بلہ لاء ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ کورٹ رحیم یار خان

  • Home
  • بلہ لاء ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ کورٹ رحیم یار خان
Call Contact the business

بلہ لاء ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ کورٹ رحیم یار خان فوجداری
فیملی
دیوانی
ڈسٹرکٹ کورٹ رحیم یارخان

23/09/2026

2026 CLC 239...
شا ملات زمین کی تقسیم سے پہلے stay کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔

Stages of civil cases .
18/09/2026

Stages of civil cases .

18/09/2026
24/06/2026

2026 MLD 525

پولیس کو چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے یا جرم کی تفتیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 (انسدادِ کم سنی کی شادی کا قانون) کی دفعات 4 سے 6 کے تحت تمام جرائم کی سزا چھ ماہ کی قیدِ محض (سادہ قید) اور پچاس ہزار روپے جرمانہ ہے۔ ضابطہ فوجداری کا دوسرا شیڈول ایسے جرائم کو 'ناقابلِ دست اندازی پولیس' جس میں پولیس بغیر وارنٹ گرفتار نہیں کر سکتی) قرار دیتا ہے۔

جیسا کہ پہلے ہی بحث کی جا چکی ہے، ایکٹ کی دفعہ 9 واضح طور پر یونین کونسل کی طرف سے شکایت اور فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرنے والی فیملی کورٹ کے ذریعے ٹرائل (سماعت) کا تقاضا کرتی ہے۔ نتیجتاً، پولیس کو اس ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے یا جرم کی تفتیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، اور ایکس آفیشو جسٹس آف پیس (Ex officio Justice of Peace) ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22-A(6) کے تحت ایسی ایف آئی آر کے اندراج پر
مجبور نہیں کر سکتا۔

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22-A(6) کی شق ایکس آفیشو جسٹس آف پیس کو پولیس حکام (Police Authorities) کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ ضابطہ (Code) اصطلاح 'پولیس حکام' کی وضاحت نہیں کرتا، لیکن کچھ مقامات پر یہ 'آفیسر انچارج آف اے پولیس اسٹیشن' (ایس ایچ او) کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یونین کونسل کوئی پولیس اتھارٹی نہیں ہے، اس لیے یہ ایکس آفیشو جسٹس آف پیس کے دائرہ اختیار سے باہر
ہے۔

رٹ پٹیشن نمبر: 50586/2024
غلام عباس بنام ایکس آفیشو جسٹس آف پیس وغیرہ

اہم قانونی نکات
اس فیصلے میں معزز عدالت نے چائلڈ میرج ایکٹ اور جسٹس آف پیس کے اختیارات کے حوالے سے چند انتہائی اہم قانونی اصول واضح کیے ہیں:

جرائم کی نوعیت (Nature of Offence): چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کی دفعات 4، 5، اور 6 کے تحت ہونے والے جرائم غیر دست اندازی پولیس (Non-cognizable) ہیں۔ یعنی پولیس ان جرائم پر براہِ راست ایکشن نہیں لے سکتی۔

پولیس کے اختیارات کی نفی (No Authority to Police): چونکہ یہ جرائم غیر دست اندازی ہیں، اس لیے پولیس کے پاس اس قانون کے تحت نہ تو ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے اس کی تفتیش (Investigation) کر سکتی ہے۔

قانونی طریقہ کار (Legal Procedure / Forum): اس قانون کے تحت کارروائی کا واحد طریقہ کار یہ ہے کہ یونین کونسل باقاعدہ ایک استغاثہ/شکایت دائر کرے، اور اس کی سماعت (Trial) وہ فیملی کورٹ کرے گی جسے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں۔

جسٹس آف پیس کے اختیارات کی حد (Limitation on Justice of Peace):
جسٹس آف پیس (زیر دفعہ 22-A(6) Cr.P.C) صرف 'پولیس حکام' کو ایف آئی آر درج کرنے یا قانونی کارروائی کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ وہ پولیس کو ایسی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم نہیں دے سکتا جس کا اختیار ہی قانون نے پولیس کو نہ دیا ہو۔

یونین کونسل پر حکم جاری کرنے کی ممانعت:
چونکہ یونین کونسل 'پولیس اتھارٹی' نہیں ہے، اس لیے جسٹس آف پیس یونین کونسل کو اپنے پاس بلانے یا اسے کوئی ہدایت جاری کرنے کا قانونی دائرہ اختیار نہیں رکھتا۔

24/06/2026

2026 CLC 580 Islamabad

A condition in the Nikahnama providing financial or other benefits upon divorce is not unenforceable merely because it is entered in a particular column; its enforceability depends upon the true intention of the parties.

