Free Legal Advice

  • Home
  • Free Legal Advice

Free Legal Advice We are Multan based Firm

*پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں 2026 کی تاریخی ترامیم: "کاغذ سے کلاؤڈ تک"**21 مئی 2026* کو پنجاب اسمبلی نے "The Punjab ...
10/06/2026

*پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں 2026 کی تاریخی ترامیم: "کاغذ سے کلاؤڈ تک"*

*21 مئی 2026* کو پنجاب اسمبلی نے "The Punjab Land Revenue Amendment Act 2026" منظور کر کے 1967 کے 58 سال پرانے نظام کی جڑیں ہلا دیں۔ یہ ترامیم محض الفاظ کی تبدیلی نہیں، بلکہ پنجاب کی 6 کروڑ عوام کی زمین کا نظام "پٹواری کلچر سے ARC کلچر" کی طرف شفٹ کر گئی ہیں۔

*1. مسئلہ کیا تھا؟ 3 بڑی بیماریاں*
1. *تاخیر*: وراثتی تقسیم 20-25 سال۔ "دادا کا کیس، پوتا لڑ رہا تھا"
2. *بدعنوانی*: انتقال = پٹواری کی جیب۔ بغیر 20-50 ہزار کام نہیں ہوتا تھا
3. *لٹکاؤ*: AC کا فیصلہ → کلکٹر اپیل → کمشنر ریویژن → بورڈ ریویژن → سول کورٹ۔ ایک کیس 4 فورم پر

*2. 2026 کا حل: 7 انقلابی تبدیلیاں*

*1. رجسٹری = انتقال*
اب رجسٹرار کی ڈیجیٹل اطلاع ملتے ہی زمین ریکارڈ خود اپ ڈیٹ ہو جائے گی۔ AC صرف 1 ماہ میں "تصدیق" کرے گا۔ پٹواری کے چکر ختم۔ PLRA + ای-اسٹامپ + لینڈ ریکارڈ ایک ہو گئے۔

*2. تقسیم 60 دن میں، لازمی*
نئی دفعہ 142-A: وراثتی انتقال منظور ہوتے ہی AC کے پاس 60 دن کی ڈیڈ لائن۔ فیصلہ نہ کیا تو کیس خود کلکٹر کے پاس چلا جائے گا اور AC کے خلاف محکمانہ کارروائی۔ تاریخ پر تاریخ کا کھیل ختم۔

*3. AC کو مکمل اختیار*
دفعہ 44، 117، 141 کے تحت اب تحصیلدار خود:
- زمین کے عنوان کا تنازعہ سنے گا
- ناجائز قابض سے 10,000 جرمانہ لے کر قبضہ واپس دلائے گا
- حدبندی کرے گا، پولیس ساتھ لے جائے گا

*4. سول کورٹ کا دروازہ بند*
دفعہ 172: زمین کا ریکارڈ، انتقال، تقسیم، حدبندی - یہ سب "ریونیو کا کام" ہے۔ سول کورٹ دخل نہیں دے سکتی۔ 30 سال کی فورم شاپنگ ختم۔

*5. جرمانے 200 گنا بڑھ گئے*
دفعہ 118: حدبندی میں رکاوٹ = 50 روپے سے 10,000 روپے
دفعہ 175-A: ریکارڈ میں جعل سازی = 500 روپے سے 1 لاکھ روپے
دفعہ 134: ریکارڈ میں ردوبدل = کلکٹر 10 لاکھ تک جرمانہ کرے گا

*6. "بھائی خود بانٹ لو" سکیم*
نئی دفعہ 135-A: ورثاء اگر آپس میں راضی ہیں تو 1 سال کے اندر "پرائیویٹ پارٹیشن اسکیم" AC سے تصدیق کروا لیں۔ AC صرف چیک کرے گا۔ نہ بانٹو تو AC 60 دن میں زبردستی بانٹ دے گا۔

*7. ڈیجیٹل نوٹس + ڈیجیٹل سروے*
دفعہ 6: سمن اب واٹس ایپ، SMS، ای میل پر بھی جائے گا۔ 7 دن کا وقت۔
دفعہ 119: موضع کی GPS/ڈرون سروے کا خرچہ مالکان دیں گے۔ نہ دو تو زمین سے وصولی۔

