Mian Tanweer Ahmed Advocate

Mian Tanweer Ahmed Advocate Welcome to “ Mian Tanweer Ahmed Adv “
This is your own Page so own it the way you own your thin

03/12/2025

STAGES OF CIVIL SUIT

Normally a civil suit has to travel through 17 main stages from institution of the suit till its judgment, they are as under :-

1)
Institution of Suit
Order 4, 6 and 7

2
Issue of Summons
Order 5

3
Filing of Written Statement
Order 8
30

4
Examination of Parties
Order 10
10

5
Settlement of Despute
Section 89

6
Discovery & Inspection
Order 11

7
Admission
Order 12

8
Production of Documents
Order 13

9
Framing of Issues
Order 14

10
List of Witness
Order 16

11
Summons to Witnesses
Order 16 R 1 (4)

12
Settling Date
Order 16

13
Evidence of Parties
Order 18 R 4
r/w Order 17
----

14
Exhibiting of Documents
Order 18 R 4 (1)
Proviso
07

15
Cross-exam by parties
Order 18 R 4 (2)
----

16
Arguments
Order 18 R 2 (3A)
----

17
Judgment
Order 20

Out of these 17 main stages the amended code does not speak about any time limit for Examination of Parties - Order 10, Settlement of Disputes - Section 89, Production of Documents - Order 13, Exhibiting of Documents - Order 18 R 4 (1) proviso and Arguments - Order 18 R 2 (3A), but in the rest of the provisions the amended code has given time limits in the provisions itself and we cannot ignore them so easily and without any rare and exceptional circumstances.

Now once a party has filed the suit then he has to comply all the provisions one by one within the stipulated time. If the table shown as above is effectively implemented then no prejudice is likely to be caused to either of the parties and it will be a milestone in disposing off the civil suit in a stipulated time and that too within the framework of law, respecting the intention of the legislature. Now it is for us to decide whether to follow the provisions or the practice while interpreting and implementing the provisions of amended code.
In the amended code most of the provisions contains time limits for a particular stage. Maximum of the provisions are mandatory in nature and in very few of them the discretion lies with the court.
1. Plaintiff has to file the plaint complying the provisions in all respect as contemplated under Order 4 r/w Order 6 and 7 of the code.
2. Plaintiff has to issue summons within 30 days from the institution of suit.
3. After the service of summons defendant has to file his written statement within 30 days from the receipt of summons as per Order 8 R 1 of the code
4. No further time exceeding 90 days after date of service of summons be extended for filing written statement as per proviso to Order 8 R 1 of the code.
5. Within 10 days from the filing of written statement court has to examine the parties so as to explore the possibilities of compromise in between the parties and to refer the matter of settlement under section 89 of the code.
6. If parties fail to compromise the matter then court has to keep the matter for discovery and inspection within the time span of 7 – 10 – 10 – 3 days, as per Order 11 of the code.
7. Then to adjourn the matter for admission within the time span of 15 days as per Order 12 of the code.
8. Then parties have to file the original documents prior to framing of issues within the time span of 7 days, as per Order 13 of the code.
9. Court has to frame the issues within 15 days as per Order 14 of the code.
10. Parties have to file the list of witnesses within 15 days from the date of framing of issues as per Order 16 of the code.
11. Plaintiff has to issue summons to the witnesses either for adducing evidence or for production of documents within 5 days of filing of list as per Order 16 R 1 (4) of the code.
12. Parties have to settle the date of evidence as per Order 16 of the code.
13. Plaintiff has to file the affidavits of all his witnesses within 3 adjournments as per Order 18 R 4 r/w Order 17 of the code.
14. Court has to exhibit the documents considering their proof and admissibility with a reasoned order as per proviso to Order 18 R 4 (1) of the code.
15. Cross examination of the plaintiff and his witnesses on day to day until all the witnesses in attendance have been examined as per Order 18 R 4 (2) r/w Order 17 R 2 (a) of the code.
16. Defendant has to issue summons to the witnesses either for adducing evidence or for production of documents as per Order 16 R 1 (4) of the code.
17. Defendant has to file the affidavits of all his witnesses within 3 adjournments as per Order 18 R 4 r/w Order 17 of the code.
18. Court has to exhibit the documents considering their proof and admissibility with a reasoned order as per proviso to Order 18 R 4 (1) of the code.
19. Cross examination of the defendant and his witnesses on day to day until all the witnesses in attendance have been examined as per Order 18 R 4 (2) r/w Order 17 R 2 (a) of the code.
20. Parties have to conclude their arguments within 15 days from the completion of their respective evidence as per Order 18 R 2 (3A) of the code.
21. Court has to delivered judgment forthwith or on or before 30 days and not exceeding 60 days from the date of conclusion of the arguments as per Order 20 R 1 of the code.