نکاح نامہ میں طلاق کی صورت میں مقرر کیے گئے مالی یا دیگر فوائد محض کسی خاص کالم میں درج ہونے کی وجہ سے ناقابلِ نفاذ نہیں ہو جاتے، بلکہ ان کی حیثیت اور نفاذ کا انحصار فریقین کی حقیقی نیت پر ہوتا ہے۔ طلاق کی صورت میں نکاح نامہ میں درج فوائد کی تشریح کالم کی سرخی نہیں بلکہ فریقین کی اصل نیت کی بنیاد پر کی جائے گی۔

منصور عرف بلہ چغتائی
19/06/2026

منصور عرف بلہ چغتائی

13/05/2026

بچوں کا خرچہ مقرر کرنے کے لیے اب صرف زبانی باتیں نہیں، والد کی اصل آمدن کے ثبوت پیش کرنا ہوں گے: لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ
! (2022 PLD 840 LAHORE)
عدالتی فیصلے کا خلاصہ
لاہور ہائی کورٹ نے مریم بی بی بنام اظہر اقبال کیس میں نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ فیملی کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ محض دعویٰ کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے والد کی جائیداد اور اصل وسائل کا خود تعین کرے۔ اگر والد کی نوکری یا کاروبار دستاویزی شکل میں موجود ہے تو عدالت اسے طلب کرنے کی پابند ہے تاکہ بچے کو اس کا جائز حق مل سکے۔
اہم قانونی پوائنٹ
وسائل کا تعین: فیملی کورٹ ایکٹ کی دفعہ 17-A کے تحت عدالت پر لازم ہے کہ وہ خرچہ مقرر کرنے سے پہلے والد کے مالی وسائل (Resources) اور جائیداد (Estate) کی مکمل چھان بین کرے۔
دستاویزی ثبوت
: اگر والد کی آمدن کا کوئی دستاویزی ریکارڈ موجود ہے، تو عدالت اسے خود طلب کرے اور محض فریقین کے بیانات پر انحصار نہ کرے۔
عدالت کا فعال کردار:
بچوں کے خرچے کے کیسز میں حقائق تک پہنچنا عدالت کا بنیادی کام ہے، اسے صرف "خانہ پری" نہیں کرنی چاہیے۔
کیس کی واپسی: ہائی کورٹ نے ناقص تحقیقات کی بنا پر کیس دوبارہ فیملی کورٹ کو بھیج دیا تاکہ والد کی اصل آمدن کے مطابق خرچے کا فیصلہ ہو۔
درخواست گزار (Petitioner) کی پیش کردہ نظیر
اس کیس میں مریم بی بی (درخواست گزار) کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ نچلی عدالتوں نے والد کی اصل مالی حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے بہت کم خرچہ مقرر کیا، جو کہ 2022 PLD 840 LAHORE کے مطابق قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔
مدعا علیہ (Respondent) کے حق میں دلائل و تفصیل

مدعا علیہ (اظہر اقبال) کی جانب سے نچلی عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ موجودہ مقرر کردہ خرچہ اس کی مالی حیثیت کے مطابق ہے، تاہم ہائی کورٹ نے اسے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

سجاد حسین بھٹی

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کے معزز جج جسٹس سردار اکبر علی نے 26 جنوری 2026 کو صادر کیا۔​اس فیصلے کی خاص بات اس...
07/02/2026