*3. عام آدمی کو کیا فائدہ؟*
1. *زمین بیچو*: رجسٹری کرو، گھر جاؤ۔ انتقال خود ہو جائے گا
2. *وراثت لو*: والد کے مرنے کے بعد 60 دن میں زمین اپنے نام + حصہ الگ
3. *قبضہ چھڑاؤ*: کسی نے زمین دبا لی؟ AC کو درخواست دو، وہ ناپ کر پولیس کے ساتھ واپس دلائے گا
4. *فراڈ سے بچو*: جھگڑے والی زمین پر AC فوراً "فروخت ممنوع" لگا دے گا۔ کوئی بیچ نہیں سکے گا

*4. نتیجہ: 1 لائن کا خلاصہ*
2026 کی ترامیم کا مقصد صرف ایک ہے: *"زمین کا انصاف 120 دن میں، پٹواری کے بغیر، سول کورٹ کے بغیر"*۔

یہ ایکٹ 21 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں نافذ ہے۔ اب اگر آپ کی زمین کا کوئی مسئلہ ہے تو وکیل کے بجائے تحصیلدار کے دفتر جائیں اور دفعہ 142-A کے تحت درخواست دیں۔ 60 دن کی ڈیڈ لائن قانون نے لکھ دی ہے۔

زمین اب کاغذ پر نہیں، کلاؤڈ پر ہے۔ اور انصاف اب فائل پر نہیں، ڈیڈ لائن پر ہے۔

حکومتِ پنجاب اور بورڈ آف ریونیو نے صوبے بھر میں زمینوں کے نظام کو یکسرتبدیل کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ 30 جون کے ب...
10/06/2026

حکومتِ پنجاب اور بورڈ آف ریونیو نے صوبے بھر میں زمینوں کے نظام کو یکسرتبدیل کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ 30 جون کے بعد پٹوار خانوں سے روایتی اور ہاتھ سے لکھی جانے والی مینوئل فرد کا اجرا قانونی طور پر مکمل بند کر دیا جائے گا۔
حکومتی احکامات کے مطابق مینوئل فرد کی جگہ اب شہریوں کو زمین کی ملکیت کے ثبوت کے طور پر ایک جدید اور کمپیوٹرائزڈ "گرین سرٹیفکیٹ لیٹر" (Green Certificate Letter) جاری کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد اراضی ریکارڈ میں پٹواریوں کی ملی بھگت سے ہونے والی جعل سازی، ریکارڈ میں ہیر پھیر اور زمین کے دیرینہ تنازعات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 30 جون کی ڈیڈ لائن کے بعد دستی نظام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ شہری اپنی اراضی کا ریکارڈ اور فرد حاصل کرنے کے لیے پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) کے کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سینٹرز، ای خدمت مراکز یا پی ایل آر اے کی آن لائن موبائل ایپ اور پورٹل سے بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس نئے ڈیجیٹل نظام سے پٹوار خانوں کے چکر کاٹنے اور رشوت خوری کے کلچر سے عوام کو بڑی راحت ملے گی...!!!

طلاق کی منسوخی کے بعد شوہر پر ریپ کا مقدمہ قائم نہیں ہو سکتا — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم ف...
09/06/2026

طلاق کی منسوخی کے بعد شوہر پر ریپ کا مقدمہ قائم نہیں ہو سکتا — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا کہ اگر شوہر طلاق کو قانونی مدت کے اندر واپس لے لے (Revocation of Divorce)، تو نکاح برقرار رہتا ہے اور ازدواجی تعلق قانوناً ختم نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں شوہر کے خلاف دفعہ 376 کے تحت ریپ کا مقدمہ نہیں بنتا کیونکہ نکاح قانونی طور پر موجود تصور ہوگا۔

عدالت نے واضح کیا کہ صرف FIR میں لگائے گئے الزامات کافی نہیں، بلکہ جرم کے تمام ضروری قانونی تقاضوں کا پورا ہونا لازم ہے۔ اگر مقدمہ بدنیتی، غلط فہمی یا قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہو تو ہائی کورٹ اپنے آئینی اختیار کے تحت ایسے مقدمات کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

