Advocate Farhan Ullah malik

  • Home
  • Advocate Farhan Ullah malik

Advocate Farhan Ullah malik Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advocate Farhan Ullah malik, Criminal lawyer, Peshawar High Court, .

Your Trusted Legal Partner | Advocate Farhan ullah malik | Providing compassionate and results-driven legal services | Let's work together to achieve justice and resolve your legal concerns."

18/04/2026

کریمینل ٹرائل کا مکمل طریقہ کار

میں فوجداری ٹرائل (Criminal Trial)
فوجداری (CrPC) اور قانون شہادت (QSO) کے تحت مکمل ہوتا ہے۔ ذیل میں ایف آئی آر سے لے کر فیصلے تک کے تمام مراحل اردو میں تفصیل کے ساتھ درج ہیں:
​1. ابتدائی معلوماتی رپورٹ (FIR) - دفعہ 154 CrPC
​کسی بھی قابل دست اندازی جرم (Cognizable Offence) کی اطلاع ملنے پر پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ یہ ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے۔
​قانون شہادت (QSO): ایف آئی آر بذات خود کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ قانون کو حرکت میں لانے کا ایک ذریعہ ہے۔ (حوالہ: PLD 2022 SC 45)
​2. تفتیش اور چالان - دفعہ 156 تا 173 CrPC
​ایف آئی آر کے بعد تفتیشی افسر جائے وقوعہ کا معائنہ کرتا ہے، نقشہ بناتا ہے اور گواہوں کے بیانات (دفعہ 161 CrPC کے تحت) ریکارڈ کرتا ہے۔
​چالان (دفعہ 173): تفتیش مکمل ہونے پر پولیس اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرواتی ہے جسے چالان کہا جاتا ہے۔
​3. نقول کی تقسیم - دفعہ 241-A (مجسڑیٹ) / 265-C (سیشن)
​فردِ جرم عائد کرنے سے کم از کم 7 دن پہلے ملزم کو پولیس رپورٹ، ایف آئی آر، اور گواہوں کے بیانات کی نقول فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنا دفاع تیار کر سکے۔
​4. فردِ جرم (Framing of Charge) - دفعہ 242 / 265-D
​عدالت ملزم کو اس پر لگے الزامات پڑھ کر سناتی ہے۔
​اگر ملزم صحت جرم سے انکار کرے تو عدالت ٹرائل شروع کرنے کا حکم دیتی ہے۔
​قانونی نکتہ: فردِ جرم میں غلطی ٹرائل کو اس وقت تک کالعدم نہیں کرتی جب تک اس سے ملزم کے دفاع کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ (دفعہ 221-225 CrPC)
​5. استغاثہ کی شہادت (Prosecution Evidence)
​یہ ٹرائل کا سب سے اہم مرحلہ ہے جہاں قانون شہادت کے درج ذیل اصول لاگو ہوتے ہیں:
​بیانِ حلفی (Examination-in-Chief): استغاثہ کا گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرواتا ہے (Article 132 QSO)۔
​جرح (Cross-Examination): ملزم کا وکیل گواہ سے سوالات کرتا ہے تاکہ سچائی کا پتا لگایا جا سکے (Article 133 QSO)۔
​عدالتی فیصلہ: جرح کے بغیر بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ (حوالہ: 2019 SCMR 129)
​6. ملزم کا بیان - دفعہ 342 CrPC
​استغاثہ کی شہادت مکمل ہونے کے بعد عدالت ملزم کو اپنے خلاف آنے والے ثبوتوں کی صفائی کا موقع دیتی ہے۔
​اہمیت: اگر کوئی ثبوت دفعہ 342 کے بیان میں ملزم کے سامنے نہیں رکھا گیا، تو وہ اسے سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ (حوالہ: PLD 2017 SC 717)
​7. صفائی کی شہادت - دفعہ 340(2) CrPC
​ملزم چاہے تو حلف پر بیان دے کر خود کو بطور گواہ پیش کر سکتا ہے یا اپنے دفاع میں گواہان پیش کر سکتا ہے۔
​8. حتمی بحث (Final Arguments)
​دونوں اطراف کے وکلاء اپنے اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے ہیں اور عدالتی نظائر (Judgements) پیش کرتے ہیں۔
​9. فیصلہ (Judgement) - دفعہ 366/367 CrPC
​عدالت تمام شہادتوں اور دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سناتی ہے۔
​شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): اگر کیس میں معمولی سا بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف ملزم کو ملے گا اور اسے بری کر دیا جائے گا۔ (حوالہ: PLD 2020 SC 249).

23/03/2026

Advocate Malak Farhan ullah



06/02/2025
06/02/2025

Welcome to my official page!

I'm Advocate Farhan Ullah, providing expert legal guidance and representation.

Stay tuned for updates on legal news, tips, and advice.

میری آفیشل فیس بک پیج پر خوش آمدید! میں ایڈووکیٹ فرحان اللہ ہوں، جو قانونی رہنمائی اور نمائندگی فراہم کرتا ہوں۔ قانونی خبروں، تجاویز اور مشوروں کے بارے میں اپ ڈیٹس کے لیے جڑے رہیں

Address

Peshawar High Court

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 22:00
Thursday 09:00 - 22:00
Friday 09:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00
Sunday 09:00 - 22:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Farhan Ullah malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Law Practice?

Share