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کے معزز جج جسٹس سردار اکبر علی نے 26 جنوری 2026 کو صادر کیا۔
​اس فیصلے کی خاص بات اس میں موجود جدید ترین عدالتی نظائر (Case Laws) ہیں، جو فوجداری وکالت کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہیں۔
​1. مقدمے کا خلاصہ (Case Summary)
​یہ مقدمہ قتلِ عمد (302 PPC) اور ڈکیتی (394 PPC) کا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان (اللہ دتہ اور اعجاز احمد) کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے استغاثہ کے کیس میں درج ذیل بڑی خامیاں پائیں:
​ایف آئی آر میں غیر معمولی تاخیر۔
​گواہان کا "اتفاقیہ" (Chance Witnesses) ہونا اور بیانات میں بددیانتی سے تبدیلیاں کرنا۔
​شناختی پریڈ میں قانونی سقم اور ملزمان کی تصاویر پہلے سے دکھائے جانے کا اعتراض۔
​برآمدگی (Recovery) کے وقت آزاد گواہان کی عدم موجودگی۔
​طبی شہادت اور عینی شہادت میں تضاد۔
​عدالت نے ان تمام بنیادوں پر ملزمان کو "شک کا فائدہ" دیتے ہوئے بری کر دیا۔
​2. قانونی حوالہ جات (Case Law References) کی تفصیل
​اس فیصلے میں جن نظائر کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ درج ذیل قانونی نکات کو واضح کرتے ہیں:
​ایف آئی آر میں تاخیر اور مشاورت: عدالت نے 1995 SCMR 127، 2024 SCMR 1773، اور 2025 SCMR 1024 کے حوالوں سے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں محض 2 گھنٹے کی بلاجواز تاخیر بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مقدمہ سوچ بچار اور مشورے کے بعد درج کیا گیا، جس سے استغاثہ کی سچائی مشکوک ہو جاتی ہے۔
​اتفاقیہ گواہ (Chance Witnesses): گواہان کی موجودگی ثابت نہ ہونے پر 2014 SCMR 1197، 2021 SCMR 325 اور 2026 SCMR 47 جیسے حوالہ جات دیے گئے، جن کے مطابق ایسے گواہ کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنی موجودگی کی ٹھوس وجہ بیان نہ کرے۔
​بیانات میں بہتری (Dishonest Improvements): گواہان کا وقت کے ساتھ اپنے بیان کو "بہتر" کرنا انہیں ناقابلِ اعتبار بناتا ہے۔ اس پر 2024 SCMR 1310 اور 2025 SCMR 662 کا سہارا لیا گیا۔
​شناختی پریڈ کی قانونی حیثیت: 2024 SCMR 1146 اور 2025 SCMR 2018 کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزمان کی تصاویر پہلے ہی گواہان کو دکھا دی گئی ہوں، تو ایسی شناختی پریڈ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔
​طبی شہادت کا کردار: PLD 1993 SC 251 اور 2024 SCMR 1741 کے مطابق طبی شہادت صرف زخم کی تصدیق کرتی ہے، یہ کبھی بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ وہ زخم کس نے لگایا ہے۔
​دفعہ 103 Cr.PC کی خلاف ورزی: برآمدگی کے وقت علاقے کے آزاد گواہ شامل نہ کرنے پر 2017 SCMR 713 اور 2011 SCMR 1127 کے حوالے سے قرار دیا گیا کہ ایسی برآمدگی قانون کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔
​شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): آخر میں 2024 SCMR 51 اور 2024 SCMR 1731 کی بنیاد پر یہ سنہری اصول دہرایا گیا کہ اگر ایک بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف اور صرف ملزم کو ملے گا۔

قتل کے مقدمے میں بڑی بریت: لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ! ⚖️
​کیا آپ جانتے ہیں کہ ایف آئی آر میں محض چند گھنٹوں کی تاخیر یا گواہ کے بیان میں معمولی تبدیلی ملزم کی بریت کا سبب بن سکتی ہے؟
​لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے 2026 LHC 945 (اللہ دتہ بنام سرکار) میں فوجداری قانون کے سنہری اصولوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ:
1️⃣ ایف آئی آر میں تاخیر: اگر تھانہ قریب ہو اور ایف آئی آر میں بلاوجہ تاخیر ہو، تو اسے بددیانتی تصور کیا جائے گا۔
2️⃣ اتفاقیہ گواہ: رشتہ دار گواہان کی موقع پر موجودگی اگر ثابت نہ ہو، تو ان کی گواہی مسترد کر دی جائے گی۔
3️⃣ برآمدگی کے نقائص: دفعہ 103 Cr.PC کے تحت برآمدگی کے وقت علاقہ مکینوں کی گواہی لازمی ہے۔
​اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے درجنوں جدید ترین نظائر (2024-2025-2026 SCMR) کا حوالہ دیا گیا ہے، جو فوجداری نظامِ انصاف میں ملزم کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔

Address

District Court RYK

Telephone

+923047586717

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بلہ لاء ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ کورٹ رحیم یار خان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to بلہ لاء ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ کورٹ رحیم یار خان:

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed law practice?

Share