنگ آزادی میں ملک دشمن انگریزوں کی علانیہ یا مخفی طورحمایت کار تھی وہ اور ان کےپیروکار تب سے لے کر آج تک شہیدوں کی یادگار پر نام کندہ کرنے کی پرزور مخالفت کر رہے ہیں جبکے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کے مالیگاوں کا۱۹۲۱ کا واقعہ کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں بلکہ جنگ آزادی کا ایک روشن باب ہے۔ ہندو مسلم دشمنی کا مذکورہ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بات کا ثبوت ۱۹۲۱ کے واقعہ سے متعلق ناسک سیشن کورٹ کے فیصلے سے بآسانی ملتا ہے۔ ناسک سیشن کورٹ کے فیصلے میں دیے گئے کچھ مشاہدات مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ ملزمین نے کانسٹیبل اسماعیل جعفر کی پٹائی کی۔ ( صفحہ نمبر۱۰۸۰)

۲۔ کچھ ہندو اس تحریک عدم تعاون کے ممبر تھے۔( صفحہ نمبر۱۰۷۶)

۳۔ مسلمان مجمع نے کانسٹیبل اکبر علی کی پٹائی کی اور وہ زخمی اور بے ہوش ہو گئے تھے۔ ( صفحہ نمبر۱۰۸۱)

۴۔ ملزم نمبر۵۱ ، بھالچند ہیرا چند کو قصور وار پایا گیا اور پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ( صفحہ نمبر۱۱۳۰اور ۱۱۵۵)

۵۔ ملزم نمبر۹۴ بدھو فریدن نے بتایا کہ شیخو میاں، کسن داس، ساکر چند، کھرے اور انھوں نے مل کر فیصلہ لیا کہ مندر میں آگ لگا دی جائے۔ ( صفحہ نمبر۱۱۳۸)

۶۔ پولیس نے مندر کی سیڑھیوں سے نیچے کی جانب فائرنگ کی جس میں دو یا شاید تین افراد مارے گئے ( صفحہ نمبر۱۰۸۷)

۷۔ مندر کو آگ لگانے کی وجہ اندر چھپے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنا تھا۔ ( صفحہ نمبر۱۰۷۳)

مندرجہ بالا عدالتی مشاہدات ناسک سیشن کورٹ کے فیصلے سے ماخوذ ہیں نا کہ کسی مسلمان مورخ کی کتاب سے اور یہ فرقہ پرست عناصر کے جملہ الزامات کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود حکام کا بے بس ہونا چہ معنی دارد؟

ّّّسرکاری دفاتر کے ریکارڈ کے مطابق ،شہیدوں کی یادگار پر نام لکھے جانے کی مخالفت کرنے والوں میں اگرچہ شیوسینا، بی جے پی، بجرنگ دل اور ساروجنک ناگری سویدھا سمیتی جیسی تنظیموں کے نام اور انفرادی طور پر مالیگاؤں آؤٹر کے ریاستی وزیر، ایڈوکیٹ سنجے دسانے، رام داس کھنڈو بورسے، دنیش دھونڈو ماڑی، اور شنکر گنگا رام واگھ شامل ہیں جو مالیگاؤں کے سات شہیدان وطن کو فسادی قرار دیتے ہیں اورمکتوبات و میمورنڈم کی شکل میں وقتا فوقتا اپنی مخالفت حکام کو درج کراتے رہتے ہیں۔ جبکہ حکومت ہند اور حکومت مہاراشٹر نے مکمل تفتیش، تحقیق اور اطمینان کے بعد انہیں سرکاری دستاویز میں شہیدوں کا درجہ دیا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کے حکومتی دستاویزات میں شہید تسلیم کیے گئے افراد کو چند افراد کی بے بنیاد مخالفت کی وجہ سے حکام شہیدان وطن کا درجہ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ حکومتی دستاویزات نے شاید اپنی اہمیت کھو دی ہے۔ حالانکہ مخالفت کے مقابلے میں نام کندہ کروانے والے افراد کی تعداد بے شمار ہے۔

