Peerzada Aashiq Hussain

Peerzada Aashiq Hussain Shaybani & Dwarkin School of Law

31/10/2023

دیر آید درست آید!
موجودہ صورتحال پر آخرکار شیخ کمال الدین صاحب کا مؤقف آہی گیا۔

شیخ صاحب نے ان گھٹیا، بے ضمیر، بے شرم اور خبیث ذہنیت رکھنے والے امت کے نام نہاد بہی خواہ اور سو کالڈ موحدین کو خوب ڈانٹ پلا کر آئینہ دکھایا ہے جو ایران ایران کی رٹ لگا کر امت کو حما۔۔۔س سے متنفر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شیخ صاحب نے بنیادی شرعی اور مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے ایران کی سپورٹ کی بنیاد پر جو لوگ حما//س کو نشانہ بناتے ہیں انہیں یہ بات سمجھ لینے چاہیے کہ یہ نری جہالت اور منافقت ہے۔ کیونکہ بنیادی مسئلہ یہاں پر آکوپیشن کا ہے جس کے خلاف مزاحمت فلس- طینیوں کا بنیادی حق ہے۔ اس کیلئے انہیں کہیں سے بھی اور کسی سے بھی سپورٹ ملے انہیں لینی چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے۔کیونکہ موجودہ پاور کوریڈورز میں تمام طاقتیں یہی کچھ کر رہی ہیں۔ لہذا کسی بھی سپورٹنگ ایکٹر کی وجہ سے مسئلہ کی بنیادی نوعیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ نہ اس سے غاصب کا سٹیٹس تبدیل ہوگا اور نہ مغلوب و مظلوم کا!

انہوں نے سوالیہ انداز میں فرمایا کہ کل اگر امریکہ کی سپورٹ سوویت یونین کے اتحاد کو افغان میں توڑنے کیلئے جائز تھی اور تمام علماء اور دانشور اس پر متفق تھے اور ہیں اور آج ایران کی حمایت یافتہ ح/م/اس کیسے غلط ہوگئی؟!؟ ظاہر ہے بڑی طاقتوں کی حمایت ہمیشہ مفاد پر مبنی ہوتی ہے لیکن اس سے مسئلے کی بنیادی حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی!!
انہوں نے سعودی ریال خوروں کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ انہیں شرم آنی چاہیے کہ ایک تو دور سے تماشائی بنے بیٹھو دوسرا ح-م-ا-س و ایران کے خلاف نریٹیو بلڈنگ کرو!!

ایک اور پہلو کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہی حمایت سعودی حکومت کرتی تو کیا پھر سب کچھ جائز تھا؟! یعنی کیا یہ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حق ہمیشہ سعودی حکومت کی طرف ہے؟!

آخری بات ذہن نشین کر لیجئے کہ اردوغان سمیت جتنے بھی اہم مسلم رہنما ہیں، مذکورہ بالا مسئلے کو لیکر اگر یہ لوگ سٹیٹس کو جوں کا توں رکھنے پر ہی راضی ہوگئے اور زبانی جمع خرچ سے بڑھ کر مظلوموں کی حمایت کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا تو ان سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جائے گا!!

18/10/2023

کل برادر غازی سہیل صاحب کے انٹرویو میں ڈاکٹر طلعت ماجد صاحب فرما رہے تھے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب صرف مولانا مودودی کی سیاسی فکر سے اختلاف رکھتے ہیں نہ کہ ان کی دینی فکر سے۔
یہ بات بالکل غلط ہے اور حقیقت سے کوسوں دور!
خان صاحب کا بنیادی تھیسز ہی اس پر کھڑا ہے کہ مولانا مودودی کی دینی و سیاسی فکر غلط ہے۔ اور انہوں نے اس کے پرلل ایک متبادل فکر اور سوچ کی بنیاد رکھی ہے جس کی عکاس ان کی کتاب " تعبیر کی غلطی" ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر طلعت ماجد صاحب بر صغیر کے بہت سارے اہل علم کی طرح ایک بڑے فکری کنفیوژن کے شکار ہیں!

