Law Teacher Online

Law Teacher Online A knowledge hub designed to guide law students and emerging advocates toward excellence.
(10)

04/09/2026

اسلام بار کونسل کے مطالبہ پر NJPMC نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ میں ججز روٹیشن کا فیصلہ کردیا!

Mere presence of prosecution witnesses in Court, without recording of their evidence and without a specific order-sheet ...
03/09/2026

Mere presence of prosecution witnesses in Court, without recording of their evidence and without a specific order-sheet explanation as to why such evidence could not be recorded, is insufficient to deprive the petitioner of his statutory right.

Crl. Misc.43416/26
Ali Shahzad alias Shan Ali Vs The State etc
Mr. Justice Ghulam Sarwar Nihung
31-08-2026
2026 LHC 5543

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ دیدیا۔
03/09/2026

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ دیدیا۔

03/09/2026
بین الاقوامی نوعیت کے بچوں کی تحویل کے مقدمہ میں اہم قانونی اصول:بین الاقوامی نوعیت کے ایک مقدمے میں، جہاں بچے کی تحویل ...
02/09/2026

بین الاقوامی نوعیت کے بچوں کی تحویل کے مقدمہ میں اہم قانونی اصول:

بین الاقوامی نوعیت کے ایک مقدمے میں، جہاں بچے کی تحویل کا تنازع ایسے والدین یا فریقین کے درمیان ہو جن کی شہریت مختلف ممالک کی ہو، عدالت نے درج ذیل اہم اصول بیان کیے:

📍1۔ دوسرے ملک کی عدالت کے حکم کی حیثیت

اگر بچے کی تحویل کے بارے میں کسی دوسرے ملک کی عدالت نے کوئی حکم جاری کیا ہو تو پاکستانی عدالت اس حکم کو نظر انداز نہیں کرے گی۔ عدالت یہ دیکھے گی کہ آیا وہ حکم میرٹ پر اور باقاعدہ قانونی کارروائی کے بعد جاری ہوا ہے یا نہیں۔

یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اس کارروائی میں Private International Law کے اصولوں کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی، پاکستان کے قانون کو مناسب طور پر تسلیم کیا گیا یا نہیں، اور فیصلہ قدرتی انصاف (Natural Justice) کے بنیادی اصولوں کے خلاف یا دھوکے (Fraud) کے ذریعے تو حاصل نہیں کیا گیا۔

📍2۔ بچے کو اس ملک سے لے جانا جہاں وہ معمول کے مطابق رہتا تھا

اگر کسی بچے کو اس ملک سے لے جایا جائے یا واپس نہ کیا جائے جہاں وہ اپنی زندگی کے معمول کے مطابق رہتا تھا، اور اس طرح بچے کو لے جانا یا روک کر رکھنا اس ملک کے قانون، کسی عدالتی یا انتظامی حکم، یا کسی قانونی معاہدے کی خلاف ورزی ہو، تو ایسی منتقلی یا روک کر رکھنا غلط (Wrongful Removal or Retention) تصور کیا جائے گا۔

📍3۔ بچے کو واپس کرنے کا اصول

اگر بچہ ابھی کسی نئی جگہ پر مستقل طور پر Settled نہیں ہوا تو بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے واپس اسی ملک میں بھیجا جائے جہاں وہ بچے کو لے جانے یا روکنے سے فوراً پہلے معمول کے مطابق رہ رہا تھا۔

یعنی صرف یہ بات کہ بچہ اس وقت دوسرے ملک میں موجود ہے، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ وہیں رہنے کا حق حاصل کر چکا ہے۔

📍4۔ تحویل کے اصل حق پر فوری فیصلہ نہیں کیا جائے گا

اگر کسی دوسرے ملک کی عدالتی یا انتظامی اتھارٹی کی طرف سے بچے کی واپسی کے حوالے سے اطلاع یا درخواست موصول ہو جائے تو عدالت فوری طور پر بچے کی Custody کے اصل حق (Merits of Custody) کا فیصلہ نہیں کرے گی۔

پہلے یہ طے کیا جائے گا کہ Convention on the Civil Aspects of International Child Abduction, 1980 کے تحت بچے کو واپس کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

