Open Tax&Legal

Open Tax&Legal Estrangeria | Fiscal | Civil

02/09/2026

, اپوائنٹمنٹ ایشو
اسپین ویزہ اپوائنٹمنٹ ویب سائٹ میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ آج میسج موصول ہوا کہ سٹڈی ویزہ کی سلاٹس اوپن ہوئی ہیں۔ چند دن میں مذید بہتری کے ساتھ ایجنٹس مافیا کا کام ٹھپ ہوتا نظر آ رہا ہے۔
بشکریہ: سید شیراز شاہ

صدر کاتالان فیڈریشن خالد شہباز چوہان کی اسلام آباد میں اسپین کے اعلی حکام سے اہم ملاقات، پاکستانی کمیونٹی کے مسائل پر تف...
01/09/2026

صدر کاتالان فیڈریشن خالد شہباز چوہان کی اسلام آباد میں اسپین کے اعلی حکام سے اہم ملاقات، پاکستانی کمیونٹی کے مسائل پر تفصیلی گفتگو

اسلام آباد(پ ر)گزشتہ روز کاتالان فیڈریشن کے صدر خالد شہباز چوہان کی اسپین ایمبیسی اسلام آباد کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں اسپین ایمبیسی اسلام آباد کی نئی قونصل جنرل ، اور وائس ہیڈ آف مشن Head of Mission (Segunda Jefatura Mr. Alvaro gonzález Largo شریک ہوئے۔ دونوں افسران نے تقریباً دو ماہ قبل اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، اس لیے پاکستانی کمیونٹی کو اس وقت درپیش اہم مسائل اور خصوصاً ویزا و اپوائنٹمنٹ سسٹم کی موجودہ صورتحال ان کے سامنے تفصیل سے رکھی گئی۔
ملاقات کا سب سے اہم موضوع ویزا اپوائنٹمنٹ کا موجودہ مسئلہ تھا۔ اپوائنٹمنٹس کا انتہائی محدود وقت میں ختم ہو جانا، عام درخواست گزاروں کو اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے میں مشکلات، ایجنٹ مافیا کی سرگرمیاں اور سسٹم سے متعلق دیگر شکایات تفصیل کے ساتھ شیئر کی گئیں۔
سفارت خانہ کے حکام نے بتایا کہ اس معاملے پر پہلے سے کام جاری ہے اور سابقہ حکام کی جانب سے دی گئی رپورٹس اور فیڈبیک بھی نئی ٹیم کے سامنے موجود ہیں، جنہیں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس لیے امید ہے کہ پہلے سے شروع کیے گئے اقدامات میں تسلسل برقرار رہے گا اور آنے والے وقت میں عملی بہتری دیکھنے کو ملے گی۔
سفارت خانہ کے حکام کے مطابق BLS کے ساتھ اپوائنٹمنٹ سسٹم کو اپ گریڈ اور بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایجنٹ مافیا اور اپوائنٹمنٹ سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پاکستان کے متعلقہ حکام کے ساتھ بھی مکمل رابطہ اور تعاون کیا جا رہا ہے۔
ملاقات میں صرف اپوائنٹمنٹ کا معاملہ ہی زیرِ بحث نہیں آیا بلکہ درخواست اور ویزا فیس، ایمبیسی کے ساتھ کمیونیکیشن، بروقت جواب نہ ملنے، مختلف ویزا کیٹیگریز میں تاخیر، فیملی کیسز اور ایسے افراد کے معاملات جن کے کاغذات یا فائلیں اسپین میں گم یا طویل عرصے تک زیرِ التوا رہتی ہیں سمیت کمیونٹی کو درپیش متعدد مسائل پر بڑی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے اہم موضوعات پر نہایت کھل کر اور تفصیل کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ بعض معاملات ایسے بھی تھے جن کے بارے میں ایمبیسی حکام کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ان کی نوعیت اور حساسیت کے باعث انہیں اس مرحلے پر عوامی طور پر disclose کرنا مناسب یا ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے ملاقات میں ہونے والی ہر گفتگو اور ہر زیرِ بحث معاملے کی مکمل تفصیل سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر بیان نہیں کی جا سکتی۔
تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً تمام اہم کمیونٹی مسائل، ان کی وجوہات اور ان کے ممکنہ حل پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ جہاں جہاں مختلف عملی حل ممکن ہو سکتے تھے، ان تمام آپشنز پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
کاتالان فیڈریشن کی جانب سے صدر خالد شہباز چوہان نے متعدد عملی تجاویز بھی پیش کیں۔ قونصل جنرل اور نائب سفیر محترم نے ان تجاویز کو نہ صرف توجہ سے سنا بلکہ باقاعدہ نوٹ بھی کیا۔ تمام اہم مسائل اور تجاویز تحریری شکل میں بھی تیار کرکے ایمبیسی حکام کے حوالے کی گئیں تاکہ ان کے پاس باقاعدہ تحریری ریکارڈ موجود رہے اور متعلقہ سطح پر ان پر مزید کام کیا جا سکے۔
دونوں افسران نے تمام نکات کو انتہائی توجہ سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ مسائل کو مرحلہ وار حل کرنے اور کمیونٹی کو زیادہ مؤثر اور بروقت سروس فراہم کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
ایمبیسی کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس وقت پاکستان سے اسپین کے لیے درخواستوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ وزٹ ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا، فیملی ری یونین/فیملی کیٹیگریز اور ورک ویزا سمیت مختلف اقسام کی درخواستوں کا حجم بہت زیادہ ہے، جبکہ دستیاب عملہ اس حجم کے مقابلے میں محدود ہے۔ اس کے باوجود ایمبیسی کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ کیسز کو بہتر انداز میں ہینڈل کیا جائے اور تمام درخواست گزاروں کو بروقت رسپانس دیا جا سکے۔
ایمبیسی حکام نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایمبیسی یا اس کے اپوائنٹمنٹ سسٹم کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو کہ اس پر کسی مافیا یا غیر قانونی نیٹ ورک کا اثر ہے، یا ایمبیسی مسلسل اخبارات اور سوشل میڈیا میں منفی خبروں کی وجہ بنے۔ اسی لیے ان معاملات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ملاقات مجموعی طور پر انتہائی مثبت، تفصیلی اور حوصلہ افزا رہی۔ بہت سے ممکنہ حل اور تجاویز پر کھل کر تبادلۂ خیال ہوا۔ بعض معاملات کا حتمی فیصلہ ایمبیسی کی مقامی سطح کے بجائے متعلقہ اعلیٰ حکام یا وزارت کی سطح پر ہونا ہے، تاہم ایمبیسی حکام نے یقین دلایا کہ ان معاملات کو مناسب سطح تک پہنچایا جائے گا اور جہاں ان کے اختیار میں ممکن ہوا وہاں بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
ہمیں اس ملاقات کے بعد امید ہے کہ نئی ٹیم کی کوششوں، BLS سسٹم میں ہونے والی بہتری اور متعلقہ حکام کے تعاون سے آنے والے دنوں میں بالخصوص اپوائنٹمنٹ سسٹم، ایجنٹ مافیا، کمیونیکیشن اور زیرِ التوا کیسز کے حوالے سے کمیونٹی کو عملی ریلیف اور اچھی خبر ملے گی۔
کاتالان فیڈریشن کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ کمیونٹی کو درپیش حقیقی مسائل صرف سوشل میڈیا تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں براہِ راست متعلقہ حکام کے سامنے، ممکنہ حل اور تحریری تجاویز کے ساتھ رکھا جائے، تاکہ ان مسائل کے عملی اور دیرپا حل کی طرف پیش رفت ہو سکے۔