18/10/2023

یا اللہ
یا رب
😭

16/10/2023

تاریخی طور پر امریکہ بہادر کو اہم جیو اسٹریٹجک پوزیشنز پر ایک ایسے ساتھی/اتحادی کی ضرورت رہی ہے جو ایک تو اسی جیسا مائنڈ سیٹ رکھنے والا شاطر ہو، دوسرا اس کے ہر ہر حکم پر من و عن عمل پیرا ہو۔ مڈل ایسٹ کے اوپر یہ والا فارمولہ ایپلے کریں گے تو آپ کو فہرست میں سب سے ٹاپ پر ا-س-ر-ا-ء-ی-ل نظر آئے گا۔ یہ دونوں ہمیشہ سے ایک دوسرے کے تکڑے اتحادی رہے ہیں کیونکہ اپنے جملہ معاملات میں یہ ایک طرح کا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے یہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ان کے لئے بین الاقوامی سطح کے مسلمہ انسانی، آفاقی اصول، حقوق اور قوانین کوئی معنی نہیں رکھتے۔ باراک اوباما کا انٹرویو ۔۔۔جو کہ آج کل وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ "امریکہ ا-س-ر-ا-ء-ی-ل ہے اور ا-س-ر-ا-ء-ی-ل ہی امرکہ ہے" اسی مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

13/10/2023

پچھلے چند روز سے گلوبل سطح پر جو حالات بنے ہیں ان سے بخوبی یہ سبق ملتا ہے کہ اصل مسائل اور ایشوز سے کسی بھی صورت نظریں چرانا فریقین میں سے کسی کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ وقتی ایڈجسٹمنٹس اور پیوندکاریاں کار لاحاصل اور دائروں کا سفر ہوتا ہے۔

فاعتبروا یا اولی الابصار!

11/10/2023

تمام تر تجزیے ایک طرف کرکے امریکہ بہادر ایک دفعہ پھر یہ بات ا س ر ا ء ی ل کو باور کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ آپ کی قومی سلامتی ناقابل تسخیر نہیں ہے بلکہ ہمارے ہی دم سے ہے۔

میں حیران ہوں ہمارے بر صغیر کے اہل علم نے ابھی تک شیخ مختار شنقیطی صاحب کی اس کتاب کو ابھی تک اتنا ہلکا کیوں لیا ہوا ہے ...
03/10/2023

میں حیران ہوں ہمارے بر صغیر کے اہل علم نے ابھی تک شیخ مختار شنقیطی صاحب کی اس کتاب کو ابھی تک اتنا ہلکا کیوں لیا ہوا ہے اور کیوں اس پر ڈبیٹس اور ڈسکشنز کا آغاز نہ ہوسکا!
بدقسمتی سے ہمارا ایک بہت بڑا طبقہ کتاب کے سائز اور ضخامت سے ہی متاثر ہوتا ہے پھر بھلے ہی اندر مواد ہو نہ ہو! شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نظر التفات اس کتاب کی جانب نہ ہوئی ورنہ یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت انوکھی اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

03/10/2023

امام مسلم رحمہ اللّٰہ اپنی صحیح کے مقدمہ میں رواۃ(جمع راوی) پر بے لاگ نقد و جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
" اس جرح و نقد کا تعلق حرام کردہ غیبت سے نہیں بلکہ یہ معزز و مکرم شریعت کے دفاع کا حصہ ہے"

01/10/2023

نظام القرآن پر آج کے ویبینار کا سب سے پاور فل جملہ:
"کچھ لوگ نظام القرآن کے تو قائل ہیں لیکن نظام الاسلام کے قائل نہیں ہیں! جبکہ نظام الاسلام، نظم قرآن کا بنیادی تقاضا ہے"

محمد ، پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوزمطالعے کا شوق بچپن ہی سے تھا ، اب جنون ...
29/09/2023