اگر عدالت یہ فیصلہ کرے کہ بچے کو واپس کرنا ضروری نہیں، تب ہی ضرورت کے مطابق بچے کی تحویل کے اصل حق اور دیگر معاملات پر میرٹ کی بنیاد پر غور کیا جا سکتا ہے۔

🔴 آسان الفاظ میں

اس فیصلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی شادی یا مختلف ممالک کی شہریت رکھنے والے والدین کے درمیان بچے کی تحویل کے تنازع میں عدالت سب سے پہلے یہ دیکھے گی کہ بچہ عام طور پر کس ملک میں رہتا تھا اور اسے وہاں سے کس قانونی حیثیت کے ساتھ دوسرے ملک میں لایا یا روکا گیا۔

اگر بچے کو غیر قانونی طور پر اس کے معمول کے ملک سے ہٹایا گیا ہو اور وہ نئی جگہ پر ابھی مستقل طور پر آباد نہ ہوا ہو تو عمومی اصول کے مطابق اسے واپس اسی ملک میں بھیجنے پر غور کیا جائے گا۔

اسی طرح، کسی دوسرے ملک کی عدالت کے تحویلی حکم کو بھی صرف اس وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جائے گا کہ وہ بیرونِ ملک کی عدالت کا فیصلہ ہے۔ عدالت اس کی قانونی حیثیت، اختیارِ سماعت، قدرتی انصاف اور کسی ممکنہ دھوکے کے پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

📍اہم اصول:

«بین الاقوامی بچوں کی تحویل کے مقدمات میں پہلے بچے کی واپسی کا سوال طے کیا جاتا ہے، جبکہ بچے کی مستقل تحویل کا اصل حق بعد کے مرحلے میں میرٹ پر طے کیا جا سکتا ہے۔»

F.C.P.L.A No. 1183 of 2026
Muhammad Faraaz Shaikh & another vs. Javeria Shahani & others

منشیات کے مقدمہ میں ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ سے تحریر کا موازنہ — اہم فیصلہمنشیات کے اس مقدمہ میں ملزم نے دورانِ ٹرائل درخواس...
02/09/2026

منشیات کے مقدمہ میں ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ سے تحریر کا موازنہ — اہم فیصلہ

منشیات کے اس مقدمہ میں ملزم نے دورانِ ٹرائل درخواست دائر کی کہ استغاثہ، فردِ مقبوضہ (Recovery Memo) اور نقشہ بلا اسکیل (Rough Site Plan) پر موجود تحریر کا موازنہ مدعی سب انسپکٹر کی تسلیم شدہ تحریر سے Handwriting Expert کے ذریعے کروایا جائے، کیونکہ مدعی کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ تمام دستاویزات اسی کی تحریر میں ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کی درخواست مسترد کر دی۔

ملزم نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Qanun-e-Shahadat Order کے Article 59 کے تحت ماہر کی رائے کسی تحریر کی شناخت کے حوالے سے ایک متعلقہ شہادت ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ Handwriting Expert کی رائے حتمی یا ناقابلِ تردید نہیں ہوتی، ایسی شہادت کو پیش کرنے کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ماہرِ خط کی رائے کی قانونی حیثیت (admissibility) اور اس کی اہمیت یا وزن (evidentiary value) دو الگ معاملات ہیں۔ ماہر کی رائے قابلِ قبول ہو سکتی ہے، تاہم مقدمے کے آخر میں عدالت نے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس رائے کو کتنا وزن دیا جائے۔

جب کسی مقدمے میں اہم دستاویزات کس شخص نے تحریر کیں، اس بارے میں حقیقی اختلاف موجود ہو اور متعلقہ گواہ کے بیان کو بھی جرح کے دوران چیلنج کیا گیا ہو تو Handwriting Expert کی رائے عدالت کو حقیقت تک پہنچنے اور منصفانہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

لہٰذا لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا اور Recovery Memo، Complaint اور Rough Site Plan کو Handwriting Expert کے ذریعے جانچنے اور ان کی تحریر کا مدعی سب انسپکٹر کی تحریر سے موازنہ کروانے کی اجازت دے دی۔

📍بنیادی قانونی اصول

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ Handwriting Expert کی رائے کمزور یا حتمی نہیں ہوتی۔ اگر کسی اہم دستاویز کی تحریر متنازع ہو تو ملزم کو اسے ماہرِ خط سے جانچنے کا مناسب موقع دینا Fair Trial کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