سیتا ایشو
01/09/2026

سیتا ایشو

سپین میں غیر ملکیوں کے لیے CITA اپائنٹمنٹ کا بحران۔ بلیک مارکیٹ میں 100 یورو تک قیمت.
ال پریودیکو اخبار کے مطابق، کاتالونیا میں غیر ملکیوں کے ایمیگریشن معاملات کے لیے پولیس سے اپائنٹمنٹ حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اپائنٹمنٹ کی کمی کے باعث ایک غیر قانونی بلیک مارکیٹ بھی بن گئی ہے۔ جہاں مفت ملنے والی اپائنٹمنٹ کے لیے لوگوں سے رقم وصول کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کچھ گروہ کمپیوٹر پروگراموں کے ذریعے بڑی تعداد میں اپائنٹمنٹس پہلے ہی حاصل کر لیتے ہیں اور بعد میں انہیں ضرورت مند تارکینِ وطن کو فروخت کرتے ہیں۔ اس وجہ سے سرکاری ویب سائٹ پر عام لوگوں کے لیے اپائنٹمنٹ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
کاتالونیا کے مختلف شہروں میں اپائنٹمنٹ کے لیے 50 سے 100 یورو یا اس سے بھی زیادہ رقم مانگے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ خاص طور پر وہ تارکینِ وطن متاثر ہو رہے ہیں جنہیں اپنی رہائشی اسٹیٹس لیگل کرنے کیلئے، فنگر پرنٹس دینے یا ریذیڈنس کارڈ بنوانے کے لیے پولیس سے اپائنٹمنٹ درکار ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ ایسے وقت میں مزید سنگین ہوگیا ہے۔ جب سپین میں بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی غیر معمولی قانونی حیثیت دینے (Regularización) کا عمل جاری ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ درخواستوں اور بعد کے کاغذی مراحل میں اضافے سے ایمیگریشن دفاتر اور پولیس اسٹیشنوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔
اسپین کی وزارتِ داخلہ نے بھی ایمیگریشن اپائنٹمنٹ کے نظام میں بڑے پیمانے پر اپائنٹمنٹس جمع کرنے اور دوبارہ فروخت کرنے کے مسئلے کو تسلیم کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مسئلے کو روکنے کے لیے پولیس اور ڈیجیٹل انتظامیہ مل کر نئے اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ بارسلونا اردو سروس ف۔ ال پریودیکو

ورک پرمٹ والوں کے لیے اچھی خبراب گجرات میں ہی رجسٹریشن کی سہولت
31/08/2026

ورک پرمٹ والوں کے لیے اچھی خبر
اب گجرات میں ہی رجسٹریشن کی سہولت

اپوائنمنٹ ایشو کے لیے بڑی کوشش
23/08/2026

اپوائنمنٹ ایشو کے لیے بڑی کوشش

اسپین ویزا اپوائنٹمنٹ بحران، 1500 پاکستانی خاندان متاثر ہونے کا دعویٰ—معاملہ پارلیمنٹ تک پہنچنے لگااسپینش ایمبیسی اسلام ...
21/08/2026

اسپین ویزا اپوائنٹمنٹ بحران، 1500 پاکستانی خاندان متاثر ہونے کا دعویٰ—معاملہ پارلیمنٹ تک پہنچنے لگا

اسپینش ایمبیسی اسلام آباد میں فیملی ری یونین ویزا اپوائنٹمنٹ کی مشکلات پر سیاسی پیش رفت، متاثرہ خاندانوں میں مسئلے کے حل کی نئی امید

بارسلونا (جذبہ نیوز):
اسپین میں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ایک طویل عرصے سے پریشانی کا باعث بننے والا اسپینش ایمبیسی اسلام آباد کا ویزا اپوائنٹمنٹ مسئلہ اب ایک اہم موڑ پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہسپانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق معاملے کو اسپین کی پارلیمنٹ میں اٹھانے کی تیاری نے متاثرہ خاندانوں میں یہ امید پیدا کی ہے کہ شاید اب اس مسئلے کے کسی عملی حل کی راہ نکل سکے۔

رپورٹ کے مطابق اسپین میں مقیم تقریباً 1500 پاکستانی خاندانوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان میں ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن کی فیملی ری یونین کی درخواست اسپین میں قانونی طور پر منظور ہو چکی ہے، لیکن پاکستان میں موجود بیوی، بچوں یا دیگر اہلِ خانہ کو اسلام آباد میں اسپینش ایمبیسی کے قونصلر ویزا مرحلے کے لیے اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ حساس ہو گیا ہے کہ بعض متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ اپوائنٹمنٹ دلوانے کے نام پر ان سے سوشل میڈیا اور غیر متعلقہ افراد کے ذریعے سینکڑوں یا ہزاروں یورو طلب کیے گئے۔ یہ متاثرین کے الزامات ہیں اور انہیں کسی عدالتی فیصلے سے ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم اب صورتحال میں ایک اہم تبدیلی آ رہی ہے۔