محمد ، پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوز

مطالعے کا شوق بچپن ہی سے تھا ، اب جنون بن چکا ، جیب میں چند پیسے آ جائیں تو آج بھی پہلا پڑائو کسی بک شاپ پر ہوتا ہے۔ گھر میں کتابیں ہی کتابیں بکھری پڑی ہیں۔پہلے صرف میں تھا اب علی ، عائشہ اور عروہ بھی ہیں چنانچہ اب بچوں کے ادب کابھی انبار لگا ہے۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں آج تک جتنی بھی کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں ان میں سب سے اچھی کتاب کون سی ہے تو میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر جواب دوں گا: کانسٹنٹ ورجل جورجیو کی محمد ، پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔

اس کتاب کا مطالعہ آدمی کو ششدر کر دیتا ہے۔ رحمت دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ پر کتنی ہی کتابیں لکھی جا چکیں لیکن کانسٹنٹ ورجل جورجیو کی کتاب میں ایک غضب کی انفرادیت ہے۔

حیات طیبہ کے مختلف گوشوں سے بطور مسلمان آگہی کے باوجود اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بہت سے ایسے مقام آتے ہیں کہ آدمی حیرت سے تھم جاتا ہے کہ اوہ ،اچھا تو یہ واقعہ یوں ہوا تھا۔خود میرے ساتھ یہ ہوا کہ میں درجنوں مقامات پر اسی کیفیت سے دوچار ہوا۔بہت سے واقعات پڑھ تو رکھے تھے لیکن ان کی معنویت تب آشکار ہوئی جب اس کتاب کو پڑھا۔ میں سمجھتا ہوں جس نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا وہ محروم رہا۔

جسے سیرت طیبہ کو اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنے کا شوق ہو وہ اس کتاب کو کھول لے،حیرتوں کا ایک جہان اس کے سامنے ہو گا ۔

میں اگر اس کتاب کی انفرادیت بیان کرنا شروع کر دوں تو اسے کالم کی تنگنائے میں سمیٹنا ممکن نہ رہے۔

آج سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ کی ولادت کا دن ہے آج کانسٹنٹ ورجل جورجیو کی کتاب کے صرف وہ اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں ماں کے مقدس رشتے کی بات کی گئی ہے۔

’’ لوگ بی بی آمنہ ( رضی اللہ عنہا) کے گرد جمع تھے ۔ بی بی آمنہ کسی وقت زیر لب خود کلامی کرتیں۔ کم سن محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ سب منظر دیکھا اور محسوس کیا کہ ان کی والدہ کوئی جواب نہیں دے رہیں تو ماں کے سینے سے لپٹ گئے اور روتے ہوئے کہا : ماں! ماں! آپ جواب کیوں نہیں دیتیں ؟ مگر ان کی روح پرواز کر چکی تھی‘‘۔

"قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔ رشتہ دار احباب لوٹے تو دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ نہیں ہیں۔فوری واپس گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے قدرے بلند آواز میں اپنی والدہ کو پکار کر کہہ رہے ہیں : آپ گھر کیوں نہیں چلتیں۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ میرا آپ کے سوا کوئی نہیں۔"

"محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماں اور باپ دونوں کھو چکے تھے۔آپ ایک گوشے میں بیٹھے رہا کرتے۔یہاں تک کہ بچے انہیں کھیلنے کی دعوت دیتے تو وہ کہتے: مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں تم سے کھیلنے کی ہمت نہیں پاتا۔ماں کی جدائی سے اس قدر غمزدہ تھے کہ کھانا پینا ترک دیا تھا۔ ‘‘

’’ یہ ایک فطری انداز تربیت تھاکہ وہ بچہ جس کی نہ ماں ہو ، نہ باپ، آٹھ سال کی عمر میں جو مجبور ہو جائے کہ خود کما کر روٹی کھائے اور یہ جانتا ہو کہ کسی پر تکیہ نہیں کرنا اور جو بھی مشکلات ہیں ان کا خود ہی سامنا کرنا ہے ۔بہت زیادہ مشکلات ، تنہائی اور احساس ذمہ داری نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل از وقت متحمل مزاج اور متین بنا دیا۔ وہ جب بھی گرم ریگزاروں میں اونٹوں کا ریوڑ لے کر جاتے، غوروفکر میں کھو جاتے۔صحرا بہر حال غوروفکر اور خود میں کھو جانے کا بہترین مقام ہیـ‘‘۔

