Sharif Law Associate

Call Contact the business
17/10/2026

گود لینا نسب کا متبادل نہیں — حقیقی ماں کے حقِ تحویل پر اہم عدالتی اصول

کیا کسی بچے کو گود لے کر پالنے سے گود لینے والے شخص کے ساتھ حقیقی نسب یا والدین جیسا شرعی رشتہ قائم ہو جاتا ہے؟ اور اگر ڈی این اے ٹیسٹ سے حقیقی ماں کی شناخت ثابت ہو جائے تو بچے کی تحویل کے بارے میں عدالت کیا حکم دے سکتی ہے؟

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے اپنے فیصلے میں گود لیے گئے بچے کی شرعی حیثیت، حقیقی نسب اور حقِ تحویل کے حوالے سے اہم قانونی اصول واضح کیے۔

عدالت کے اہم قانونی اصول

1️⃣ گود لینے سے نسب تبدیل نہیں ہوتا
اسلامی قانون کے تحت کسی بچے کی پرورش، کفالت اور نگہداشت ایک نیک عمل ہے، تاہم محض گود لینے سے بچے کا حقیقی نسب تبدیل نہیں ہوتا اور نہ ہی گود لینے والے شخص کے ساتھ حقیقی نسب کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

2️⃣ بچے کی نسبت حقیقی والدین سے ہوگی
بچے کی شناخت اور نسب اس کے حقیقی والدین سے منسلک رہتے ہیں۔ محض پرورش کرنے والا شخص اس بنیاد پر بچے کا حقیقی والد یا والدہ نہیں بن جاتا۔

3️⃣ ڈی این اے ٹیسٹ کی قانونی اہمیت
موجودہ مقدمے میں فارنسک سائنس ایجنسی کے ڈی این اے ٹیسٹ سے پٹیشنر کا بچے کی حقیقی ماں ہونا ثابت ہوا۔ اس سائنسی شہادت نے بچے کی حقیقی شناخت اور ماں سے تعلق کے تعین میں اہم کردار ادا کیا۔

4️⃣ حقیقی ماں کے سپردگی کا حکم
ہائی کورٹ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے بچے کو گود لینے والے شخص سے لے کر حقیقی ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ بچے کی کفالت اور پرورش کو حقیقی نسب کے قائم مقام نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم، بچوں کی تحویل کے مقدمات میں بچے کی فلاح و بہبود اور مقدمے کے مخصوص حقائق بھی اہم قانونی عوامل ہوتے

15/10/2026

اگر تفتیشی افسر اہم شواہد کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنائے تو قانونی چارہ جوئی کیا ہو گی-؟ ؟؟؟؟؟

اگر کسی فوجداری مقدمے میں تفتیشی افسر آپ کی جانب سے فراہم کردہ اہم دستاویزی شواہد، ثبوت یا دیگر متعلقہ مواد کو بلاجواز، بدنیتی یا جانبداری کی بنا پر تفتیش کا حصہ نہیں بناتا تو آپ قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

پہلا مرحلہ: متعلقہ اعلیٰ پولیس افسر، مثلاً ایس پی انویسٹی گیشن، ڈی پی او یا سی سی پی او، کو تحریری درخواست دیں۔ درخواست میں اپنے تمام تحفظات، فراہم کردہ شواہد اور تفتیشی افسر کی غفلت، کوتاہی یا جانبداری کی مکمل تفصیل بیان کریں۔ درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات کی نقول منسلک کریں اور استدعا کریں کہ شواہد وصول کرکے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں، ان کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے اور منصفانہ تفتیش یقینی بنائی جائے۔

دوسرا مرحلہ: اگر متعلقہ پولیس حکام شکایت کا ازالہ نہ کریں یا تفتیش بدستور غیر منصفانہ رہے تو سیشن کورٹ میں ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کے روبرو دفعہ 22-A(6)(iii) ضابطۂ فوجداری کے تحت درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ اس شق کے تحت پولیس کی غفلت، کوتاہی، ناکامی یا تفتیش میں جانبداری کی شکایت پیش کی جا سکتی ہے اور قانون کے مطابق مناسب ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی جا سکتی ہے۔

