Padana Legal lighthouse

Padana Legal lighthouse “Welcome to Padana Legal Lighthouse – your guide through the complexities of law. Our mission is to promote justice, legal awareness, and professional growth.”

Led by Advocate Saira, we specialize in tax law, legal advocacy, and mentoring young lawyers. Learn with us without any woes and sorrows. it's your own platform and I'm here to facilitate you.

“Good News! 📢 FBR has extended the deadline for filing Income Tax Returns till 15th October 2025. Don’t wait till the la...
01/10/2025

“Good News! 📢 FBR has extended the deadline for filing Income Tax Returns till 15th October 2025. Don’t wait till the last day – let’s get your returns filed on time and avoid last-minute stress. ✅ Contact today!”

💼 Stop paying extra on everything!💸 Non-filers lose money every single day.⚖️ Be smart, be a filer & enjoy the benefits....
12/09/2025

💼 Stop paying extra on everything!
💸 Non-filers lose money every single day.
⚖️ Be smart, be a filer & enjoy the benefits.
📲 Contact Adv. M Farooq Ali Padana – 03347953430.

سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلہ کی روشنی میں "FIR کی قانونی حیثیت اور شہادت کے طور پر اس کا استعمال: ایک تجزیاتی جائزہ قان...
27/04/2025

سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلہ کی روشنی میں "FIR کی قانونی حیثیت اور شہادت کے طور پر اس کا استعمال: ایک تجزیاتی جائزہ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کی روشنی میں"

2025 SCMR 762
کیا ایف آئی آر درخواست گزار کی رپورٹ پر درج کی گئی تھی اور اگر ہاں، تو کیا اسے اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے؟

یہ ایک طے شدہ قانونی اصول ہے کہ ایف آئی آر بذاتِ خود کوئی حتمی شہادت (substantive evidence) نہیں ہے، جب تک کہ اس کے مندرجات کو اس کے بنانے والے نے گواہی کے دوران حلفیہ بیان کے ذریعے تصدیق نہ کیا ہو اور اسے جرح (cross-examination) کے مرحلے سے نہ گزارا گیا ہو۔ قانونِ شہادت کے آرٹیکلز 140 اور 153 کی روشنی میں، ایف آئی آر کو محض ایک سابقہ بیان (previous statement) سمجھا جاتا ہے، جو صرف اس کے بنانے والے کو متضاد ثابت کرنے (contradiction) کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن جب تک اسے بنانے والا عدالت میں پیش ہو کر ثابت نہ کرے، اسے استغاثہ کے مقدمے میں بطور حتمی شہادت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، ایف آئی آر کوئی حتمی شہادت نہیں ہوتی جب تک کہ اس کے بنانے والے کی طرف سے گواہی کے دوران اس کی تصدیق نہ کی جائے، سوائے اس کے کہ وہ کسی ایسے شخص کی رپورٹ پر درج کی گئی ہو جو موت کے قریب ہو۔ ایسی صورت میں ایف آئی آر کو عمومی طور پر "مرنے سے قبل دیا گیا بیان" (dying declaration) کہا جاتا ہے، اور یہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 46 کے تحت قابلِ قبول شہادت ہوتی ہے۔ تاہم، ایسا بیان بھی کسی دوسرے گواہ کی شہادت کی تائید (corroboration) کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

محمد رمضان بنام ریاست
جیل پٹیشن نمبر 95 آف 2022

قانونی تجزیاتی جائزہ
مرکزی قانونی سوال:
کیا ایف آئی آر (FIR) جو کسی شخص کی رپورٹ پر درج ہو، اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہے؟

متعلقہ قانونی دفعات:
1. قانونِ شہادت آرڈر 1984 (Qanun-e-Shahadat Order - QSO):
آرٹیکل 140 – Impeaching credit of witness:
یہ آرٹیکل گواہ کی ساکھ کو چیلنج کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ اس کے تحت کسی گواہ کے سابقہ بیانات کو استعمال کرتے ہوئے یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ وہ غیر معتبر ہے۔

آرٹیکل 153 – Cross-examination as to previous statements in writing:
یہ دفعات اجازت دیتی ہیں کہ کسی گواہ کو اس کے تحریری سابقہ بیان (مثلاً ایف آئی آر) کے بارے میں جرح کے دوران سوالات کیے جائیں، تاکہ تضادات ظاہر کیے جا سکیں۔

