18/04/2026
کریمینل ٹرائل کا مکمل طریقہ کار
میں فوجداری ٹرائل (Criminal Trial)
فوجداری (CrPC) اور قانون شہادت (QSO) کے تحت مکمل ہوتا ہے۔ ذیل میں ایف آئی آر سے لے کر فیصلے تک کے تمام مراحل اردو میں تفصیل کے ساتھ درج ہیں:
1. ابتدائی معلوماتی رپورٹ (FIR) - دفعہ 154 CrPC
کسی بھی قابل دست اندازی جرم (Cognizable Offence) کی اطلاع ملنے پر پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ یہ ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے۔
قانون شہادت (QSO): ایف آئی آر بذات خود کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ قانون کو حرکت میں لانے کا ایک ذریعہ ہے۔ (حوالہ: PLD 2022 SC 45)
2. تفتیش اور چالان - دفعہ 156 تا 173 CrPC
ایف آئی آر کے بعد تفتیشی افسر جائے وقوعہ کا معائنہ کرتا ہے، نقشہ بناتا ہے اور گواہوں کے بیانات (دفعہ 161 CrPC کے تحت) ریکارڈ کرتا ہے۔
چالان (دفعہ 173): تفتیش مکمل ہونے پر پولیس اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرواتی ہے جسے چالان کہا جاتا ہے۔
3. نقول کی تقسیم - دفعہ 241-A (مجسڑیٹ) / 265-C (سیشن)
فردِ جرم عائد کرنے سے کم از کم 7 دن پہلے ملزم کو پولیس رپورٹ، ایف آئی آر، اور گواہوں کے بیانات کی نقول فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنا دفاع تیار کر سکے۔
4. فردِ جرم (Framing of Charge) - دفعہ 242 / 265-D
عدالت ملزم کو اس پر لگے الزامات پڑھ کر سناتی ہے۔
اگر ملزم صحت جرم سے انکار کرے تو عدالت ٹرائل شروع کرنے کا حکم دیتی ہے۔
قانونی نکتہ: فردِ جرم میں غلطی ٹرائل کو اس وقت تک کالعدم نہیں کرتی جب تک اس سے ملزم کے دفاع کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ (دفعہ 221-225 CrPC)
5. استغاثہ کی شہادت (Prosecution Evidence)
یہ ٹرائل کا سب سے اہم مرحلہ ہے جہاں قانون شہادت کے درج ذیل اصول لاگو ہوتے ہیں:
بیانِ حلفی (Examination-in-Chief): استغاثہ کا گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرواتا ہے (Article 132 QSO)۔
جرح (Cross-Examination): ملزم کا وکیل گواہ سے سوالات کرتا ہے تاکہ سچائی کا پتا لگایا جا سکے (Article 133 QSO)۔
عدالتی فیصلہ: جرح کے بغیر بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ (حوالہ: 2019 SCMR 129)
6. ملزم کا بیان - دفعہ 342 CrPC
استغاثہ کی شہادت مکمل ہونے کے بعد عدالت ملزم کو اپنے خلاف آنے والے ثبوتوں کی صفائی کا موقع دیتی ہے۔
اہمیت: اگر کوئی ثبوت دفعہ 342 کے بیان میں ملزم کے سامنے نہیں رکھا گیا، تو وہ اسے سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ (حوالہ: PLD 2017 SC 717)
7. صفائی کی شہادت - دفعہ 340(2) CrPC
ملزم چاہے تو حلف پر بیان دے کر خود کو بطور گواہ پیش کر سکتا ہے یا اپنے دفاع میں گواہان پیش کر سکتا ہے۔
8. حتمی بحث (Final Arguments)
دونوں اطراف کے وکلاء اپنے اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے ہیں اور عدالتی نظائر (Judgements) پیش کرتے ہیں۔
9. فیصلہ (Judgement) - دفعہ 366/367 CrPC
عدالت تمام شہادتوں اور دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سناتی ہے۔
شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): اگر کیس میں معمولی سا بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف ملزم کو ملے گا اور اسے بری کر دیا جائے گا۔ (حوالہ: PLD 2020 SC 249).