محمد اقبال گوندل ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

محمد اقبال گوندل ایڈووکیٹ ہائیکورٹ legal assistance

16/07/2026

Pld 2026 sc 286
کوئی بھی ادارہ کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتا

Strike against rcms board of revenue
16/07/2026

Strike against rcms board of revenue

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہل...
19/06/2026

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہلا اور شاندار فیصلہ۔۔۔۔۔

وفاقی آئینی عدالت نے بی بی امینہ وغیرہ کیس میں خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ /تحریری مفاہمت کیلئے 13سخت قانونی اصول جاری کر دیئے

آئندہ تمام ملکی عدالتیں، ریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات میں درج ذیل اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرینگے

پہلا حکم:تمام عدالتیں اورریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات کی دستاویزات پراعلی درجے کی احتیاط اور توجہ دیںگے

دوسرا حکم:کسی تحریری راضی نامہ والی دستاویز کی بنیاد پر انتقال وغیرہ (چاہے تصدیق شدہ ہی کیوں نہ ہو)تب تک درست تصور نہیں کیا جائیگا جب تک اس راضی نامہ کی رضامندی کا آزادانہ ثبوت نہ ہو اور راضی نامہ کے تمام اجزا بارے مکمل آگاہی نہ ہو۔

تیسرا حکم:وراثتی تنازعات میں خواتین کی تحریری مفاہمت /راضی نامہ کے آزادانہ ماحول میں ہونےکو ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوگا جو اس راضی نامے سے فائندہ لینے والا ہوگا۔

چوتھا حکم: تمام عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیںگی کہ کیا ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ یا وراثت سے دست برداری کی بابت کو خواتین کو مکمل آگاہی اور علم تھا۔

پانچواں حکم: یہ لازمی ثابت ہونا چاہیےکہ وراثتی تنازعات میں راضی نامہ لکھنے والی یا دستبرداری لکھنے والی خواتین کو تحریر سے قبل وراثتی حقوق اور تحریر کی بابت آزادانہ مکمل قانونی رہنمائی دستیاب تھی ۔

چھٹا حکم:وراثتی تنازعات کی مفاہمت کی جانچ پڑتال ایسے کی جائیگی کہ اس میں کسی قسم کا کوئی دبائو، سماجی برتری، فراڈ، غلط بیانی یا دبائو کا عنصر تو شامل نہیں تھا۔

ساتواں حکم:جہاں کہیں معاوضہ کا عنصر شامل ہو تو اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ یہ معاوضہ خواتین قانونی طریقے سے واقعی ہی ملا ہے اور معاوضہ مناسب اور حقیقی ہے کہ نہیں۔

آٹھواں حکم:جو بھی دستاویز لکھی جائیگی، اس دستاویز کے تمام عناصر یا اجزا عام فہم زبان بالخصوص اس زبان میں ہوگی جو خواتین کیلئے آسانی سے سمجھ آنے والی ہو۔

نواں حکم:عدالتی اس امر کی تصدیق کرینگی کہ راضی نامہ یا مفاہمت لکھنے والی خواتین کوجلد بازی یا دبائو کے بغیرمشاورت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا ہے۔

دسواں حکم :ہر اس ٹرانزیکشن کو سختی سے مسترد کیا جائیگا جو شعوری نہ ہو، غیرمناسب ہو اور خاتون وارث کے حق متاثر کرتی ہے، تاوقت یہ کہ اس کیخلاف ٹھوس شہادت نہ آ جائے۔

گیارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازع کے اردگرد کے تمام مشکوک حالات و اقعات کو فائدہ لینے والا قابل اطمینان وضاحت کرے گاورنہ وہ مشکوک حالات اور واقعات فائدہ لینے والے کیخلاف پڑھے جائیں گے۔

بارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازعات میں انہیں وراثتی حقوق سے مفاہت کے ذریعے دستبربرداری کی بابت فیصلہ دینے سے پہلے عدالتیں لازمی طور پر خواتین کی رضامندی اور آگاہ شدہ آگاہی کی بابت اپنی مثبت فائنڈنگ ریکارڈ کرینگی۔

تیرہواں حکم: تمام ریونیو حکم وراثتی انتقالات درج کرنے سے پہلے آئینی عدالت کے ان12احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔

📚⚖️ جونیئر وکلاء کے لیے اہم رہنمائیاگر آپ نئے وکیل ہیں یا پریکٹس کا آغاز کر رہے ہیں تو یہ چارٹ آپ کے لیے انتہائی مفید ہے...
19/04/2026

📚⚖️ جونیئر وکلاء کے لیے اہم رہنمائی

اگر آپ نئے وکیل ہیں یا پریکٹس کا آغاز کر رہے ہیں تو یہ چارٹ آپ کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس میں کرمنل پروسیجر کے اہم مراحل، متعلقہ سیکشنز اور ان کی ریمیڈیز کو سادہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