آرٹیکل 46 – Statements made under special circumstances (Dying Declaration):
یہ دفعات ان بیانات سے متعلق ہیں جو ایسے شخص نے دیے ہوں جو موت کے قریب ہو۔ ایسے بیانات (یعنی dying declarations) عدالت میں بطور شہادت قابلِ قبول ہوتے ہیں، بشرطیکہ مخصوص شرائط پوری ہوں۔

قانونی نکات کا تجزیاتی جائزہ:
1. ایف آئی آر بذاتِ خود شہادت نہیں:
عدالت نے اس بات کو دہرایا کہ ایف آئی آر "substantive evidence" (حتمی/آزاد شہادت) نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ایف آئی آر کی موجودگی کسی کو مجرم ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک کہ:

ایف آئی آر درج کرانے والا عدالت میں گواہی نہ دے،

اور اپنے بیان کی تصدیق حلفاً نہ کرے،

اور اس پر جرح کا حق نہ دیا جائے۔

2. سابقہ بیان کے طور پر استعمال:
ایف آئی آر کو "سابقہ بیان" کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے:

صرف اس کے بنانے والے کو متضاد (contradict) ثابت کرنے کے لیے۔

لیکن اس کی مدد سے مقدمے کا وزن نہیں بڑھایا جا سکتا، جب تک کہ اسے مکمل طور پر ثابت نہ کیا جائے۔

26/04/2025

شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ’’لڑکا کبھی لڑکی کا دوست نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں جذبہ ہے، خواہش ہے۔ آئرش شاعر آسکر وائلڈ نے بھی یہی کہا تھا۔ "مرد اور عورت کے درمیان صرف دوستی کا ہونا ناممکن ہے۔ خواہش، کمزوری، نفرت یا محبت جو ہو سکتی ہے۔"
،
ہمایوں احمد نے کہا، "ایک لڑکا اور لڑکی دوست ہو سکتے ہیں، لیکن وہ محبت میں ضرور پڑ جائیں گے۔ شاید بہت کم وقت کے لیے یا غلط وقت پر۔ یا بہت دیر سے، یا شاید ہمیشہ کے لیے۔ لیکن وہ محبت میں پڑ جائیں گے۔"
،
سچ پوچھیں تو لڑکے اور لڑکی کے درمیان محض دوستی ناممکن اور خلاف فطرت ہے۔ کیونکہ اگر صرف دوستی ہو گی تو فطرت اپنا وجود کھو دے گی۔ مقناطیس اور لوہا کبھی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ یہ اپنی طرف متوجہ کرے گا. اگر کوئی اس سے گریز کرتا ہے تو وہ یا تو منافق ہے یا دھوکہ دے رہا ہے۔

منقول

24/04/2025

Golden opportunity for the pupils of Sialkot ❤️

نکاح نامہ میں شوھر پر  بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں ہرجانہ کی ادائیگی کی شرط غیر شرعی اور غیر قانونی ھے۔ اور عدالت طلاق...
13/04/2025

نکاح نامہ میں شوھر پر بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں ہرجانہ کی ادائیگی کی شرط غیر شرعی اور غیر قانونی ھے۔ اور عدالت طلاق دینے کی صورت میں نکاح نامہ میں درج معاوضہ طلاق شوہر کے خلاف ڈگری نہ کرسکتی ھے.

2022 CLC 963/729 Lahore
PLJ 2021 Lahore 485
PLD 2021 SC 449
PLD 2011 SC 260,
2008 SCMR 186,
2012 CLC lah 837,
PLD 2007 lah 515.

فوجداری قانون میں ضمانت کا حق اور مفروری کی حیثیت: آئینی اور عدالتی جائزہ"سپریم کورٹ کا فیصلہ: کیا مفروری ضمانت کی راہ م...
04/04/2025

فوجداری قانون میں ضمانت کا حق اور مفروری کی حیثیت: آئینی اور عدالتی جائزہ"سپریم کورٹ کا فیصلہ: کیا مفروری ضمانت کی راہ میں رکاوٹ ہے؟"پاکستانی فوجداری نظام میں ضمانت اور مفروری: ایک قانونی مطالعہ.