ہسپانوی میڈیا کے مطابق Comuns اور ERC اس معاملے کو اسپین کی کانگریس میں اٹھانے اور قونصلر اپوائنٹمنٹ کے موجودہ نظام میں تبدیلی کے لیے سیاسی اقدام کی تیاری کر رہے ہیں۔ BLS کے ساتھ موجود انتظامات پر نظرثانی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کی اطلاعات ہیں۔

یہ پیش رفت متاثرہ پاکستانی خاندانوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ معاملہ پارلیمانی سطح پر پہنچنے سے اسپینش ایمبیسی اسلام آباد میں اپوائنٹمنٹ کی دستیابی، موجودہ طریقۂ کار اور متاثرہ خاندانوں کی شکایات پر زیادہ ادارہ جاتی توجہ اور جواب دہی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے بھی سیاسی سطح پر یہ معاملہ اٹھایا جا چکا ہے، اس لیے فوری حل کی ضمانت دینا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم اس مرتبہ متاثرہ خاندان منظم انداز میں اپنی شکایات اور شواہد سامنے لا رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی شمولیت نے معاملے کو نئی اہمیت دے دی ہے۔

دوسری جانب اسپین کی وزارتِ خارجہ کا مؤقف ہے کہ اسے اس حوالے سے باضابطہ شکایات موصول ہونے کی اطلاع نہیں اور اسلام آباد میں ویزا درخواستوں کے لیے مقررہ طریقۂ کار ہی اختیار کیا جا رہا ہے۔

اب امید کی وجہ یہ ہے کہ آواز اسلام آباد سے بارسلونا اور بارسلونا سے اسپین کی پارلیمنٹ تک پہنچ رہی ہے۔

متاثرہ خاندانوں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ سیاسی دباؤ اور پارلیمانی کارروائی کے نتیجے میں اسپینش ایمبیسی اسلام آباد کے ویزا اپوائنٹمنٹ نظام میں کوئی عملی بہتری سامنے آتی ہے یا نہیں۔

جذبہ نیوز اس اہم معاملے پر ہونے والی پیش رفت کو مسلسل سامنے لاتا رہے گا۔

بشکریہ: ہسپانوی میڈیا رپورٹس

20/08/2026

اگست کے مہینے میں موسمِ گرما ☀️کی سالانہ چھٹیاں کرنا سپین میں ایک قانونی حق ہوتا ہے، اس حق سے استفادہ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے بھی کرتے ہیں اور نجی اداروں والے بھی۔ یہ مقامی معاشرے میں اس قدر پکا حق ہے کہ عدالتیں بھی عمومی کارروائی کے لیے بند ہوتی ہیں، عدالتوں میں اپیل کا ٹائم بھی سٹاپ ہوتا ہے۔ ⚖️

🏖️ معاشرے کے باقی طبقات کی طرح وکلاء و خیستور حضرات بھی اگست کے مہینے میں چھٹیاں کرتے ہیں۔ اس دوران بعض دفاتر جزوی طور پر اور بعض مکمل بند ہیں۔ 🚪

جن لوگوں کے وکلاء یا خیستور چھٹیوں پر ہیں، وہ اس حوالے سے پریشان مت ہوں، Panic میں مت پڑیں، افراتفری مت کریں۔ 🙏 اگست کی چھٹیوں کی وجہ سے آپ کی فائل کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ یقیناً چھٹیوں سے واپسی پر آپ کا وکیل یا خیستور آپ کی فائل کی کارروائی کو آگے بڑھائے گا۔ بے فکر رہیں۔ 🌸

😄 اس چیز سے لاعلمی کا اندازہ کریں کہ ایک شخص ہمارے دفتر پریشانی کے عالم میں آئے اور کہنے لگے "میرا سپینش وکیل نَس گیا اے"، میں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا، اُس نے کہاں نَسنا ہے، اور پوچھا کہ کیسے پتا چلا کہ نس گیا ہے؟ کہنے لگے 5دن سے جا رہا ہوں، دفتر کا شٹر بند ہی رہتا ہے۔ 😂

