Law Teacher Online

Law Teacher Online A knowledge hub designed to guide law students and emerging advocates toward excellence.
(3)

ملکوال میں تعینات سول نائلہ ولی کی شکایت پر سول کورٹ کے چوکیدار کے خلاف مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور نامناسب طرزِ عمل اخ...
01/06/2026

ملکوال میں تعینات سول نائلہ ولی کی شکایت پر سول کورٹ کے چوکیدار کے خلاف مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور نامناسب طرزِ عمل اختیار کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، جسے محض قیاس آرائی...
01/06/2026

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، جسے محض قیاس آرائی، غیر مصدقہ شبہات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ امیگریشن حکام کو غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ اور ویزوں کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مسافروں کی جانچ پڑتال کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اختیار مطلق یا غیر محدود نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تابع ہے۔

مقدمہ میں درخواست گزار محمد عباس کو سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نائجیریا روانگی کے وقت آف لوڈ کر دیا گیا، حالانکہ اس کے پاس پاسپورٹ، نائجیریا کا ویزا، واپسی کا ٹکٹ اور دیگر تمام ضروری سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ایف آئی اے حکام کا مؤقف تھا کہ درخواست گزار کے پاس مطلوبہ مالی وسائل نہیں تھے اور وہ اپنے سفر کا مقصد تسلی بخش انداز میں بیان نہیں کر سکا۔ تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ یہ وجوہات محض عمومی اور مبہم نوعیت کی تھیں جن کی تائید میں کوئی ٹھوس یا معروضی مواد پیش نہیں کیا گیا۔

فاضل عدالت نے مشاہدہ کیا کہ آف لوڈنگ پروفارما میں نہ تو یہ واضح کیا گیا کہ درخواست گزار کے پاس کتنی رقم موجود تھی، نہ یہ بتایا گیا کہ نائجیریا جانے والے مسافر کے لیے مالی وسائل کا مطلوبہ معیار کیا ہے، اور نہ ہی کسی قانون، پالیسی یا ضابطے کا حوالہ دیا گیا جس کی خلاف ورزی درخواست گزار نے کی ہو۔ اس طرح "ناکافی مالی وسائل" کی بنیاد ایک خالصتاً موضوعی (Subjective) اور غیر شفاف جواز بن کر رہ گئی، جسے عدالتی جانچ کے معیار پر پرکھنا ممکن نہیں تھا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار نے اپنے سفر کا مقصد واضح کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ اپنے بہنوئی سے ملاقات کے لیے نائجیریا جا رہا ہے جو وہاں مقیم اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اگر امیگریشن حکام اس وضاحت سے مطمئن نہیں تھے تو ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے عدم اطمینان کی مخصوص اور معقول وجوہات ریکارڈ کرتے۔ تاہم ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ نہ تو کسی تضاد، بے ضابطگی یا مشکوک صورتحال کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی درخواست گزار کے مؤقف کو کسی معروضی بنیاد پر رد کیا گیا۔

عدالت نے اس اصول کو بھی دہرایا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال ہمیشہ شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ سیکشن 24-A جنرل کلازز ایکٹ 1897 کے تحت ہر انتظامی فیصلے کے لیے وجوہات کا تحریری اندراج لازمی ہے، کیونکہ وجوہات ہی وہ کڑی ہیں جو اختیار کے استعمال اور اس کے نتیجے کے درمیان قانونی ربط پیدا کرتی ہیں۔ بغیر وجوہات یا مبہم وجوہات پر مبنی فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی مسافر کو ایئرپورٹ پر اس مرحلے پر آف لوڈ کرنا، جب وہ ٹکٹ خرید چکا ہو، ویزا حاصل کر چکا ہو، بورڈنگ مکمل کر چکا ہو اور سفر کے تمام انتظامات کر چکا ہو، ایک ایسا اقدام ہے جس کے سنگین مالی، سماجی اور نفسیاتی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے فیصلوں میں اعلیٰ درجے کی احتیاط، شفافیت اور قانونی جواز ناگزیر ہے۔

نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کی آف لوڈنگ کو غیر قانونی، غیر معقول اور آئینی تقاضوں کے منافی قرار دیا اور واضح کیا کہ مذکورہ آف لوڈنگ مستقبل میں اس کے بیرونِ ملک سفر کے حق پر کوئی مستقل پابندی عائد نہیں کرے گی۔ مزید برآں عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرتے وقت تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کی جائیں، حتیٰ الامکان انٹرویو یا پوچھ گچھ کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے، اور متاثرہ شخص کو آف لوڈنگ کی وجوہات پر مشتمل دستاویز فراہم کی جائے تاکہ وہ مؤثر قانونی چارہ جوئی کر سکے۔

یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ شہریوں کے آئینی حقوق انتظامی صوابدید پر قربان نہیں کیے جا سکتے اور ریاستی اداروں کے ہر اقدام کو قانون، شفافیت اور انصاف کے معیار پر پورا اترنا لازم ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن جاری
29/05/2026

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن جاری

قانونِ شہادت کے آرڈرز 31، 46(5) اور 64 کے تناظر میں یہ سوال زیرِ غور آیا کہ آیا کسی فریقِ مقدمہ کا بیان اس کے انتقال کے ...
29/05/2026

قانونِ شہادت کے آرڈرز 31، 46(5) اور 64 کے تناظر میں یہ سوال زیرِ غور آیا کہ آیا کسی فریقِ مقدمہ کا بیان اس کے انتقال کے بعد بھی بطور شہادت قابلِ قبول ہو سکتا ہے یا نہیں۔ معزز ہائیکورٹ نے مدعیان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمہ کے حقائق اور قانون کی روشنی میں مذکورہ بیان قابلِ قبول شہادت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

عدالت نے سب سے پہلے آرڈر 46(5) کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ یہ دفعہ اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتی۔ وجہ یہ تھی کہ افسری بیگم کا بیان تنازعہ پیدا ہونے اور مقدمہ شروع ہونے کے بعد دیا گیا تھا۔ چنانچہ یہ بیان "Ante Litem Motam" کے اصول کے تحت غیر جانبدار اور فطری خاندانی اظہار تصور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اسے قابلِ قبول شہادت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

مزید برآں عدالت نے قرار دیا کہ آرڈر 64 کی شرائط بھی پوری نہیں ہوئیں۔ مدعیان کے گواہ (PW-3) نے صرف اتنا بیان دیا کہ مدعیان، متوفیہ کی بیٹیاں ہیں، تاہم اس نے نہ تو رشتہ داری کے بارے میں اپنے طرزِ عمل سے ظاہر ہونے والی کوئی رائے (Opinion Expressed by Conduct) پیش کی اور نہ ہی ایسا کوئی مخصوص علم بیان کیا جو اس رشتہ کی تصدیق کر سکتا۔ لہٰذا اس کی شہادت آرڈر 64 کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔

عدالت نے آرڈر 31 کے حوالے سے بھی قرار دیا کہ افسری بیگم کا بیان قابلِ قبول نہیں ہے، کیونکہ اس بیان کو مخالف فریق کی جانب سے جرح (Cross-Examination) کے ذریعے جانچا نہیں جا سکا۔ مزید یہ کہ افسری بیگم نے خود مدعیان کے خلاف جوابِ دعویٰ دائر کر رکھا تھا، جس سے اس کے بیان کی نوعیت اور حیثیت مزید متنازع ہو جاتی ہے۔

عدالت نے اس امر کو بھی خاص اہمیت دی کہ مدعیان تقریباً چالیس سال تک اپنے مبینہ حق کے حوالے سے خاموش رہے۔ انہوں نے اس غیر معمولی تاخیر کی کوئی معقول، قابلِ قبول یا اطمینان بخش وجہ پیش نہیں کی۔ اس طویل خاموشی نے ان کے دعویٰ کی ساکھ کو متاثر کیا اور ان کے مؤقف کو کمزور کیا۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر معزز ہائیکورٹ نے مدعیان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ان کے دعویٰ کی تائید میں پیش کی گئی شہادت قانونِ شہادت کے متعلقہ اصولوں اور شرائط پر پورا نہیں اترتی۔

29/05/2026

Trial Court omits framing charge under one penal section but convicts accused under that section later.
Is conviction lawful?

