Misbah Ud Din Utmani

Call Contact the business

Misbah Ud Din Utmani Citizen Journalist & Human Rights Activist working for marginalized communities

والدین رات بھر سوچ سوچ کر بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ ماں صبح سویرے اٹھ کر ناشتہ تیار کرتی ہے، بچوں کو پیار س...
16/10/2026

والدین رات بھر سوچ سوچ کر بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ ماں صبح سویرے اٹھ کر ناشتہ تیار کرتی ہے، بچوں کو پیار سے تیار کر کے دعاؤں کے سائے میں سکول رخصت کرتی ہے اور پھر سارا دن ان کی واپسی کی راہ تکتی رہتی ہے۔ دوپہر کے وقت بچوں کے پسندیدہ کھانے تیار کیے جاتے ہیں کہ جب وہ تھکے ہارے گھر لوٹیں گے تو مسکراتے ہوئے لقمہ اٹھائیں گے، کیونکہ یہ معصوم بچے گھر کی رونق اور والدین کا دل ہوتے ہیں۔
مگر پشاور کے دیر کالونی کے ان معصوم بچوں کی قسمت میں شاید کچھ اور ہی لکھا تھا۔ انہوں نے بھی صبح ناشتہ کیا، ہنستے کھیلتے سکول روانہ ہوئے اور اپنی کلاسز میں بیٹھ گئے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ جس چھت کے نیچے وہ علم حاصل کرنے بیٹھے ہیں، وہ ان کا قبرستان بن جائے گی۔ پڑھائی کے دوران اچانک سکول کی بوسیدہ اور خستہ حال عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی، اور وہ پھول جیسے معصوم بچے منوں مٹی تلے دب گئے۔ بچوں کی چیخ و پکار سے فضا گونج اٹھی، اہل محلہ دوڑ کر آئے اور اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر بچوں کو نکالنا شروع کیا۔
اس اندوہناک سانحے میں 33 معصوم بچے لقمۂ اجل بن گئے اور کئی شدید زخمی ہو گئے۔ کسی کی گود کا اکلوتا چراغ بجھا، کسی کے دو تو کسی کے تین بچے اس حادثے کی نذر ہو گئے، لیکن ایک بدقسمت خاندان پر تو قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑی جن کے ایک ہی گھر کے پانچ معصوم بچے اس سانحے میں شہید ہو گئے۔ جس گھر کا آنگن کل تک بچوں کی کھلکھلاہٹ اور قہقہوں سے آباد تھا وہاں ایک ساتھ پانچ جنازوں کے مناظر دیکھ کر پتھر دل بھی موم ہو گئے۔
اس المناک سانحے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا۔ اس سکول کی عمارت پہلے ہی خستہ حال تھی اور اس کے گرنے کا واضح خطرہ موجود تھا جس کی نشاندہی کئی بار طلباء اور اساتذہ نے سکول کے مالک کو کی تھی۔ لیکن وہ بے حس شخص تو صرف پیسے کمانے کی لالچ میں اندھا ہوا تھا۔ یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس عمارت کو پہلے ہی خطرناک اور ناقص قرار دیا گیا تھا مگر ایک بااثر سیاسی شخصیات کی سفارش پر انسپیکشن رپورٹس تک بدلوا دی گئیں۔
ہمارے ملک میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ایک ایسا مافیا بن چکا ہے جو والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ نہ ان کی تعلیم معیاری ہے، نہ ادارے بچوں کے پڑھنے کے قابل ہیں اور نہ ہی وہاں زندگی کی بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ عمارتیں کھنڈرات جیسی ہیں مگر والدین مجبور ہو کر اپنے بچوں کو وہاں داخل کراتے ہیں تاکہ وہ پڑھ لکھ کر اپنا روشن مستقبل بنا سکیں۔ مگر تعلیم کے نام پر تجارت کرنے والے یہ سوداگر پیسوں کی خاطر معصوم بچوں کے خوابوں اور ان کی زندگیوں کا خون کر رہے ہیں۔
اگرچہ کچھ پرائیویٹ ادارے بہترین کام بھی کر رہے ہیں لیکن اس اندوہناک واقعے کے بعد حکومت اور متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مانیٹرنگ کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنائیں۔ ایک سخت اور غیر جانبدار پالیسی تشکیل دی جائے جس کے تحت ہر تعلیمی ادارے کی عمارت کی فٹنس چیک کی جائے، دیکھا جائے کہ وہاں تمام ضروری سہولیات موجود ہیں یا نہیں اور اساتذہ کوالیفائیڈ ہیں یا نہیں۔
پشاور دیر کالونی کا یہ سکول سانحہ ہمارے پورے تعلیمی نظام اور ضمیر پر ایک طمانچہ ہے۔ اگر اب بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں اور ان نفع خور مافیاز کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی نہ کی تو ہم یونہی اپنے معصوم بچوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان معصوم فرشتوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس اجڑے ہوئے خاندان بالخصوص غم زدہ والدین کو یہ پہاڑ جیسا صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین!

سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرگردش یہ تصاویر جعلی ہیں۔
12/10/2026

سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرگردش یہ تصاویر جعلی ہیں۔

12/10/2026

باچا خان چوک، جی ٹی روڈ، اشرف روڈ اور قلعہ بالا حصار کے سامنے کی تازہ ترین صورتحال۔

12/10/2026

پشاور میں سڑکیں دوبارہ کھلنا شروع، گورنر راج کے خلاف متوقع ردعمل کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔

یہ وہی خاص کنٹینر ہے جو 4 اکتوبر کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی شان ہوا کرتا تھا جس کے چاروں طرف کارکنوں کا ...
12/10/2026

یہ وہی خاص کنٹینر ہے جو 4 اکتوبر کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی شان ہوا کرتا تھا جس کے چاروں طرف کارکنوں کا سمندر امڈتا تھا اور جس پر کھڑے ہو کر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور شفیع جان صاحب وفاقی حکومت کو للکارا کرتے تھے کہ ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھاؤ، آج وہی کنٹینر مردان کے چمتر بس اڈے پر بالکل بے یارو مددگار کھڑا ہے۔
گورنر راج کے بعد وہ روایتی جوش، نعرے بازی اور عوامی مزاحمت کہیں دکھائی نہیں دی جو اس دعوے کے ساتھ کی جاتی تھی کہ عوام اپنے قائدین کے لیے سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔
ایک منتخب حکومت کا اس طرح خاتمہ اور صوبائی رہنماؤں کو تحویل میں لیا جانا یقیناً ایک تشویشناک عمل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال گہرے سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ جب سیاست کو صرف جذباتی نعروں، الزام تراشیوں اور وقتی واہ واہ تک محدود کر دیا جائے اور عوام کو کارکنوں کی خوشنودی کے لیے سیاسی جماعتوں سے بدظن کیا جائے پر تو پھر کڑے وقت میں وہی نعرے باز کارکن زمین پر نظر نہیں آتے۔
اللہ تعالیٰ خیبرپختونخوا اور پورے ملک کے حال پر رحم فرمائے۔

12/10/2026

ضلع خیبر میں پاکستان تحریک انصاف کے ورکررز کا گورنر راج کے خلاف احتجاج، پولیس کی ہوائی فا ئ رنگ

12/10/2026

12 اکتوبر: وزیراعلی سہیل افریدی گرفتار ہے، صوبے میں گورنر راج لگ گیا ہے، جی ٹی روڈ کی صورتحال

پشاور ریڈ زون سیل، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور قریبی ساتھی وزیراعلیٰ ہاؤس میں محصور ہوگئے۔
11/10/2026

پشاور ریڈ زون سیل، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور قریبی ساتھی وزیراعلیٰ ہاؤس میں محصور ہوگئے۔

10/10/2026

پشاور میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز دوبارہ معطل

جب معاشرے میں انصاف کے دروازے اور راستے مسدود ہو جائیں اور غریب کی خون پسینے کی کمائی کو چند ٹکوں کی ہوس میں روند دیا جا...
10/10/2026

