31/08/2026
مقدمہ محمد اسلم بنام ایڈیشنل سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس وغیرہ، W.P. No.46868 of 2026 میں درخواست گزار محمد اسلم کی بیٹی مسماۃ حنا اسلم لاپتہ ہوگئی، جس پر اس کے والد نے تھانہ ستوکتلہ، لاہور میں FIR No.1121/2026 مورخہ 20.05.2026 بجرم دفعہ 365-B PPC درج کرائی۔ دورانِ تفتیش حنا اسلم عدالت مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوئی اور دفعہ 164 Cr.P.C. کے تحت بیان دیا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ اس نے محمد لقمان کے ساتھ اپنی مرضی اور رضامندی سے نکاح کیا ہے۔
بعد ازاں درخواست گزار کو مبینہ نکاح کا علم ہوا تو اس نے میونسپل کمیٹی قصور سے نکاح نامہ کی تصدیق کروانے کی کوشش کی۔ میونسپل کمیٹی نے 23.06.2026 کو اطلاع دی کہ اس کے دفتر میں مذکورہ نکاح کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ اس کی بیٹی نابالغ تھی، اس لیے اس کا نکاح Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026 کی خلاف ورزی میں ہوا اور مبینہ نکاح نامہ جعلی یا فرضی تھا۔ پولیس کی جانب سے کارروائی نہ ہونے پر درخواست گزار نے Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. کے تحت جسٹس آف پیس سے رجوع کیا، مگر درخواست مسترد کردی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ NADRA کا Child Registration Certificate حنا اسلم کی تاریخ پیدائش 01.03.2011 ظاہر کرتا ہے، جبکہ مبینہ نکاح 18.05.2026 کو ہوا۔ اس حساب سے نکاح کے وقت حنا اسلم کی عمر تقریباً 15 سال اور 2 ماہ تھی، یعنی وہ 18 سال سے کم عمر تھی۔ عدالت کے سامنے مدعا علیہان ایسا کوئی مساوی طور پر معتبر معاصر دستاویزی ثبوت پیش نہ کرسکے جس سے ثابت ہوتا کہ نکاح کے وقت اس کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ تھی۔
📍قانونی نکات
۔Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026 کے نفاذ کے بعد پنجاب میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر شخص کو "child" قرار دیا گیا ہے اور ایسی شادی جس میں فریقین میں سے کوئی ایک بچہ ہو، "child marriage" کے زمرے میں آتی ہے۔
اس فیصلے کا نہایت اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ Act, 2026 کے Section 5 کے تحت 18 سال کی عمر مکمل ہونے سے پہلے child marriage کے نتیجے میں ہونے والی ہر قسم کی cohabitation، رضامندی کے ساتھ ہو یا رضامندی کے بغیر، "child abuse" تصور ہوگی۔ اس جرم پر پانچ سے سات سال تک قید اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ نابالغ لڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح کرنے یا بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا بیان بذاتِ خود پولیس کو ممکنہ cognizable offence کی تفتیش سے نہیں روک سکتا۔ نابالغ کی رضامندی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن Child Marriage Restraint Act, 2026 کے تحت اس رضامندی کو child abuse، custody یا protection کے سوال پر فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. کے مرحلے پر عدالت کو ملزمان کا جرم یا بے گناہی حتمی طور پر طے نہیں کرنی ہوتی۔ اس مرحلے پر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فراہم کردہ معلومات سے بادی النظر میں کسی cognizable offence کے ارتکاب کا انکشاف ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہو تو پولیس کو قانون کے مطابق FIR درج کرکے تفتیش کرنی چاہیے۔
📍دوسری FIR کے متعلق اہم اصول