’’ قبیلہ غفار کا مسکن مدینہ اور ینبع کے درمیان تھا ۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں ’ ابوا‘ نامی ایک مقام پر توقف فرمایا۔اس لیے کہ والدہ محترمہ کی قبر وہاں تھی۔پیغمبر اسلام جب والدہ کی قبر کے نزدیک پہنچے تو اونٹ سے اتر آئے۔مسلمان جنہیں علم تھا کہ آپ کی والدہ یہاں مدفون ہیںکچھ دور ہی ٹھہر گئے۔فقط عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہ وہ بھی رضاکاروں میں شامل تھے آپ کے ساتھ قبر تک گئے۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے مقابل دوزانو ہوئے ، قبر پر سر رکھا اور رو پڑے۔اس تاریخ تک والدہ محترمہ کو فوت ہوئے قریبا پچاس سال ہو چکے تھے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مانند یک طفل کہ جس کی والدہ ابھی ابھی دفن کی گئی ہو رو رہے تھیـ‘‘۔

"محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والدہ نے جو تکالیف آپ کی پرورش کے سلسلے میں اٹھائی تھیں آپ ان کو یاد کرنے لگے۔جب محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے تو والد وفات پا چکے تھے اور والدہ محترمہ کا نہ اب شوہر تھا اور نہ کوئی روٹی کما کر دینے والا۔ انہوں نے ۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یتیمی میں پرورش کی حتی کہ وہ وفات پا گئیں۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر بیٹھے ان سختیوں کی یاد میں کھو گئے جو انہوں نے بچپن میں جھیلی تھیں۔انہیں یاد آیا کہ جب تک والدہ زندہ تھیں ہر قسم کی سختی کو جھیلنا آسان تھا۔جب آپ بچے تھے تو آپ کی والدہ گھر آنے پر ہاتھ پائوں دھوتیں۔اور جو بھی کھانا میسر ہوتا بٹھا کر کھلاتیں اور بڑے پیار سے غذا کھانے کی تلقین کرتیں۔لیکن والدہ کی وفات کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنہا رہ گئے تھے اور جب صحرا سے ننگے پائوں واپس آتے کوئی نہ تھا جو ہاتھ پائوں دھلاتااور دست شفقت آپ کے سر پر رکھتا۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر والدہ کی قبر پر روئے کہ عمر بن خطاب جو بڑے سخت مزاج تھے انہوں نے عرض کی : اب بس کیجیے ورنہ نزدیک ہے میں بھی رو دوں‘‘۔

برسوں پہلے یہ کتاب مجھے جناب ڈاکٹر عاصم اللہ بخش نے عنایت کی تھی، اس کا دیباچہ بھی ڈاکٹر صاحب ہی نے لکھا ہے ۔ان برسوں میں ، کتنی ہی بار میں نے اس کتاب کو پڑھا ۔یوں سمجھیے یہ کتاب مجھ پر بیت گئی۔کچھ مقام تو ایسے بھی آئے میں نے محسوس کیا میں صدیوں پیچھے کسی صحرا میں کسی ٹیلے پر کھڑا ہوں اور یہ سب میرے سامنے ہو رہا ہے۔مشاہدے کے ساتھ ساتھ کانسٹنٹ ورجل جورجیو گویا مجھے سیاق و سباق سے بھی آگاہ کر رہا ہے۔آدمی کو اور کیا چاہیے؟

