19/11/2025
📢 میری آواز پروٹیکٹر آفس اور متعلقہ افسران تک
پاکستان سے بیرون ملک، خصوصاً گلف ممالک جانے والے ورکرز آج بھی غیر ضروری پروٹیکٹر، ویزا پروسیسنگ اور FIA چیکنگ کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مختلف محکموں کے درمیان رابطہ اور رولز کی وضاحت نہ ہونے کے باعث عام مزدور کو گھنٹوں ذلیل ہونا پڑتا ہے۔
25 اپریل 2016 کے نوٹیفکیشن میں واضح ہدایت موجود ہے کہ FIA اہلکار ویزا یا پروٹیکٹر ڈاکیومنٹس کی دوبارہ جانچ نہیں کریں گے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی اسی چیز پر عمل نہیں ہو رہا۔ اس رویے کی وجہ سے بیرون ملک جانے والے ورکرز، کمپنیوں اور Overseas Employment Promoters کو روزانہ مالی نقصان اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پروٹیکٹر کا موجودہ نظام حد سے زیادہ سخت ہے، لمبی لائنیں، غیر ضروری مراحل اور ایسے کاؤنٹرز جہاں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کئی ممالک میں پاکستان کا پروٹیکٹر بھی قبول نہیں کیا جاتا، جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک آسان نظام بنا کر لاکھوں ورکرز بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی ورکر فورس کھوتا جا رہا ہے۔
میری صرف اتنی گزارش ہے کہ پورے پروسیس کو آسان، شفاف اور جدید بنایا جائے تاکہ پاکستانی ورکرز بغیر رکاوٹ بیرون ملک جا سکیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ لا سکیں۔
یہ وقت ہے کہ متعلقہ ادارے حقیقت سمجھیں اور ورکرز کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ 🇵🇰
دوستوں سے گزارش ہے کہ میرا پیج فالو کریں، لائک اور شیئر کریں تاکہ میں آپ کی آواز مزید بلند کر سکوں اور ہمارے ورکرز کے مسائل ہر متعلقہ ادارے تک پہنچ سکیں۔ آپ کی سپورٹ ہی میری طاقت ہے۔ 🙏🇵🇰