2025 SCMR 318
PLJ 2025 SC (CrC) 60

درخواست گزار اس مقدمے میں مبینہ طور پر 10 سال تک مفرور رہا، لیکن اب یہ اصول مستحکم ہو چکا ہے کہ محض کسی ملزم کا مفرور ہونا اس کی ضمانت مسترد کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا، بشرطیکہ وہ میرٹ پر اس ریلیف کا حقدار ہو۔

فوجداری درخواست نمبر 776 برائے 2024
مزہر علی بنام ریاست

قانونی تجزیہ: ضمانت کا اصول اور مفروری کی حیثیت
مذکورہ سپریم کورٹ کے فیصلے
(2025 SCMR 318,
PLJ 2025 SC (CrC) 60)
کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بنیادی طور پر ضمانت کے حق اور ملزم کی مفروری سے متعلق ہے۔ اس میں درج ذیل قانونی نکات سامنے آتے ہیں جو کہ فوجداری مقدمات کی پریکٹس کرنے والے ووکلاء کے لیے انتہائی توجہ طلب ہیں ۔۔۔

1. فوجداری قوانین میں ضمانت کا اصول
پاکستان میں ضمانت سے متعلق قوانین زیادہ تر ضابطہ فوجداری 1898 (CrPC) میں درج ہیں۔ اہم دفعات درج ذیل ہیں:

دفعہ 496 CrPC: ضمانت کے قابل جرائم
(Bailable Offences)
میں ملزم کو ضمانت کا حق حاصل ہوتا ہے۔

دفعہ 497 CrPC: ناقابل ضمانت جرائم
(Non-Bailable Offences)
میں عدالت کے پاس صوابدید ہوتی ہے کہ وہ ملزم کو ضمانت دے یا مسترد کرے۔

مذکورہ فیصلے کے مطابق، سپریم کورٹ نے اس اصول کو تقویت دی ہے کہ اگر ملزم ضمانت کا قانونی طور پر حق دار ہو، تو صرف اس کی مفروری (Abscondence) اس کا حق سلب کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

2. مفروری (Abscondence) اور اس کے قانونی اثرات
عام طور پر، عدالتیں کسی ملزم کی مفروری کو ایک منفی عنصر کے طور پر دیکھتی ہیں۔ تاہم، عدالتوں نے وقتاً فوقتاً یہ بھی واضح کیا ہے کہ مفروری بذات خود ضمانت کے انکار کی واحد بنیاد نہیں بن سکتی، خاص طور پر اگر دیگر قانونی عوامل ضمانت کے حق میں ہوں۔

سپریم کورٹ نے مختلف فیصلوں میں درج ذیل اصول وضع کیے ہیں:

PLD 1987 SC 145:


4. نظائر (Precedents) اور قانونی رجحان
پاکستان میں مختلف عدالتوں نے اس معاملے پر متضاد آراء دی ہیں، لیکن حالیہ عدالتی نظائر ضمانت دینے کے حق میں زیادہ نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے درج ذیل قانونی اصول مزید مستحکم ہوئے ہیں:

اگر کیس میرٹ پر کمزور ہو تو مفروری ضمانت مسترد کرنے کا واحد جواز نہیں بن سکتی۔

عدالتوں کو ضمانت دیتے وقت ہر کیس کے مخصوص حالات کو دیکھنا ہوگا۔

آئینی حقوق اور فوجداری قوانین کو متوازن رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

نتیجتاً مختصراً اور قانونی طور پر ۔۔۔۔۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ اصول مزید واضح ہو گیا ہے کہ:

مفروری بذات خود ضمانت مسترد کرنے کی واحد بنیاد نہیں ہو سکتی۔

اگر کیس میرٹ پر کمزور ہو، تو عدالت ملزم کو ضمانت دینے پر غور کر سکتی ہے۔

آئین کے تحت ملزم کو منصفانہ ٹرائل اور آزادی کا حق حاصل ہے، جسے صرف مفروری کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ فوجداری نظام انصاف میں ضمانت کے اصولوں کو مزید مستحکم کرتا ہے اور عدالتی رجحان کو زیادہ منصفانہ اور آئینی حقوق کے مطابق بناتا ہے۔

*"پاور آف اٹارنی کے تحت جائیداد کی منتقلی: قانونی تجزیہ، شرائط و ذمہ داریاں"ایجنسی کے اصول اور جائیداد کا خود نام منتقل ...
03/04/2025