دیگر اہم رکاوٹوں میں سے ایک مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے منعقد کی گئی ۷ اگست۲۰۰۵ کی ایک اہم میٹنگ ہے۔ یہ میٹنگ شہیدوں کی یادگار کی تجدید کے عنوان پر رکھی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے مختص کرنا عنوان سے پرے مذکورہ میٹنگ میں یہ بھی طے کیا گیا کے شہیدوں کی یادگار پر کسی بھی شخص کا نام نہیں لکھا جائے گا۔ میٹنگ کے احوال کے دستاویز کے مطابق اس میٹنگ کے شرکاء میں۲۰۰۵ کے کانگریس کے اس وقت کے ایم ایل اےاور میئر، شری کلیان کیلکر ( کمشنر) ، وسنت چوہان،سکھارام گھوڑکے، شیخ کلیم، چندن مہسدے، دیپک بھونسلے اور گوتم باوسکر تھ جنھوں نے اپنی شمولیت اور فیصلے سے اتفاق پر دستخط بھی درج کرائے ہیں۔ نا واقف عوام آج بھی تذبذب میں مبتلا ہے کہ کارپوریشن کے ذریعے نام لکھے جانے میں ٹال مٹول کیوں کیا جاتا ہے۔ اس وقت شرکائے میٹنگ کو صرف تجدید کے عنوان پرمحدود رہتے ہوئے بحث اور فیصلہ کرنا تھا یا کم از کم نام نا لکھنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا بہتر ہوتا۔ اختیارات ہوتے ہوئے اور موقع میسر ہوتے ہوئے بھی مذکورہ میٹنگ میں نام نا لکھے جانے کا فیصلہ کرنا شہداء آزادی کے ورثاء کے وقار و جذبا ت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

یکم جنوری۲۰۱۰ کو منترالیہ ، ممبئی میں شہیدوں کی یادگار پر نام لکھنے کے عنوان پر منعقدہ میٹنگ میں وقت

کے وزیر برائے اقلیتی امور محترم عارف نسیم خان صاحب نے اس وقت کے مالیگاؤں کے ایڈیشنل کلکٹر

آنجہانی یشونت سونونے صاھب کو واضح حکم دیا تھا کہ جب سرکاری دستاویزات میں مذکورہ افراد کو شہید

تسلیم کیا گیا ہے تو ملک کے دیگر علاقوں کی طرح مالیگاؤں میں بھی ان کا نام لکھا جانا ضروری ہے۔ مزید

ایڈیشنل کلکٹر صاحب کو حکم دیا گیا کے تمام متعلقہ افراد کی میٹنگ کا انعقاد کرتے ہوئے غیر ضروری

اعتراضات کرنے والوں کے خدشات کو رفع کریں اور ۲۶ جنوری۲۰۱۰ تک سات شہیدوں کے نام

لکھوانے کی کوشش کریں۔ لیکن آج تک اس ضمن میں کسی بھی میٹنگ کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس سے حکومتی

افسران اور حکام کی نیتوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

شہیدوں کی یادگار پر نام لکھے جانے کے معاملے میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کے ریاستی حکومت کے جس جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے نومبر ۲۰۰۶ میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو یہ ہدایت جاری کی تھی کے شہیدوں کی یادگار پر نام لکھنے کا فیصلہ خود مالیگاؤں کارپوریشن کو کرنا ہے اسی محکمے نے نومبر۲۰۱۱ میں ایک اور حکم جاری کرتے ہوئے شہیدوں کی یادگار کی حالت جیسی تھی ویسی یعنیstatus quo برقرار رکھنے کی ہدایت دی جس کی وجہ سے اس مسئلے میں سرکاری پیچ پڑا ہوا ہے اور مستقبل قریب میں شہداء کے نام لکھوائے جانے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ اگرچہ ہر الیکشن میں اس مسئلے کو زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے شہریان مالیگاؤں اور بالخصوص وارثین شہداء کے وقار کی بحالی کا کام نہیں کیا جاتا۔ سو سال کا وقفہ کوئی کم نہیں ہوتا اور ملک کے حالات جس رخ پر جا رہے ہیں مستقبل میں اس کام میں مزید دشواریوں کے سامنے آنے کا اندیشہ ہے۔ اس سلسلے میں شہر مالیگاؤں کے باشعور افراد اور اداروں کو غور و فکر کرنا چاہیے اور عوامی نمائندوں کے ذریعے پختہ طور پر شہیدوں کی یادگار پر نام لکھوانے کا کام انجام دینا چاہیے۔ شہر سے بیشتر افراد مختلف غیر ضروری عنوانات پر فورا عدالت پہنچ جاتے ہیں لیکن شہیدوں کی یادگار کے معاملے میں پختہ ثبوت و شواہد موجود ہونے کے باوجود جس درجے کی ٹھوس قانونی لڑائی کی شروعات ہونی تھی وہ اب تک نہیں ہوئی ہے۔