عدالت نے Mst. Sughran Bibi v. The State (PLD 2018 SC 595) کے اصول کو بھی زیرِ بحث لایا۔ عمومی اصول یہ ہے کہ ایک ہی وقوعہ کے متعلق محض دوسرا یا متبادل version دینے کے لیے دوسری FIR درج نہیں کی جاسکتی، تاہم موجودہ مقدمے میں عدالت نے پایا کہ پہلی FIR کا تعلق مبینہ اغوا سے تھا، جبکہ نئی شکایت کا تعلق مبینہ child marriage، جعلی نکاح نامہ اور نابالغ کی شادی میں سہولت کاری سے تھا۔
لہٰذا عدالت کے مطابق نئی شکایت محض پہلے وقوعہ کا دوسرا version نہیں بلکہ ایک distinct statutory offence arising from a separate transaction کا معاملہ prima facie بنتا تھا۔ چنانچہ صرف اس بنیاد پر نئی شکایت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا تھا کہ متعلقہ offences کو پہلی FIR میں شامل کیا جائے۔
📍نابالغ کی تحویل اور فلاح و بہبود
عدالت نے حنا اسلم کی خواہش کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ عدالت کے سامنے اس نے والدین کے گھر واپس جانے سے عدم رضامندی ظاہر کی اور مبینہ طور پر خاندان کی طرف سے بدسلوکی کا خدشہ ظاہر کیا۔ دوسری طرف قانون کے تحت اسے محمد لقمان کے ساتھ بھی نہیں بھیجا جاسکتا تھا کیونکہ 18 سال کی عمر سے پہلے child marriage کے نتیجے میں cohabitation کو Section 5 کے تحت child abuse قرار دیا گیا ہے۔
چنانچہ عدالت نے ایک متوازن حفاظتی اقدام کے طور پر حنا اسلم کو Child Protection & Welfare Bureau, Government of Punjab کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دیا، تاکہ اس کی حفاظت، تعلیم، عزت، psychological well-being اور counselling کو یقینی بنایا جاسکے۔ والدین یا محمد لقمان اور اس کے خاندان سے ملاقات بھی صرف supervised environment میں رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
📍۔Ratio Decidendi
اس فیصلے کا بنیادی Ratio Decidendi یہ ہے کہ جب پولیس کے سامنے پیش کی گئی معلومات اور دستیاب دستاویزات سے بادی النظر میں 18 سال سے کم عمر بچے کی شادی اور اس کے نتیجے میں Child Marriage Restraint Act, 2026 کے تحت قابلِ تعزیر جرم کا انکشاف ہو تو صرف نابالغ کی رضامندی یا اس کے بالغ شخص کے ساتھ رہنے کی خواہش کی بنیاد پر پولیس FIR کے اندراج اور تفتیش سے انکار نہیں کرسکتی۔
مزید یہ کہ Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. کے تحت عدالت کا کردار جرم کا حتمی فیصلہ کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ فراہم کردہ معلومات سے کسی cognizable offence کا prima facie انکشاف ہوتا ہے یا نہیں۔ عمر، نکاح نامہ کی اصلیت، نکاح کی حقیقت، ملوث افراد اور دیگر disputed facts کا تعین تفتیش اور مناسب عدالتی کارروائی کے ذریعے کیا جائے گا۔
اسی طرح Sughran Bibi principle ہر نئی شکایت کو خودکار طور پر ممنوع نہیں بناتا۔ اگر نئی شکایت پہلے وقوعہ کا محض دوسرا version نہ ہو بلکہ کسی الگ اور قابلِ تعزیر transaction یا statutory offence کی نشاندہی کرتی ہو تو قانون کے مطابق اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔
📍فیصلے کا خلاصہ
لاہور ہائی کورٹ نے W.P. No.46868 of 2026 منظور کرتے ہوئے 06.08.2026 کا جسٹس آف پیس کا حکم کالعدم قرار دیا اور SHO Police Station B-Division, Kasur کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کی شکایت پر Section 154 Cr.P.C. کے مطابق کارروائی کرے اور اگر cognizable offence ظاہر ہوتا ہو تو مقدمہ درج کرکے قانون کے مطابق تفتیش کرے۔ ساتھ ہی نابالغ حنا اسلم کو Child Protection & Welfare Bureau کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دیا گیا اور مستقل custody/guardianship کا معاملہ Guardian Judge کے سامنے چھوڑ دیا گیا۔