29/12/2025
یہ 2003 کی ایک دوپہر تھی جب خیبر پختونخوا کے ایک پہاڑی علاقے میں اچانک ایک تربیتی مشن کے دوران ایک چھوٹا فوجی طیارہ پہاڑی ڈھلوان پر ہنگامی لینڈنگ کرتے ہوئے پھنس گیا۔ طیارے میں موجود دو نوجوان پائلٹ زخمی تھے، اور علاقے میں موجود شدت پسندی کی وجہ سے وہاں دیر تک رکنا بھی خطرناک تھا۔ زمینی راستہ کئی گھنٹوں دور تھا اور راستے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گاڑیاں بھی نہیں پہنچ سکتی تھیں۔
اس وقت صدر اور آرمی چیف ہونے کے باوجود پرویز مشرف کو مشورہ دیا گیا کہ فوجی ٹیمیں جب راستہ صاف کر لیں گی تب وہاں امداد بھیجی جائے۔ لیکن
مشرف نے رپورٹ سنتے ہی کہا:
“قائد وہ نہیں جو محفوظ فاصلے سے حکم دے، قائد وہ ہے جو خطرے میں ہونے والوں تک خود بھی پہنچ جائے۔”
انہوں نے ایک چھوٹے ریسکیو ہیلی کاپٹر میں جانے کا فیصلہ کیا، حالانکہ اُس وقت موسم خراب تھا اور پائلٹس نے بھی اسے خطرناک قرار دیا تھا۔ لیکن وہ بضد رہے۔
ہیلی کاپٹر پہاڑوں کے بیچ اونچی نیچی ہواؤں میں جھولتا ہوا اُس مقام تک پہنچا۔ وہاں پہنچتے ہی مشرف نے خود زخمی پائلٹوں کو اسٹریچر پر منتقل کرنے میں مدد کی، انہیں پانی پلایا، اور اپنے ساتھ لائے گئے میڈیکل کٹس انہی پر استعمال کرنے کا حکم دیا۔ علاقے کی صورتحال خطرناک تھی، مگر وہ اس وقت تک وہاں رہے جب تک دونوں زخمیوں کو محفوظ طریقے سے ایئرلیفت نہیں کر لیا گیا۔
ایک زخمی پائلٹ نے بعد میں یہ جملہ کہا:
“ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اتنی دور سے آئے گا اور آیا بھی تو وہ ہمارا سپہ سالار تھا۔”
یہ واقعہ اکثر مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ قیادت کبھی کبھی اپنی جان کی حفاظت چھوڑ کر دوسروں کی جان بچانے کو ترجیح دیتی ہےاور یہی اصل قربانی ہے۔
کتاب: “ ایک مجاہد کا دبئی کے پینٹ ہاوس تک کا کٹھن سفر“ سے اقتباس