S & S Law Chambers

Call Directions Contact the business

S & S Law Chambers S & S Law Chamber ( Legal Practitioners and Pleaders)
Whatsapp: 07424359322
Whatsapp: 03016694315

یہ ہیں وہ ایس پی جن سے  آج کمرہ عدالت ایف آئی آر نہیں پڑھی گئی تو چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا آئی جی پنجاب کو طلب کرلیادل...
25/09/2026

یہ ہیں وہ ایس پی جن سے آج کمرہ عدالت ایف آئی آر نہیں پڑھی گئی تو چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا آئی جی پنجاب کو طلب کرلیا

دلچسپ

ایس پی عبداللہ صاحب اپنے ہی محرر کی لکھی ایف آئی آر کمرہ عدالت میں نہ پڑھ سکے

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کل آئی جی پنجاب کو طلب کرلیا

ایف آئی آر پڑھی نہیں جارہی سمجھ نہیں آرہی کیا لکھا ہے ایس پی صاحب ایف آئی آر پڑھیں چیف جسٹس عالیہ نیلم

چیف جسٹس عالیہ نیلم کا ایس پی پر سخت برہمی کا اظہار

پورے پنجاب کا بیڑا غرق ہے پنجاب میں یہی حال ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم

ایف آئی آر پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی چیف جسٹس عالیہ نیلم

ایف آئی آر میں مکھیاں بنی ہوئی ہے مکھیوں کا سائز بھی بڑا ہوتا ہے چیف جسٹس عالیہ نیلم

⚖️ S&S Law ChamberExcellence in Law | Integrity in Practiceقانون صرف دلائل کا نام نہیں، بلکہ اعتماد، مہارت اور انصاف کی ...
29/07/2026

⚖️ S&S Law Chamber
Excellence in Law | Integrity in Practice
قانون صرف دلائل کا نام نہیں، بلکہ اعتماد، مہارت اور انصاف کی ذمہ داری ہے۔
S&S Law Chamber میں ہم ہر مؤکل کو اعلیٰ معیار کی قانونی خدمات، پیشہ ورانہ رہنمائی اور مؤثر نمائندگی فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہماری تجربہ کار وکلاء کی ٹیم ہر مقدمے کو مکمل رازداری، باریک بینی اور قانونی مہارت کے ساتھ ہینڈل کرتی ہے تاکہ آپ کے حقوق کا ہر سطح پر مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ہماری خدمات:
▪️ سول مقدمات
▪️ کریمینل مقدمات
▪️ فیملی لا (طلاق، خلع، نان و نفقہ، بچوں کی تحویل، وراثت)
▪️ کارپوریٹ اور کمرشل قانونی معاملات
▪️ امیگریشن سے متعلق قانونی خدمات
▪️ ہر قسم کے قانونی مقدمات، مشاورت اور عدالت میں نمائندگی
کیوں S&S Law Chamber؟
✓ تجربہ کار اور پروفیشنل وکلاء کی ٹیم
✓ مؤثر قانونی حکمتِ عملی
✓ مکمل رازداری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات
✓ شفاف، معیاری اور نتیجہ خیز قانونی خدمات
S&S Law Chamber
"جہاں قانون، وقار اور اعتماد آپ کے حقوق کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔"
📞 آج ہی رابطہ کریں اور اپنے قانونی معاملات ایک ایسی ٹیم کے سپرد کریں جو ہر کیس کو غیرمعمولی توجہ، مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے
📞03016694315
For Oversease pakistanis 00447424359322
Safina Saleem Advocate of High Court
Working as Foreign Lawyer.

پنجاب بار کونسل نے سوشل میڈیا کے غلط استمعال پر 40 وکلاء کو کل طلب کر لیا ایڈووکیٹ فہمیم کھوکھر، عبدالمتین ، احمد شیر جٹ...
17/07/2026

پنجاب بار کونسل نے سوشل میڈیا کے غلط استمعال پر 40 وکلاء کو کل طلب کر لیا
ایڈووکیٹ فہمیم کھوکھر، عبدالمتین ، احمد شیر جٹ ، شمائلہ ،عثمان علی سمیت شامل ہے
وکلاء پر الزام ہے کہ وہ پنجاب بار کونسل کے رولز کے خلاف سوشل میڈیا کا غلط استمعال کر کہ شعبہ وکالت کے تقدس کو نقصان پہنچا رہے ہیں,

17/07/2026
📢 FBR's New Instructions  Important Update Under Section 140Are you facing an FBR notice, an ex parte order, or a tax re...
14/07/2026

📢 FBR's New Instructions Important Update Under Section 140
Are you facing an FBR notice, an ex parte order, or a tax recovery issue?
Under the latest instructions, before initiating tax recovery proceedings under Section 140 of the Income Tax Ordinance, 2001, it is now mandatory to ensure the lawful service of the order and obtain verification from the relevant tax officer.
If you'd like, I can also make it sound.