28/09/2023

عید میلاد النبی اور مولانا مودودی علیہ الرحمہ کا موقف

تحریر: ابوالاعلی سید سبحانی

مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کو اللہ رب العزت نے بے پناہ حکمت وبصیرت سے نوازا تھا۔ مولانا کی تحریروں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر پہلے آپ قرآن وسنت کی تعلیمات کا گہرا تجزیہ کرتے ہیں، دین کے داعیانہ کردار اور شریعت کے مصلحانہ مزاج کو پیش نظر رکھتے ہیں، اور پھر کسی بھی مسئلہ پر اپنی رائے دینے سے پہلے مالہ وماعلیہ کا خوب اچھی طرح سے تجزیہ کرلیتے ہیں، چنانچہ آپ کی فکر میں مضبوطی بھی نظر آتی ہے اور کلیئرٹی بھی، داعیانہ کردار بھی اور حکمت وبصیرت بھی۔

مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے 1942 میں میلاد النبی کے حوالہ سے دو خطاب کیے تھے، پہلا خطاب آل انڈیا ریڈیو لاہور سے کیا تھا اور دوسرا خطاب دارالاسلام پٹھان کوٹ میں خطبہ جمعہ کے طور پر پیش کیا تھا۔ یہ دونوں خطاب بعد میں مضامین کی شکل میں ماہنامہ ترجمان القرآن اپریل 1942اور اپریل 1943 میں شائع ہوئے، یہ مضامین اپنے موضوع پر بہت ہی زبردست اور واضح رہنمائی پیش کرتے ہیں۔

مولانا مودودی علیہ الرحمہ عید میلاد النبی کو نہ تو بدعت قرار دیتے تھے اور نہ ہی اسے کوئی معیوب سرگرمی سمجھتے تھے، مولانا مودودی اس کو ایک جائز دینی سرگرمی اور ایک تاریخی دن مانتے تھے، چنانچہ بارہ ربیع الاول کے دن کو غیرمعمولی طور پر اہم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
“آج اس عظیم الشان انسان کا جنم دن ہے، جو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آیا تھا اور وہ اصول اپنے ساتھ لایا تھا، جن کی پیروی میں ہر فرد انسانی، ہر قوم وملک اور تمام نوع انسان کے لیے یکساں فلاح اور سلامتی ہے۔ یہ دن اگرچہ ہر سال آتا ہے، مگر اب کی سال یہ ایسے نازک موقع پر آیا ہے، جب کہ زمین کے باشندے ہمیشہ سے بڑھ کر اس دانائے کامل کی رہنمائی کے محتاج ہیں”۔ (ترجمان القرآن، اپریل 1942)

دوسرے مضمون میں اس بات کو اور واضح لفظوں میں لکھتے ہیں:
"آج کا دن دنیا کے لیے ایک بڑی برکت کا دن ہے، کیوں کہ یہی تاریخ تھی جس میں ساری دنیا کے رہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ اگر چہ شریعت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےیوم پیدایش کو عید قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ اس کے لیے کسی قسم کے مراسم مقرر کیے گئے ہیں، لیکن اگر مسلمان یہ سمجھ کر کہ یہ خدا کے سب سے بڑے نبی اور دنیا کے سب سے بڑے ہادی کی پیدایش کا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں انسان کے لیے خدا کی سب سے بڑی نعمت ظہور میں آئی۔ اس کو عید کی طرح سمجھیں تو کچھ بے جانہیں ہے۔” (ترجمان القرآن، اپریل1943)

مولانا مودودی کو اس بات پر بالکل بھی اعتراض نہیں تھا کہ بارہ ربیع الاول کے دن کو یادگار قرار دیا جائے یا اس دن کو عید میلاد النبی کے طور پر منایا جائے، مولانا مودودی کا کہنا صرف یہ تھا کہ اس موقع پر ہمارے جشن منانے کا انداز ہمارے دین اور ایمان کے شایانِ شان ہونا چاہیے، مولانا اس موقع پر فضول ایکٹوٹیز اور غیر سنجیدہ ہنگامہ آرائی کو غلط قرار دیتے تھے۔چنانچہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
“البتہ اس عید کے منانے کی یہ صورت نہیں کہ خوب کھاؤ پیو، چراغاں کرو، جلوس اور جھنڈے نکالو اور محض اپنی دل لگی کے لیے فضول نمایشی کام کرنے لگو۔ ایسا کرو گے تو تم میں اور جاہل قوموں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ جاہل قومیں بھی اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد میلوں ٹھیلوں اور جلوسوں سے مناتی ہیں۔ اگر تم نے بھی ان کے میلوں اور تیوہاروں کی نقل اتاری تو جیسے وہ ہیں ویسے ہی تم بھی بن کررہ جاؤ گے۔ اسلام نے تو یادگار منانے کے لیے نیا ہی ڈھنگ نکالا ہے۔ سب سے بڑی یاد گار حضرت ابراہیم کی قربانی ہے۔ جسے منانے کے لیے اللہ تعالی نے عیدالاضحی کی نماز اور قربانی اور حج وطواف کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ اس پر تم غور کرو تو اندازہ کر سکتے ہو کہ مسلمان کو اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد کس طرح منانی چاہیے۔” (ایضاً)

