19/08/2026
جب آس پاس کا ماحول بادلوں کی آغوش میں آ جائے اور ہریالی کے بیچ سے گزرتا ہوا دریا ماضی کی داستانیں سنانے لگے، تو انسان سفر نہیں کرتا، بلکہ ایک کھوئے ہوئے خواب کی تعاقب میں نکل پڑتا ہے۔ یہ سوئٹزرلینڈ کا ایک پراسرار اور نایاب گوشہ سٹین ایم رائین (Stein am Rhein) تھا، جہاں دریاۓ رائین کی خاموش اور نیلگوں لہریں کسی پرانے قصہ گو کی طرح صدیوں کی کہانیاں دہراتی محسوس ہوتی ہیں۔
اس دن آسمان پر سرمئی بادلوں نے اپنا ڈیرہ جما رکھا تھا—بالکل ویسے ہی جیسے کسی مصور نے کینوس پر خاموشی گھول دی ہو۔ دریا کے کنارے ایستادہ لکڑی اور چوبی ڈھانچوں (Half-timbered architecture) والے یہ تاریخی مکانات پانی کے شیشے میں اپنا عکس دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ ان کی سرخ ڈھلوان چھتیں اور نوکیلے مینار یوں لگتے تھے جیسے قرونِ وسطیٰ کی شاہزادیاں اب بھی اپنے بال سکھا رہی ہوں۔
ہم اس قصبے کی پتھریلی گلیوں، سنگلاخ چوک (Cobblestone square) اور تاریخی ٹاؤن ہال (Rathaus) کے سامنے کھڑے تھے۔ عمارتوں کے رخ پر بنے رنگین اور دلکش دیواری شاہکار (Frescoes) دیکھ کر دل بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ معمار صرف پتھر نہیں جوڑتے تھے، وہ تو دیواروں پر داستانیں لکھتے تھے۔ ہر ایک اینٹ اور چوبی شہتیر پر گزرے زمانے کی چاپ ثبت تھی۔ لکڑی کے عجیب و غریب زاویے، کھڑکیوں کے چھوٹے چھوٹے فریم اور پھولوں سے سجے ہوئے بالکونیاں یوں لگتی تھیں جیسے ابھی کسی کھڑکی سے کوئی روایتی قبا پہنے شخص جھانکے گا اور پوچھے گا، "اے آوارہ گرد! کس دنیا سے آئے ہو؟"
سرد ہوا کا ایک جھونکا آیا تو میں نے اپنے کوٹ کا کالر اوپر کر لیا۔ وہاں پھیلی ہوئی کافی کی دھیمی خوشبو، نم آلود پتھروں کی سوندھی مہک اور ماضی کے جادو نے مجھے یوں اپنے سحر میں جکڑ لیا کہ قدم وہیں جم گئے۔ یوں لگتا تھا جیسے وقت کا پہیہ تھم گیا ہو، اور ہم جیتے جاگتے انسان، کسی قدیم مصور کے بنائے ہوئے ایک حسین شاہکار کا حصہ بن گئے ہوں۔
شہر کی تاریخ: اس قصبے کی باقاعدہ بنیاد 1007ء (تقریباً 1000 سال قبل) میں رکھی گئی تھی، جب مقدس رومن شہنشاہ ہنری دوم (Emperor Henry II) نے سینٹ جارج زیارت/خانقاہ کو یہاں منتقل کیا۔
ٹاؤن ہال (Rathaus): تصویر میں نظر آنے والی کلاک ٹاور والی مرکزی تاریخی عمارت (ٹاؤن ہال) 1539ء سے 1542ء کے درمیان یعنی 480 سال سے بھی پہلے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا بالائی چوبی حصہ (Half-timbering) 1745ء میں شامل کیا گیا۔
عمارتیں اور دیواری تصاویر (Frescoes): گلیوں میں موجود زیادہ تر مکانات 1100ء سے 1500ء (12ویں سے 16ویں صدی) کے دوران تعمیر کیے گئے تھے۔ دیواروں پر بنے دلکش رنگین نقش و نگار اور تصاویر کی تاریخ 15ویں اور 16ویں صدی سے جا ملتی ہے۔
قدیم ترین مکان: اس شہر کی سب سے پرانی عمارت 1302ء (تقریباً 720 سال پرانی) کی ہے، جو آج بھی اپنی اصل حالت میں قائم ہے۔