Adv Faizan alich Tax consultant

  • Home
  • Adv Faizan alich Tax consultant

Adv Faizan alich Tax consultant Tax or corporate legal firm

03/06/2026

*نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2026: آسان ریٹرن کا دور ختم، مکمل مالی شفافیت کا آغاز*

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے لیے نیا مجوزہ الیکٹرانک انکم ٹیکس ریٹرن فارم جاری کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ ڈرافٹ فارم *SRO 835(I)/2026* کے تحت جاری کیا گیا ہے اور اسٹیک ہولڈرز، ٹیکس پریکٹیشنرز، بزنس کمیونٹی اور ٹیکس گزاروں سے سات دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔ یہ فارم ابھی حتمی نہیں بلکہ مجوزہ مرحلے میں ہے، مگر اس کے خدوخال یہ بتا رہے ہیں کہ ایف بی آر اب ریٹرن کو صرف آمدنی کے ایک سادہ بیان کے بجائے مکمل مالی سرگرمیوں کی سالانہ سمری بنانا چاہتا ہے۔

اس نئے فارم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس گزار کو اب اپنی معاشی سرگرمیوں کی تفصیل زیادہ منظم انداز میں دینی ہوگی۔ ایف بی آر کے ڈرافٹ انسٹرکشنز کے مطابق سسٹم میں موجود معاشی لین دین کا ڈیٹا اشارتی ہوگا اور وقت کے ساتھ اپڈیٹ ہوتا رہے گا، مگر درست آمدنی اور درست ٹیکس رپورٹ کرنا پھر بھی ٹیکس گزار کی اپنی ذمہ داری رہے گی۔

*تنخواہ دار طبقہ سب سے پہلے متاثر ہوگا*

نئے فارم میں تنخواہ دار افراد کو صرف سالانہ تنخواہ لکھنے سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں اپنے ایمپلائر کا نام، رجسٹریشن نمبر اور سال بھر میں کاٹے گئے ٹیکس کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کا عملی اثر یہ ہوگا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس نہیں کاٹ رہی تو ریٹرن فائل کرنے والے ملازمین کے ڈیٹا سے ایف بی آر کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ فلاں ایمپلائر نے تنخواہ دی مگر ودہولڈنگ ٹیکس جمع نہیں کرایا۔

یہاں سے *سیکشن 161* کے تحت ایمپلائر کے خلاف کارروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ جہاں ودہولڈنگ ایجنٹ ٹیکس کاٹنے کا پابند تھا مگر اس نے ٹیکس نہیں کاٹا، وہاں محکمہ اس واجب الادا رقم کا مطالبہ ودہولڈنگ ایجنٹ سے کر سکتا ہے۔ اسی لیے تنخواہ دار افراد اور ایمپلائرز دونوں کو جون 2026 کے اختتام سے پہلے اپنی ودہولڈنگ پوزیشن درست کر لینی چاہیے۔

*کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر آمدنی میں بھی تفصیل لازمی ہوگی*

پہلے کئی ٹیکس گزار پراپرٹی انکم، دیگر آمدنی یا زرعی آمدنی کو ایک ہی مجموعی رقم کے طور پر ظاہر کر دیتے تھے۔ اب رجحان یہ ہے کہ ہر پراپرٹی، ہر ادارے، ہر ذریعہ آمدنی اور زرعی زمین کی تفصیلات الگ الگ مانگی جائیں گی۔ پراپرٹی رینٹ کی صورت میں یہ بتایا جائے گا کہ کس پراپرٹی سے کتنا کرایہ آیا، اس کے خلاف کون سے قابل قبول اخراجات کلیم کیے گئے، اور خالص آمدنی کیا بنی۔

اسی طرح زرعی آمدنی میں صرف ایک رقم لکھ دینا کافی نہیں رہے گا۔ زرعی زمین کی جگہ، کھاتہ یا سروے نمبر، رقبہ، فصل، آمدنی اور متعلقہ صوبائی ریکارڈ سے مطابقت اہم ہو سکتی ہے۔ سندھ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں زرعی آمدنی کے صوبائی قوانین کے تحت پہلے سے جمع شدہ ریکارڈ کو انکم ٹیکس ریٹرن سے ہم آہنگ رکھنا ضروری ہوگا۔