1-قابلِ اطلاق عدالتی اصول: سپریم کورٹ نے PLD 2014 SC 753 میں قرار دیا کہ جسٹس آف پیس پولیس کو قانون کے مطابق تفتیش کرنے اور اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے،

2-سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے PLD 2016 SC 581 میں اس امر کی وضاحت کی کہ جسٹس آف پیس کے اختیارات کو محض انتظامی نوعیت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ پولیس کی غفلت، کوتاہی یا تفتیشی بے ضابطگی کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق مناسب ہدایات جاری کر سکتا ہے۔

゚

14/10/2026

10 LEGALLY WISE DECISIONS TO MAKE THIS MONTH

New month, new decisions. But while making personal goals, don't forget to make legally wise decisions too. 😊

1. I will stop signing documents I have not read.

2. I will stop relying on verbal promises for important transactions.

3. I will keep evidence of important payments and transactions.

4. I will verify ownership before buying property.

5. I will put loan agreements in writing, even if it is a friendly loan.

6. I will settle disputes responsibly instead of allowing them to escalate unnecessarily.

7. I will not take laws into my own hands.

8. I will ask questions when I do not understand a legal document or transaction.

9. I will seek legal help before making decisions that could have serious legal consequences.

10. I will learn at least one thing about my legal rights and responsibilities this month.

Always remember that small decisions can prevent big legal problems.

This month, let's make legally wise decisions and avoid unnecessary legal problems. 😊

Stay informed.
Stay protected.
Stay Legally Wise.

14/10/2026

منشیات مقدمہ میں #ریکوری #میمو پر #گواہان کے نام موجود ہیں لیکن گواہان کے #دستخط موجود نہیں ملزم کی #ضمانت #منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ منشیات مقدمہ میں سب اہم اور بنیادی ڈاکومنٹ ریکوری میمو ہوتی ہے جو #موقع پر بنائی جاتی ہے اس ڈاکومنٹ سے موقع پر برآمدگی،نموناجات پارسل تیار کیا جاتا ہےاور مخفوظ تحویل وکسڈی کا تصور شروع ہو جاتا ہے گواہان کے دستخط موجود نا ہونے سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ گواہان موقع پر موجود نہیں تھے
> منشیات مقدمات میں بغیر دستخط کا فرد مقبوضگی #ناقابل قبول-ملزم کی ضمانت منظور کر لی
آئی جی کو پولیس کی غلطیاں ختم کرنے کا حکم
> CNSA ضمانت میں نیا قانون! Unsigned Recovery Memo اب ٹیکنیکل غلطی نہیں، کیس کی جڑ پر حملہ ہے
> پولیس اہلکار گواہ، پرائیویٹ گواہ کوئی نہیں، تو کیس Further Inquiry ہوگا
کیا پولیس خود گواہ بن سکتی ہے؟ ہائی کورٹ نے کہا نہیں!
پبلک پلیس پر چھاپہ تو پرائیویٹ گواہ لازمی، ورنہ منشیات کیس کمزور - عدالت کا بڑا حکم
اگر فرد مقبوضگی پر دستخط نہیں اور گواہ صرف پولیس والے ہیں تو منشیات کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو، ضمانت Further Inquiry پر ہوگی۔
This order meaningfully advances the jurisprudence on post-arrest bail under section 497(2) Cr.P.C. in CNSA prosecutions by holding that an unsigned recovery memo; where the prosecution itself names police officials as witnesses; constitutes a material, not merely technical, infirmity going to the root of the alleged recovery. Drawing upon Zafar Khan (2022 SCMR 864) and the Qanun-e-Shahadat Order, 1984 (particularly Articles 18 and 78), the Court clarifies that while private witnesses are not invariably required, the absence of signatures on a document the prosecution relies upon as foundational evidence, coupled with the failure to demonstrate genuine efforts to associate independent persons at a public place, renders the case one of further inquiry. The judgment further extends the constitutional guarantee of fair trial and due process to the investigative stage itself, rejecting the notion that seriousness of the offence can dilute elementary safeguards of authenticity and contemporaneity. By directing the Inspector General of Police, Punjab, to purge recurring lapses in recovery documentation, the order also introduces an institutional dimension, ensuring that systemic deficiencies do not become normalized in high-stakes narcotics investigations.
Crl. Misc.47324/26
Muhammad Afzaal alias Afzaali Vs The State etc
Mr. Justice Amir Ajam Malik
01-10-2026
2026 LHC 6779