*"پاور آف اٹارنی کے تحت جائیداد کی منتقلی: قانونی تجزیہ، شرائط و ذمہ داریاں"ایجنسی کے اصول اور جائیداد کا خود نام منتقل کرنا: قانونی و آئینی جائزہ"پرنسپل کی اجازت کے بغیر ایجنٹ کا لین دین: دفعہ 215 کا تجزیاتی مطالعہ"*

Mr. Justice Mirza Viqas Rauf
18-03-2025
2025 LHC 1238
فیصلہ ۔۔۔۔۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر کوئی وکیل (ایجنٹ) کسی جائیداد کو اپنے نام یا قریبی رشتہ داروں کے نام منتقل کرے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے اصولی (پرنسپل) کی اجازت، منظوری اور رضا مندی حاصل کرے۔

قانونِ معاہدات 1872 کے سیکشن 215 کے تحت پرنسپل کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر ایجنٹ، پرنسپل کی اجازت کے بغیر، ایجنسی کے کاروبار میں اپنے ذاتی مفاد کے لیے معاملہ کرے تو پرنسپل اس سودے کو مسترد کر سکتا ہے۔

مندرجہ بالا قانونی دفعہ کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ پرنسپل درج ذیل صورتوں میں کسی لین دین کو رد کر سکتا ہے:

اگر ایجنٹ ایجنسی کے کاروبار میں ذاتی حیثیت سے معاملہ کرے؛

اگر وہ پرنسپل کی پیشگی اجازت حاصل نہ کرے؛

اگر وہ ان تمام اہم حالات سے پرنسپل کو آگاہ نہ کرے جو اسے خود معلوم ہوں؛

اگر یہ ظاہر ہو جائے کہ ایجنٹ نے کوئی اہم بات دانستہ طور پر پرنسپل سے چھپائی ہے، یا اس کا کیا گیا معاملہ پرنسپل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہو۔

تاہم، مذکورہ دفعہ 215 میں کہیں بھی یہ لازمی قرار نہیں دیا گیا کہ پرنسپل کی رضامندی تحریری ہو؛ لہٰذا یہ زبانی بھی ہو سکتی ہے۔

دیوانی نظرثانی نمبر: 423-24
عنوان مقدمہ: محسن لال چودھری بنام شوکت علی وغیرہ
فاضل جج: جناب جسٹس مرزا وقاص رؤف
تاریخ فیصلہ: 18-03-2025
حوالہ: 2025 LHC 1238

متعلقہ قوانین و دفعات
عدالتی نظائر
ایجنٹ (وکیل) کی طرف سے جائیداد کی منتقلی—قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں، قانونی حیثیت، اور عدالتی رہنمائی

1. پس منظر مقدمہ
یہ بات مسلمہ ہے کہ اگر کوئی ایجنٹ (وکیل) جائیداد کو اپنے نام یا اپنے قریبی رشتہ دار کے نام منتقل کرے، تو اس کے لیے پرنسپل (اصلی مالک) کی پیشگی اجازت، منظوری اور رضا مندی حاصل کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔

قانونِ معاہدات 1872 کی دفعہ 215 پرنسپل کو یہ حق دیتی ہے کہ اگر ایجنٹ، اس کی اجازت کے بغیر، اپنی ذات کے فائدے کے لیے ایجنسی کے معاملات میں لین دین کرے، تو پرنسپل اس لین دین کو منسوخ کر سکتا ہے۔

2. متعلقہ قوانین اور دفعات:
الف) قانونِ معاہدات 1872 (The Contract Act, 1872):
دفعہ 215:
اگر ایجنٹ ایجنسی کے کاروبار میں اپنی ذات کے لیے معاملہ کرے، اور پرنسپل کو نہ تو تمام اہم حالات سے آگاہ کرے، نہ اس کی اجازت حاصل کرے، تو پرنسپل لین دین کو مسترد کر سکتا ہے۔

دیگر اہم دفعات:
دفعہ 211: ایجنٹ پر لازم ہے کہ پرنسپل کی ہدایات کے مطابق عمل کرے۔

دفعہ 217: اگر ایجنٹ کو ذاتی فائدہ ہو، تو وہ پرنسپل کا حق ہے، جب تک اجازت نہ دی گئی ہو۔

