17/10/2026
گود لینا نسب کا متبادل نہیں — حقیقی ماں کے حقِ تحویل پر اہم عدالتی اصول
کیا کسی بچے کو گود لے کر پالنے سے گود لینے والے شخص کے ساتھ حقیقی نسب یا والدین جیسا شرعی رشتہ قائم ہو جاتا ہے؟ اور اگر ڈی این اے ٹیسٹ سے حقیقی ماں کی شناخت ثابت ہو جائے تو بچے کی تحویل کے بارے میں عدالت کیا حکم دے سکتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے اپنے فیصلے میں گود لیے گئے بچے کی شرعی حیثیت، حقیقی نسب اور حقِ تحویل کے حوالے سے اہم قانونی اصول واضح کیے۔
عدالت کے اہم قانونی اصول
1️⃣ گود لینے سے نسب تبدیل نہیں ہوتا
اسلامی قانون کے تحت کسی بچے کی پرورش، کفالت اور نگہداشت ایک نیک عمل ہے، تاہم محض گود لینے سے بچے کا حقیقی نسب تبدیل نہیں ہوتا اور نہ ہی گود لینے والے شخص کے ساتھ حقیقی نسب کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔
2️⃣ بچے کی نسبت حقیقی والدین سے ہوگی
بچے کی شناخت اور نسب اس کے حقیقی والدین سے منسلک رہتے ہیں۔ محض پرورش کرنے والا شخص اس بنیاد پر بچے کا حقیقی والد یا والدہ نہیں بن جاتا۔
3️⃣ ڈی این اے ٹیسٹ کی قانونی اہمیت
موجودہ مقدمے میں فارنسک سائنس ایجنسی کے ڈی این اے ٹیسٹ سے پٹیشنر کا بچے کی حقیقی ماں ہونا ثابت ہوا۔ اس سائنسی شہادت نے بچے کی حقیقی شناخت اور ماں سے تعلق کے تعین میں اہم کردار ادا کیا۔
4️⃣ حقیقی ماں کے سپردگی کا حکم
ہائی کورٹ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے بچے کو گود لینے والے شخص سے لے کر حقیقی ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ بچے کی کفالت اور پرورش کو حقیقی نسب کے قائم مقام نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم، بچوں کی تحویل کے مقدمات میں بچے کی فلاح و بہبود اور مقدمے کے مخصوص حقائق بھی اہم قانونی عوامل ہوتے