📍مختصر اصول:

«کمزور شہادت اور ناقابلِ قبول شہادت ایک چیز نہیں۔ ماہر کی رائے حتمی فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ عدالت کو فیصلہ کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔»اگر آپ چاہیں تو میں اسی کو عدالتی فیصلے کے لیے 5 مختصر مگر انتہائی مؤثر قانونی نکات (Legal Points) + Ratio Decidendi کی شکل میں بھی ترتیب دے سکتا ہوں۔




















مقدمہ محمد اسلم بنام ایڈیشنل سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس وغیرہ، W.P. No.46868 of 2026 میں درخواست گزار محمد اسلم کی ...
31/08/2026

مقدمہ محمد اسلم بنام ایڈیشنل سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس وغیرہ، W.P. No.46868 of 2026 میں درخواست گزار محمد اسلم کی بیٹی مسماۃ حنا اسلم لاپتہ ہوگئی، جس پر اس کے والد نے تھانہ ستوکتلہ، لاہور میں FIR No.1121/2026 مورخہ 20.05.2026 بجرم دفعہ 365-B PPC درج کرائی۔ دورانِ تفتیش حنا اسلم عدالت مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوئی اور دفعہ 164 Cr.P.C. کے تحت بیان دیا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ اس نے محمد لقمان کے ساتھ اپنی مرضی اور رضامندی سے نکاح کیا ہے۔

بعد ازاں درخواست گزار کو مبینہ نکاح کا علم ہوا تو اس نے میونسپل کمیٹی قصور سے نکاح نامہ کی تصدیق کروانے کی کوشش کی۔ میونسپل کمیٹی نے 23.06.2026 کو اطلاع دی کہ اس کے دفتر میں مذکورہ نکاح کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ اس کی بیٹی نابالغ تھی، اس لیے اس کا نکاح Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026 کی خلاف ورزی میں ہوا اور مبینہ نکاح نامہ جعلی یا فرضی تھا۔ پولیس کی جانب سے کارروائی نہ ہونے پر درخواست گزار نے Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. کے تحت جسٹس آف پیس سے رجوع کیا، مگر درخواست مسترد کردی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ NADRA کا Child Registration Certificate حنا اسلم کی تاریخ پیدائش 01.03.2011 ظاہر کرتا ہے، جبکہ مبینہ نکاح 18.05.2026 کو ہوا۔ اس حساب سے نکاح کے وقت حنا اسلم کی عمر تقریباً 15 سال اور 2 ماہ تھی، یعنی وہ 18 سال سے کم عمر تھی۔ عدالت کے سامنے مدعا علیہان ایسا کوئی مساوی طور پر معتبر معاصر دستاویزی ثبوت پیش نہ کرسکے جس سے ثابت ہوتا کہ نکاح کے وقت اس کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ تھی۔

📍قانونی نکات

۔Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026 کے نفاذ کے بعد پنجاب میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر شخص کو "child" قرار دیا گیا ہے اور ایسی شادی جس میں فریقین میں سے کوئی ایک بچہ ہو، "child marriage" کے زمرے میں آتی ہے۔

اس فیصلے کا نہایت اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ Act, 2026 کے Section 5 کے تحت 18 سال کی عمر مکمل ہونے سے پہلے child marriage کے نتیجے میں ہونے والی ہر قسم کی cohabitation، رضامندی کے ساتھ ہو یا رضامندی کے بغیر، "child abuse" تصور ہوگی۔ اس جرم پر پانچ سے سات سال تک قید اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ نابالغ لڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح کرنے یا بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا بیان بذاتِ خود پولیس کو ممکنہ cognizable offence کی تفتیش سے نہیں روک سکتا۔ نابالغ کی رضامندی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن Child Marriage Restraint Act, 2026 کے تحت اس رضامندی کو child abuse، custody یا protection کے سوال پر فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. کے مرحلے پر عدالت کو ملزمان کا جرم یا بے گناہی حتمی طور پر طے نہیں کرنی ہوتی۔ اس مرحلے پر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فراہم کردہ معلومات سے بادی النظر میں کسی cognizable offence کے ارتکاب کا انکشاف ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہو تو پولیس کو قانون کے مطابق FIR درج کرکے تفتیش کرنی چاہیے۔