جب معاشرے میں انصاف کے دروازے اور راستے مسدود ہو جائیں اور غریب کی خون پسینے کی کمائی کو چند ٹکوں کی ہوس میں روند دیا جائے تو پھر لائبہ جیسی ذہین اور محنتی بیٹیاں زندگی کی اس بازی کو ہار جاتی ہیں جن کا مقصد صرف اپنے والدین کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ہوتا ہے۔ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے فزکس کے مضمون میں بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کرنے والی بائیس سالہ لائبہ اعجاز کی دل دہلا دینے والی موت نے نے پوری نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اس باصلاحیت بیٹی کا تعلق کسی سرمایہ دار گھرانے سے نہیں تھا بلکہ اس کے والد نے موٹر سائیکل پر دودھ بیچ کر اور کرائے کے فلیٹ میں کسمپرسی کی زندگی گزار کر اپنی اولاد کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا تھا۔ لائبہ نے بھی اپنے باپ کی اس محنت اور قربانی کی لاج رکھی اور اپنی ذہانت کے بل بوتے پر گولڈ میڈل حاصل کر کے اپنے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ڈگری مکمل ہونے کے بعد جب اس نے بہتر مستقبل کے لیے امریکہ جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے والد نے اس کے اس خواب کو سچ کرنے کے لیے اپنی تمام جمع پونجی داؤ پر لگا دی۔
اس سفر کے آغاز میں لائبہ کی ملاقات ایک ایسے کنسلٹنٹ سے ہوئی جس نے سفاکیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور ویزے کے نام پر ستر لاکھ روپے کی ایک کثیر رقم کا مطالبہ کر ڈالا۔ ایک غریب دودھ فروش باپ کے لیے یہ رقم آسمان توڑنے کے مترادف تھی لیکن بیٹی کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے روشن مستقبل کے خوابوں کی خاطر اس نے اپنا واحد اثاثہ اپنا قیمتی پلاٹ فروخت کر کے اکیس لاکھ روپے نقد اس جعلساز کے حوالے کر دیے۔ یہی نہیں بلکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے اس کی ماں نے اپنی زندگی بھر کی پونجی اور اپنے زیورات بھی بینک میں گروی رکھ دیے۔ والدین نے اپنی چھت اور عزت تک کو خطرے میں ڈال دیا تاکہ ان کی لاڈلی سمندر پار جا کر نام روشن کر سکے۔
کچھ عرصے بعد جب لائبہ نے ان تمام کاغذات اور داخلے کے پروانوں کی تصدیق کروائی تو اس کی دنیا اندھیر ہو گئی کیونکہ وہ تمام دستاویزات سرتاپا جعلی نکلے۔ وہ کسلٹنٹ جو خود کو عدالت کا بڑا افسر ظاہر کرتا تھا ان کی جمع پونجی ہتھیا کر غائب ہو چکا تھا۔ والدین کی عمر بھر کی محنت اور قربانیوں کو یوں ایک لمحے میں مٹی میں ملتے دیکھ کر اس بچی کا دل بیٹھ گیا۔ اسے اپنے بوڑھے باپ کا خیال آیا جو دن رات موٹر سائیکل پر دودھ بیچتا تھا اور اس ماں کا چہرہ یاد آیا جس نے اپنے زیورات تک گروی رکھ دیے تھے۔
شدید ذہنی دباؤ، صدمے اور گہرے احساسِ جرم کے تلے دب کر اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کا انتہائی قدم اٹھایا۔ موت کو گلے لگانے سے چند لمحے پہلے اس نے اپنے ماموں کو جو آخری دردناک پیغام بھیجا: "میرے ساتھ ہونے والے اس فراڈ کا میرے والد کو مت بتانا، ورنہ وہ مر جائیں گے..."
اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں اتوار بازار کے قریب گرین بیلٹ میں ایک درخت سے اس گولڈ میڈلسٹ بیٹی کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس اگرچہ اس واقعے کی روایتی انداز میں تفتیش کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک خودکشی کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے معاشرے کے ان گھناؤنے جعلسازوں، فراڈیوں اور اس سست روی کے نظام کا کیا گیا اجتماعی قتل ہے۔ پیسے اور دولت تو دوبارہ محنت کر کے کمائے جا سکتے ہیں لیکن اس غریب خاندان کی وہ اکلوتی اور لائق بیٹی اب کبھی واپس نہیں آ سکتی۔ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اب یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس جعلساز فراڈیے کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں تاکہ کسی اور غریب باپ کا چراغ اس طرح تاریکی میں نہ ڈوبے۔

Address

Khyber Pakhtunkhwa

Telephone

+923065676854

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Misbah Ud Din Utmani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Misbah Ud Din Utmani:

Shortcuts

Share