The Attorney

Call Website Contact the business

The Attorney The Attorney offers Legal services i.e. Civil ,Criminals ,family disputes, drugs & narcotics cases

01/09/2026

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرار

پنجاب چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت فیصلہ جاری

عدالت میں حنا اسلم کی نکاح کے وقت عمر 15 سال ہونے کا انکشاف

کم عمر بچی کی شادی کے خلاف نئی ایف آئی آر کی درخواست پر پولیس کو تحقیقات کا حکم

جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد پر پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کا حنا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا حکم

حنا اسلم کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ عدالت

بچے کی مرضی اہم لیکن کم عمری میں خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت

کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ عدالت

قابل سزا جرم کی موجودگی کا تعین کرنے کے لئے نئے مقدمے کی تحقیقات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو اقدامات کا حکم
Child marriage. The child's purported consent cannot legitimize cohabitation expressly treated as child abuse under the Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026, and her welfare and best interests remain paramount in determining custody and protective placement. Where a subsequent complaint discloses distinct cognizable offences relating to the solemnization and facilitation of a child marriage, it is not barred as a second FIR under Sughran Bibi; As an interim protective measure, custody of a child who is prima facie a victim of child abuse may be entrusted to the Child Protection and Welfare Bureau to safeguard her rights and provide a secure environment until her safety and well-being are assured. The question of permanent custody may thereafter be determined by the competent Guardian Judge in accordance with the welfare and best interests of the child.
W.P. 46868/26
Muhammad Aslam Vs Additional Sessions Judge etc
Mr. Justice Munawar Iqbal Duggal
2026 LHC 5390
ANNOUNCED IN OPEN COURT on 31.08.2026

تقسیم کی کاروائی میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کاروائی ہوگی بورڈ آف ریونیو پنجاب کا بڑا اقدام: 60 دن میں پارٹیشن ...
03/08/2026

تقسیم کی کاروائی میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کاروائی ہوگی
بورڈ آف ریونیو پنجاب کا بڑا اقدام: 60
دن میں پارٹیشن کیس کا فیصلہ نہ کرنے والے تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کا آغاز

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ایک اہم مراسلہ جاری کرتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) ایکٹ 2026 کی دفعہ 142-A پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اس قانون کے مطابق:
✅ ہر پارٹیشن (تقسیمِ اراضی) کیس کا فیصلہ درخواست یا متعلقہ تاریخ سے 60 دن کے اندر کرنا لازمی ہے۔
✅ غیر ضروری التواء کی حوصلہ شکنی کے لیے فریقین سے مقررہ اخراجات وصول کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایک وقت میں 3 دن سے زیادہ کا التواء نہیں دیا جا سکتا۔
✅ اگر ریونیو افسر 60 دن میں فیصلہ نہ کر سکے تو کیس کلکٹر (سب ڈویژن) کو منتقل ہوگا۔
✅ کلکٹر 30 دن کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کے ساتھ تاخیر کی ذمہ داری بھی متعین کرے گا اور متعلقہ تحصیلدار/نائب تحصیلدار کے خلاف Punjab Employees Efficiency, Discipline & Accountability (PEEDA) Act, 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی کی سفارش کرے گا۔
بورڈ آف ریونیو نے تمام اضلاع کو ہدایت دی ہے کہ جہاں مقررہ مدت گزر چکی ہو اور فیصلے نہ ہوئے ہوں، وہاں ذمہ دار ریونیو افسران کا ڈیٹا فوری طور پر مرتب کرکے محکمانہ کارروائی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کو بھیجا جائے۔
یہ احکامات Competent Authority کی منظوری سے جاری کیے گئے ہیں اور انہیں Top Priority Basis پر نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ اقدام زیر التواء پارٹیشن مقدمات کے جلد فیصلے، عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی اور ریونیو نظام میں جوابدہی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

🚨 عیسائی وراثت🚨میں بیٹیوں کو محروم نہیں کیا جا سکتا — بورڈ آف ریونیو پنجاب کا اہم فیصلہ، بیٹے اور بیٹیاں دونوں برابر کے ...
28/07/2026

🚨 عیسائی وراثت🚨
میں بیٹیوں کو محروم نہیں کیا جا سکتا — بورڈ آف ریونیو پنجاب کا اہم فیصلہ، بیٹے اور بیٹیاں دونوں برابر کے قانونی وارث قرار