📍دوسری FIR کے متعلق اہم اصول

عدالت نے Mst. Sughran Bibi v. The State (PLD 2018 SC 595) کے اصول کو بھی زیرِ بحث لایا۔ عمومی اصول یہ ہے کہ ایک ہی وقوعہ کے متعلق محض دوسرا یا متبادل version دینے کے لیے دوسری FIR درج نہیں کی جاسکتی، تاہم موجودہ مقدمے میں عدالت نے پایا کہ پہلی FIR کا تعلق مبینہ اغوا سے تھا، جبکہ نئی شکایت کا تعلق مبینہ child marriage، جعلی نکاح نامہ اور نابالغ کی شادی میں سہولت کاری سے تھا۔

لہٰذا عدالت کے مطابق نئی شکایت محض پہلے وقوعہ کا دوسرا version نہیں بلکہ ایک distinct statutory offence arising from a separate transaction کا معاملہ prima facie بنتا تھا۔ چنانچہ صرف اس بنیاد پر نئی شکایت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا تھا کہ متعلقہ offences کو پہلی FIR میں شامل کیا جائے۔

📍نابالغ کی تحویل اور فلاح و بہبود

عدالت نے حنا اسلم کی خواہش کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ عدالت کے سامنے اس نے والدین کے گھر واپس جانے سے عدم رضامندی ظاہر کی اور مبینہ طور پر خاندان کی طرف سے بدسلوکی کا خدشہ ظاہر کیا۔ دوسری طرف قانون کے تحت اسے محمد لقمان کے ساتھ بھی نہیں بھیجا جاسکتا تھا کیونکہ 18 سال کی عمر سے پہلے child marriage کے نتیجے میں cohabitation کو Section 5 کے تحت child abuse قرار دیا گیا ہے۔

چنانچہ عدالت نے ایک متوازن حفاظتی اقدام کے طور پر حنا اسلم کو Child Protection & Welfare Bureau, Government of Punjab کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دیا، تاکہ اس کی حفاظت، تعلیم، عزت، psychological well-being اور counselling کو یقینی بنایا جاسکے۔ والدین یا محمد لقمان اور اس کے خاندان سے ملاقات بھی صرف supervised environment میں رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

📍۔Ratio Decidendi

اس فیصلے کا بنیادی Ratio Decidendi یہ ہے کہ جب پولیس کے سامنے پیش کی گئی معلومات اور دستیاب دستاویزات سے بادی النظر میں 18 سال سے کم عمر بچے کی شادی اور اس کے نتیجے میں Child Marriage Restraint Act, 2026 کے تحت قابلِ تعزیر جرم کا انکشاف ہو تو صرف نابالغ کی رضامندی یا اس کے بالغ شخص کے ساتھ رہنے کی خواہش کی بنیاد پر پولیس FIR کے اندراج اور تفتیش سے انکار نہیں کرسکتی۔

مزید یہ کہ Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. کے تحت عدالت کا کردار جرم کا حتمی فیصلہ کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ فراہم کردہ معلومات سے کسی cognizable offence کا prima facie انکشاف ہوتا ہے یا نہیں۔ عمر، نکاح نامہ کی اصلیت، نکاح کی حقیقت، ملوث افراد اور دیگر disputed facts کا تعین تفتیش اور مناسب عدالتی کارروائی کے ذریعے کیا جائے گا۔

اسی طرح Sughran Bibi principle ہر نئی شکایت کو خودکار طور پر ممنوع نہیں بناتا۔ اگر نئی شکایت پہلے وقوعہ کا محض دوسرا version نہ ہو بلکہ کسی الگ اور قابلِ تعزیر transaction یا statutory offence کی نشاندہی کرتی ہو تو قانون کے مطابق اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔

📍فیصلے کا خلاصہ

لاہور ہائی کورٹ نے W.P. No.46868 of 2026 منظور کرتے ہوئے 06.08.2026 کا جسٹس آف پیس کا حکم کالعدم قرار دیا اور SHO Police Station B-Division, Kasur کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کی شکایت پر Section 154 Cr.P.C. کے مطابق کارروائی کرے اور اگر cognizable offence ظاہر ہوتا ہو تو مقدمہ درج کرکے قانون کے مطابق تفتیش کرے۔ ساتھ ہی نابالغ حنا اسلم کو Child Protection & Welfare Bureau کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دیا گیا اور مستقل custody/guardianship کا معاملہ Guardian Judge کے سامنے چھوڑ دیا گیا۔