> Ice Case Mein Zamanat Kaise Hoti Hai? | Unsigned Recovery Memo Par Bail Manzoor | 2026 LHC 6779

شوہر  نے بیوی کو ای میل کے ذریعے طلاق بھیجی۔   * فیملی کورٹ نے نفقہ اور حقِ مہر کا دعویٰ تو منظور کیا، لیکن طلاق کی تصدی...
14/10/2026

شوہر نے بیوی کو ای میل کے ذریعے طلاق بھیجی۔
* فیملی کورٹ نے نفقہ اور حقِ مہر کا دعویٰ تو منظور کیا، لیکن طلاق کی تصدیق کا فیصلہ کرنے کی بجائے بیوی کو یونین کونسل سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔
* یونین کونسل نے نوٹسز جاری کرنے اور کارروائی کے بعد 17 جنوری 2026 کو طلاق کا موثر ہونے کا سرٹیفکیٹ (Divorce Effectiveness Certificate) جاری کر دیا۔
* شوہر نے اس سرٹیفکیٹ کو ہائی کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ اس نے خود یونین کونسل کو نوٹس نہیں دیا تھا (جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کی شرط ہے)، اور یہ کہ اس نے طلاق "مذاق" میں دی تھی۔
* ہائی کورٹ کے اہم قانونی نکات و فیصلے:
* فیملی کورٹ کی ذمہ داری: عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ طلاق کے واقع ہونے (factum of Talaq) کا فیصلہ کرنے سے محض اس لیے انکار نہیں کر سکتی کہ اس کا موثر ہونا (effectiveness) دفعہ 7 کے تحت آتا ہے۔ فیملی کورٹ کو اس مسئلے پر فیصلہ دینا چاہیے تھا۔
* بیوی کا یونین کونسل کو اطلاع دینا: اگرچہ قانون کے مطابق طلاق کا نوٹس دینا شوہر کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون بیوی کو بھی اس بات سے منع نہیں کرتا کہ وہ طلاق کے واقع ہونے کی اطلاع یونین کونسل کے چیئرمین کو دے۔
* اپنی غلطی کا فائدہ اٹھانے کی ممانعت: شوہر اپنی ہی قانونی غلطی (نوٹس نہ دینے) کو ڈھال بنا کر کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا اور نہ ہی بیوی کو غیر یقینی کی حالت میں لٹکا کر رکھ سکتا ہے۔
* مصالحتی کارروائی سے گریز: شوہر کو نوٹس ملنے کے باوجود اس نے مصالحتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا، اور طلاق کو "مذاق" قرار دینے کا موقف بعد میں گھڑا ہوا نظر آتا ہے۔
* حتمی نتیجہ:
* عدالت نے شوہر کی ریٹائینٹ درخواست کو خارج کرتے ہوئے یونین کونسل کے جاری کردہ طلاق کے سرٹیفکیٹ کو برقرار رکھا۔
* قانون سازوں اور عدالتوں کو ہدایات: عدالت نے قانون سازوں (سیکرٹری قانون و انصاف) کو تجویز دی کہ وہ دفعہ 7 میں ترمیم پر غور کریں تاکہ بیوی کو بھی طلاق کی اطلاع دینے کا واضح قانونی حق مل سکے۔ نیز تمام فیملی کورٹس کو رہنمائی کے لیے اس فیصلے کی کاپی بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔

10/10/2026

⚖️ جعلی دستاویز عدالت میں پیش کرنا — فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کا اہم فیصلہ
2026 MLD 1176

عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی شخص پر جعلی دستاویز عدالت میں پیش کرنے اور اس کے ذریعے قانونی کارروائی کو متاثر کرنے کا الزام ہو تو معاملے کو محض ایک معمولی عدالتی تنازع سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے میں دفعہ 420 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج ہونے کے بعد ضمانتِ قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی، جبکہ عدالت میں مبینہ جعلی کاغذ پیش کیے جانے پر دفعہ 476 ضابطۂ فوجداری کے تحت کارروائی کی درخواست بھی سامنے آئی۔

عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ عدالت کو دھوکہ دینے یا جعلی دستاویز کے ذریعے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ متعلقہ معاملہ پہلے کسی عدالت کے سامنے زیرِ سماعت ہے، جعلی دستاویز پیش کرنے کے الزام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

📌 قانونی نکتہ:
عدالت کے سامنے جعلی دستاویز پیش کرنا نہ صرف عدالتی عمل کی سنگینی کو متاثر کرتا ہے بلکہ حالات کے مطابق فوجداری ذمہ داری بھی پیدا کر سکتا ہے۔

حوالہ: 2026 MLD 1176 — لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ

05/10/2026
مقررہ اقرار نامہ میں درج    تاریخ  تک بقایا رقم ادا نہ کی تو Specific Performance کا دعویٰ خارجسپریم کورٹ پاکستان — 2026...
05/10/2026

مقررہ اقرار نامہ میں درج تاریخ تک بقایا رقم ادا نہ کی تو Specific Performance کا دعویٰ خارج

سپریم کورٹ پاکستان — 2026 SCMR 1063

سپریم کورٹ پاکستان نے Muhammad Imran v. Ishfaq Ahmed, 2026 SCMR 1063 میں معاہدۂ بیع کے حوالے سے اہم اصول وضع کیا کہ اگر اقرارنامہ/معاہدہ میں بقایا زرِ ثمن کی ادائیگی کے لیے ایک واضح مقررہ تاریخ طے کی گئی ہو تو خریدار کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی ادائیگی کی ذمہ داری پوری کرے یا رقم کی باقاعدہ tender اور دستیابی ثابت کرے۔ (کہ مقررہ تاریخ کو اس کے پاس رقم موجود تھی )

مذکورہ مقدمے میں معاہدے کے مطابق بقایا رقم 15.01.2017 تک ادا کرنا تھی، لیکن مقررہ تاریخ تک بقایا رقم کی tender نہیں کی گئی۔ رقم کی دستیابی کے لیے pay order، bank guarantee یا رقم الگ رکھے جانے کا ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔ بعد میں عدالت کے حکم پر رقم جمع کرائی گئی، لیکن سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقررہ وقت گزرنے کے کافی عرصہ بعد کیا گیا deposit پہلے سے پیدا ہونے والے default کو retrospectively ختم نہیں کرتا۔

سپریم کورٹ نے مزید واضح کیا کہ بقایا زرِ ثمن کی ادائیگی خریدار کی بنیادی contractual obligation ہے اور specific performance کا دعویٰ کرنے والے شخص کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق مقررہ وقت پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار اور آمادہ تھا۔ محض بعد میں رقم جمع کرا دینا، مقررہ تاریخ پر موجود readiness and willingness کا متبادل نہیں بن سکتا۔

چنانچہ عدالت نے Specific Performance کے دعوی خارج کر دیے جبکہ معاہدے کی منسوخی (Cancellation) کے دعوی ڈگری کر دیا ۔

حوالہ:
Muhammad Imran v. Ishfaq Ahmed & others
2026 SCMR 1063 — Supreme Court of Pakistan
فیصلہ: 26 فروری 2026

