Professional Law Firm

Professional Law Firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Professional Law Firm, Lawyer & Law Firm, 161 C Executive Block District Courts, Sialkot.

We provide services in Criminal, Civil,Family, Revenue, Consumer, Banking and Labor Laws
Head office 161c Executive Block District Courts Sialkot
2nd Office Kotli Loharan West Sialkot

08/06/2026
یہ ریمانڈ پیپر اس بے حس قوم کے منہ پر اس کرپٹ نظام کا ایک زوردار طمانچہ ھے۔۔آئین معطل، قانون خاموش، شہری بے بس:-یہ ہے وط...
05/06/2026

یہ ریمانڈ پیپر اس بے حس قوم کے منہ پر اس کرپٹ نظام کا ایک زوردار طمانچہ ھے۔۔

آئین معطل، قانون خاموش، شہری بے بس:-
یہ ہے وطن عزیز کی حالت۔
جہاں عملی طور پر آئین معطل اور قانون امراء کی لونڈی کا کردار ادا کر رہا ھے۔

اگر کسی شخص کو 18 مئی کو گرفتار کیا گیا اور 23 مئی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، تو سوال صرف پولیس سے نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف سے ہے۔

آئینِ پاکستان ضابطہ فوجداری واضح طور پر کہتا ہے کہ گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔
یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی آئینی حق ہے۔

لیکن جب ایک شہری کو کئی دن تک حراست میں رکھا جائے، مبینہ طور پر دھمکایا جائے، اس سے جائیداد یا گاڑی منتقل کروائی جائے، اور پھر کسی پہلے سے درج مقدمے میں ضمنی بیان کے ذریعے نامزد کرکے عدالت میں پیش کر دیا جائے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون کی حکمرانی کہاں ہے؟

اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ریمانڈ پیپر پر گرفتاری کی تاریخ درج ہو، تو کیا مجسٹریٹ کا فرض نہیں کہ پولیس سے پوچھے:

“کہ اتنے دن بعد کیوں لے کر آئے؟”

پھر نہ کوئی میڈیکل کروایا اور نہ کوئی دیگر تادیبی کروائی کا حکم، بس بد قسمت شہری کو جیل بھیج دیا۔۔

مجسٹریٹ عدالت شہری آزادیوں کی پہلی محافظ ہوتی ہے۔ اگر عدالتیں غیر قانونی حراست، غیر قانونی گرفتاری اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوال نہیں اٹھائیں گی تو عام آدمی انصاف کی امید کس دروازے سے لگائے؟

قانون کی بالادستی صرف فیصلوں سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ ہر اس شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے قائم ہوتی ہے جو ریاست کی طاقت کے سامنے کھڑا ہو۔

اگر یہ حق ایک شخص سے چھین لیا جائے تو کل یہ حق کسی بھی شہری سے چھینا جا سکتا ہے۔

*قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، ورنہ قانون نہیں صرف طاقت باقی رہ جاتی ہے۔

شہری کا بیرون ملک سفر کرنا آئین کے آرٹیکل 4، 9 10A اور 15 کے تحت بنیادی حق ہے، جسے صرف معقول اور قانونی پابندیوں کے تحت ...
29/05/2026

شہری کا بیرون ملک سفر کرنا آئین کے آرٹیکل 4، 9 10A اور 15 کے تحت بنیادی حق ہے، جسے صرف معقول اور قانونی پابندیوں کے تحت محدود کیا جا سکتا ہے۔
· امیگریشن حکام کو یہ اختیار ہے کہ وہ مشکوک مسافروں کو روکیں، لیکن یہ اختیار من مانی، مبہم یا غیر معقول طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
· درخواست گزار کو روکنے کی وجوہات (نامناسب فنڈز اور سفر کا مقصد واضح نہ ہونا) انتہائی مبہم اور غیر معینہ تھیں۔ نہ یہ بتایا گیا کہ کتنی رقم تھی، نہ کم از کم مالی حد کا کوئی معیار پیش کیا گیا۔
· فیصلے کی کوئی معقول وجوہات درج نہیں تھیں، جو کہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24-A کی خلاف ورزی ہے۔
· درخواست گزار نے بتایا تھا کہ اس کا برادر ننھیال نائیجیریا میں مقیم ہے، لیکن امیگریشن نے اس پہلو کو نظرانداز کیا۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے روکنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا اور ہدایت کی کہ:

· مستقبل میں کسی مسافر کو روکنے کی صورت میں معقول، تحریری اور تفصیلی وجوہات ریکارڈ کی جائیں۔
· متاثرہ شخص کو فیصلے کی کاپی فوری فراہم کی جائے۔
· تاہم، ہرجانے کا دعویٰ الگ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے کیا جا سکے گا۔

اہل وطن کو دلی عید مبارک ❤️
26/05/2026

اہل وطن کو دلی عید مبارک ❤️

میونسپل کارپوریشن کی یونین کونسل نمبر1 کی غیر منصفانہ تقسیم
25/05/2026

میونسپل کارپوریشن کی یونین کونسل نمبر1 کی غیر منصفانہ تقسیم

22/05/2026

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ ویڈیو دراصل دسمبر 2023 کی ہے جب عدالتی بیلف نے پولیس کی معاونت سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور، عدنان رشید، کو ان کے دفتر سے گرفتار کر لیا۔ یہ واقعہ 12 دسمبر 2023 کو پیش آیا جب ایک شہری کی زمین سے متعلق مقدمے میں عدالت کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے اور بار بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر متعلقہ عدالت نے عدنان رشید کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے بیلف پولیس کے ہمراہ اے ڈی سی آر کے دفتر پہنچا اور انہیں حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا۔اس واقعے کو عدالتی اختیارات اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں ایک اہم مثال قرار دیا گیا۔
دوسری جانب پنجاب مینجمنٹ سروس (PMS) افسران نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سرکاری افسران کی تضحیک قرار دیا اور معاملے کی مذمت کی تھی۔ بعد ازاں متعلقہ سول جج، شفقت رسول، نے وارنٹِ گرفتاری منسوخ کر دیے جس کے بعد عدنان رشید کو رہا کر دیا گیا۔
یہ واقعہ اس اصول کی یاددہانی تھا کہ عدالتی احکامات کی پابندی ہر شہری اور سرکاری عہدیدار پر یکساں طور پر لازم ہے اور قانون کے سامنے کسی عہدے یا منصب کی بنیاد پر استثنا حاصل نہیں ہوتا۔

حکومت پنجاب متوجہ ہو
19/05/2026

حکومت پنجاب متوجہ ہو

Address

161 C Executive Block District Courts
Sialkot
51310

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professional Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share