یہ فیصلہ فیملی لا، طلاق، نکاح اور فوجداری مقدمات سے متعلق ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اگر آپ کو بھی فیملی معاملات، طلاق، FIR، یا دیگر قانونی مسائل کا سامنا ہے تو اپنے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی رہنمائی حاصل کریں۔ ⚖️

پنجاب میں ناجائز قابضین اپنا اپنا سامان باندھ لیں ۔اور کوئی اور کام ڈھونڈ لیں کیونکہ قانون حرکت میں آچکا ہے۔ باقاعدہ ٹرب...
09/06/2026

پنجاب میں ناجائز قابضین اپنا اپنا سامان باندھ لیں ۔
اور کوئی اور کام ڈھونڈ لیں کیونکہ قانون حرکت میں آچکا ہے۔
باقاعدہ ٹربیونل بنا دیے گئے ہیں
پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز نامزد

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونلز مقرر کرکے فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کردی جبکہ مجموعی طور پر 575 کیسز میں حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے تمام کیسز ٹربیونلز کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔ ٹربیونلز کو قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کرانے ،جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

09/06/2026

*آپ نے کبھی چرس پی ہے ؟ سپریم کورٹ کے جج کا اے این ایف کے ا هلکار سے سوال*

*چوہدری مجاہد حسین CCR*

*سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ، نازیہ خواجہ مختار کی 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر تے ہوئے اے این ایف کی مبینہ جعلی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔*

عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم جاری کردیا۔

دوران سما عت فاضل جج نے فوٹیج میں نظر *آنے والے اے این ایف اہلکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’جوانی ہمیشہ نہیں رہنی،کچھ خیال کیا کرو‘۔*

*جج نے اس سے استفسار کیا، کیا آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ تو اس نے جواب دیا، "نہیں سر، میں نے کبھی چرس نہیں پی، جس پر فاضل جج نے ازرا تفنن جملہ کسا، چرس نہیں پی، اسی لیے آپ میں احساس بھی نہیں۔*

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے...
09/06/2026

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے کے روایتی انداز پر اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر دفعہ 164 کا بیان مروجہ طریقہ کار (ویڈیو ریکارڈنگ اور جرح کے موقع) کے بغیر ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا یہ فیصلہ ایک ملزم، **سونارا خان عرف سونہارا خان**، کی بعد از گرفتاری ضمانت (Post-arrest Bail) کی منظوری سے متعلق ہے، جس پر ایک نابالغ لڑکی سے جنسی بدسلوکی (سیکشن 377-B تعزیراتِ پاکستان - PPC) کا الزام تھا۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درج ذیل اہم نکات اور قانونی اصولوں کی وضاحت کی ہے:

# # # 1۔ کیس کا پس منظر اور الزامات

* **ایف آئی آر (FIR) کا موقف:** متاثرہ لڑکی کی ماں (شکایت کنندہ) کے مطابق، 12 جولائی 2025ء کو اس کی 14/15 سالہ بیٹی (K.B.) گنے کے کھیت میں چارہ کاٹ رہی تھی کہ ملزم سونارا خان اور اس کے ساتھی طاہر نے اسے اکیلا پا کر نازیبا اشارے کیے، ہراساں کیا اور اس کے نازک اعضاء کو ہاتھ لگایا۔ لڑکی کے شور مچانے پر جب گھر والے پہنچے تو ملزم فرار ہو گئے۔

* **سیکشن 161 کا بیان:** پولیس تفتیش کے دوران لڑکی اور گواہان نے پہلے اسی کہانی کی تصدیق کی۔

# # # 2۔ ملزم کے وکیل کا مؤقف اور تضاد

ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بے گناہ ہے اور اسے جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب مجسٹریٹ کے سامنے لڑکی کا **دفعہ 164 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت بیان** ریکارڈ کیا گیا، تو اس نے بالکل الگ کہانی سنائی۔

> **لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان:** لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ ملزم نے صرف اس کی کلائی پکڑی تھی اور اسے پیسے دکھائے تھے، جس پر اس نے شور مچا دیا۔ اس بیان میں نازک اعضاء کو چھونے یا جنسی بدسلوکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

>

# # # 3۔ عدالت کی قانونی تشریحات (دفعہ 164 اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021)

عدالت نے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے جانے والے بیانات کی قانونی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی:

* **بغیر جرح کے بیان کی حیثیت:** اگر دفعہ 164 کا بیان ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے اور ملزم کے وکیل کو جرح (Cross-examination) کا موقع نہ ملے، تو اسے ٹرائل کے دوران بنیادی ثبوت (Substantive Evidence) کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اسے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ مانا جائے گا اور ضمانت کے مرحلے پر تضاد پرکھنے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔

* **اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی:** عدالت نے نوٹ کیا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیان لازمی طور پر **ویڈیو ریکارڈ** ہونا چاہیے اور ملزم کے وکیل کو **جرح کا موقع** ملنا چاہیے، لیکن اس کیس میں مجسٹریٹ نے ان دونوں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔

# # # 4۔ عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی وجہ

عدالت نے پایا کہ ایف آئی آر اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیان میں **شدید تضاد** ہے۔

* سیکشن 377-B (جنسی بدسلوکی) صرف تب لاگو ہوتا ہے جب چھونا، ٹٹولنا یا کوئی فحش حرکت ثابت ہو۔ جبکہ لڑکی کے اپنے بیان کے مطابق ملزم نے صرف ہاتھ پکڑا، جو کہ دفعہ 354 PPC (عورت کی حیا پر حملہ) کے زمرے میں آ سکتا ہے اور یہ ایک قابلِ ضمانت (Bailable) جرم ہے۔

* اس تضاد کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ کیس مزید انکوائری/تفتیش کا محتاج ہے (**Further Inquiry** تحت دفعہ 497(2) Cr.P.C)۔ چنانچہ عدالت نے ملزم کی ضمانت **2 لاکھ روپے** کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔

# # # 5۔ مجسٹریٹوں کے لیے اہم ہدایات

جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب میں مجسٹریٹ دفعہ 164 کے بیانات روایتی اور لاپرواہی کے انداز میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ عدالت نے پنجاب کے تمام سیشن ججز کو درج ذیل احکامات جاری کیے:

1. مجسٹریٹ بیانات کو گواہ یا متاثرہ کے اپنے الفاظ میں لکھیں، نہ کہ لکھی لکھائی قانونی زبان میں۔

2. اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ملزم کے وکیل کو جرح کا موقع دینے کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے۔

3. سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، ریپ یا جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین کے بیانات ترجیحی طور پر **خاتون مجسٹریٹ** کے سامنے ہی ریکارڈ کیے جائیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے کے روایتی انداز پر اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر دفعہ 164 کا بیان مروجہ طریقہ کار (ویڈیو ریکارڈنگ اور جرح کے موقع) کے بغیر ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔

کم عمری شادی کرنے پر مقدمہ درج
09/06/2026

کم عمری شادی کرنے پر مقدمہ درج

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو...
01/06/2026

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو پاس کیا اور گورنر پنجاب نے 11 مئی 2026 کو اس کی منظوری دی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کرنا اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حل کرنا ہے۔
Advocates Of Pakistan
1۔ بنیادی تعریفیں (Definitions)
بچہ (Child): اس قانون کے تحت ہر وہ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، وہ بچہ شمار ہوگا۔
بچوں کی شادی (Child Marriage): ایسا نکاح یا شادی جس میں دونوں فریقین (دلہا اور دلہن) یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بچہ (18 سال سے کم) ہو۔
عدالت (Court): اس قانون کے تحت تمام معاملات اور کیسز کی سماعت سیشن کورٹ (Court of Sessions) میں ہوگی۔

2۔ سزائیں اور جرمانے (Punishments and Fines)
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں ملوث مختلف افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
نکاح رجسٹرار کے لیے سزا: کوئی بھی نکاح رجسٹرار کسی بچے کا نکاح رجسٹر نہیں کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے 1 سال تک کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بالغ دلہا/دلہن کے لیے سزا: اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سرپرست یا والدین (Guardians) کے لیے سزا: اگر کوئی سرپرست یا والدین بچے کی شادی کو فروغ دیتے ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں، یا جان بوجھ کر یا غفلت کی وجہ سے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال تک کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