31/08/2026

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے😛😊🤣🤭

اس مقدمہ میں درخواست گزار ریاض حسین کے خلاف تھانہ صدر شجاع آباد، ضلع ملتان میں FIR No. 1101/2025 مورخہ 15.11.2025 درج ہو...
31/08/2026

اس مقدمہ میں درخواست گزار ریاض حسین کے خلاف تھانہ صدر شجاع آباد، ضلع ملتان میں FIR No. 1101/2025 مورخہ 15.11.2025 درج ہوئی، جس میں دفعہ 322 PPC کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق محمد شریف کے دو بیٹے محمد ابوبکر اور علی حمزہ اپنے کزن یاسر اور دوست محمد امجد کے ہمراہ موٹر سائیکل پر اڈا ناصر موڑ کے قریب جا رہے تھے۔ تقریباً شام 7 بجے ایک بس نمبر 6478-DGI مبینہ طور پر انتہائی تیز رفتاری، غفلت اور غلط سمت سے آتی ہوئی ان کی موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ خاص طور پر یہ امر بھی سامنے آیا کہ یاسر کی شادی اگلے ہی روز مقرر تھی۔

درخواست گزار کا نام ابتدائی FIR میں موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں بس کے مالکان شکیل اور لیاقت کو تفتیش میں شامل کیا گیا، جنہوں نے اپنے بیانات زیر دفعہ 161 Cr.P.C. میں درخواست گزار کو بس کا ڈرائیور قرار دیا۔ اس کے بعد مدعی نے 23.12.2025 کو ضمنی بیان دے کر ریاض حسین کو مقدمہ میں نامزد کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اسے FIR میں نامزد نہیں کیا گیا تھا اور بعد میں ضمنی بیان کے ذریعے شامل کیا گیا، اس لیے معاملہ further inquiry کے زمرے میں آتا ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ حقائق کی بنیاد پر Section 320 PPC یعنی rash or negligent driving کے ذریعے qatl-i-khata کا معاملہ بنتا ہے، نہ کہ Section 322 PPC۔ مزید یہ مؤقف اپنایا گیا کہ دفعہ 322 PPC کے تحت صرف دیت (Diyat) کی سزا ہے، اس لیے یہ مقدمہ دفعہ 497 Cr.P.C. کی ممانعت کے دائرے میں نہیں آتا اور درخواست گزار کو ضمانت بطورِ حق ملنی چاہیے۔

🔹 عدالت کا بنیادی قانونی تجزیہ

عدالت نے Sections 318, 319, 320, 321 and 322 PPC کا باہمی مطالعہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ qatl-i-khata اور qatl-bis-sabab کے درمیان بنیادی فرق “unlawful act” کا ہے۔ دفعہ 318 PPC کے تحت جب کسی شخص کی موت بغیر ارادۂ قتل یا نقصان کے، کسی فعل یا حقیقت کی غلطی کے نتیجے میں واقع ہو تو اسے qatl-i-khata کہا جاتا ہے۔ جبکہ دفعہ 321 PPC کے تحت ایسا غیر قانونی فعل (unlawful act) جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بنے، qatl-bis-sabab کے زمرے میں آتا ہے۔

⚖️ لائسنس اور جرم کی نوعیت کا اہم اصول:

عدالت نے ایک نہایت اہم قانونی اصول وضع کیا کہ اگر کوئی شخص مؤثر اور متعلقہ ڈرائیونگ لائسنس رکھتے ہوئے گاڑی چلاتا ہے اور rash یا negligent driving کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے تو، اصولاً اس کا فعل qatl-i-khata کے زمرے میں آئے گا کیونکہ گاڑی چلانے کا بنیادی فعل قانونی تھا۔

اس کے برعکس، اگر کوئی شخص متعلقہ یا مؤثر لائسنس کے بغیر گاڑی چلاتا ہے اور اسی دوران rash یا negligent driving کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کا گاڑی چلانا ہی غیر قانونی اور unlawful act تصور ہوگا۔ ایسی صورت میں عدالت کے مطابق معاملہ qatl-bis-sabab اور Section 322 PPC کے تحت آسکتا ہے۔

۔🚍 PSV License کا اہم نکتہ

ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کے پاس HTV License موجود تھا، لیکن اس کے پاس Public Service Vehicle (PSV) License موجود نہیں تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بس چلانے کے لیے محض HTV لائسنس کافی نہیں تھا بلکہ متعلقہ PSV endorsement/license بھی ضروری تھا۔ چونکہ درخواست گزار کے پاس PSV لائسنس نہیں تھا، اس لیے وہ عوامی مسافر بردار بس چلانے کا مجاز نہیں تھا۔

عدالت نے اس غیر مجاز ڈرائیونگ کو illegal/unlawful act قرار دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس غیر قانونی ڈرائیونگ کے نتیجے میں چار افراد کی ہلاکت ہونے کی صورت میں Section 322 PPC کا اطلاق بادی النظر میں بنتا ہے۔

۔🔹 FIR میں تاخیر سے نامزدگی کا اثر

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ درخواست گزار کا نام ابتدائی FIR میں موجود نہیں تھا، اسے خودکار طور پر further inquiry کا فائدہ نہیں دیا جاسکتا۔ ریکارڈ کے مطابق بس کے مالکان کو تفتیش میں شامل کرنے کے بعد ان کے بیانات سے درخواست گزار کا نام سامنے آیا اور اس کے بعد مدعی کا ضمنی بیان ریکارڈ کیا گیا۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار ایسا کوئی مواد پیش نہیں کرسکا جس سے یہ ظاہر ہو کہ بس مالکان یا مدعی کو اس کے خلاف جھوٹی کارروائی کرنے کے لیے کوئی malice یا grudge موجود تھا۔

۔⚖️ Section 322 PPC اور Bail

عدالت نے اس دلیل کو بھی قبول نہیں کیا کہ چونکہ Section 322 PPC میں صرف Diyat کی سزا مقرر ہے، اس لیے ضمانت بطورِ حق دی جانی چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ دفعہ 322 PPC کے تحت سزا دیت ہے، لیکن Second Schedule Cr.P.C. کے مطابق یہ جرم cognizable اور non-bailable ہے۔ لہٰذا صرف اس بنیاد پر کہ سزا صرف دیت ہے، ملزم ضمانت کا لازمی حق دار نہیں بن جاتا۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے Majid Nadeem v. The State and another (2011 SCMR 1227) سے بھی رہنمائی حاصل کی، جس میں rash and negligent driving کے نتیجے میں پانچ افراد کی ہلاکت کے معاملے میں post-arrest bail سے انکار کیا گیا تھا۔

۔🧑‍⚖️ Ratio Decidendi

اس فیصلے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ: اگر کوئی شخص کسی عوامی مسافر بردار گاڑی کو چلانے کے لیے مطلوبہ قانونی لائسنس، بالخصوص متعلقہ PSV License/endorsement کے بغیر گاڑی چلاتا ہے، تو اس کی ڈرائیونگ محض rash یا negligent ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر قانونی فعل (unlawful act) کی بنیاد پر بھی قابلِ گرفت ہوگی۔ اگر ایسی غیر قانونی ڈرائیونگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو تو معاملہ Section 321/322 PPC کے تحت qatl-bis-sabab کے زمرے میں آسکتا ہے، نہ کہ لازماً Section 320 PPC کے تحت qatl-i-khata۔ مزید یہ کہ Section 322 PPC میں صرف Diyat کی سزا ہونے کے باوجود، چونکہ یہ جرم قانوناً cognizable اور non-bailable ہے، اس لیے ملزم کو محض سزا کی نوعیت کی بنیاد پر ضمانت بطورِ حق نہیں دی جاسکتی؛ ضمانت کا فیصلہ مقدمے کے مجموعی حالات، prima facie involvement اور further inquiry کے اصولوں کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

Address

Central
Islamabad

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
18:00 - 22:00
Tuesday 08:00 - 16:00
18:00 - 22:00
Wednesday 08:00 - 16:00
18:00 - 22:00
Thursday 08:00 - 16:00
18:00 - 22:00
Friday 08:00 - 12:00
18:00 - 22:00
Saturday 08:00 - 16:00
18:00 - 22:00

Telephone

+923125039864

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Teacher Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law Teacher Online:

Shortcuts

Share