دفعہ 218: ایجنٹ کو مکمل حساب دینا ہوگا۔

ب) قانونِ شہادت 1984 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984):
آرٹیکل 117: دعویٰ ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے پر ہے۔

5. نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔(Conclusion):
اگر ایجنٹ:

پرنسپل کی اجازت کے بغیر؛

تمام مادی حقائق چھپا کر؛

خود یا قریبی عزیز کے نام جائیداد منتقل کرتا ہے؛

تو پرنسپل کو مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ:

لین دین منسوخ کر دے؛

عدالت سے ہرجانے کا مطالبہ کرے؛

ایجنٹ کے خلاف دیوانی یا فوجداری کارروائی کرے۔

عدالتیں ایسے معاملات میں ایجنٹ کی بدنیتی اور اعتماد شکنی کو سنجیدہ جرم تصور کرتی ہیں۔

“Whoever dishonestly issues a cheque towards repayment of a loan or fulfillment of an obligation, and it is dishonored d...
28/03/2025

“Whoever dishonestly issues a cheque towards repayment of a loan or fulfillment of an obligation, and it is dishonored due to insufficient funds or any other reason, shall be punished with imprisonment up to three years, or with a fine, or both.”

*بجلی کے واجبات کی وصولی: قانونی جواز، حدود اور اعلیٰ عدالتی نظائر کی عکاسی"*2024 LHC 3071فیصلہ ۔۔۔بجلی کے واجبات کی وصو...
25/03/2025

*بجلی کے واجبات کی وصولی: قانونی جواز، حدود اور اعلیٰ عدالتی نظائر کی عکاسی"*

2024 LHC 3071
فیصلہ ۔۔۔

بجلی کے واجبات کی وصولی کو زمین کے محصولات کے بقایا جات کے طور پر وصول کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کسی شخص کی ان واجبات کی ادائیگی کی ذمہ داری قانون کے مطابق کسی مجاز عدالت کے ذریعے ثابت نہ ہو جائے۔

بجلی کے واجبات کی وصولی بحیثیت اراضی محصولات: ایک قانونی تجزیہ
پس منظر:
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے (2024 LHC 3071) کے مطابق، بجلی کے واجبات کو زمین کے محصولات کے بقایا جات کے طور پر وصول کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ اس ذمہ داری کو کسی مجاز عدالت کے ذریعے قانونی عمل کے مطابق ثابت نہ کیا جائے۔ اس فیصلے کا براہ راست تعلق پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے ذریعے واجبات کی وصولی کے قانونی فریم ورک سے ہے۔

متعلقہ قوانین کی دفعات:
پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967:

سیکشن 3 & 4: اس ایکٹ کے تحت اراضی محصولات کے بقایا جات کی وصولی کا طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے۔
سیکشن 81: حکومت مخصوص واجبات کو "زمین کے محصولات کے برابر" قرار دے کر سرکاری واجبات کے طور پر وصول کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس کا قانونی جواز موجود ہو۔
پاکستان الیکٹرک پاور ایکٹ، 1997:

یہ قانون بجلی کے پیداواری، ترسیلی اور تقسیم کار اداروں کے اختیارات کو واضح کرتا ہے، لیکن اس میں بجلی کے واجبات کی زبردستی وصولی کو لینڈ ریونیو کے برابر شمار کرنے کا کوئی عمومی اختیار موجود نہیں۔
قانونِ دیوانی، 1908 (Civil Procedure Code, 1908):

آرڈر 37: اس میں مخصوص حالات میں فوری ڈگری حاصل کرنے کا طریقہ موجود ہے، لیکن اس کے لیے مجاز عدالت سے رجوع ضروری ہے۔
سیکشن 9: دیوانی عدالتیں تمام ایسے معاملات سننے کی مجاز ہیں جو کسی اور مخصوص قانون کے دائرہ اختیار میں نہ آتے ہوں۔
نیپرا ایکٹ، 1997:

سیکشن 31(5): نیپرا کو بجلی کے نرخ، بلوں اور ان کے نفاذ سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن وہ کسی واجب الادا رقم کو لینڈ ریونیو کی حیثیت دینے کی خودکار اجازت نہیں دیتا۔
قانونِ فوجداری، 1898 (Criminal Procedure Code, 1898):