اگرچہ سرکاری عمارتوں اور اسمارک کی اصل اہمیت ہوتی ہے لیکن سو سال کا وقت گزر جانے کے بعد اور موجودہ صورتحال میں کسی اہم جگہ پر اپنی عوامی شہیدوں کی یادگار تعمیر کر کے اس پر ان سات شہداء کے ناموں کو لکھا جا سکتا ہے۔ غیر سرکاری ہونے کی صورت میں کسی کو اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ اس طرح مالیگاؤں کی تاریخ کے ایک اہم پہلو کو آئندہ کے لئے محفوظ کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سرکاری عمارت پر نام لکھے جانے کی جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے۔

19/06/2022

19.06.2022

حکومت ہند (وزارت داخلہ) کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کا خصوصی موقع

آزادی کے ۷۵ سال پورے ہونے پر امسال آزادی کا امرت مہوتسو منایا جا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے وزارت داخلہ، حکومت ہند نے ۱۰ جون۲۰۲۲ کو ملک کی تمام ریاستوں اور یونین ٹیریٹری کے پرنسیپل سیکریٹریز اور ڈائریکٹر جنرل (جیل) کو ایک خط لکھتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ آزادی کے امرت مہوتسو کے جشن کے طور پر حکومت ہند نے کچھ مخصوص قسم کے قیدیوں کو تین موقعوں پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیلوں میں سزا کاٹ رہے کچھ مخصوص قسم کے قیدی بالترتیب ۱۵ اگست ۲۰۲۲، ۲۶ جنوری ۲۰۲۳ اور ۱۵ اگست ۲۰۲۳ ان تین مواقع پر رہا کئے جائیں گے۔ اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ نے۲۱ اپریل۲۰۲۲ کو تمام ریاستوں کے وزراء اعلی کو خط لکھتے ہوئے اس فیصلے کی اطلاع دے دی تھی اور ان سے درخواست کی تھی کہ ان تین مواقع پر قیدیوں کی رہائی کے خاطر خواہ انتظامات کیے جائیں۔

اس خاص رہائی پروگرام کے لئے مستحق اور قابل قیدیوں کی شناخت کے لئے E Prison سافٹ ویئر میں ایک Module شامل کیا گیا ہے۔ اس سافٹ ویئر کی مدد سے جیل کے حکام مستحق قیدیوں کی شناخت ان کی عمر ، جنس اور جیل میں ر ہنے کا عرصہ اور ان کا برتاو وغیرہ ان بنیادوں پر ان کی رہائی کا فیصلہ کر پائیں گے۔

رہائی پروگرام کے لئے جاری کردہ گائیڈ لائن کے مطابق قیدیوں کی مندرجہ ذیل اقسام اور زمرے بنائے گئے ہیں جو رہائی پا سکیں گے۔

۱) ۵۰ سال سے زائد عمر کی ایسی خواتین قیدی جنہوں نے سزا کا ۵۰ فیصد حصہ مکمل کر لیا ہو۔
۲) ۵۰ سال یا اس سے زائد عمر کے مخنث قیدی جنہوں نے اپنی کل سزا کا۵۰ فیصد حصہ مکمل کر لیا ہو۔
۳) ۶۰ سال یا اس سے زائد عمر کے مرد قیدی جنہوں نے اپنی کل سزا کا۵۰ فیصد حصہ مکمل کر لیا ہو۔
۴) ایسے قیدی جو ستر فیصد یا اس سے زائد معذور ہوں اور انہوں نے اپنی کل سزا کا ۵۰ فی صد حصہ مکمل کر لیا
ہو.
۵) مستقل طور پر امراض مرگ میں مبتلا قیدی۔
۶) ایسے مجرمین جنھوں نے اپنی کل سزا کا ۶۶ فی صد حصہ مکمل کرلیا ہو۔
۷) ایسے مجرمین جنھوں نے اپنی کل سزا مکمل کرلی ہو لیکن غربت کی وجہ سے عائد کردہ جرمانہ ادا نا کرسکتے ہوں۔
۸) ایسے مجرمین جنھوں نے ۱۸ سے ۲۱ سال کی عمر کے درمیان جرم کا ارتکاب کیا ہو اور وہ اپنی کل سزا کا ۵۰ فی
صد حصہ مکمل کر چکے ہوں اور وہ کسی دوسرے جرم میں ملوث نا ہوں۔

واضح ہو کہ مذکورہ رہائی اسکیم کا اطلاق ایسے قیدی جنھیں سزائے موت دی گئی ہو یا جن کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہو، ان پر نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد ، ٹاڈا، یو اے پی اے، نیشنل سیکورٹی ایکٹ، سیکریٹ ایکٹ اور اینٹی ہائی جیکنگ ایکٹ وٖغیرہ قوانین کے تحٹ سزا یافتہ مجرمین بھی اس رہائی اسکیم سے محروم رکھے جائیں گے۔

اس سلسلے میں تمام ریاستوں کے ہوم سکریٹری ،لاء سکریٹری ، ڈائریکٹر یا انسپکٹر جنرل آف پریزن پر مشتمل ایک ریاستی سطح کی اسکریننگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی ہے جو مذکورہ بالا گائیڈلائن کی روشنی میں معاملات کی جانچ کرے گی اور احکامات جاری کرے گی۔

ملک بھر کی جیلوں میں مسلمانوں کی خاطر خواہ تعداد کو دیکھتے ہوئے رہائی اسکیم عوام کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب جورہائی کے جواز میں آتے ہیں ان کی رہائی کے اقدامات کئے جائیں۔ اس رہائی اسکیم میں جانچ اور فیصلہ اگرچہ ریاستی کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے لیکن حکومت کے بھروسے نا رہتے ہوئے بذات خود مذکورہ کمیٹی سے رابطہ کرتے ہوئے قیدیوں کی رہائی کے لئے کوششیں کرنا چاہئے۔

24/04/2022

24.04.2022

*مساجد سے لاوڈاسپیکر کا استعمال، سپریم کورٹ کا ۲۰۰۵ فیصلہ اور قانونی معلومات*

* تحریر: ایڈوکیٹ مومن مصدق مجیب*
*ممبئی ہائی کورٹ*
8080876069

لاوڈاسپیکر کا استعمال کچھ سیاسی شعبدہ بازی کی وجہ سے اس وقت ریاست مہاراشٹر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مساجد سے اذان کے لئے استعمال ہونے والے لاوڈاسپیکر کو نکالنے کے لئے وارننگ دی گئی ورنہ قانون کی پرواہ نا کرنے کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے۔

عام فہم بات ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی بات سے دقت یا تکلیف ہو یا کسی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، تو وہ شخص موجودہ قانونی نظام کے تحت شکایت درج کرسکتا ہے اور متعلقہ اتھارٹی سے خلاف ورزی کا سددباب کرسکتا ہے۔ اگر متعلقہ اتھارٹی شکایت پر کام نا کرے تو اس کے لئے عدالتی نظام موجود ہے۔ پورے ملک میں بشمول مہاراشٹر میں، ۱۹۸۶ سے ماحولیاتی حفاظت کا قانون موجود ہے۔ ۲۰۰۰ سے صوتی آلودگی قواعد موجود ہیں جس کے تحت مختلف زون میں صوتی آلودگی کی قدر وپیمانے نیز شکایت کا نظام، اجازت کا نظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ کسی کو بلا وجہ تکلیف دینے سے متعلق تعزیرات ہند کی دفعات موجود ہیں۔ لیکن پہلے سے موجود قانونی نظام سے رجوع نا کرتے ہوئے عوامی جلسوں میں ایک مخصوص آواز کو نشانہ بناتے ہوئے سیاسی ماحول گرمانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مساجد سے لاوڈاسپیکر ہٹانے کے بیانات میں سپریم کورٹ کے ذریعے ۲۰۰۵ میں سنائے گئے فیصلے کا حوالہ زوروشور سے دیا جارہا ہے۔ اس سے عوام میں ایک غلط فہمی پیدا ہورہی ہے کہ سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ صرف اذان یا مساجد کے لاوڈاسپیکر کے متعلق تھا۔ جبکہ یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔

۲۰۰۵ میں سپریم کورٹ نے ایک رٹ پٹیشن اور ایک سول اپیل پر ایک ساتھ فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے کو صوتی آلودگی کے شعبے میں سنگ میل فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ انل متل نامی ایک انجینئر نے مفاد عامہ رٹ پٹیشن داخل کی تھی اور صوتی آلودگی قوانین پر سختی سے عمل کی درخواست کی تھی۔ پٹیشن داخل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک ۱۳ سالہ لڑکی کی عصمت دری کی گئ تھی اور اطراف میں لاوڈاسپیکر پر گانے اور میوزک کے شور میں اس لڑکی کی چیخ و پکار کسی نے نہیں سنی۔ دوسری اپیل اس موضوع پر کی گئ تھی کہ حکومت نے قواعد میں ترمیم کی تھی اور اس ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں بہت سارے افراد اور تنظیمیں مداخلت کار کے طور پر شامل ہوئے اور بہت ساری صوتی آلودگیوں بالخصوص پٹاخوں کی نشان دہی کی گئی۔ ایک مداخلت کار نے عدالت سے درخواست کی کہ مندر، مسجد، چرچ اور تمام مذہبی مقامات پر لاوڈاسپیکر کے استعمال کو قابو میں کیا جائے۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مذکورہ فیصلہ کسی مخصوص مذہب یا مذہبی مقامات کے بارے میں نہیں تھا بلکہ تمام تر صوتی آلودگیوں کے بارے میں تھا جس میں کسی بھی مذہبی مقام سے لاوڈاسپیکر کے ذریعے ہونے والی صوتی آلودگی بھی شامل ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سب سے سخت جائزہ اورمشاہدہ پٹاخوں سے ہونے والی صوتی و ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں کیا اور اس کے سددباب کے لئے مختلف ہدایات جاری کیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے صوتی آلودگی کے اہم ذرائع کا تعین کیا جس میں
روڈ ٹریفک، ہوائی جہاز، ریل، تعمیراتی کاموں سے، بلڈنگوں سے ہونے والی آلودگی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس فیصلے میں عدالت نے مختلف صوتی آلودگی بالخصوص پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی کے صحت پر ہونے والے مضر اثرات، آلودگی قوانین پر سختی سے عمل نا ہونے کی وجوہات، مختلف ترقی یافتہ ممالک میں صوتی آلودگی قوانین وغیرہ پر بحث کی ہے۔ پورے فیصلے میں مذہبی مقامات کی صوتی آلودگی کا سپریم کورٹ نے کوئی خصوصی تذکرہ نہیں کیا بلکہ اسے عمومی طور پر لاوڈاسپیکر سے ہونے والی صوتی آلودگی میں شامل سمجھا ہے۔ فیصلے کے اخیر میں لاوڈاسپیکر کے استعمال سے متعلق سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقام جہاں لاوڈاسپیکر کا استعمال ہورہا ہو، تو اس عوامی مقام کی حد پر آواز کی سطح ، اس علاقے کی آواز کی سطح سے ۱۰ ڈیسی بل یا ۷۵ ڈیسی بل (ان دو میں سے جو کم ہو) اس سے ذیادہ نہیں ہونا چاہیئے۔ اس کے علاوہ عدالت نے ہدایت جاری کی کہ صوتی آلودگی قواعد ۲۰۰۰ کی سختی سے پابندی کی جانی چاہیئے۔

سپریم کورٹ کے ۲۰۰۵ کے فیصلے کا محور یہ تھا کہ آرٹیکل۲۱ دستور میں صرف برائے نام نہیں ہے بلکہ حق زندگی دستور کا سب سے اہم حصہ ہے۔ زندگی جینے کا حق اپنے اندر بہت سارے دیگر حقوق کو شامل کرتا ہے جیسے باوقار طریقے سے رہنا، بنا کسی مداخلت کے اپنی مرضی سے زندگی گزارنا، کسی بے جا تکلیف سے محفوظ زندگی گزارنا وغیرہ وغیرہ۔ اس حق میں یہ بھی شامل ہے کہ جو آواز آپ نہ سننا چاہیں وہ زبردستی آپ تک نہ پہنچے۔ لیکن اس حق کے تحت کوئی شخص شوروغل کرنے کا حق طلب نہیں کر سکتا۔ آرٹیکل ۲۱ کے بالمقابل کوئی شخص اظہار رائے اور مذہبی آزادی کے حقوق میں پناہ نہیں لے سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو بولنے کی آزادی ہے تو یکساں طور پر کسی کو سننے اور سماعت سے انکار کرنے کی بھی آزادی ہے۔