لاہور ہائیکورٹ کاتفتیشی نظام میں غفلت اور تاخیر پر تاریخی فیصلہعدالت نے آئی جی پنجاب کو صوبے بھر کے تمام زیرِ تفتیش مقدم...
11/07/2026

لاہور ہائیکورٹ کاتفتیشی نظام میں غفلت اور تاخیر پر تاریخی فیصلہ

عدالت نے آئی جی پنجاب کو صوبے بھر کے تمام زیرِ تفتیش مقدمات کا آڈٹ کرانے کا حکم دےدیا

​تمام پولیس افسران اپنے اپنے دائرہ اختیار میں مقدمات کا آڈٹ کرکےکوتاہیوں کوفوری درست کریں۔فیصلہ

چالان کی مقررہ وقت میں پیشی اور کیس ڈائریز روزانہ برقرار رکھنے کے قانونی ضابطے پرعمل کیاجائے۔فیصلہ

​مستقبل میں تفتیشی کوتاہیوں پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ یہ دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔فیصلہ

​آئی جی پنجاب کوعدالتی فیصلے کی کاپی تمام آر پی اوز سی پی اوز، ڈی پی اوز کو فوری بھجوانے کاحکم

​آئی جی پنجاب 20 جنوری تک آڈٹ رپورٹ عدالت جمع کرائے۔فیصلہ

شہریوں کی آزادی کی حفاظت کرنا عدالتوں کا مقدس فرض ہے۔فیصلہ

​ٹرائل سے قبل بلا جواز یا طویل قید وقت سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہے۔فیصلہ

​پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے یا اشتہاری قرار دینے کی کوشش نہیں کی۔فیصلہ

​پولیس کی سستی، غفلت اور نااہلی کا خمیازہ ملزم نہیں بھگت سکتا۔فیصلہ

​تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور ملزم سے مزید کوئی برآمدگی نہیں ہونی اس لیے قید کا کوئی مقصد نہیں۔فیصلہ

​چالان جمع کرانے کے بعد پولیس نے تفتیش کو عملی طور پرترک کر دیا تھا۔فیصلہ

​کیس کی پولیس فائل 6 سال 3 ماہ تک گرد و غبار تلے دبی رہی، تفتیش میں یہ غفلت مجرمانہ ہے۔فیصلہ

​تفتیشی فائل کا اتنے عرصے غائب رہنا ضلعی پولیس کی انتظامی تباہی کو ظاہر کرتا ہے۔فیصلہ

​تفتیش میں تاخیر شہریوں کے منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے بنیادی حقوق کےخلاف ہے۔فیصلہ

جسٹس محمد طارق ندیم نے 12 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا

​عدالت عالیہ نے ملزم تنویر احمد کی ضمانت منظور کرتے ہوئےرہا کرنے کا حکم دے دیا گیا

