24/02/2026
. کل جس باپردہ بچی نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی تھی وہ اللہ کو پیاری ہوگئی ہے ۔
کشمیر سے تعلق رکھنے والی فریحہ افراہیم نے گزشتہ روز اپنا پیپر دینے کے بعد گھر کال کر کے بتایا کہ اس کا پیپر بہت اچھا ہوا ہے اس سے پہلے یہ بچی انٹری ٹیسٹ 2021 کی ٹاپر رہی ہے ۔
انتہائی ہونہار بچی تھی اب معاملہ یہ ہے کہ والدین میڈیکل کالج پہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے بچی کو مارا ہے جبکہ دوسری جانب میڈیکل کالج والوں نے ایک ہفتہ کے لیئے کالج بند کردیا ہے ۔
کالج کا ایسے بند ہونا بہت سے شکوک پیدا کر رہا ہے جبکہ بچی کے متعلق یہی کہا جارہا ہے کہ وہ انتہائی شریف اپنے کام سے کام رکھنے والی بچی تھی۔
اس نے پہلے بھی اپنی کلاسز میں ٹاپ کیا دوسرا والدین کہتے ہیں کہ ہماری بچی کو کوئی ڈپریشن نہیں تھا ۔
پوسٹ مارٹم میں بچی کے سر پہ گہری چوٹ کا بتایا گیا ہے کہ اس چوٹ کے بعد وہ اللہ کو پیاری ہوئی ۔
اب بات یہ ہے کہ اگر بچی نے واقعی ہی خودکشی کی ہوتی تو یونیورسٹی کو اچانک بند نہ کیا جاتا اس کا مطلب یہی ہے کہ کچھ تو چھپایا جارہا ہے۔
انصاف کے لیے آواز اٹھائیں