*کاروباری طبقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ: ودہولڈنگ ٹیکس کی کراس میچنگ*

نئے فارم کا اصل مقصد صرف آمدنی پوچھنا نہیں بلکہ پورے مالی نظام کو کراس میچ کرنا ہے۔ کاروباری ادائیگیاں، وصولیاں، ودہولڈنگ ٹیکس، بینک ٹرانزیکشنز، سپلائرز اور کسٹمرز کا ڈیٹا ایک دوسرے سے ملایا جا سکے گا۔ اگر ایک شخص اپنے ریٹرن میں کسی کمپنی سے آمدنی یا ادائیگی ظاہر کرتا ہے، مگر دوسری طرف کمپنی نے اس پر ٹیکس نہیں کاٹا یا جمع نہیں کرایا، تو ایف بی آر کے لیے سیکشن 161 کے تحت سوال اٹھانا آسان ہو جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ریٹرن فائلنگ صرف “آمدنی لکھنے” کا کام نہیں رہے گا بلکہ ہر رقم کے پیچھے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کاروباری ہے یا نان بزنس، قابل ٹیکس ہے یا نہیں، اس پر ٹیکس کٹنا چاہیے تھا یا نہیں، اور اگر کٹا ہے تو CPR یا ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ سے اس کا ثبوت موجود ہے یا نہیں۔

*ریفنڈ سسٹم میں ممکنہ بہتری*

ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ نئے فارم میں ریفنڈ کے لیے بینک اکاؤنٹ اور ودہولڈنگ ڈیٹا کو زیادہ منظم طریقے سے شامل کرنے کا تصور نظر آتا ہے۔ اگر یہ نظام عملی طور پر درست کام کرے تو ٹیکس گزار کو ریفنڈ کے لیے بار بار ٹیکس آفس جانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ سہولت اسی وقت کارآمد ہوگی جب ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، بینک اکاؤنٹ، CNIC/NTN اور ریٹرن کا ڈیٹا آپس میں مکمل طور پر میچ کر رہا ہو۔

*فارم مئی میں جاری ہونا ایک بڑا اشارہ ہے*

عام طور پر ریٹرن فارم جولائی کے قریب آتے رہے ہیں، لیکن اس سال مئی میں ڈرافٹ فارم سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر فائلنگ سیزن کو یکم جولائی 2026 سے منظم طریقے سے شروع کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیکس ماہرین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جلد ڈرافٹ جاری کرنے کا مقصد ٹیکس گزاروں کو یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک مکمل فائلنگ وقت دینا ہو سکتا ہے۔

*ٹیکس گزاروں کے لیے عملی احتیاط*

ٹیکس سال 2026 کے لیے ہر ٹیکس گزار کو 30 جون کے بعد فوراً اپنا مکمل ڈیٹا ترتیب دینا چاہیے۔ بینک اسٹیٹمنٹ، تنخواہ سرٹیفکیٹ، کرایہ نامہ، پراپرٹی تفصیل، زرعی آمدنی کا ریکارڈ، خرید و فروخت، ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، گاڑی، جائیداد، بینک بیلنس اور سرمایہ کاری کی مکمل تفصیل پہلے سے تیار رکھی جائے۔

تنخواہ دار افراد خاص طور پر اپنے ایمپلائر سے یہ تصدیق کریں کہ ان کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس کاٹا اور جمع کرایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ایمپلائر نے ٹیکس نہیں کاٹا اور ملازم نے ریٹرن میں تنخواہ ظاہر کر دی تو بعد میں ایمپلائر پر ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے کا معاملہ بن سکتا ہے۔ پھر ایمپلائر ملازم سے رقم مانگے گا، جبکہ ملازم یہ کہے گا کہ اس نے اپنی طرف سے ریٹرن کے ساتھ ٹیکس ادا کر دیا تھا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جون کے اندر اندر سالانہ ٹیکس کی پوزیشن صاف کر لی جائے۔

نیا ریٹرن فارم بظاہر مشکل، تفصیلی اور عام آدمی کے لیے پیچیدہ ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: اب ایف بی آر صرف اعلان کردہ آمدنی نہیں دیکھے گا بلکہ بینک، ودہولڈنگ، کاروباری لین دین، تنخواہ، کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھے گا۔

