13/03/2023
ایک دانا نے عمران خان کے بارے میں کہا تھا کہ اسے قدرت نے ایسے کپڑے عطا کئے ہیں کہ اس کے دشمن جتنی مرضی اس کی کردار کشی کر لیں اس کے دامن پر داغ خود بخود دھلتے جاتے ہیں۔ شائد اسے کینسر کے مریضوں کی دعائیں ہی کافی ہیں.
جاوید ہاشمی نے دغا دیا، آج کہیں کا نہیں رہا۔ کوئی پارٹی اسے ٹکٹ دینے کو ہی تیار نہیں۔
، عائشہ گلالئی سے لے کر عامر لیاقت اور اپنی پارٹی میں آ کر پھر جانے والے اور بیشمار لوگ جو اس سے ٹکرائے ماضی بن گئے.
ریحام خان نے کتاب لکھی لیکن خان نے اس کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ وہ آج بھی زہر اگلتی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، یہاں تک کہ مریم صفدر بھی اسے منہ لگانے کو تیار نہیں۔
پھر کہا گیا انویسٹر کے بنا کچھ نہیں کر سکتا۔ لیکن اپنی ہی حکومت میں انہیں سائیڈ لائن کیا جو ریٹرن آن انویسٹمنٹ مانگ رہے تھے۔
پھر وہ علیم خان اور جہانگیر ترین جو 2018 میں خود اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو ٹکٹ دیتے تھے، آج خود دوسروں کے دَر پر ٹکٹ کا کشکول لئے کھڑے ہیں.
پھر شوشہ اڑا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ اٹھایا تو اس کا ککھ نہیں رہنا یا پھر لندن بھاگ جائے گا۔۔
آج 13 پارٹیاں بشمول الیکشن کمیشن اس کے خلاف ہو گئے لیکن اکیلا عمران خان ان سب پر بھاری پڑ رہا ہے۔
کہا جاتا تھا کہ ایجنسیاں اس کے جلسے کراتی ہیں، حکومت ہے تو بڑے بڑے جلسے ہو رہے ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ، آج یہ بیانیہ بھی دفن ہو گیا۔
9 اپریل کو کہا “کوئی رہ تو نہیں گیا جو میرے خلاف نہ ہوا ہو ؟”. 10 اپریل کو کراچی سے لوئر دیر تک عوام کا جم غفیر نکل پڑا۔۔۔
غرض یہ کہ جس نے یہ سمجھا ہمارے بنا خان کچھ نہیں، آج وہ خود عوام میں نکلنے کے قابل نہیں رہے.
سادہ سا بندہ ہے، عام انسانوں کی طرح گناہ گار بھی ہے، غلطیاں بھی کرتا ہے، دھوکے بھی کھاتا ہے اور روایتی سیاستدانوں کی طرح کھوچل بھی نہیں، کچھ بڑے بڑے وعدے بھی کر بیٹھا جو پورے نہ کر سکا لیکن اپنے ملک اور لوگوں کیلئے اپنی کوئی انا نہیں۔ ایک دھن اس کے سر پر سوار ہے. پاکستان کو ایک بہترین اور خودار قوم دیکھے ۔ کرونا کے وقت جیسے عمران خان نے معشیت سمبھالی کوئی اور نہیں سمبھال سکتا تھا ۔ ایسا عظیم لیڈر صدیوں بعد اللّه پاک بھیجتے ہیں ۔ قدر کر لو پاکیستانیوں ۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ۔ اللّه ھما بارک۔
اب الحمدللہ، خان اتنی بڑی سیاسی طاقت بن گیا ہے کہ 13 پارٹیاں الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بھی الیکشن کروانے سے بھاگ رہی ہیں. 🙏🙏