02/10/2026

پاکستان میں عموما لوگ بہت زیادہ سہل ہیں۔
سوائے ان مزدوروں کے جو مزدوری کر رہے ہیں اور سخت جان ہیں۔ لیکن جسے موقع ملتا ہے وہ آرام پرستی کو ترجیح دیتا ہے۔ نتیجہ بیماریوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
اگر تو آپ کے جینٹکس اچھے ہیں باڈی ٹائپ بہتر ہے تو آپ شاید پچاس سال نکال لیں۔ اس کے بعد اگر ایکٹو لائف سٹائل نہیں ہو گا تو بیماریاں آپ کی راہ دیکھیں گی
حل دو ہیں
پہلا بہت آسان۔ اور سب لوگ وہی کرتے ہیں۔
گولیاں کھائیں اور مست زندگی گزاریں۔ آخری وقت اگر عمر زیادہ ہو جائے تو ہسپتالوں کے بل بھرتے قبر میں اتر جائیں
حل نمبر دو
اچھا کھائیں
اور اسے ورزش کے زریعے جلائیں۔
ایسے میں 90% بیماریاں آپ سے دور بھاگیں گی
جسم کے جوڑ ایکٹو ہوں گے
پٹھے حرکت کی وجہ سے جان میں ہوں گے۔
لیکن سوال اٹھتا ہے کہ زندگی تو گزر گئی آرام و سکون کے ساتھ
پیٹ کے گرد ٹائر بن چکا ہے۔
ٹھوڑی ڈبل ہو گئی ہے۔
کھڑے ہو کے جھکنے کی کوشش کرتے موت نظر آتی ہے۔
زندگی گزر گئی اکڑوں بیٹھے۔
کھڑے ہو کے اعضائے زیریں نظر نہیں آتے۔
تو شروع کہاں سے کریں۔
ایسے شخص کا پہلا ہدف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پہلے ہی دن ایک گھنٹہ ورزش کرے۔
پہلا ہدف صرف یہ ہونا چاہیے کہ جسم کو دوبارہ حرکت کا عادی بنایا جائے۔

کیونکہ ہمارا جسم بھی ایک مشین کی طرح ہے۔ اگر اسے کئی سال استعمال نہ کیا جائے تو پہلے دن پوری رفتار سے چلانے کے بجائے آہستہ آہستہ دوبارہ چلانا پڑتا ہے۔
پہلا مرحلہ موبلٹی اور مومنٹ۔
پہلے ایک ہفتے کو ہم حمومنٹ ویک سمجھ سکتے ہیں۔
اس دوران کوئی بھاری ورزش، دوڑ، سخت کارڈیو یا ہیوی ویٹ ٹریننگ ضروری نہیں۔
دن میں چند مرتبہ تھوڑی دیر کے لیے اٹھیں۔
مثلاً صبح پانچ سے دس منٹ ہلکی واک، دوپہر کو پانچ سے دس منٹ دوبارہ واک اور شام کو پانچ سے دس منٹ واک۔
اگر باہر چلنا مشکل ہو تو گھر کے اندر ہی آہستہ آہستہ چلنا شروع کریں۔
اس کے ساتھ روزانہ پانچ سے دس منٹ کی بہت ہلکی موومنٹ کریں۔
کندھے گھمائیں، بازو ہلائیں، ٹخنوں کو حرکت دیں، گھٹنوں کو آہستہ موڑیں، کرسی سے اٹھیں اور بیٹھیں اور ہلکی اسٹریچنگ کریں۔
اس مرحلے میں مقصد کیلوریز جلانا یا پسینہ نکالنا نہیں بلکہ جوڑوں، پٹھوں، توازن اور جسم کو دوبارہ حرکت کا عادی بنانا ہے۔
اور ایک بہت اہم بات۔

ایک گھنٹہ مسلسل بیٹھنے کے بجائے بار بار اٹھ کر تھوڑی دیر چلنا زیادہ فائدہ مند ہے۔
دوسرا مرحلہ: واک کریں اور پراپر کریں۔
جب ایک دو ہفتے ہلکی واک آسان محسوس ہونے لگے اور اگلے دن غیر معمولی درد یا شدید تھکن نہ ہو تو واک کو آہستہ آہستہ بڑھائیں۔