لہٰذا اس سال ریٹرن فائلنگ میں جلد بازی، اندازے، غیر مکمل بینک سمری، یا بغیر قانونی سمجھ بوجھ کے فارم جمع کرانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر ٹیکس گزار کو چاہیے کہ وہ اپنا ریٹرن کسی ایسے ماہر سے تیار کرائے جو صرف فارم بھرنا نہ جانتا ہو بلکہ قانون، اکاؤنٹس، بینکنگ ٹرانزیکشنز، ودہولڈنگ ٹیکس اور قابل قبول اخراجات کی مکمل سمجھ رکھتا ہو۔

ٹیکس ریٹرن اب صرف ایک سالانہ رسم نہیں رہا، بلکہ آپ کی مکمل مالی پروفائل کا قانونی بیان بن چکا ہے۔ اس لیے احتیاط، تیاری اور درستمشاورت ہی بہترین تحفظ ہے.
Adv Faizan ali maahii

31/05/2026

ایف بی آر (FBR) کا پراپرٹی ڈیلرز، جیولرز اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع

ایف بی آر (FBR) کی حالیہ کارروائی نے کاروباری حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یہ کوئی وقتی ہنگامی نوٹس نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین (AML/CFT) کا ایک ناگزیر حصہ ہے، جس پر اب ایف بی آر پوری سختی سے عمل درآمد کر رہا ہے۔ حکومت کا بنیادی مقصد ایسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے جہاں نقد رقوم کا بڑا لین دین ہوتا ہے، تاکہ ملک میں مالیاتی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور منی لانڈرنگ کے خطرات کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
لیکن ڈی این ایف بی پی (DNFBP) اصل میں ہے کیا؟ آسان الفاظ میں، یہ وہ کاروباری افراد یا پیشہ ور لوگ ہیں جو بینک تو نہیں ہیں، لیکن ان کے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ ان کے ذریعے بڑی رقوم کا لین دین ہوتا ہے۔ عالمی قوانین (جیسے ایف اے ٹی ایف) کے تحت ان پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ کاروبار کسی بھی قسم کی منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی فنانسنگ کا ذریعہ نہ بن سکیں۔ اس زمرے میں رئیل اسٹیٹ ڈیلرز، جیولرز، اور کچھ مخصوص صورتوں میں اکاؤنٹنٹ اور وکلاء بھی شامل ہیں جو اپنے کلائنٹس کے مالی معاملات سنبھالتے ہیں۔
اس کارروائی کا ہدف بنیادی طور پر وہ شعبے ہیں جنہیں بین الاقوامی معیارات کے مطابق "ہائی رسک" قرار دیا گیا ہے۔ ان میں رئیل اسٹیٹ ڈیلرز، پراپرٹی بروکرز، اور قیمتی دھاتوں اور جواہرات کے تاجر (جیولرز) سرِفہرست ہیں۔ اگر ان شعبوں سے وابستہ افراد نے ایف بی آر کے پاس بطور ڈی این ایف بی پی (DNFBP) رجسٹریشن نہیں کروائی، تو قانون کے مطابق ان کے گرد گھیرا تنگ ہو سکتا ہے۔ ایف بی آر اب اپنے جدید ڈیٹا بیس کے ذریعے ایسے غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی نشاندہی کر رہا ہے، اور بینکوں کو واضح ہدایات دی جا رہی ہیں کہ ایسے اکاؤنٹس کو مشکوک قرار دے کر عارضی طور پر بلاک کر دیا جائے، جب تک کہ متعلقہ فرد اپنی رجسٹریشن کا ٹھوس ثبوت فراہم نہ کر دے۔
خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ اگر آپ کا تعلق ان شعبوں سے ہے اور آپ کی رقوم کی ترسیل انہی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ہوتی ہے، تو آپ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے اکاؤنٹ کے ساتھ رجسٹریشن کی ضروری دستاویزات منسلک نہیں ہیں، تو فنڈز کی عارضی بندش آپ کی کاروباری ساکھ اور ذاتی سہولت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ لہذا، وقت رہتے اپنی قانونی حیثیت کو واضح کرنا ہی دانشمندی ہے۔
رجسٹریشن کے بغیر کام کرنا اب آپ کے کاروبار کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بطور ڈی این ایف بی پی رجسٹرڈ ہونے کا مطلب ہے کہ آپ قانون کی نظر میں ایک ذمہ دار کاروباری شخصیت ہیں۔ اس کے ساتھ آپ پر اپنے کلائنٹس کی شناخت (-KNOW YOUR CUSTOMERS - KYC) کی تصدیق کرنا، تمام بڑے لین دین کا ریکارڈ رکھنا، اور کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹنگ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سب اقدامات نہ صرف آپ کے کاروبار کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں، بلکہ ایف بی آر کے ساتھ آپ کے معاملات کو بھی شفاف بناتے ہیں۔
سب سے پہلے اپنے NTN کا اسٹیٹس چیک کروائیں۔ اگر آپ ان شعبوں سے وابستہ ہیں اور رجسٹریشن مکمل نہیں ہے، تو ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس (IRIS) سسٹم کے ذریعے اسے فوری طور پر مکمل کریں۔ اپنے کاروبار سے متعلق تمام دستاویزات، بشمول ملکیتی یا کرایہ داری کے ثبوت اور لین دین کا ریکارڈ ترتیب سے رکھیں۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو آپ کو قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ کے کاروبار کو ایک مستحکم اور باوقار پہچان بھی دے گا۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
* Adv Faizan alich Tax consultant *
Lex Terrae Faizan Ali CH