📌 کیس کی بنیادی معلومات

حوالہ (Citation): 2016 YLR 2721

فورم: Board of Revenue Punjab

فریقین: Bashir Alam and Others v. Marthan and Others

📝 خلاصۂ فیصلہ

یہ مقدمہ 100 کنال سرکاری الاٹ شدہ زرعی زمین کی وراثت سے متعلق تھا۔ متوفی نوازب مسیح (Nawab Masih) کے انتقال کے بعد ریونیو حکام نے وراثتی انتقال صرف بیٹوں کے نام منظور کر دیا اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا۔
بیٹیوں نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی قانون کے مطابق برابر کا حق حاصل ہے، جبکہ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ Colonization of Government Lands Act, 1912 کی دفعہ 20 اور پرانے عیسائی رسم و رواج کے مطابق صرف مرد اولاد ہی وارث بنتی ہے۔
بورڈ آف ریونیو نے سپریم کورٹ کے فیصلے PLD 1992 SC 385 پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ عیسائیوں میں پرانا رسمی قانون (Christian Customary Law) اب قابلِ عمل نہیں رہا۔ Succession Act, 1925 کے تحت عیسائی مرد اور عورت دونوں یکساں طور پر وراثت کے حق دار ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی بیٹی کو صرف اس وجہ سے وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عورت ہے۔ چنانچہ صرف بیٹوں کے نام کیا گیا وراثتی انتقال برقرار نہیں رکھا جا سکتا، اور تمام قانونی وارثوں کے حصے قانون کے مطابق مقرر کیے جائیں گے۔

⚖️ عدالت کا مقرر کردہ اصول (Principle of Law)

عیسائی متوفی کی جائیداد یا وراثتی حقوق میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں برابر کے قانونی وارث ہیں، اور کسی بیٹی کو صنف کی بنیاد پر وراثت سے محروم کرنا قانوناً ناجائز ہے۔

🚨 عیسائی وراثت میں بیٹیوں کو محروم نہیں کیا جا سکتا — بورڈ آف ریونیو پنجاب کا اہم فیصلہ، بیٹے اور بیٹیاں دونوں برابر کے قانونی وارث قرار ۔

پنجاب پراپرٹی اونرشپ ترمیمی ایکٹ 2026: پنجاب پراپرٹی ٹربیونلز کے اختیارات اور طریقہ کار🏛️ ٹربیونلز کی تشکیل پریزائیڈنگ آ...
24/07/2026

پنجاب پراپرٹی اونرشپ ترمیمی ایکٹ 2026: پنجاب پراپرٹی ٹربیونلز کے اختیارات اور طریقہ کار
🏛️ ٹربیونلز کی تشکیل
پریزائیڈنگ آفیسر:
ہر ٹربیونل کی سربراہی ریٹائرڈ جج کی بجائے سروس میں موجود ایڈیشنل سیشن جج کے سپرد کی گئی ہے۔
* **تعداد اور تقرر:**
صوبے کے تمام 36 اضلاع میں الگ الگ ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں، جن کے سربراہان کا تقرر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کیا ہے۔
⚖️ ٹربیونل کے اہم اختیارات
ٹربیونلز کو مندرجہ ذیل وسیع قانونی اختیارات حاصل ہیں:
* **ملکیت اور قبضہ:**
زیرِ تنازع پراپرٹی پر اصل قانونی ملکیت اور حقِ قبضہ کا تعین کرنا اور دلوانا۔
* **عبوری احکامات:**
* مقدمے کے دوران جائیداد کی فروخت، منتقلی، رہن یا لیز پر مکمل پابندی عائد کرنا۔
* جائیداد کو سیل کرنے کے احکامات صادر کرنا۔
* دورانِ مقدمہ جائیداد کے قبضے سے متعلق ضروری احکامات جاری کرنا۔
* **قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت:** غیر قانونی قبضہ ہٹانے کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کو کارروائی کی ہدایات دینا۔
* **جھوٹی شکایت پر سزائیں:** بغیر کسی معتبر بنیاد کے یا جان بوجھ کر جھوٹی شکایت دائر کرنے والے شخص کو **5 سال تک قید** اور **5 لاکھ روپے تک جرمانہ** کی سزا دینا۔
* **ہرجانے کی ادائیگی:** متاثرہ فریق کو قانونی طور پر ہرجانہ دلوانا۔
* **اضافی اختیارات:**
* فراڈ، جعلسازی، دھوکہ دہی یا زبردستی جائیداد پر قبضہ کرنے والے عناصر کو سزا دینا۔
* مجرم کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنا۔
* متنازع جائیداد کی مالیت کے برابر ضمانتی رقم مقرر کرنا۔
📜 ٹریبونل کا طریقہ کار
مقدمات نمٹانے کا مرحلہ وار طریقہ کار مندرجہ ذیل ہے:
1. **درخواست کا دائر ہونا:**
متاثرہ فریق براہِ راست اپنے متعلقہ ضلع کے ٹربیونل میں درخواست جمع کروا سکتا ہے۔
2. **اسکروٹنی کے لیے ارسال:**
درخواست ملنے پر ٹربیونل اسے ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کی زیرِ سربراہی قائم اسکروٹنی کمیٹی کو جانچ پڑتال کے لیے بھیجتا ہے۔
3. **اسکروٹنی کمیٹی کے فرائض:**
یہ کمیٹی ریکارڈ کا جائزہ لیتی ہے، فریقین کے بیانات درج کرتی ہے اور باہمی رضامندی سے صلح کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔ کمیٹی **30 دن کے اندر** اپنی رپورٹ ٹربیونل کو جمع کرانے کی پابند ہے۔
4. **فیصلے کی مدت:**
اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ٹربیونل **30 دن کے اندر** فیصلہ سنانے کا پابند ہے۔
5. **روزانہ کی بنیاد پر سماعت:**
مقدمات کی کارروائی روزانہ کی بنیاد پر چلائی جاتی ہے اور غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک بار میں **7 دن** کی تاخیر کی گنجائش ہوتی ہے۔
6. **ضمانت کا ضابطہ:**
اس ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے ملزمان کی ضمانت صرف **لاہور ہائیکورٹ** سے منظور ہو سکتی ہے، ٹربیونل خود ضمانت دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔
⚖️ اپیل کا حق
* **حتمی فیصلے:**
ٹربیونل کے حتمی احکامات (فائنل آرڈرز) کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
* **عبوری احکامات:**
انٹریم آرڈرز (عبوری احکامات) پر بھی اپیل کا حق بحال کر دیا گیا ہے جو کہ پہلے میسر نہیں تھا۔
**نوٹ:** اس نظام کا بنیادی مقصد عدالتی قوتوں کو فعال بنانا، جائیداد کے مقدمات کا فوری فیصلہ کرنا اور قانونی مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ تمام سزائیں اور جرمانے مقدمے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کیے جائیں گے۔