28/05/2026
Eid ul Adha Mubarak to Everyone🐪
27/05/2026

Eid ul Adha Mubarak to Everyone🐪

مظفرآباد آزاد کشمیر: پانچ ہزار روپے کا چالان ہونے پر ڈرائیور نے مسافر کوسٹر دریائے جہلم میں پھینک دی۔ مظفرآباد میں ایک ح...
26/05/2026

مظفرآباد آزاد کشمیر: پانچ ہزار روپے کا چالان ہونے پر ڈرائیور نے مسافر کوسٹر دریائے جہلم میں پھینک دی۔

مظفرآباد میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں پانچ ہزار روپے کا چالان کیے جانے پر مشتعل ڈرائیور نے اپنی مسافر کوسٹر دریائے جہلم میں ڈال دی۔ واقعہ نیو سیکرٹریٹ چھتر، سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے قریب پیش آیا۔

ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس اہلکار گاڑی کو ضبط کرنے کے لیے کوسٹر میں سوار تھا کہ اسی دوران ڈرائیور نے مبینہ طور پر غصے میں آ کر گاڑی کو دریا کی جانب موڑ دیا۔ حادثے کے نتیجے میں کوسٹر دریائے جہلم میں بہہ گئی، تاہم ڈرائیور اور ٹریفک اہلکار دونوں کو زندہ بچا لیا گیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق ڈرائیور شدید زخمی ہوا ہے جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ ڈرائیور کے ورثا نے ٹریفک پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ چھتر چوک پر ٹریفک معطل کر دی۔

واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

PLJ 2026 Islamabad 170Present: Muhammad Azam Khan, J.MUHAMMAD MUNEEB ARSHAD--PetitionerversusMst. AMMARA MAHROOF, etc.--...
26/05/2026

PLJ 2026 Islamabad 170

Present: Muhammad Azam Khan, J.

MUHAMMAD MUNEEB ARSHAD--Petitioner

versus

Mst. AMMARA MAHROOF, etc.--Respondents

W.P. No. 5459 of 2025, decided on 3.2.2026.

Family Courts Act, 1964 (###V of 1964)--

----S. 17-A--Constitution of Pakistan, 1973, Art. 199--Civil Procedure Code, 1908 (V of 1908), S. 11--Striking off defence--Parallel foreign proceedings--Maintenance--Res judicata--Doctrine of election--Double recovery--Jurisdiction--Maintainability--Non-speaking order--Judicial propriety--Comity of courts--Overlapping liability--Unjust enrichment--Parallel maintenance proceedings in Pakistan are impermissible where a competent foreign court has already fixed and is enforcing same liability; striking off defence under S. 17-A without addressing such overlap and compliance is unlawful--Where a competent foreign court had already assumed jurisdiction and its orders were being complied with, Family Courts in Pakistan were required to avoid parallel proceedings that would result in overlapping or competing obligations for same liability and period--It was a settled principle of law that where two fora were invoked for substantially same relief on same obligation, law did not permit a litigant to ‘double run’ same claim so as to obtain two enforceable streams for one liability--It was a settled principle that before proceeding on merits, Courts were required first to examine and determine maintainability of proceedings, particularly where a specific legal objection as to jurisdiction/maintainability had been raised by opposite party--The Courts were required to first address and determine objections going to root of maintainability and jurisdiction, especially where such objections were specifically raised by a party--Questions relating to forum, parallel proceedings, prior adjudication, and competence of Court were not matters of mere technicality; rather, they struck at very authority of Court to continue with lis in manner sought--Such objections, therefore, were required to be meaningfully adjudicated at threshold or at earliest appropriate stage, rather than being deferred casually to end of trial if material on record already warranted judicial scrutiny--Impugned Order was found to be a non-speaking order--Such an Order passed by learned Trial Court, therefore, could not sustain penal consequence of Section 17-A of West Pakistan Family Courts Act, 1964--It was a settled principle of law that if foundation had been built upon illegality, entire superstructure resting upon it was bound to crumble--

🔴 “Res judicata”------Where a dispute had already been adjudicated upon by a competent forum between same parties on same cause of action, Family Courts were required to decline to reopen controversy as matter was hit by principle of “res judicata”.

🔴 "Striking off defense"------Striking off defense was a penal procedural consequence, which was required to follow only upon a clear, reasoned satisfaction of willful default--Although Section 17-A empowered Family Court to strike off defense and decree suit upon failure to pay interim maintenance, such provision did not confer unfettered or arbitrary power upon Court to proceed mechanically.

26/05/2026

A witness identifies accused in Court for first time without prior identification parade.
What is the evidentiary value of such dock identification?

Address

Central
London

Opening Hours

Monday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Tuesday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Wednesday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Thursday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Friday 8am - 12pm
6pm - 10pm
Saturday 8am - 4pm
6pm - 10pm

Telephone

+923125039864

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Teacher Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law Teacher Online:

Featured

Share