3۔ چائلڈ ابیوز اور چائلڈ ٹریفکنگ (Child Abuse & Trafficking)
چائلڈ ابیوز (Child Abuse): بچوں کی شادی کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا ساتھ رہنا (cohabitation) — چاہے وہ رضا مندی سے ہو یا بغیر رضا مندی کے — چائلڈ ابیوز (بچوں کا استحصال) کہلائے گا۔ جو شخص اس کا سبب بنے گا یا مجبور کرے گا، اسے 5 سے 7 سال تک کی قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی اسمگلنگ): اگر کوئی شخص اس قانون سے بچنے کے لیے کسی بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جاتا ہے تاکہ وہاں اس کی شادی کرائی جا سکے، تو یہ بچوں کی اسمگلنگ کا جرم ہوگا۔ اس کی سزا 5 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ جو شخص اس کام میں مدد کرے گا یا بچہ فراہم کرے گا، اسے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

4۔ عدالت کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار (Court Jurisdiction & Trial)
مقدمے کی سماعت کا وقت: سیشن کورٹ کیس کا نوٹس لینے کے بعد 90 دنوں کے اندر ٹرائل (سماعت) مکمل کرنے کی پابند ہے۔
شادی روکنے کا حکم (Injunction): اگر عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچوں کی شادی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تو عدالت اس شادی کو روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کر سکتی ہے۔
مخبر کی حفاظت: اگر کوئی شخص ایسی شادی کی اطلاع عدالت کو دیتا ہے اور اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہے، تو عدالت اس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی: اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے شادی روکنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے 1 سال تک قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقابلِ ضمانت جرم: اس قانون کے تحت تمام جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable)، ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) ہیں۔ یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے، اس میں آسانی سے ضمانت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپس میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ (Best Interests of the Child)
بچہ مجرم نہیں ہے: کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے مجرم نہیں مانا جائے گا کہ وہ اس شادی کا ایک فریق تھا۔
بچے کی مرضی حتمی نہیں: اگر کسی بچے کو بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا اغوا کر کے شادی کے لیے لے جایا گیا ہو، تو عدالت میں بچے کا یہ بیان کہ "وہ اپنی مرضی سے بالغ شخص کے ساتھ رہنا چاہتا ہے"، حتمی نہیں مانا جائے گا۔ عدالت بچے کی حفاظت، تعلیم اور ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کرے گی۔
بچے کا تحفظ سب سے اہم: عدالت کسی بھی روایتی رواج، رسم یا مبینہ رضامندی کے مقابلے میں بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون، عزت اور تعلیم کو ترجیح دے گی۔

6۔ پرانے قوانین کا خاتمہ (Repeal and Saving)
اس نئے قانون کے آنے کے بعد پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 فوری طور پر ختم (Repeal) ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان پرانے قوانین کے تحت جو فیصلے یا احکامات پہلے دیے جا چکے ہیں، وہ اسی طرح برقرار رہیں گے۔

بطور قانون دان اس ایکٹ پر اہم تنقیدی نکات (Critique) درج ذیل ہیں:
1۔ فوجداری دائرہ اختیار کی پیچیدگی (Jurisdictional Complications)
- سیشن کورٹ پر بوجھ: دفعہ 8 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کا ٹرائل کرنے کا اختیار براہ راست سیشن کورٹ کو دیا گیا ہے۔ عام طور پر فوجداری مقدمات کا آغاز مجسٹریٹ کی عدالت سے ہوتا ہے۔ سیشن کورٹس پہلے ہی قتل اور منشیات جیسے سنگین مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کیس کو براہ راست سیشن کورٹ بھیجنے سے کیسز کے نمٹنے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
- 90 دن کا ٹرائل: دفعہ 11 کے تحت ٹرائل کو 90 دنوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ہماری عدالتی روایات، پولیس تفتیش میں تاخیر اور گواہان کی عدم موجودگی کے باعث عملی طور پر اتنے مختصر وقت میں ٹرائل مکمل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