دستاویزات کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں پیش کیں، لہذا، پلاٹ کی اپنی حقیقی ملکیت ثابت کرنے کا بوجھ ختم کرنے میں ناکام رہا۔ یہ مشاہد...
25/04/2025

دستاویزات کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں پیش کیں، لہذا، پلاٹ کی اپنی حقیقی ملکیت ثابت کرنے کا بوجھ ختم کرنے میں ناکام رہا۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ دستاویزات کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں ثبوت کے طور پر ناقابل قبول ہیں جن میں اصل کی تباہی کی کوئی وضاحت نہ ہونے کی صورت میں مواد کی اصلیت کا پتہ لگانے کے لیے نہیں دیکھا جا سکتا۔
عدالت کو کچھ کوتاہی پر غور کرتے ہوئے تکنیکی باتوں پر معاملے کو خارج نہیں کرنا چاہئے جو اس کے دائرہ اختیار کی ایک سادہ مشق سے قابل علاج ہے۔
سکینڈ اپیل منظور ہوئی مقدمہ ریمانڈ ہوا
2025 CLC 215 سندھ

دعویٰ 22/12/1999 کو ڈگری ہوا اجراء ڈگری دائر ہوئی جو کے 26/4/2002 کو عدم پیروی خارج ہو گئی
22/12/1999 کے خلاف اپیل ہوئی جو کے
05.06.2009 کو خارج ہو گئی اور حکم نامے پر عمل درآمد کے لیے دوسری درخواست اجراء ڈگری دائر کی (تاریخ 22.12.1999) - حد بندی ایکٹ، 1908 کے آرٹیکل 181 کے تحت، کے تحت تین سال کی مدت گزرنے کے لیے دی گئی تھی۔ 48، C.P.C، فیصلے اور حکم نامے کے 6 سال کے اندر اجرا کی دوسری درخواست دائر کی جانی تھی- اگر حکم نامہ کو اعلیٰ فورم کے سامنے چیلنج کیا گیا ہو اور اسٹے منظور کر لیا گیا ہو، تو اس کے بعد اجرا کی درخواست دائر کرنے پر وقت تک روک نہیں لگائی جا سکتی- اس طرح، موجودہ کیس میں، درخواست گزاروں کی طرف سے مقررہ وقت کے اندر اندر اجرا کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ جو کے اجراء ڈگری بحال ہوئی
2025 clc 344

‏XIV, R. 5---مسائل کی ترمیم -اسٹیج-عدالت کسی بھی وقت حکم نامہ پاس کرنے سے پہلے، ان شرائط پر فریم شدہ مسائل میں ترمیم کر سکتی ہے، جو اسے مناسب سمجھے---فریم شدہ مسائل کی ایسی ترمیم فریقین کے درمیان تنازعات میں معاملات کے تعین کے لیے ضروری ہونی چاہیے۔
تنقیحات (ISSUES) پر لاھور ہائیکورٹ کا انتہائی معلوماتی فیصلہ
2025 CLC 323
PLJ 2024 Lahore 253

- قانون ان لوگوں کے حق میں نہیں جو اپنے حقوق پر سوئے ہوئے ہیں- -- درخواست گزار کا موقف یہ تھا کہ اسے وکیل کی غفلت پر سزا نہیں دی جانی چاہئے -- جواز -- فریق کو وکیل کے خلاف ہرجانے کے لئے مقدمہ کرنے کا حق ہے
- وکیل کے اعمال مؤکل سے منسوب ہیں، اور یہ اصول انصاف کے انتظام کے لیے ضروری ہے
سول پروسیجر کوڈ کی دفعہ 12(2) کا استعمال صرف ان صورتوں میں کیا جا سکتا ہے جہاں کوئی فیصلہ، حکم نامہ، یا حکم پیش کیا گیا ہو۔
‏C.P.C.-S.12(2)

قانونی طور پر F.I.R لکھنے اور پڑھنے کا آسان طریقہ کار:ایک F.I.R میں کل 6 کالمز ہوتے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہںے:کالم نمب...
17/04/2025

قانونی طور پر F.I.R لکھنے اور پڑھنے کا آسان طریقہ کار:

ایک F.I.R میں کل 6 کالمز ہوتے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہںے:
کالم نمبر ایک میں تاریخ اور وقت وقوعہ درج ہںوتا ہںے جب کہ کالم نمبر2 میں نام و سکونت اطلاع دھندہ مستغیث یعنی مدعی کا ذکر ہںوتا ہںے، کالم نمبر 3 میں مختصر تفصیل جرم، دفعات کا ذکر اور مال اگر کچھ کھو گیا ہںو تو اس کا ذکر ہوتا ہںے، کالم نمبر 4 میں جائے وقوعہ و تھانہ سے سمت کا ذکر ہںوتا ہںے، اگر F.I.R درج کرنے میں تاخیر کی گئی ہںو تو اس کی وجہ کالم نمبر 5 میں درج کی جاتی ہںے اور کالم نمبر 6 میں تھانہ سے روانگی کا وقت اور تاریخ درج ہںوتی ہںے۔

جبکہ ملزم/ملزمان کا ذکر F.I.R کی کہانی میں کیا جاتا ہںے، جبکہ F.I.R لکھنے والے پولیس آفیسر کا نام اور عہدہ معہ دستخط نیچے درج کیا جاتا ہںے، F.I.R پڑھنے کے لیے ضروری ہںے کہ F.I.R کی مکمل طور پر Better Copy کروا لیں اس طرح پڑھنے میں آسانی ہںوگی۔

اگر F.I.R اچھی طرح لکھی گئی ہو تو ملزمان کو ضمانت کے لیے کوئی راستہ نہیں ملتا، ایک اچھی F.I.R صرف ماہر فوجداری وکیل (Criminal Lawyer) ہںی لکھ سکتا ہںے اس لیے پولیس کو F.I.R کے لیے تحریر دینے سے پہلے کسی اچھے وکیل سے ضرور رجوع کر لیں کیونکہ پولیس کا کام تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری تک ہںوتا ہںے، ٹرائل میں کردار صرف آپ کے وکیل کا ہںوتا ہںے...!!

22/11/2024

*نوٹس بابت اطلاع فوتیدگی*
معزز ممبران بار کو نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع کی جاتی ہے کہ معزز رکن جناب میاں تنویر احمد ایڈووکیٹ کے والد محترم رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں جن کی نماز جنازہ آج مورخہ 22نومبر 2024 بوقت 08:00 بجے قبرستان شاہ مونگاں والی بجلی محلہ سیالکوٹ ادا کی جائے گی شرکت فرمائیں ۔
*چوہدری راحت نزیر وینس* ایڈووکیٹ
*سیکرٹری*
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ

03137926208
03083414563

Free Legal Helpاگر آپ کا یا کسی جاننے والے کا کوئی جیل میں ہے جس کے پاس ضمانت کروانے کے لئے وکیل کو دینے کے لئے پیسے نہی...
26/08/2024

Free Legal Help
اگر آپ کا یا کسی جاننے والے کا کوئی جیل میں ہے جس کے پاس ضمانت کروانے کے لئے وکیل کو دینے کے لئے پیسے نہیں یا ،آپ کی درخواست پر پولیس آپ کی بات نہیں سن رہی اور FIR نہیں کر رہی یا فیملی ، طلاق ، بچوں کا خرچہ یا زمین کا کیس کسی عدالت چل رہا ہے جس میں آپ وکیل کی فیس ادا نہیں کر سکتے یا آپ کوئی کیس کرنا چاہتے ہیں تو ہماری لاء فرم آپ کے لیئے فری سروس دیتے ہیں ۔ آپ کو100 فیصد انصاف بھی ملے گا ۔۔۔رابطہ 03137926208
آفس ایڈریس۔۔ میاں تنویر احمد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
آفس نمبر 252 امیر بھٹی ٹاور ضلع کچہری سیالکوٹ

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی تفصیلات جاری کر دی گٸ 6 لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس ۔۔۔۔۔زیرو 6لاکھ سے 12 لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس۔۔...
18/07/2024

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی تفصیلات جاری کر دی گٸ
6 لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس ۔۔۔۔۔زیرو
6لاکھ سے 12 لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس۔۔۔%2.5
12لاکھ سے 24 لاکھ تک تنخواہ ۔......150000+%12.5
24 لاکھ سے 36 لاکھ پر..........165000+%22.5
36 لاکھ سے 60 لاکھ۔۔۔43500+%27.5
60 لاکھ اور اس سے اوپر ۔۔1095000+%35

؞؞؞؞؞؞؞؞@ انصاف غریب کی پہنچ سے دور @؞؞؞؞؞؞؞؞؞اب عدالتوں کا رُخ کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ وکلاء کی فیس کے علاوہ ہزاروں روپ...
18/07/2024