​ملزم پر دائیں ٹانگ توڑنے اور پیٹھ پر کلہاڑے کے الٹے وار کرنے کا مبینہ الزام تھا

​ملزم وقوعہ کے بعد 6 سال، 10 ماہ اور 19 دن تک مفرور رہا۔پراسیکیوٹر

​ مفروری کے باعث ملزم ضمانت کا حق کھو چکا ہے۔پراسیکیوٹر

Lahore High Court Issues Landmark Ruling on Negligence and Delay in Criminal Investigations
The Lahore High Court has issued a landmark judgment addressing negligence and delays in the criminal investigation system.
The Court directed the Inspector General (IG) of Punjab Police to conduct a province-wide audit of all pending investigation cases.
The Court ordered all police officers to audit cases within their respective jurisdictions and immediately rectify any investigative shortcomings.
The Court emphasized strict compliance with legal requirements regarding the timely submission of challans (police reports) and the daily maintenance of case diaries.
The Court further directed that any future investigative negligence must be dealt with promptly to prevent its recurrence.
The IG Punjab was instructed to immediately circulate a copy of the judgment to all Regional Police Officers (RPOs), City Police Officers (CPOs), and District Police Officers (DPOs).
The IG Punjab was ordered to submit the audit report to the Court by 20 January.
The Court observed that safeguarding the liberty of citizens is a sacred constitutional duty of the judiciary.
The Court held that unjustified or prolonged pre-trial detention is tantamount to imposing punishment before conviction.
The Court noted that the police had made no genuine effort either to arrest the accused or to have him declared a proclaimed offender.
The Court ruled that an accused cannot be made to suffer the consequences of police inefficiency, negligence, or incompetence.
Since the investigation had already been completed and no further recovery was to be effected from the accused, the Court held that there was no justification for his continued detention.
The Court observed that after submitting the challan, the police had virtually abandoned the investigation.
The investigation file remained buried in dust for 6 years and 3 months, which the Court described as criminal negligence.
The prolonged disappearance of the investigation file reflected a serious administrative failure within the district police.
The Court held that delays in investigation violate a citizen's fundamental right to a fair trial and due process of law.
Justice Muhammad Tariq Nadeem issued the 12-page written judgment.
The High Court granted bail to the accused, Tanveer Ahmad, and ordered his release.
According to the allegations, the accused was charged with breaking the complainant's right leg and striking his back with the blunt side of an axe.
The prosecutor submitted that the accused had remained absconding for 6 years, 10 months, and 19 days after the incident.
The prosecutor further argued that, due to his abscondence, the accused had forfeited his right to seek bail.

مرد کی دوسری شادی اس معاشرے کے لیے ایک ایسا تلخ سچ بنتی جا رہی ہے جو اکثر معصوم زندگیوں کو نگل جاتا ہے۔یہ کہانی ہے تحریم...
11/07/2026

مرد کی دوسری شادی اس معاشرے کے لیے ایک ایسا تلخ سچ بنتی جا رہی ہے جو اکثر معصوم زندگیوں کو نگل جاتا ہے۔
یہ کہانی ہے تحریم کی، جس نے دو سال پہلے حمزہ نامی نوجوان کے ساتھ بڑے ارمانوں اور دعاؤں کے ساتھ پسند کی شادی کی تھی۔ وہ ایک خوبصورت مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے اس کے گھر آئی تھی، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص کو وہ اپنا محافظ سمجھ رہی ہے، وہ پہلے ہی ایک بسائی ہوئی دنیا کا مالک ہے۔ شادی کے بعد تحریم پر یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ حمزہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کی پہلی بیوی سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی ہے۔ خوابوں کے شیش محل چور چور ہوئے، مگر حمزہ نے دلاسے اور بہلاوے دے کر تحریم کو سمجھایا اور اسے پہلی بیوی سلمیٰ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور کر دیا۔ یہی وہ فیصلہ تھا جس نے تحریم کی زندگی کو جہنم بنا دیا۔ سلمیٰ کی طرف سے آئے روز کا وحشیانہ تشدد، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا اس معصوم کا مقدر بن گیا، مگر وہ خاموشی سے سسکتی رہی۔
پھر نو جولائی کی وہ سیاہ تاریخ آئی جب ظلم کی حد پار ہو گئی۔ تحریم نے روتے ہوئے، تڑپتے ہوئے اپنی ماں کو فون کیا اور بتایا کہ آج حمزہ اور سلمیٰ نے مل کر اسے بے رحمی سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ماں کا دل بیٹی کی پکار پر تڑپ اٹھا، مگر روایتی معاشرتی مجبوریوں کے تحت انہوں نے بیٹی کو ڈھارس بندھائی، صبر کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ وہ کل، یعنی دس جولائی کو اس کے گھر ضرور آئیں گی تاکہ اس عذاب کا کوئی حل نکالا جا سکے۔ ماں بیٹی کو دلاسا دے کر اگلی صبح کا انتظار کرنے لگی، مگر ظالموں کو اگلی صبح منظور نہیں تھی۔ اسی رات تقریباً گیارہ بجے حمزہ نے تحریم کے ماموں کو فون کر کے انتہائی سرد مہری سے کہا کہ تحریم آگ سے جھلس گئی ہے۔
جب تحریم کے بوڑھے ماں باپ اور گھر والے بدحواسی کی حالت میں الجلیل گارڈن میں واقع اس کے گھر پہنچے، تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ سامنے ان کی لاڈلی بیٹی کا جھلسا ہوا، بے جان جسم پڑا تھا، جو اپنی بے گناہی اور اس معاشرے کے سنگدل رویوں کی دہائی دے رہا تھا۔ اس قیامت خیز سانحے کا سب سے دردناک اور روح فرسا پہلو یہ ہے کہ تحریم اس دنیا سے اکیلی نہیں گئی؛ جب اس ظالم خاندان نے اسے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا، تو وہ چھ ماہ کی حاملہ تھی۔ اس معصوم ماں کے ساتھ اس کے رحم میں پلنے والا وہ بچہ بھی تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا جس نے ابھی اس دنیا کی روشنی بھی نہیں دیکھی تھی۔ تحریم کی تڑپتی ہوئی ماں نے اب پولیس کو انصاف کے لیے درخواست دے دی ہے، اور اب یہ پورا معاشرہ اس دکھی ماں کے آنسوؤں کا قرض دار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت سارے ایسے کیس report ہو رہے جن کی وجوہات مرد کا پہلے سے شادی شدہ ہونا ہے،
عورت کے لئیے سب سے مشکل مرد کی دوسری شادی digest کرنا ہے، عورت غربت یا باقی مسائل کو تو face کر سکتی لیکن دوسری شادی کو نہیں،
آج کل محبت کی شادیاں اور دلوں کے ارمان اس لیے بھی عبرت کا نشان بن جاتے ہیں کیونکہ مرد حقیقت چھپا کر دوسری شادی رچا لیتا ہے۔