اگر بجلی کی چوری ہو تو سیکشن 378-411 (تعزیراتِ پاکستان) اور CrPC کی متعلقہ دفعات کے تحت فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن یہ سول واجبات کی زبردستی وصولی سے مختلف معاملہ ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے بارہا فیصلہ جات میں واضح کیا کہ سرکاری واجبات صرف تبھی لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت وصول کیے جا سکتے ہیں جب متعلقہ قانون اس کی صراحت کرے۔

مزید ایک اور مقدمہ کی صراحت ۔۔۔
اس مقدمے میں کہا گیا کہ جب کسی معاملے میں قانونی عمل موجود ہو تو کسی ایگزیکٹو اتھارٹی کو زبردستی وصولی کا اختیار نہیں دیا جا سکتا جب تک عدالت اس کی توثیق نہ کرے۔
قانونی تجزیہ اور نتائج:
بجلی کے بل کی وصولی اور لینڈ ریونیو:

اگرچہ کچھ قوانین میں حکومت کو مخصوص واجبات کو زمین کے محصولات کی طرز پر وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن بجلی کے واجبات کے لیے ایسا کوئی عمومی قانون موجود نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں کسی صارف سے براہ راست لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت زبردستی واجبات وصول نہیں کر سکتیں، جب تک کہ عدالت اس کی توثیق نہ کرے۔
قانونی طریقہ کار

“Hurry up! It’s time to avail this golden opportunity. Come and join us!”
23/03/2025

“Hurry up! It’s time to avail this golden opportunity. Come and join us!”

منشیات مقدمات میں مال مقدمہ کی محفوظ تحویل اور ترسیل کا دستاویزی ثبوت پیش کیا جانا ضروری ہے ۔محرر یا انچارج مالخانہ کا م...
20/03/2025

منشیات مقدمات میں مال مقدمہ کی محفوظ تحویل اور ترسیل کا دستاویزی ثبوت پیش کیا جانا ضروری ہے ۔
محرر یا انچارج مالخانہ کا محض زبانی بیان متعلقہ رجسٹرز/ روڈ سرٹیفکیٹس پیش کیے بغیر قابل ادخال شہادت نہ ہے.

No documentary evidence whatsoever has been brought on record by the prosecution to establish safe custody and transmission.

Neither entry of Register No. XIX was tendered in evidence nor Road Certificate as contemplated by rule 22.70, Form 22.70 and Rule 22.72, Form 10.17 of Police Rules, 1934. So, this sole contour of the case creates dent in the case of the prosecution.

The Police Rules mandate that case property be kept in the Malkhana and that the entry of the same be recorded in Register No. XIX of the said police station. It is the duty of the police and prosecution to (naeem)establish that the case property was kept in safe custody, and if it was required to be sent to any laboratory for analysis, to further establish its safe transmission and that the same was also recorded in the relevant register, including the road certificate, etc. The procedure in the Police Rules ensures that the case property, when it is produced before the court, remains in safe custody and is not hampered with until that time. A complete mechanism is provided in the Police Rules qua safe custody (naeem)and safe transmission of the case property to concerned laboratory and then to the Trial Court.

Under Article 129(g) of Qanun-e-Shahadat Order, 1984 ("the Order") it can be presumed that the prosecution did not produce Register No. XIX because the in-charge of the store room had not entered the receipt of parcels in the said register. Under Article 102 of the Order, in all cases in which any matter is required by law to be reduced to the form of a document, no evidence shall be given in proof of such matter except the document itself, or secondary evidence of its contents in cases in (naeem)which secondary evidence is admissible under Article 76. Therefore, oral testimony of PW-3 with regard to the safe custody of parcels was not admissible under Article 102 of the Order. Hence prosecution failed to prove safe custody of the parcels beyond shadow of doubt.

It is a case of prior information that too in the court timings but the seizing officer neither tried to obtain search warrants as required by section 20 of the Act of 1997 nor he has offered any reason/justification for his non-compliance of the command of section 20. Similarly, the prior information was never recorded in Register No. II (naeem)as contemplated by rule 22.49 of the Police Rules.

Crl.P.L.A.1187/2021 Jeehand v. The State through Prosecutor General Balochistan Mr. Justice Muhammad Hashim Khan Kakar 14-03-2025

Address

District And Session Court Sialkot, Executive Block Chamber No 84
Sialkot
51310

Telephone

+923347953430

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Padana Legal lighthouse posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Padana Legal lighthouse:

Share

Category