؞؞؞؞؞؞؞؞@ انصاف غریب کی پہنچ سے دور @؞؞؞؞؞؞؞؞؞

اب عدالتوں کا رُخ کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ وکلاء کی فیس کے علاوہ ہزاروں روپے عدلیہ آپ سے ٹیکس لے گی۔

تعلیم ، صحت ، سکیورٹی کے بعد انصاف بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو چکا.
2 روپے والی ٹکٹ 10 روپے والا وکالت نامہ ، 50/100 روپے والا اسٹام پیپر ختم

اب 500 روپے سے لیکر 3000 روپے تک ٹیکس ، 2 روپے والی ٹکٹ 500 کی ، 10 روپے والا وکالت نام 500 روپے کا 50/100 والا اسٹام پیپر 300 سے 3000 تک کر دیا گیا۔

09/07/2024
اب موقع پر فائلر ہو کر پراپرٹی کی خرید وفروخت کرنے والوں کے لیے FBR نے ایک نیا سلیب جاری کردیا جو بندہ  5 کروڑ تک کی پرا...
03/07/2024

اب موقع پر فائلر ہو کر پراپرٹی کی خرید وفروخت کرنے والوں کے لیے FBR نے ایک نیا سلیب جاری کردیا جو بندہ 5 کروڑ تک کی پراپرٹی کی خرید کے وقت فائلر ہوگا اس کو 6% FBR ٹیکس لگے گا نان فائلر کو 12% اور ریگولر فائلر کو 3% لگے گا

اسی طرح پراپرٹی کو موقع پر فروخت کرنے پر فائلر ہونے والے کو بھی 6% FBR ٹیکس لگے گا نان فائلر کو 10% اور ریگولر فائلر کو 3% لگے گا

اور جو بندہ پراپرٹی خرید کر 6 سال کے اندر دوبارہ فروخت کرے گا اس کو پرانی رجسٹری اور نئی رجسٹری کے فرق/ منافع کا فائلر ہونے پر 15% تک اور نان فائلر ہونے پر 45% تک ٹیکس اپنی ٹیکس ریٹرن کے وقت FBR کو ادا کرنا ہوگا

07/02/2024

عمر قید سے مراد کتنے سال کی قید ہے؟ کیا جیل کی قید میں دن رات الگ الگ مانے جاتے ہیں؟

پاکستان کے نظام انصاف کے تحت مجرم کو مختلف سزائیں دی جاتی ہیں جن میں سزائے موت، جرمانہ اور قید وغیرہ کی سزا شامل ہے۔ سزائے موت قتل یا دیگر سنگین نوعیت کے جرم میں دی جاتی ہے اور صرف جرمانہ عموماً معمولی نوعیت کے جرم میں ہوتا ہے جبکہ دیگر جرائم میں قید و بند کی سزا دی جاتی ہے۔ آج میں اسی قید کی سزا سے متعلق آپ کو بتاؤنگا۔ سب سے پہلے قید کی اقسام جان لیں۔ پاکستانی قانون کے مطابق قید کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک سادہ قید جس کو simpe imprisonment اور دوسری قید بامشقت جس کو Rigorous imprisonment مطلب ایسی قید جس میں قیدی سے کام کروایا جاتا ہے۔ پرانے وقتوں میں اس سزا کے حامل قیدیوں کو کان کھودنے یا پتھر توڑنے کا کام لیا جاتا تھا.

قید کی سزا کتنے سالوں پر مشتمل ہوتی ہے؟

عمر قید جس کو انگریزی میں Life imprisonment کہا جاتا ہے پاکستانی قانون کے مطابق عمر قید کی سزا 25 سال ہوگی. اس بات کو کیس لا میں بھی واضح کیا گیا PLD 2017 page 22. ایک بات یاد رہے کہ پاکستان میں عمر قید سے مراد 25 سال قید ہے جبکہ یورپ امریکہ میں عمر قید میں اس شخص کو تمام عمر جیل میں رہنا پڑتا ہے اور اگر رہائی ملتی بھی ہے تو 60، 70 سال کی عمر ہونے کے بعد ملتی ہے اور اس طرح سے عمر قید کی سزا سزائے موت سے بھی بدتر ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں 25 سال قید بھی مشکل سے پوری ہوتی ہے کبھی عید کبھی رمضان یا دیگر مواقعہ پر قید کی سزا میں معافی ملتی رہتی ہے حکومت کی جانب یا صدر پاکستان کی جانب سے۔