FIR
سے لے کر اپیل تک مکمل رہنمائی
🔹 بیل، ریمانڈ، چارج، اپیل سب ایک ہی جگہ
🔹 عدالت میں روزمرہ استعمال کے لیے بہترین شارٹ گائیڈ

💡 ایک کامیاب وکیل وہی ہوتا ہے جو قانون کو سمجھ کر استعمال کرے۔

حکومتِ پنجاب نے زمین کے تنازعات کو جلدی حل کرنے کےلئے بڑا فیصلہ کر دیا۔ Punjab Land Revenue Act 1967 کے سیکشن 161 میں تر...
15/04/2026

حکومتِ پنجاب نے زمین کے تنازعات کو جلدی حل کرنے کےلئے بڑا فیصلہ کر دیا۔
Punjab Land Revenue Act 1967
کے سیکشن 161 میں ترمیم کے بعد:
•تقسیمِ اراضی (Partition) کیسز میں اب صرف ایک اپیل ہوگی
• پہلی اپیل براہِ راست ڈپٹی کمشنر (DC) سنے گا
• ڈی سی کا فیصلہ حتمی (Final) تصور ہوگا
❌ کمشنر یا ایڈیشنل کمشنر کے پاس دوسری اپیل کا حق ختم.یہ ترمیم 9 اپریل 2026 سے پورے پنجاب میں نافذ العمل ہو چکی ہے

بے فارم پر نکاح لڑکی کی عمر 18 سال ہونا ضروری ہے
13/04/2026

بے فارم پر نکاح لڑکی کی عمر 18 سال ہونا ضروری ہے

حکومت کی جانب سے پراپرٹی کی خرید وفروخت پر عائد ٹیکس میں کمی کا اعلان
13/04/2026

حکومت کی جانب سے پراپرٹی کی خرید وفروخت پر عائد ٹیکس میں کمی کا اعلان

یہ مقدمہ رقم کی وصولی (Suit for Recovery) سے متعلق تھا جو ایک dishonored cheque کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ مدعی کا مؤقف ت...
11/04/2026

یہ مقدمہ رقم کی وصولی (Suit for Recovery) سے متعلق تھا جو ایک dishonored cheque کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ مدعی کا مؤقف تھا کہ مدعا علیہ نے ایک چیک جاری کیا جو پیشی پر ڈس آنر ہو گیا، لہٰذا وہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کا قانونی طور پر پابند ہے۔ ٹرائل کورٹ نے دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے مدعی کے حق میں دعویٰ ڈگری کر دیا۔
2026 CLC 252
مدعا علیہ/اپیلانٹ نے اپنے دفاع میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ چیک بطور guarantee cheque جاری کیا گیا تھا، اس لیے وہ براہِ راست ادائیگی کا ذمہ دار نہیں۔ عدالت نے اس دلیل کا جائزہ لیتے ہوئے Section 126 of Contract Act, 1872 کی روشنی میں قرار دیا کہ contract of guarantee میں تین فریق ہوتے ہیں یعنی surety، principal debtor اور creditor۔ تاہم، ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو سکا کہ مدعا علیہ کسی تیسرے فریق کے لیے بطور ضامن (surety) کام کر رہا تھا، بلکہ وہ خود ہی principal debtor کے زمرے میں آتا ہے، جس کے باعث اس پر براہِ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
2026 CLC 252
عدالت نے مزید قرار دیا کہ متنازعہ چیک Section 6 of Negotiable Instruments Act, 1881 کے تحت ایک negotiable instrument ہے، جس پر Section 118 کے تحت موجود statutory presumptions لاگو ہوتے ہیں، جن کے مطابق یہ تصور کیا جاتا ہے کہ چیک عوض (consideration) کے بدلے جاری کیا گیا ہے، جب تک اس کے برعکس کوئی مضبوط ثبوت پیش نہ کیا جائے۔ مدعا علیہ اس قانونی مفروضے کو زائل کرنے میں ناکام رہا۔
2026 CLC 252
ریکارڈ کے جائزے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مدعا علیہ/اپیلانٹ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کسی قسم کی material illegality، irregularity، misreading یا non-reading of evidence کی نشاندہی نہیں کر سکا۔ اس لیے ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا درست اور جامع جائزہ لیا اور مروجہ قانونی اصولوں کے مطابق Order ###VII, C.P.C. کے تحت دعویٰ کو درست طور پر ڈگری کیا۔ لہٰذا، ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے اپیل کو خارج کر دیا۔
2026 CLC 252

06/04/2026
06/04/2026

Celebrating my 3rd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محمد اقبال گوندل ایڈووکیٹ ہائیکورٹ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share