مثلاً پہلے ہفتے دس منٹ، پھر پندرہ منٹ، پھر بیس منٹ اور آہستہ آہستہ تیس منٹ تک لے جائیں۔
یہ کوئی لازمی شیڈول نہیں ہے۔ ہر انسان کی عمر، بیماری، جسمانی حالت اور برداشت مختلف ہوتی ہے۔

یہاں ایک اصول یاد رکھیں
پہلے دورانیہ بڑھائیں، پھر رفتار۔
یعنی پہلے دس سے بیس منٹ تک آرام سے چلنے کے قابل بنیں، اس کے بعد رفتار تیز کرنے کا سوچیں۔
شروع میں ایسی رفتار مناسب ہے جس میں آپ آرام سے بات کر سکیں۔

تیسری سٹیج : جسم کو طاقت دینا
صرف واک کافی نہیں۔
لمبے عرصے تک غیر فعال رہنے والے شخص کےسکز بھی کمزور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں دوبارہ مضبوط کرنا ضروری ہے۔

لیکن یہاں بھی جلد بازی نہیں کرنی۔

شروع میں جم کی مشینیں یا بھاری ڈمبلز ضروری نہیں۔

گھر میں ہی چند آسان ورزشیں شروع کی جا سکتی ہیں۔

کرسی سے اٹھنا بیٹھنا

کرسی کے سامنے یا اوپر کھڑے ہو کر آہستہ سے بیٹھیں اور دوبارہ کھڑے ہو جائیں۔
شروع میں پانچ مرتبہ بھی کافی ہے۔
دیوار کے سہارے پش اپ یا گٹھنوں کے بل لیٹ کے پش اپ
دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ دیوار پر رکھیں، جسم کو آہستہ آگے لے جائیں اور پھر واپس دھکیلیں۔
شروع میں پانچ سے دس مرتبہ کافی ہے۔
پنجوں کے بل اٹھنا
کرسی یا کسی مضبوط چیز کا سہارا لے کر پنجوں کے بل اوپر جائیں اور آہستہ واپس نیچے آئیں۔ تاکہ پنڈلی مضبوط ہو۔

بیٹھ کر ٹانگ سیدھی کرنا

کرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ سیدھی کریں، چند لمحے روکیں اور پھر واپس نیچے لائیں۔

ہر ٹانگ سے پانچ سے دس مرتبہ۔ یعنی گٹھوں کی حرکت بڑھانا
شروع میں ہفتے میں دو دن ایسی ہلکی طاقت والی ورزش کافی ہے۔
اصل چیز ورزش نہیں، آہستہ آہستہ بہتری ہے
موبلٹی ورک اور ریکوری ساتھ ساتھ۔
سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ آدمی پہلے دن جوش میں آ کر بہت زیادہ ورزش کر لیتا ہے۔
اگلے دن پورا جسم درد کرتا ہے۔ پھر تین چار دن آرام کا پروگرام بنتا ہے اورپھر دوبارہ ورزش شروع نہیں ہوتی
پھر درد۔ پھر وقفہ۔ پھر تاحیات وقفہ
یہ طریقہ زیادہ دیر نہیں چلتا۔

اس کے بجائے اصول یہ ہونا چاہیے:

چھوٹے سے سٹارٹ
جسم کو عادت لگے گی
ایکٹوٹی میں تھوڑا اضافہ
دوبارہ عادت اور تھوڑا اضافہ

اگر آج آپ دس منٹ آرام سے چل سکتے ہیں تو ضروری نہیں کہ کل بیس منٹ چلیں۔

کچھ دن وہی دس منٹ کریں۔

جب دس منٹ آسان محسوس ہونے لگیں تو بارہ یا پندرہ منٹ کریں۔

پھر آہستہ آہستہ بیس منٹ تک جائیں۔

رزسٹنس ٹریننگ کی پہلے ریپس بڑھائیں، پھر وزن بڑھائیں۔
ایک آسان اصول یاد رکھیں:
پہلے باقاعدگی، پھر دورانیہ، پھر شدت۔
یعنی پہلے جسم کو باقاعدگی سے حرکت دینے کا عادی بنائیں۔