2۔ تعزیراتِ پاکستان اور مسلم پرسنل لا سے تصادم (Conflict with Penal and Personal Laws)
- رضامندی کی قانونی حیثیت (Age of Consent): دفعہ 5 کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی کے نتیجے میں ساتھ رہنے کو "چائلڈ ابیوز" قرار دیا گیا ہے، چاہے اس میں بچے کی رضا مندی ہی کیوں نہ ہو۔ مسلم پرسنل لا (شریعت) کے تحت بلوغت (Puberty) کو شادی اور رضا مندی کا معیار مانا جاتا ہے۔ عدالتوں میں اکثر یہ بحث اٹھتی ہے کہ کیا صوبائی اسمبلی کا بنایا ہوا قانون مسلم پرسنل لا پر فوقیت رکھ سکتا ہے؟ یہ تصادم مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں (High Court/Shariat Court) میں آئینی پٹیشنز کا باعث بنے گا۔
- حدود آرڈیننس اور زنا کے قوانین کے ساتھ الجھن: دفعہ 5(2) کے تحت چائلڈ ابیوز کی سزا 5 سے 7 سال قید رکھی گئی ہے۔ قانون دانوں کے لیے یہ نکتہ تشویش ناک ہے کہ کیا اس جرم کو زنا بالجر یا تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے دیگر قوانین کے تحت دیکھا جائے گا یا صرف اسی ایکٹ کے تحت؟ قوانین کی یہ بھرمار تفتیشی افسران (IOs) کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے۔

3۔ بچوں کی اسمگلنگ (Child Trafficking) کی مبہم تعریف
دائرہ اختیار سے باہر (Territorial Jurisdiction): دفعہ 6 کے تحت اگر کوئی شخص بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جائے گا تو اسے اسمگلنگ مانا جائے گا۔ لیکن اگر شادی کسی دوسرے صوبے (جیسے سندھ یا خیبر پختونخوا) میں رائج قانون کے مطابق ہو جائے جہاں شادی کی قانونی عمر یا سزائیں مختلف ہوں، تو پنجاب پولیس کے لیے دوسرے صوبے میں جا کر تفتیش کرنا اور جرم ثابت کرنا قانونی طور پر انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا کیونکہ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔

4۔ "ناقابلِ ضمانت" جرم کا غلط استعمال (Risk of Misuse)
بلیک میلنگ کا ہتھیار: دفعہ 10 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی قانون میں جب راضی نامے کی گنجائش ختم کر دی جائے اور ضمانت انتہائی مشکل ہو، تو خاندانی دشمنیوں یا جائیداد کے تنازعات میں مخالفین کو پھنسانے کے لیے اس کا غلط استعمال بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر والدین اور سرپرستوں (دفعہ 7) کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

5۔ مخبر کی شناخت اور شفافیت (Anonymity vs Due Process)
حقِ دفاع متاثر ہونے کا خدشہ: دفعہ 9(1) کے تحت عدالت مخبر کی شناخت چھپا سکتی ہے۔ قانونِ شہادت (Law of Evidence) اور منصفانہ ٹرائل (Fair Trial - Article 10A of Constitution) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملزم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے خلاف الزام کس نے لگایا ہے تاکہ وہ جرح (Cross-examination) کر سکے۔ مخبر کی شناخت مکمل خفیہ رکھنے سے جھوٹی شکایات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