07/05/2026

7 May 2026

🚨 Major Relief for Property Owners: Section 7E is Officially History Now! 🏛️🚫✔️

*The Federal Constitutional Court just struck down Section 7E of the Income Tax Ordinance, declaring it _ultra vires_ (unconstitutional). If you’ve been following this real estate rollercoaster, you know this is a huge deal.*
Judgment is reserved for record ✅

Adv Faizan alich Tax consultant

05/05/2026

بریکنگ نیوز
ایف بی آر کا 683 ارب روپے شارٹ فال، سخت ریکوری اقدامات کا فیصلہ۔

۔Federal Board of Revenue (FBR) نے مالی سال 2025-26 میں 683 ارب روپے کے بڑے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، جس میں مئی اور جون کے دوران سخت ریکوری اقدامات پر غور کیا گیا۔

اجلاس چیئرمین Rashid Mahmood Langrial کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تمام اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اہم فیصلے اور اقدامات:
بقایا ٹیکس کی ریکوری تیز کرنے کا فیصلہ
ایسے ٹیکس دہندگان پر embargo (پابندیاں) لگانے کی تجویز، جو ادائیگی سے گریز کر رہے ہیں ۔

عدالتوں سے اسٹے ختم ہونے والے کیسز میں بینک اکاؤنٹس اٹیچ کیے جائیں گے ۔

چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ادائیگی نہ کرنے والوں کے خلاف سخت نفاذی کارروائیاں ہوں گی۔

واضح کیا گیا کہ کوئی نیا ٹیکس یا منی بجٹ نہیں آئے گا بلکہ توجہ صرف ریکوری پر ہوگی ۔

مزید ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات دینے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ بقایا جات کی وصولی کیلئے ہر ممکن قانونی اقدام کریں۔

مکمل خبر پڑھیں (اصل سورس):
Business Recorder مکمل خبر
متعلقہ خبر (تفصیل):
مزید تفصیل - Pakistan Today
Adv Faizan alich Tax consultant
Lex Terrae
Faizan Ali CH

29/04/2026
For free consultation Only Whatsapp Adv Faizan alich Tax consultant  Faizan Ali CH
29/04/2026

For free consultation

Only Whatsapp
Adv Faizan alich Tax consultant
Faizan Ali CH

Tax season Follow for more updates Lex Terrae Faizan Ali CH Adv Faizan alich Tax consultant
14/04/2026

Tax season

Follow for more updates
Lex Terrae
Faizan Ali CH
Adv Faizan alich Tax consultant

 Be a Pakistani and buy a Pakistani products
06/04/2026



Be a Pakistani and buy a Pakistani products

Ramadan Mubarak 🕊️💐❣️
18/02/2026

Ramadan Mubarak 🕊️💐❣️

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Faizan alich Tax consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Law Practice?

Share