16/10/2026
والدین رات بھر سوچ سوچ کر بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ ماں صبح سویرے اٹھ کر ناشتہ تیار کرتی ہے، بچوں کو پیار سے تیار کر کے دعاؤں کے سائے میں سکول رخصت کرتی ہے اور پھر سارا دن ان کی واپسی کی راہ تکتی رہتی ہے۔ دوپہر کے وقت بچوں کے پسندیدہ کھانے تیار کیے جاتے ہیں کہ جب وہ تھکے ہارے گھر لوٹیں گے تو مسکراتے ہوئے لقمہ اٹھائیں گے، کیونکہ یہ معصوم بچے گھر کی رونق اور والدین کا دل ہوتے ہیں۔
مگر پشاور کے دیر کالونی کے ان معصوم بچوں کی قسمت میں شاید کچھ اور ہی لکھا تھا۔ انہوں نے بھی صبح ناشتہ کیا، ہنستے کھیلتے سکول روانہ ہوئے اور اپنی کلاسز میں بیٹھ گئے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ جس چھت کے نیچے وہ علم حاصل کرنے بیٹھے ہیں، وہ ان کا قبرستان بن جائے گی۔ پڑھائی کے دوران اچانک سکول کی بوسیدہ اور خستہ حال عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی، اور وہ پھول جیسے معصوم بچے منوں مٹی تلے دب گئے۔ بچوں کی چیخ و پکار سے فضا گونج اٹھی، اہل محلہ دوڑ کر آئے اور اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر بچوں کو نکالنا شروع کیا۔
اس اندوہناک سانحے میں 33 معصوم بچے لقمۂ اجل بن گئے اور کئی شدید زخمی ہو گئے۔ کسی کی گود کا اکلوتا چراغ بجھا، کسی کے دو تو کسی کے تین بچے اس حادثے کی نذر ہو گئے، لیکن ایک بدقسمت خاندان پر تو قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑی جن کے ایک ہی گھر کے پانچ معصوم بچے اس سانحے میں شہید ہو گئے۔ جس گھر کا آنگن کل تک بچوں کی کھلکھلاہٹ اور قہقہوں سے آباد تھا وہاں ایک ساتھ پانچ جنازوں کے مناظر دیکھ کر پتھر دل بھی موم ہو گئے۔
اس المناک سانحے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا۔ اس سکول کی عمارت پہلے ہی خستہ حال تھی اور اس کے گرنے کا واضح خطرہ موجود تھا جس کی نشاندہی کئی بار طلباء اور اساتذہ نے سکول کے مالک کو کی تھی۔ لیکن وہ بے حس شخص تو صرف پیسے کمانے کی لالچ میں اندھا ہوا تھا۔ یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس عمارت کو پہلے ہی خطرناک اور ناقص قرار دیا گیا تھا مگر ایک بااثر سیاسی شخصیات کی سفارش پر انسپیکشن رپورٹس تک بدلوا دی گئیں۔
ہمارے ملک میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ایک ایسا مافیا بن چکا ہے جو والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ نہ ان کی تعلیم معیاری ہے، نہ ادارے بچوں کے پڑھنے کے قابل ہیں اور نہ ہی وہاں زندگی کی بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ عمارتیں کھنڈرات جیسی ہیں مگر والدین مجبور ہو کر اپنے بچوں کو وہاں داخل کراتے ہیں تاکہ وہ پڑھ لکھ کر اپنا روشن مستقبل بنا سکیں۔ مگر تعلیم کے نام پر تجارت کرنے والے یہ سوداگر پیسوں کی خاطر معصوم بچوں کے خوابوں اور ان کی زندگیوں کا خون کر رہے ہیں۔
اگرچہ کچھ پرائیویٹ ادارے بہترین کام بھی کر رہے ہیں لیکن اس اندوہناک واقعے کے بعد حکومت اور متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مانیٹرنگ کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنائیں۔ ایک سخت اور غیر جانبدار پالیسی تشکیل دی جائے جس کے تحت ہر تعلیمی ادارے کی عمارت کی فٹنس چیک کی جائے، دیکھا جائے کہ وہاں تمام ضروری سہولیات موجود ہیں یا نہیں اور اساتذہ کوالیفائیڈ ہیں یا نہیں۔
پشاور دیر کالونی کا یہ سکول سانحہ ہمارے پورے تعلیمی نظام اور ضمیر پر ایک طمانچہ ہے۔ اگر اب بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں اور ان نفع خور مافیاز کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی نہ کی تو ہم یونہی اپنے معصوم بچوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان معصوم فرشتوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس اجڑے ہوئے خاندان بالخصوص غم زدہ والدین کو یہ پہاڑ جیسا صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین!