28/05/2026
پاکستان میں پلاسٹک اور پولی اسٹائرین (تھرموپول) کی وجہ سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے قائد اعظم یونیورسٹی (QAU) کی 2طالبات نے ایک انقلابی اور حیران کن کامیابی حاصل کر لی ہے۔
یونیورسٹی کے شعبہ انوائرنمنٹل سائنسز کی طالبات آمنہ شاہد اور نور العین نے مشروم (خمیر) کے مائسیلیم (Mycelium) نیٹ ورک کی مدد سے پاکستان کا پہلا ایسا پیکیجنگ مٹیریل تیار کیا ہے جو استعمال کے بعد خود بخود مٹی میں تلف (biodegradable) ہو جاتا ہے۔
یہ انوکھی اور ماحول دوست پیکیجنگ گندم کے بھوسے اور دیگر زرعی فضلے پر مشروم کے فنگس کو اگا کر تیار کی گئی ہے، جس کی وجہ سے فضلہ ایک ٹھوس، ہلکے وزن اور کسی بھی سانچے میں ڈھل جانے والے مٹیریل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان ہر سال تقریباً 20 لاکھ ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے جو ہمارے دریاؤں، سمندروں اور گلیوں کو بلاک کر رہا ہے، ایسے میں یہ مٹیریل روایتی پلاسٹک اور ڈسپوزایبل ڈبوں کا ایک بہترین اور سستا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
طالبات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زرعی فضلہ وافر مقدار میں موجود ہے، اگر اس پروڈکٹ کو بڑے پیمانے پر فیکٹریوں میں تیار کیا جائے تو یہ نہ صرف پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرے گا بلکہ ملک میں ایک نئی ماحول دوست پیکیجنگ انڈسٹری کی بنیاد بھی رکھے گا۔