مزید لکھتے ہیں:
“تم کو سوچنا چاہیے کہ بارہ ربیع الاول کی تاریخ کس لحاظ سے تمہارے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ عرب کے ایک شخص کے گھر میں آج ایک بچہ پیدا ہوا تھا، بلکہ اس لحاظ سے کہ آج اس پیغمبر اعظم کو خدا نے زمین پر بھیجا جس کے ذریعے سے انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی، جس کی بدولت انسان نے حقیقت میں انسان بننا سیکھا، جس کی ذات تمام جہان کے لیے خدا کی رحمت تھی اور جس نے روئے زمین پر ایمان اور عمل صالح کا نور پھیلایا۔ پس جب اس تاریخ کی اہمیت اس لحاظ سے ہے تو اس کی یاد گار بھی اس طرح منانی چاہیے کہ آج کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور دنوں سے زیادہ پھیلاؤ۔ آپ کے اخلاق اور آپ کی ہدایات سے سبق حاصل کرو اور کم از کم آپ کی تعلیم کا اتنا چرچا تو کرو کہ سال بھر تک اس کا اثر باقی رہے۔ اس طرح یادگار مناؤ گے تو حقیقت میں یہ ثابت ہوگا کہ تم یوم میلادالنبی کو سچے دل سے عید سمجھتے ہو اور اگر صرف کھاپی کر اور دل لگیاں ہی کر کے رہ گئے تو یہ مسلمانوں کی سی عید نہ ہوگی، بلکہ جاہلوں کی سی عید ہوگی، جس کی کوئی وقعت نہیں۔” (ایضاً)

مولانا مودودی علیہ الرحمہ عید میلاد النبی کو ملت کے لیے احتساب اور جائزہ کے ایک اہم موقع کے طور پر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“بھائیو! عید میلاد النبی آپ مناتے ہیں، بڑی خوشی کی بات ہے، مگر صرف اتنا عرض کروں گا کہ اپنے سردار کے دربار میں حاضر ہوتے وقت ذرا یہ بھی سوچ لیا کیجیے کہ کیا منھ لے کر ہم اس روح پاک کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک خادم سے قصور ہوجائے تو وہ اپنے صاحب کے سامنے جاتا ہوا ڈرتا ہے اور منھ چھپاتا پھرتا ہے۔ پھر کیا منھ لے کر ان کے سامنے جائیں جن کے ایک دو نہیں، خدا جانے کتنے فرمانوں کی روز ہم خلاف ورزی کرتے ہیں”۔(ایضاً)

اللہ کی رحمت ہو سیدی مودودی پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی علیہ الرحمہ کے یہ دونوں مضامین اپنے موضوع پر بہت ہی معتدل اور متوازن رہنمائی پیش کرتے ہیں۔

یہ دونوں مضامین “میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم” کے نام سے کتابچہ کی شکل میں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہورہے ہیں، موضوع سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس کتابچہ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