کیا جیل کی قید میں دن رات دو دن شمار ہوتے ہیں؟

جی نہیں۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ ایک دن جیسے عام طور پر ہوتا ہے ویسے ہی قید میں ہوتا ہے. 10 سال قید کا مطلب ہے پورے 10 دس سال نہ کے 5 سال۔ جو قیدی 10 سال قید یا اپنی قید سے پہلے رہا ہو جاتے ہیں اسکی وجہ گورنمنٹ صدر پاکستان کی جانب سے عیدین رمضان یا دیگر تہواروں پر مہینہ 2 مہینے سزا معاف کرنے اس کے علاوہ سرکاری چھٹیوں کو بھی قید سے نکالنے کی وجہ سے ایک قیدی اپنی قید سے پہلے رہا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قیدی اگر جیل میں اپنا رویہ اچھا رکھے تب بھی اسکی سزا کم ہو جاتی ہے۔
دوران ٹرائل جو عرصہ قید میں گزرا وہ عرصہ بھی قید میں شامل ہوگا؟
جی۔ جو عرصہ دوران ٹرائل قید میں گزرا وہ عرصہ سزا سے نکال لیا جاتا ہے. 10 سال سزا ہوئی 2 سال ٹرائل چلا مجرم قید میں تھا اب 2 سال نکال کر 8 سال قید کی سزا ہوگی۔
مختلف جرائم میں مختلف سزا ہوئی کتنی سزا ملے گی؟
ایک مجرم کو 3 سال ایک جرم میں سزا ہوئی 3 سال دوسرے جرم میں تو اب وہ 6 سال کا عرصہ جیل میں نہیں بلکہ 3 سال کا عرصہ جیل میں گزارے گا۔ اس قانون کو وضع کیا گیا سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں.
2017 SCMR 307

23/12/2023

(Case Laws)
✨جزوی ادائیگی کی صورت میں مدعی اندراج FIR کا حقدار نہ ہے۔
ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم ہوئی۔👍 . .2019 PCrLJ 295

✨بینک میں Payment بھی Stop کروانا ضروری ہے محض چیک بک چوری کی رپٹ درج کروانے کی بناء پر 489-F ت پ کیس میں ضمانت منظور نہ ہو گی۔
. . .2013 YLR 626👍

✨اگر ملزم بطور گارنٹی چیک دینا تسلیم کرے تو ضمانت کا حقدار نہ ہو گا۔ . . .2011 YLR 1284👍

✨اگر چیک ایشو ہونے کے بعد چھ ماہ کے اندر بنک میں پیش نہ کیا جاۓ تو ملزم ضمانت کا حقدار ہو گا۔ . .2020 YLR 2064👍

✨اگر چیک بطور Security دیا گیا ہو تو ملزم کے خلاف 489- F ت پ کا اطلاق نہ ہو گا۔ ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا۔ . .2016 PCrLJ 769👍

✨اگر چیک ملزم کی بجاۓ کسی دیگر شخص نے جاری کیا ہو تو ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا۔ . .2014 YLR 882👍

✨صرف چیک جاری کرنے کی بناء پر 489F ت پ ثابت نہ ہو گا۔ بلکہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ چیک بے ایمانی سے جاری کیا گیا۔ . .2021 YLR 324👍

✨بطور گارنٹی دیئے گئے چیک پر 489F ت پ کا اطلاق نہ ہوگا۔ ضمانت منظور ہوئی۔ . .2020 PCrLJ 268👍

✨Plaintiff registration is not entitled to FIR in case of partial payment.
*Bail confirmed before arrest. . . 2019 PCrLJ 295

✨It is also necessary to stop the payment in the bank. Just by filing a report of check book theft, the bail of 489-F case will not be accepted.
. . . 2013 YLR 626

✨If the accused agrees to give a guarantee check, he will not be entitled to bail. . . . 2011 YLR 1284

✨If the check is not presented to the bank within six months after the issue, the accused will be entitled to bail. . . . 2020 YLR 2064

✨If the check is given as security then 489-F will not be applicable against the accused. The accused will be entitled to pre-arrest bail. . . 2016 PCrLJ 769

✨If the check is issued by someone other than the accused, the accused will be entitled to pre-arrest bail. . . . 2014 YLR 882

✨Just issuing a check will not prove 489F. It is important to prove that the check was issued dishonestly. . . 2021 YLR 32

✨489F will not apply to guaranteed checks. Bail granted. . . 2020 PCrLJ 268

Address

Office Number 125A Opposite DPO Office Sialkot
Sialkot
51310

Telephone

+923137926208

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Tanweer Ahmed Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share