پھر ورزش کی ڈیوریشن بڑھائیں۔
اور آخر میں رفتار یا وزن بڑھائیں۔
جو شخص آج بالکل ورزش نہیں کرتا، اسے پہلے دن ایک گھنٹہ ورزش کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس کے لیے پانچ دس منٹ کی واک بھی ایک کامیابی ہے۔

کیونکہ مقصد یہ نہیں کہ آپ ایک دن بہت زیادہ ورزش کر لیں۔

مقصد یہ ہے کہ آپ سالوں تک باقاعدگی سے حرکت کرتے رہیں۔

اور اگر کوئی شکل سیریس بیمار ہو تو ایسے شخص کو باقاعدہ ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے اپنا جائزہ ضرور کروانا چاہیے، خاص طور پر اگر دل، پھیپھڑوں، بلڈ پریشر، شوگر، جوڑوں یا کسی دوسری دائمی بیماری کا مسئلہ ہو۔
کیونکہ ایسے جسم کو توڑنے کی نہیں، دوبارہ تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جسم مضبوط کرنے کے لئے سالہا سال درکار ہوتے ہیں۔

⚖️ ڈگری شیٹ تیار نہ ہو تو اپیل ناقابل سماعت ہوگی یا نہیں؟ | اہم ترین فیصلہPLD 2026 Lahore 404سید امتیاز حسین (مرحوم) بنا...
02/10/2026

⚖️ ڈگری شیٹ تیار نہ ہو تو اپیل ناقابل سماعت ہوگی یا نہیں؟ | اہم ترین فیصلہ
PLD 2026 Lahore 404

سید امتیاز حسین (مرحوم) بنام محمد حسین وغیرہ
فیصلہ: جسٹس مرزا وقاص رؤف | سول نگرانی نمبر 830-D/2016 فیصلہ 8 ستمبر 2025

تقسیم جائیداد کے مقدمات میں سب سے بڑی قانونی غلطی جو دیکھنے میں نظر آتی ہے، اس پر لاہور ہائی کورٹ نے تاریخی اصول طے کر دیا!

مقدمے کی کہانی کیا تھی؟
چکوال میں مشترکہ جائیداد کی تقسیم کا دعویٰ دائر ہوا۔ فریقین نے رضامندی سے کہا کہ ہمارا قبضہ برقرار رکھتے ہوئے جائیداد تقسیم کر دی جائے۔ عدالت نے 11 فروری 2010 کو ابتدائی ڈگری دے دی۔ لوکل کمیشن مقرر ہوا، اعتراضات مسترد ہوئے اور 23 اپریل 2011 کو عدالت نے فائنل ڈگری کا فیصلہ سنا دیا لیکن ساتھ لکھ دیا کہ *ڈگری شیٹ اسٹامپ پیپر پر بعد میں تیار ہوگی جو مدعیان فراہم کریں گے۔

مدعا علیہان (نمبر 1 تا 32) نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر دی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج چکوال نے اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ڈگری شیٹ ہی تیار نہیں ہوئی۔ بعد میں مدعیان نے خود 9 فروری 2015 کو ڈگری شیٹ تیار کرنے کی درخواست دی اور 21 مارچ 2016 کو ڈگری شیٹ بالآخر تیار ہوئی۔ اس دوران اپیل دوبارہ پیش ہوئی اور اپیلٹ کورٹ نے اپیل قبول کر لی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی۔

ہائی کورٹ کے سامنے 2 اہم قانونی سوالات تھے:

1۔ کیا بغیر ڈگری شیٹ کے اپیل قابل سماعت ہے؟
2۔ کیا اپیل کی میعاد اس وقت سے شروع ہوگی جب ڈگری شیٹ بنی ہی نہیں تھی؟

لاہور ہائی کورٹ نے 3 سنہری اصول طے کر دیے:

(الف) اپیل ہمیشہ ڈگری کے خلاف ہوتی ہے، ججمنٹ کے خلاف نہیں - دفعہ 96 اور آرڈر 41 رول 1:
قانون واضح ہے کہ اپیل ججمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ڈگری کے خلاف ہوتی ہے۔ آرڈر 41 رول 1 کے تحت ڈگری کی نقل لگانا لازمی (sine qua non) ہے۔ اپیلٹ کورٹ ججمنٹ کی نقل سے تو استثنیٰ دے سکتی ہے لیکن ڈگری سے نہیں۔

لیکن اس کیس میں استثنیٰ کیوں دیا گیا؟ - Actus Curiae Neminem Gravabit

عدالت نے کہا یہ عام کیس نہیں ہے۔ مدعیان نے خود کبھی بھی اسٹامپ پیپر جمع ہی نہیں کروائے تھے جس کی وجہ سے ٹرائل کورٹ ڈگری شیٹ نہیں بنا سکی۔ اس میں مدعا علیہان (اپیل کنندگان) کا کوئی قصور نہیں تھا۔

قانون کا مشہور اصول ہے *"Act of Court shall prejudice no man"* یعنی عدالت یا اس کے عملے کی غلطی یا تاخیر کا نقصان کسی فریق کو نہیں ہونا چاہیے۔
جب ڈگری تیار کرنا عدالت کا کام تھا اور وہ تاخیر سے ہوئی، تو اس تاخیر کا خمیازہ اپیل کنندہ کو بھگت کر اس کی اپیل کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔

اسی لیے جب ڈگری شیٹ اپیل کے دوران تیار ہو گئی تو اپیلٹ کورٹ کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ریلیف کو تبدیل کر دے۔ [PLD 2022 SC 73 پر انحصار]

(ب) میعاد کب سے شروع ہوگی؟
جب ڈگری شیٹ تیار ہی نہیں ہوئی تھی تو اپیل کی میعاد کیسے شروع ہو سکتی ہے؟ عدالت نے کہا جب تک ڈگری شیٹ تیار نہیں ہوتی، اپیل کو میعاد سے خارج (Time Barred) تصور نہیں کیا جا سکتا۔ میعاد ڈگری شیٹ تیار ہونے کی تاریخ 21 مارچ 2016 سے شروع ہوگی۔

(ج) نگرانی میں ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار - دفعہ 115:
ہائی کورٹ نے کہا دفعہ 115 کے تحت نگرانی میں ہائی کورٹ نچلی عدالتوں کے فیصلوں کا تقابلی جائزہ لیتی ہے۔ قانون کا بنیادی اصول ہے کہ اگر اپیلٹ کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں میں تضاد ہو تو اپیلٹ کورٹ کے حقائق پر مبنی فیصلے کو ترجیح دی جائے گی، جب تک کہ اس میں کوئی واضح غیر قانونی بات نہ ہو۔ [2013 SCMR 1300]

حتمی فیصلہ:
درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اپیلٹ کورٹ کے فیصلے میں کوئی غیر قانونی بات یا مادی بے ضابطگی ہے۔ اس لیے سول نگرانی خارج کی جاتی ہے۔ اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

*Application Dismissed.

1۔ تقسیم کے مقدمے میں فائنل ڈگری کے بعد فوراً اسٹامپ پیپر جمع کروائیں تاکہ ڈگری شیٹ بن جائے۔
2۔ اگر مخالف فریق نے بغیر ڈگری شیٹ کے اپیل کر دی ہے اور قصور آپ کا ہے کہ آپ نے اسٹامپ نہیں دیا، تو آپ یہ اعتراض نہیں لے سکتے کہ اپیل ناقابل سماعت ہے۔ عدالت آپ کی اس کوتاہی کا فائدہ آپ کو نہیں

Address

Sharif Law Associate, Opposite To District Bar Association Sargodha
Sargodha

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

03216013424

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sharif Law Associate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sharif Law Associate:

Shortcuts

Share