28/09/2023

عید میلاد النبی اور مولانا مودودی علیہ الرحمہ کا موقف

تحریر: Abul Aala Subhani

مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کو اللہ رب العزت نے بے پناہ حکمت وبصیرت سے نوازا تھا۔ مولانا کی تحریروں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر پہلے آپ قرآن وسنت کی تعلیمات کا گہرا تجزیہ کرتے ہیں، دین کے داعیانہ کردار اور شریعت کے مصلحانہ مزاج کو پیش نظر رکھتے ہیں، اور پھر کسی بھی مسئلہ پر اپنی رائے دینے سے پہلے مالہ وماعلیہ کا خوب اچھی طرح سے تجزیہ کرلیتے ہیں، چنانچہ آپ کی فکر میں مضبوطی بھی نظر آتی ہے اور کلیئرٹی بھی، داعیانہ کردار بھی اور حکمت وبصیرت بھی۔

مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے 1942 میں میلاد النبی کے حوالہ سے دو خطاب کیے تھے، پہلا خطاب آل انڈیا ریڈیو لاہور سے کیا تھا اور دوسرا خطاب دارالاسلام پٹھان کوٹ میں خطبہ جمعہ کے طور پر پیش کیا تھا۔ یہ دونوں خطاب بعد میں مضامین کی شکل میں ماہنامہ ترجمان القرآن اپریل اور مئی 1942 میں شائع ہوئے، یہ مضامین اپنے موضوع پر بہت ہی زبردست اور واضح رہنمائی پیش کرتے ہیں۔

مولانا مودودی علیہ الرحمہ عید میلاد النبی کو نہ تو بدعت قرار دیتے تھے اور نہ ہی اسے کوئی معیوب سرگرمی سمجھتے تھے، مولانا مودودی اس کو ایک جائز دینی سرگرمی اور ایک تاریخی دن مانتے تھے، چنانچہ بارہ ربیع الاول کے دن کو غیرمعمولی طور پر اہم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
“آج اس عظیم الشان انسان کا جنم دن ہے، جو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آیا تھا اور وہ اصول اپنے ساتھ لایا تھا، جن کی پیروی میں ہر فرد انسانی، ہر قوم وملک اور تمام نوع انسان کے لیے یکساں فلاح اور سلامتی ہے۔ یہ دن اگرچہ ہر سال آتا ہے، مگر اب کی سال یہ ایسے نازک موقع پر آیا ہے، جب کہ زمین کے باشندے ہمیشہ سے بڑھ کر اس دانائے کامل کی رہنمائی کے محتاج ہیں”۔ (ترجمان القرآن، اپریل 1942)

دوسرے مضمون میں اس بات کو اور واضح لفظوں میں لکھتے ہیں:
"آج کا دن دنیا کے لیے ایک بڑی برکت کا دن ہے، کیوں کہ یہی تاریخ تھی جس میں ساری دنیا کے رہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ اگر چہ شریعت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےیوم پیدایش کو عید قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ اس کے لیے کسی قسم کے مراسم مقرر کیے گئے ہیں، لیکن اگر مسلمان یہ سمجھ کر کہ یہ خدا کے سب سے بڑے نبی اور دنیا کے سب سے بڑے ہادی کی پیدایش کا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں انسان کے لیے خدا کی سب سے بڑی نعمت ظہور میں آئی۔ اس کو عید کی طرح سمجھیں تو کچھ بے جانہیں ہے۔” (ترجمان القرآن، مئی1942)

