Mujeeb Khan

Mujeeb Khan Advocate High Court

07/02/2026

Being hated by fools is the price you pay for not being one of them.

22/08/2025

کرپشن اتنی بڑھ گئی ہے کہ اگر کوئی رشوت لے کر بھی وقت پر کام کر دے تو لوگ اسے بھی دیانتدار سمجھنے لگتے ہیں.

12/08/2025

Just because it’s familiar, doesn’t mean it’s good.

We stay in places that hurt us, hold on to people who drain us, and repeat patterns that break us — simply because they feel familiar.

Familiarity can be comforting, but it can also be deceptive. Sometimes, what you’ve known the longest is what’s kept you stuck the deepest.

You deserve more than what’s just known - you deserve what’s truly nourishing.

Healing begins when you stop choosing what feels normal and start choosing what feels right.
Because water may be familiar to the fish - but it still boils it.

09/08/2025

پاکستان میں عورتوں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کہ وطن عزیز کی طاقتور عدالتوں کے اسماء " عالیہ" اور" عظمیٰ" ہیں- 😄😁

13/07/2025

کچھ لوگوں کو پچھتاوا بھی نہیں ہوتا اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ شاید کسی وقت انہیں احساس ہو گااپنے منفی رویے کا. لیکن ایسا نہیں ہوتا، یہ پچھتاوے بھی ظرف والوں کے لئے ہوتے ہیں. بےحس لوگوں کے پاس صرف اپنا آپ ہوتا ہے۔

12/07/2025

بے حسی اور درندگی کا راج قائم ہو چکا ہے۔ اور انسانیت حالت نزع میں ہے۔

بلا عنوان!آج کے دو تصاویر دو صوبے ایک مرد اور عورت کی کہانی!
29/09/2024

بلا عنوان!
آج کے دو تصاویر دو صوبے ایک مرد اور عورت کی کہانی!

25/09/2024
07/04/2024

‏منقول !
میں جب تین سال کا تھا تو ٹھٹھرتی سردی میں ایک دن دادا جی نے سکول میں داخل کروا کر عمر پانچ سال لکھوا دی…

کہ سرکاری سکول میں اس وقت پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا داخلہ ممنوع ہوتا تھا۔

جب کہ میرا جگری یار جمعہ گُل اپنی اماں کی گرم گود میں بیٹھ کر چائے پراٹھے ٹھونستا رہا۔ 😀

میں ٹاٹ پر بیٹھ کر صبح سے دُوپہر تک الف سے الله اور ب سے بکری کے راگ الاپتا رہا۔

اور جُمعہ گُل گلے میں غلیل ڈال کر گاؤں کے درختوں میں پرندے مارتا رہا۔

ہم سارا سارا دن اُستاد رحیم گل کی سوٹیاں اپنی پشت پر کھاتے رہے، تا کہ کل کو مُعاشرے میں ایک مقام بنا سکیں۔

اور جُمعہ گُل اپنے باپ کے کندھے پر بیٹھ کر گاؤں کے میلے لُوٹتا رہا۔

ہم سکول سے چُھٹی ہونے کے بعد گندم کی کٹائیوں میں اماں کا ہاتھ بٹاتے رہے اور
جُمعہ گُل کھیت کی مُنڈیر پر بیٹھ کر جوانی کے گیت گاتا رہا۔

ہم جب آنسو بھری آنکھوں سے جُمعہ گل کی طرف دیکھتے تو دل کا حال جان کر اماں بولتیں۔

بیٹا تم ایک دن بڑا افسر بنے گا اور جُمعہ گل جیسے لوگ تیرے نوکر بنیں گے۔

سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی ہماری قسمت میں صرف کتابوں کا ڈھیر چاٹنا رہ گیا۔

جب کہ جُمعہ گُل گاؤں کا لُچا لفنگا بن کر جوانی کے مزے لُوٹتا رہا۔

اِدھر ہم نے PhD theses جمع کروا کر گویا علامہ بننے کی ٹھان لی۔

تو اُدھر گاؤں میں جُمعہ گُل نے بغل سے پستول کا ہولسٹر ہٹا کر کندھے پر کلاشنکوف رکھنی شروع کر دی۔