⚠️ ایکسترانخیریا کے عمومی معاملات کے لیے چھٹیوں میں وکلاء و خیستوروں سے زبردستی رابطہ کرنے کی کوشش کرنا غیرمناسب رویہ ہے۔ ٹینشن پریشانی کے علاوہ اس کا کچھ حاصل نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کا انتظار فرمائیں۔ ⏳

🏢 ہمارے اپنے دفتر میں اگست میں کام محدود ہے مگر چھٹیاں نہیں ہیں، یہ پوسٹ ہر روز اس حوالے سے پریشان لوگوں کو دیکھ کر بطورِ معلومات لگائی جا رہی ہے۔ ℹ️

نوید احمد اندلسی ✍

بارسلونا: اسپین میں مقیم پاکستانی خاندانوں کو اپنے اہلِ خانہ کو پاکستان سے اسپین بلانے کے لیے ویزا اپوائنٹمنٹ کے حصول می...
19/08/2026

بارسلونا: اسپین میں مقیم پاکستانی خاندانوں کو اپنے اہلِ خانہ کو پاکستان سے اسپین بلانے کے لیے ویزا اپوائنٹمنٹ کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بارسلونا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مطابق تقریباً 1500 خاندان ایسے ہیں جو اسپین میں خاندانی ملاپ کی منظوری ملنے کے باوجود اسلام آباد میں اسپین کے قونصلیٹ سے ویزا اپوائنٹمنٹ حاصل نہیں کر پا رہے۔

اس صورتحال نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ ویزا اپوائنٹمنٹ کے نام پر مبینہ طور پر ہزاروں یورو وصول کیے جانے کے الزامات نے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

متاثرین میں بارسلونا کے علاقے راوال میں رہنے والے ہارون علی بھی شامل ہیں، جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور گزشتہ 23 برس سے اسپین کے شہری ہیں۔ ان کے مطابق اسپین میں ان کی فیملی ری یونین کی درخواست کو پانچ ماہ قبل Oficina de Extranjería سے منظوری مل چکی ہے، تاہم ان کی اہلیہ اور دو بچے اب بھی پاکستان میں ہیں کیونکہ اسلام آباد میں ویزا درخواست کے اگلے مرحلے کے لیے انہیں اپوائنٹمنٹ نہیں مل رہی۔

خاندانی ملاپ کے عمل میں اسپین میں مقیم فرد کو اپنے قریبی اہلِ خانہ سے رشتہ، مناسب آمدنی اور رہائش سمیت مقررہ شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ درخواست کی منظوری کے بعد اہلِ خانہ کو اسپین کے متعلقہ قونصلر حکام کے ذریعے ویزا حاصل کرنا ہوتا ہے، لیکن متاثرین کا کہنا ہے کہ اصل رکاوٹ اسی مرحلے پر پیدا ہو رہی ہے۔

متاثرین کے مطابق اسلام آباد میں اسپین کے قونصلیٹ سے رابطے پر انہیں بتایا جاتا ہے کہ ویزا درخواستوں اور اپوائنٹمنٹس سے متعلق خدمات نجی کمپنی BLS International کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔

ماتارو بار ایسوسی ایشن کے امیگریشن کمیشن کے صدر ڈیوڈ کوئرول نے اس نظام پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ اندلوسیا کی صارفین کی تنظیم FACUA کی جانب سے بھی ماضی میں BLS سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ Comuns کی رکنِ پارلیمنٹ ویویان اوگو کے مطابق بعض افراد سے اپوائنٹمنٹ کے حصول کے لیے 300 یورو تک طلب کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

متاثرہ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ اپوائنٹمنٹ کے حصول میں پیدا ہونے والے خلا سے مبینہ طور پر ایسے افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرکے لوگوں سے ہزاروں یورو کا مطالبہ کرتے ہیں۔

جاوید اقبال کے مطابق ان سے 5 ہزار یورو طلب کیے گئے۔ وہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اپنے بیٹے کو اسپین لانے کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو بیماری لاحق ہے اور اگر وہ ان کے پاس ہوتا تو انہیں زیادہ اطمینان ہوتا۔