مولانا مودودی کو اس بات پر بالکل بھی اعتراض نہیں تھا کہ بارہ ربیع الاول کے دن کو یادگار قرار دیا جائے یا اس دن کو عید میلاد النبی کے طور پر منایا جائے، مولانا مودودی کا کہنا صرف یہ تھا کہ اس موقع پر ہمارے جشن منانے کا انداز ہمارے دین اور ایمان کے شایانِ شان ہونا چاہیے، مولانا اس موقع پر فضول ایکٹوٹیز اور غیر سنجیدہ ہنگامہ آرائی کو غلط قرار دیتے تھے۔چنانچہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
“البتہ اس عید کے منانے کی یہ صورت نہیں کہ خوب کھاؤ پیو، چراغاں کرو، جلوس اور جھنڈے نکالو اور محض اپنی دل لگی کے لیے فضول نمایشی کام کرنے لگو۔ ایسا کرو گے تو تم میں اور جاہل قوموں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ جاہل قومیں بھی اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد میلوں ٹھیلوں اور جلوسوں سے مناتی ہیں۔ اگر تم نے بھی ان کے میلوں اور تیوہاروں کی نقل اتاری تو جیسے وہ ہیں ویسے ہی تم بھی بن کررہ جاؤ گے۔ اسلام نے تو یادگار منانے کے لیے نیا ہی ڈھنگ نکالا ہے۔ سب سے بڑی یاد گار حضرت ابراہیم کی قربانی ہے۔ جسے منانے کے لیے اللہ تعالی نے عیدالاضحی کی نماز اور قربانی اور حج وطواف کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ اس پر تم غور کرو تو اندازہ کر سکتے ہو کہ مسلمان کو اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد کس طرح منانی چاہیے۔” (ایضاً)
مزید لکھتے ہیں:
“تم کو سوچنا چاہیے کہ بارہ ربیع الاول کی تاریخ کس لحاظ سے تمہارے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ عرب کے ایک شخص کے گھر میں آج ایک بچہ پیدا ہوا تھا، بلکہ اس لحاظ سے کہ آج اس پیغمبر اعظم کو خدا نے زمین پر بھیجا جس کے ذریعے سے انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی، جس کی بدولت انسان نے حقیقت میں انسان بننا سیکھا، جس کی ذات تمام جہان کے لیے خدا کی رحمت تھی اور جس نے روئے زمین پر ایمان اور عمل صالح کا نور پھیلایا۔ پس جب اس تاریخ کی اہمیت اس لحاظ سے ہے تو اس کی یاد گار بھی اس طرح منانی چاہیے کہ آج کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور دنوں سے زیادہ پھیلاؤ۔ آپ کے اخلاق اور آپ کی ہدایات سے سبق حاصل کرو اور کم از کم آپ کی تعلیم کا اتنا چرچا تو کرو کہ سال بھر تک اس کا اثر باقی رہے۔ اس طرح یادگار مناؤ گے تو حقیقت میں یہ ثابت ہوگا کہ تم یوم میلادالنبی کو سچے دل سے عید سمجھتے ہو اور اگر صرف کھاپی کر اور دل لگیاں ہی کر کے رہ گئے تو یہ مسلمانوں کی سی عید نہ ہوگی، بلکہ جاہلوں کی سی عید ہوگی، جس کی کوئی وقعت نہیں۔” (ایضاً)

مولانا مودودی علیہ الرحمہ عید میلاد النبی کو ملت کے لیے احتساب اور جائزہ کے ایک اہم موقع کے طور پر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“بھائیو! عید میلاد النبی آپ مناتے ہیں، بڑی خوشی کی بات ہے، مگر صرف اتنا عرض کروں گا کہ اپنے سردار کے دربار میں حاضر ہوتے وقت ذرا یہ بھی سوچ لیا کیجیے کہ کیا منھ لے کر ہم اس روح پاک کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک خادم سے قصور ہوجائے تو وہ اپنے صاحب کے سامنے جاتا ہوا ڈرتا ہے اور منھ چھپاتا پھرتا ہے۔ پھر کیا منھ لے کر ان کے سامنے جائیں جن کے ایک دو نہیں، خدا جانے کتنے فرمانوں کی روز ہم خلاف ورزی کرتے ہیں”۔(ایضاً)

اللہ کی رحمت ہو سیدی مودودی پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی علیہ الرحمہ کے یہ دونوں مضامین اپنے موضوع پر بہت ہی معتدل اور متوازن رہنمائی کرتے ہیں۔

یہ دونوں مضامین “میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم” کے نام سے کتابچہ کی شکل میں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہورہے ہیں، موضوع سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس کتابچہ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

Address

Gund Dalwash Kwarhama Baramulla
Delhi
193402

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peerzada Aashiq Hussain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Peerzada Aashiq Hussain:

Share