پھر ہم نے پیچھے کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا کہاں گیا جُمعہ گُل اور کہاں میں؟

ہم بقول اماں کے واقعی افسر بن گئے اور گاؤں سے اپنا ناطہ ٹوٹ گیا۔

اپنی افسری، شہری بیوی اور بچوں میں ایسا کھو گئے کہ یاد بھی نہیں رہتا تھا، کہ جُمعہ گُل کیا کر رہا ہو گا۔

اماں کی باقی ساری باتیں بالکل سچ ثابت ہو چُکی تھی۔بس کبھی کبھار اُن کی یہ بات دل کے دروازے پر دستک دے کر بے چین کر دیتی۔

کہ جُمعہ گُل تمہارا نوکر بنے گا۔
شائد اماں کی بات سے زیادہ یہ خود کی ایک خواہش تھی۔
جو شعور سے لاشعور تک کا فاصلہ پاٹتے ہوئے تحت الشعور میں پنجے جا گاڑ بیٹھی تھی۔

اور پھر میں Cambridge میں پڑھتے اپنے بچوں کو ہر وقت یہی راگ سُنانے لگتا کہ بیٹا میری طرح بنو، جُمعہ گُل مت بنو۔
میرے بچے مجھ سے پوچھتے:
Papa, who is Juma gul ?
اور میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا، کہ وہ میرا نوکر۔۔۔۔۔۔۔۔

سالوں بعد گاؤں جانا ہوا۔
بیوی بچے ساتھ تھے۔
گاؤں بھی پھیل کر جیسے چھوٹا سا شہر بن گیا ہو۔

کافی لوگ اب اجنبی تھے…

*میرے لئے ایک دن پیغام آیا کہ جُمعہ گُل نامی بندے نے اہلِ خانہ سمیت دعوت پر بُلایا ہے.*

میرے اندر ایک کمینی سی خوشی در آئی۔
کہ جُمعہ گُل کو دکھاؤں گا کہ پڑھائی لکھائی اور اُستاد رحیم داد کی سوٹیوں نے مُجھے کہاں سے کہاں تک پُہنچا دیا۔
اور
وہ سدا کا لُچا لفنگا آج بھی دو وقت کی روٹی کے لئے مر رہا ہے۔

بیگم کو تاکید کی کہ پانچ ہزار اس کی بیوی کو تھما دینا۔

رات کو اپنی 1300CC گاڑی میں بیٹھ کر جُمعہ گُل کے گھر پُہنچا۔

*تو سناٹے میں آ گیا*

۔ شہر میں 300 گز بنگلے والا افسر 4,000 گز وسیع بنگلے کو دیکھ کر حیرت سے دانتوں میں اُنگلی دبائے رہ گیا۔
جس پر
*Juma Gul Palace*
کا نیم پلیٹ اُس کا مُنہ چڑا رہا تھا۔
بنگلے کے اندر 5
V8 Land cruisers
ایک شان سے کھڑی تھیں۔

واسکٹ پہنے جُمعہ گُل گرم جوشی سے آگے بڑھ کر میرے گلے لگ گیا۔

کہ ڈاکٹر صاب بڑے آدمی بن گئے بُھول گئے ہم جیسے غریب اور ان پڑھوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بیوی اور بچے مُنہ کھولے حیرانگی سے بنگلے کو دیکھ رہے تھے۔

اور جُمعہ گُل بتا رہا تھا کہ اماں کی دعاؤں سے وہ آج سیاست دان بن گیا ہے۔

جب بھی *عدم اعتماد* کی ہوا چلتی ہے وہ چالیس پچاس کروڑ بنا لیتا ہے۔

اچانک میرے بیٹے نے انگریزی میں مُجھ سے پُوچھا کہ بابا یہ وہی جُمعہ گُل ہے جو آپ کا نوکر بن رہا تھا؟
اور میری بیوی میرے کان میں بولی *نوکر تو اپ لگ رہے ہو اس کے سامنے!* 😂
اور
میری خاموشی پر چھوٹے والے بیٹے نے انگریزی میں کہا:
*بابا میں بھی جُمعہ گُل بنوں گا !*

Address

Kanju
Swat
1900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mujeeb Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mujeeb Khan:

Share