6۔ نکاح رجسٹرار پر ضرورت سے زیادہ بوجھ
عمر کی تصدیق کا نظام: دفعہ 3 کے تحت نکاح رجسٹرار کو چائلڈ میرج رجسٹر کرنے پر سزا دی جائے گی۔ عملی طور پر، پاکستان کے دیہی علاقوں میں اب بھی نادرا (NADRA) کا نظام مکمل طور پر مربوط نہیں ہے یا لوگ جعلی برتھ سرٹیفکیٹ بنا لیتے ہیں۔ نکاح رجسٹرار کے پاس عمر کی سائنسی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ انہیں سخت سزا کا نشانہ بنانا اس وقت تک ناانصافی ہے جب تک نادرا کا بائیو میٹرک نظام نکاح کے وقت لازمی نہ کر دیا جائے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)
بطور وکیل، میرا ماننا ہے کہ یہ قانون نیت کے لحاظ سے بہترین ہے، لیکن اس کا مسودہ (Drafting) زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے تیار کیا گیا ہے۔ جب تک اس کے ساتھ نادرا کا لازمی لنک، پولیس کی جدید خطوط پر تربیت، اور سیشن کورٹس کے بجائے فیملی کورٹس یا مخصوص مجسٹریٹس کو یہ اختیارات دینے جیسی ترامیم نہیں کی جاتیں، تب تک اس قانون کا نفاذ صرف کاغذوں تک محدود رہے گا یا پھر یہ محض انتقامی کارروائیوں کا ایک اور ٹول بن کر رہ جائے گا

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: مقدمے میں نئی دفعات لگنے پر کیا پولیس ملزم کو فوراً گرفتار کر سکتی ہے؟لاہور ہائی کورٹ بہاو...
01/06/2026

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: مقدمے میں نئی دفعات لگنے پر کیا پولیس ملزم کو فوراً گرفتار کر سکتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا ایک اہم قانونی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس میں ضمانتِ قبل از گرفتاری (Pre-arrest Bail) اور پولیس کے اختیارات کے حوالے سے اہم اصول طے کیے گئے ہیں۔ اگر کسی ملزم کی ضمانت ہو چکی ہو اور بعد میں تفتیش کے دوران پولیس نئی یا سنگین دفعات کا اضافہ کر دے، تو قانون کیا کہتا ہے؟
کیس کا پس منظر:
محمد افضل نامی ایک مینیجر (منشی) پر اپنے مالک کے پٹرول پمپ کے بینک اکاؤنٹس سے ۲ کروڑ ۱۴ لاکھ روپے کا غبن کرنے اور چیک بک چوری کر کے جعلی دستخطوں سے رقم نکالنے کا الزام تھا۔ پولیس نے پہلے معمولی دفعہ (چوری) کے تحت پرچہ درج کیا، جس میں ملزم کو ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ بعد میں تفتیش بدلنے پر پولیس نے دھوکہ دہی، امانت میں خیانت اور جلعسازی (408, 420, 468, 471 PPC) کی سنگین دفعات شامل کر دیں۔
سیشن کورٹ نے یہ کہہ کر ملزم کی دوبارہ ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی کہ "پہلے ہائی کورٹ ضمانت دے چکی ہے، ہم اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔" معاملہ دوبارہ ہائی کورٹ پہنچا، جہاں معزز جج طارق سلیم شیخ نے درج ذیل اہم قانونی اصول (Ratio Decidendi) واضح کیے:
**فیصلے کے اہم قانونی نکات:**
1. **نئی دفعات پر پرانی ضمانت کا خاتمہ:** عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت ہمیشہ انھی دفعات (Sections) کے لیے ہوتی ہے جو ضمانت لیتے وقت مقدمے میں موجود ہوں۔ اگر پولیس بعد میں کوئی نئی یا زیادہ سنگین دفعہ شامل کرتی ہے، تو پرانی ضمانت کا تحفظ خودبخود نئی دفعات پر لاگو نہیں ہوتا۔
2. **پولیس فوراً گرفتار نہیں کر سکتی:** عدالت نے پولیس کے اختیارات کو لگام دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پرانی ضمانت نئی دفعات پر اثر انداز نہیں ہوتی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پولیس اپنی مرضی سے ملزم کو فوراً گرفتار کر لے۔ اگر پولیس گرفتاری چاہتی ہے تو اسے پہلے عدالت سے رجوع کر کے ضمانت خارج کروانے کی اجازت لینا ہوگی۔ پولیس کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بار بار نئی دفعات لگا کر عدالتی احکامات کا مذاق اڑائے۔
3. **دوبارہ ضمانت کی درخواست سیشن کورٹ میں قابلِ سماعت ہے:**
اگر مقدمے میں نئی دفعات شامل ہوں، تو ملزم ان نئی دفعات کے خلاف دوبارہ ضمانتِ قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر سکتا ہے، اور سیشن کورٹ کا یہ کہنا غلط تھا کہ ان کے پاس اختیارِ سماعت نہیں ہے۔
4. **موجودہ کیس کا فیصلہ:** جہاں تک محمد افضل (ملزم) کے اپنے کیس کا تعلق تھا، عدالت نے اس کی ضمانت کی درخواست **خارج** کر دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم پر بھروسے کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں روپے کے بڑے مالیاتی غبن اور چیکوں میں جعل سازی کا سنگین الزام ہے، جس کی تفتیش اور برآمدگی کے لیے پولیس کو ملزم کی حراست درکار ہے، اور ملزم کے خلاف پولیس کی کوئی بدنیتی ثابت نہیں ہوئی۔