ایک اور متاثرہ شخص خالد پرویز کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین سال سے اپنے بیٹے کے ویزے کے لیے اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہارون علی کے مطابق انہیں بھی کہا گیا کہ 3 ہزار یورو ادا کرنے پر اپوائنٹمنٹ دلوائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ رقم دینے سے انکار کیا کیونکہ ان کے بقول گزشتہ سال اپنی بیٹی کے ویزے کے لیے انہوں نے ایک شخص کو 1000 یورو دیے تھے، لیکن بعد میں وہ ویزا جعلی ثابت ہوا۔

مقصود بی بی کے مطابق ان سے بھی اہلیہ اور بیٹیوں کے لیے اپوائنٹمنٹ کے نام پر ہزاروں یورو طلب کیے گئے، تاہم انہوں نے رقم دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس سے قبل وہ 2 ہزار یورو گنوا چکی ہیں۔

تقریباً 1500 پاکستانی خاندان اب اس معاملے کے حوالے سے مبینہ فراڈ اور اپوائنٹمنٹ کے بحران سے متعلق ثبوت جمع کر رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ خاندانی ملاپ کی قانونی منظوری حاصل کرنے کے باوجود وہ اپنے بچوں، بیویوں اور دیگر قریبی اہلِ خانہ کو اسپین نہیں بلا پا رہے۔

متاثرین کا سوال ہے کہ آخر انہیں اپنے قانونی حق کے استعمال کے لیے صرف ایک اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے میں اتنے طویل عرصے تک کیوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کمیونٹی کے بعض افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طویل انتظار کے باعث کچھ نوجوان اپنے خاندانوں سے ملنے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں نے قونصلر ویزا سروس کو نجی کمپنی کے ذریعے چلانے کے خلاف دستخطی مہم شروع کرنے کے ساتھ ساتھ میڈرڈ میں بھوک ہڑتال کا بھی اعلان کیا ہے۔

مسئلے نے اب سیاسی سطح پر بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اسپین کی سیاسی جماعتوں Sumar اور ERC نے کانگریس میں ایک Proposición No de Ley (PNL) پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں قونصلر اپوائنٹمنٹ کے نظام میں تبدیلی اور BLS کے ساتھ معاہدے پر نظرثانی یا اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

تاہم سیاسی جماعتیں خود بھی تسلیم کرتی ہیں کہ متبادل نظام کی عدم موجودگی کے باعث معاملہ آسان نہیں۔ اس سے قبل 2024 میں ERC کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی قرارداد پیش کی گئی تھی، جو پارلیمنٹ سے منظور ہو گئی تھی، تاہم متاثرین کے مطابق عملی صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔

اب جبکہ Comuns حکومت کا حصہ ہیں، متاثرین کو امید ہے کہ اس مرتبہ معاملہ محض پارلیمانی قرارداد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

دوسری جانب اسپین کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اسے اس حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ تقریباً 1500 پاکستانی خاندانوں کے دعوے کے بارے میں پوچھے جانے پر وزارت کی جانب سے کہا گیا کہ کسی بھی قسم کے ویزے کے لیے وہی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے جو اسلام آباد میں اسپین کے سفارتخانے کی جانب سے مقرر کیا گیا ہے۔

یوں ایک طرف متاثرہ پاکستانی خاندان طویل انتظار، اپوائنٹمنٹ کے بحران اور مبینہ طور پر رقم طلب کیے جانے کی شکایات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے اس حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ یہی تضاد اب اسپین میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک بڑے سوال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

بشکریہ وسیم رزاق نیوز ڈپلومیسی

18/08/2026

Informe base par files Pass 💪👏🫡🙌

Dirección

Avinguda Alfons XIII, 539
Badalona
08918

Horario de Apertura

Lunes 10:00 - 13:30
15:30 - 18:30
Martes 10:00 - 14:00
15:30 - 18:30
Miércoles 10:00 - 14:00
15:30 - 18:30
Jueves 10:00 - 14:00
15:30 - 18:30
Viernes 10:00 - 14:00
15:30 - 18:30

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando Open Tax&Legal publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Contacto La Empresa

Enviar un mensaje a Open Tax&Legal:

Atajos

Compartir