*اینکرپرسن ریحان طارق پر توہین مذہب اور پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان صابر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گی...
10/07/2026

*اینکرپرسن ریحان طارق پر توہین مذہب اور پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان صابر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے این سی سی آئی اے کی استدعا پر ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے تفتیشی ایجنسی کے حوالے کر دیا،ذرائع*
پروگرام اینکر ریحان طارق پر ہونے والی ایف ائی ار کی کاپی انحر معین نے حاصل کر لی

یہ ہے جی گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اب اس کی حقیقت بھی دیکھ لیں ۔سرٹیفکیٹ کے آخر میں واضح طور پر لکھا ہے “قانونی یا عدالتی مق...
10/07/2026

یہ ہے جی گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اب اس کی حقیقت بھی دیکھ لیں ۔

سرٹیفکیٹ کے آخر میں واضح طور پر لکھا ہے

“قانونی یا عدالتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا”

“The map and boundaries shown on this certificate are indicative only and … cannot be used for legal or judicial purposes.”

اس پر موجود GPS/Map صرف مقام کی نشاندہی کے لیے ہے۔
اس نقشے کو عدالت میں حتمی ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
حدود (Boundaries) کے تعین کے لیے یہ فیصلہ کن دستاویز نہیں ہے

سرٹیفکیٹ بطور سرکاری ریکارڈ یا معاون دستاویز زیر غور آ سکتا ہے، لیکن:

یہ بذات خود حتمی ٹائٹل ڈاکومنٹ نہیں۔
اس پر موجود نقشہ قانونی حد بندی کا ثبوت نہیں

یعنی گورنمنٹ نے ایک اور ڈاکیومنٹ کا اضافہ کر دیا ہے ۔

خریدار کو اب بھی یہ چیزیں چیک کرنا چاہئیں

رجسٹری اور انتقال
ریکارڈ آف رائٹس (جمعبندی وغیرہ)
اصل مالک کی شناخت
کسی عدالتی حکم یا تنازع کی موجودگی
متعلقہ ریونیو ریکار

کیونکہ یہ سرٹیفکیٹ کسی بھی ایسی چیز کی تصدیق نہیں کرتا ۔
اسکو لانے کا مقصد شاید
یہ سرٹیفکیٹ فراڈ کے خلاف ایک اضافی حفاظتی قدم ضرور ہے لیکن اس کا آپکے پاس ہونا کوئی حتمی ثبوت نہیں ۔

درست طور پر آپ کہہ سکتے ۔

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک سرکاری معلوماتی اور ٹرانزیکشنل دستاویز ہے۔
اس میں درج GPS نقشہ صرف رہنمائی کے لیے ہے، قانونی حد بندی کے لیے نہیں۔
ملکیت اور قانونی حقوق کا حتمی فیصلہ اب بھی متعلقہ ریونیو ریکارڈ، رجسٹرڈ دستاویزات اور عدالت کے فیصلوں کی بنیاد پر ہوگا

Address

Wanlip Road
London

Opening Hours

Monday 9am - 7pm
Tuesday 9am - 7pm
Wednesday 9am - 7pm
Thursday 9am - 7pm
Friday 9am - 7pm

Telephone

+923016694315

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S & S Law Chambers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to S & S Law Chambers:

Shortcuts

Sponsored

Share