شعیہ مسلم قانون کے تحت وراثت کا قانون سنی قانون سے کافی مختلف ہے، اگرچہ دونوں ہی اسلامی فقہ کے اصولوں سے اخذ کیے گئے ہیں...
31/05/2026

شعیہ مسلم قانون کے تحت وراثت کا قانون سنی قانون سے کافی مختلف ہے، اگرچہ دونوں ہی اسلامی فقہ کے اصولوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔ سنی قانون وارثوں کو ذوی الفروض (حصہ پانے والے)، عصبات (باقی ماندہ لینے والے) اور ذوی الارحام (دور کے رشتہ داروں) میں تقسیم کرتا ہے، جبکہ شیعہ قانون بنیادی طور پر خون کے رشتے کے اصول اور وارثوں کی مختلف طبقات (Classes) میں درجہ بندی پر عمل کرتا ہے۔ ایک بڑا فرق یہ ہے کہ شیعہ قانون ’قائم مقامی کے اصول‘ (Doctrine of Representation) کو تسلیم کرتا ہے، جس کے تحت پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کو ان کے فوت شدہ والدین کا حصہ مل جاتا ہے، جبکہ سنی قانون عام طور پر عصبات اور مردانہ نسبی رشتہ داروں کو ترجیح دیتا ہے۔
​ایک اور اہم فرق یہ ہے کہ سنی قانون کے تحت وراثت کی تقسیم میں عصبات (Asabah) کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، جبکہ شیعہ قانون مردانہ نسب کے بجائے رشتے کی قربت کو ترجیح دیتا ہے۔ شیعہ قانون میں، پہلے درجے کے وارثوں کی موجودگی بعد کے درجے کے وارثوں کو محروم کر دیتی ہے، جس سے جانشینی کا ایک زیادہ منظم نظام بنتا ہے۔ یہ اختلافات خاندانی جائیداد کے حقوق اور وراثت کے تنازعات کو سمجھنے کے لیے مسلم قانونِ وراثت کے مطالعہ کو انتہائی اہم بناتے ہیں۔
​سنی قانون میں ذوی الفروض (طے شدہ حصہ پانے والے) کی 12 اقسام ہیں، جبکہ شیعہ عقیدے کے مطابق صرف 9 اقسام کے ایسے وارث ہیں جن میں وراثت تقسیم کی جانی چاہیے۔ حصہ داروں کا چارٹ اور ان کے حصوں کا تناسب اس تحریر کے ساتھ منسلک ہے۔
​دیوانی (Civil) قانون کی پریکٹس میں قانونِ وراثت کا علم ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ سول مقدمات کی ایک بڑی تعداد جانشینی، تقسیمِ جائیداد، انتقالِ وراثت اور خاندانی جائیداد کے تنازعات سے متعلق ہوتی ہے۔ سنی اور شیعہ اصولِ وراثت کی گہری سمجھ وکلاء، ججوں اور قانون کے طالب علموں کو جائیداد کی شرعی و قانونی تقسیم اور جائز وارثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دیتی ہے، خاص طور پر خواتین کے تحفظ کے لیے جنہیں اکثر ان کے جائز حصے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے، دیوانی اور خاندانی معاملات سے نمٹنے والے ہر قانون دان کے لیے قانونِ وراثت پر مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ adv Mahboob Ali # #

Address

District Courts Multan

Telephone

+923001499572

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Free Legal Advice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Free Legal Advice:

  • Want your business to be the top-listed Law Practice?

Share