09/04/2024
سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری
" سریندر سنگھ کیس "
زندگی آپکی ماں جیسی نہیں ہے جو آپ سے غصے ہوگی لیکن پھر بھی رات کے کھانے پر آپکو بلا لے گی ۔ زندگی تلخ ہے۔آپکو مرتا ہوا چھوڑ دے گی۔ لہذا زندگی کے ساتھ باہمی جہد مسلسل بہت ضروری ہے۔ " باہمی " کا لفظ اس لئے کہ زندگی سے لڑنا نہیں ہے بلکہ اسے ساتھ لیکر حالات کا ٹھراو کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے اور اسی جدوجہد میں بعض اوقات آپکا اٹھایا ہوا معمولی سا قدم، معمولی سا اشارہ، معمولی سی حرکت آپکو آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
آیئے میں آپکو برطانیہ کی امیگریشن کی دنیا کے ایک کیس کا بتاتا ہوں جس نے سائل کی نیا تو پار لگائی ہی تھی ساتھ میں اسکے مدتوں بعد تک لوگ عدالتوں میں اس کیس کا حوالہ دیکر سرخرو ہوتے رہے۔
سریندر سنگھ کیس۔ جیسے ویزے کی کئی کیٹیگری ہوتی ہیں مثلا وزٹ ویزہ، سٹوڈنٹ ویزہ، ورک پرمٹ ویزہ اسی طرح اس کیس سے برطانیہ میں " سریندر سنگھ روٹ " Surrender Singh rout" ویزہ کیٹیگری متعارف ہوئی
The Queen
Vs
Immigration appeal tribunal and Surrender Singh, ex parte Secretary of state for Home Office
ڈاکٹ نمبر C-370/90
اہک انڈین نیشنل سریندر سنگھ 1982 میں برٹش سٹیزن سے برطانیہ میں شادی کرتا ہے۔کیونکہ بیوی برطانوی شہری تھی لہذا یورپی یونین ممبر ممالک کے یورپی یونین قانون کے آرٹیکل (1)3 کے تحت شہریوں کی ممبر ممالک میں فری موومنٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں میاں بیوی 1983 میں جرمنی شفٹ ہو جاتے ہیں اور وہاں 1986 تک جاب کرتے ہیں۔ اس قانون کے تحت یورپی شہری(برٹش بیوی ) اپنے ساتھ اپنے غیر یورپی فیملی ممبر(سریندر سنگھ )کو بھی ساتھ لے جا سکتے ہیں
1986 میں دونوں واپس برطانیہ آجاتے ہیں۔ بدقسمتی سے 1987 میں دونوں کے مابین طلاق ہو جاتی ہے۔ سریندر سنگھ، خاوند ، مروجہ قانون کے تحت ابھی برطانوی شہریت حاصل نہیں کرسکا تھا اور مدت پوری ہونے تک عارضی رہائشی ویزہ پر تھا لہذا برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ نے شادی ختم ہونے پر اسکا ویزہ کینسل کر دیا کہ جس بنیاد پر ویزہ ایشو کیا گیا تھا وہ بنیاد یعنی شادی ختم ہو گئی تھی اس بنا پر اسے برطانیہ چھوڑنے کا نوٹس جاری کردیا۔ سریندر سنگھ نے اپنے وکلاء کی مدد سے پہلے لوئر امیگریشن ٹرائیبیونل پھر اپر ٹرائیبیونل میں برطانیہ میں رہنے کے لئے پانچ سال جدوجہد کی بالآخر آخری چارہ جوئی کے طور پر 7 جولائی 1992 میں یورپین کورٹ آف جسٹس(جو کہ یورپی یونین ممبر ممالک کی سب سے بڑی عدالت ہے) لکسمبرگ میں کیس دائر کر دیا۔ یورپی یونین کورٹ آف جسٹس میں دائر کیس ایک مہنگی، طویل قانونی جنگ ہوتی ہے
وکلاء نے یورپی یونین کے اس قانون کے تحت کیس تیار کیا جسکے تحت " اگر یورپی یونین ممبر ممالک کے شہری کسی دوسری ممبر سٹیٹ میں کام کرنے یا پڑھائی کرنے جاتے ہیں اور انکے ساتھ انکے غیر یورپی فیملی ممبرز بھی جاتے ہیں تو ان غیر یورپی فیملی ممبرز کا بھی یہاں رہنے کا حق پیدا ہوجاتا ہے۔" یہی ایک پوائنٹ تھا جسکو اس کیس میں بنیاد بنایا گیا۔ اس وقت تک کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ کیس ایک لینڈ مارک ثابت ہو گا اور برطانیہ میں ویزہ کی نئی کیٹیگری بن جائے گا۔
طویل جدوجہد کے بعد فیصلہ سریندر سنگھ کے حق میں آیا اور اسے اپنے ذاتی حق جو کہ اس نے بطور خاوند یورپی شہری(بیوی )کے ساتھ جرمنی میں گزارا تھا اور واپس برطانیہ بھی بطور میاں بیوی ہی آئے تھے، طلاق کے باوجود اس بنا پر برطانیہ میں رہنے کا حق مل گیا۔
اس سریندر سنگھ روٹ ویزہ کیٹیگری کا لاکھوں لوگوں نے فائدہ حاصل کیا اور اس روٹ کو استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں قیام حاصل کیا۔
نوٹ: یہ ویزہ کیٹیگری 29 مارچ 2022 کو اس وجہ سے ختم ہو گئی کیونکہ برطانیہ اب یورپی یونین کا ممبر نہیں رہا اور اس پر یورپی یونین قوانین اب لاگو نہیں ہوتے اور برطانیہ یورپی یونین قوانین کا پابند نہیں ہے بلکہ اپنے لوکل امیگریشن قوانین کے تحت فیصلے کرے گا
(نشر مکرر )