صوتی آلودگی قواعد (۲۰۰۰) کی رو سے ریاستی حکومت کو مختلف زون طے کرنے کے اختیارات دئے گئے۔ ہسپتالوں اور دواخانوں کے ۱۰۰ میٹر کے احاطے کو سائلنٹ زون قرار دیا گیا۔ ان قواعد کے مطابق بناء سرکاری اجازت لاوڈاسپیکر کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا اور رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک لاوڈاسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔ خلاف ورزی پر سزا کا بھی اطلاق بتایا گیا ہے۔ یہ قانون اور قواعد شروع سے موجود ہیں اور یہ بلا تفریق مذہب ہر شخص اور ہر مذہب پر نافذالعمل ہیں۔ قواعد ۲۰۰۰ میں سب سے اہم ہر زون کی آواز کی پیمائشی قدر دی گئی ہیں مثلا سائلنس زون ، رہائشی، تجاری ، صنعتی زون میں کتنی آواز جائز ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ۲۷ اکتوبر ۲۰۱۵ کو مسجد میں لاوڈاسپیکر کے استعمال کے خلاف ایک رٹ پٹیشن خارج کی تھی۔ اس مقدمے میں مسجد کے سامنے رہائش پذیر ایک شخص نے دستور کے آرٹیکل ۲۱ کی بنیاد پر لاوڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اس کے بنیادی حقوق میں مداخلت ہے۔ ریاستی حکومت اور پولیس نے عدالت کو بتایا کی مذکورہ شخص کی شکایت پر پولیس اور انتظامیہ نے جانچ کی اور اس سلسلے میں موجود قوانین پر عمل یقینی بنایا تھا اس لئے عدالت پٹیشن خارج کردے۔ مسجد کے ذمہ داران نے بھی عدالت کو لاوڈاسپیکر استعمال کرنے کا اجازت نامہ دکھایا اور بتایا کہ کسی قاعدے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ عدالت نے ماضی کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی مقامات پر قانون کی پاسداری کے ساتھ لاوڈاسپیکر کا استعمال جائز ہے۔ مزید عدالت نے کہا کہ لاوڈاسپیکر میں اذان سے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں پائی گئی ہے۔ اس لئے شکایت کنندہ کی شکایت پر پولیس اور انتظامیہ مزید کوئی کاروائی نا کرے۔

مندرجہ بالا معلومات کی روشنی میں مساجد و مدارس جہاں لاوڈاسپیکر کا استعمال ہوتا ہے وہ سب سے پہلے اپنے زون کی معلومات لیں کہ مسجد کس زون میں موجود ہے۔ دوم اپنے لاوڈاسپیکر کی آواز کی پیمائش کروائیں اور اسے معلقہ زون کی پیمائش کے مطابق کریں اور مسجد کے اطراف کی آواز کی بھی پیمائش کریں۔ یہ پیمائش کسی کوالئفائڈ شخص یا ادارے سے ہو تو بہتر ہے۔ ان پیمائشی قدروں کے اندراج کے ساتھ متعلقہ اتھارٹی سے لاوؐڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت کی درخواست دیں۔ کیونکہ متعلقہ اتھارٹی کو درخواست پر تحریری اجازت دینا ضروری ہے یا تحریری انکار کرنا لازمی ہے۔ پیمائشی قدروں کے ساتھ اول تو انکار کی گنجائش نہیں رہے گی اور اگر انکار ہوتا ہے تو پیمائشی قدروں کے اندراج کے ساتھ درخواست مستقبل کی تمام قانونی کاروائیوں میں نہایت کارگر ثابت ہوگا۔

Address

Malegaon

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Momin Musaddique Ahmed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Momin Musaddique Ahmed:

Share

Category