جاٸیداد کی خرید وفروخت کرتے وقت ایگریمنٹ کرنے سے پہلے خیال رکھنا ھےکہ ۔دستخط اور انگوٹھا  ایگریمنٹ کے تمام صفوں پر ھوں گ...
24/05/2026

جاٸیداد کی خرید وفروخت کرتے وقت ایگریمنٹ کرنے سے پہلے خیال رکھنا ھےکہ ۔دستخط اور انگوٹھا ایگریمنٹ کے تمام صفوں پر ھوں گے ۔اور تمام مالکان کے ھوں گے۔

19/05/2026

جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے 18 بنیادی اصول

(1) ابتدائی 15 دنوں کے دوران مجسٹریٹ عموماً ملزم کو جوڈیشل کسٹڈی میں بھیج سکتا ہے، مگر پولیس کسٹڈی (جسمانی ریمانڈ) صرف مضبوط اور غیر معمولی وجوہات کی بنیاد پر اور کم سے کم مدت کے لیے دی جائے گی۔
(
2) مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ دیتے وقت اپنے حکم میں واضح وجوہات درج کرے گا۔

(3) دفعہ 167 ضابطہ فوجداری کے تحت جاری کردہ ریمانڈ آرڈر کی نقل متعلقہ سیشن جج کو ارسال کی جائے گی۔

(4) 15 دن گزرنے کے بعد مجسٹریٹ پولیس کو مکمل یا نامکمل چالان پیش کرنے کا پابند کرے گا، اور اگر چالان پیش نہ کیا جائے تو مزید حراست دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کرے گا، خواہ ضمانت مچلکوں کے ساتھ ہو یا بغیر۔

(5) 15 دن کے بعد مزید ریمانڈ صرف اسی صورت دیا جا سکتا ہے جب پولیس یا استغاثہ باقاعدہ درخواست دائر کرے۔

(6) 15 دن کے بعد پولیس/استغاثہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو دفعہ 344 ضابطہ فوجداری کے تحت التواء (Adjournment) کی درخواست تصور کیا جائے گا۔
(
7) ریمانڈ دینے سے پہلے مجسٹریٹ اس بات کا اطمینان کرے گا کہ پولیس نے ایسا مواد اکٹھا کر لیا ہے جس سے ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کا ابتدائی شبہ پیدا ہو، اور مزید شواہد ریمانڈ کے دوران حاصل کیے جا سکیں گے۔

(8) ملزم کی غیر موجودگی میں ریمانڈ یا التواء نہیں دیا جائے گا۔

(9) مجسٹریٹ حتی الامکان اپنی رہائش گاہ پر ریمانڈ دینے سے اجتناب کرے گا۔

(10) مجسٹریٹ ملزم کو یہ موقع فراہم کرے گا کہ اگر اسے ریمانڈ یا التواء پر کوئی اعتراض ہو تو وہ پیش کر سکے۔

(11) ملزم کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو ریکارڈ پر لایا جائے گا اور ان کے مسترد کیے جانے کی وجوہات بھی لکھی جائیں گی۔

(12) ریمانڈ کے فیصلے سے قبل مجسٹریٹ پولیس فائل کا معائنہ کرے گا۔

(13) اگر سابقہ ریمانڈ کے دوران کوئی تفتیش نہ کی گئی ہو تو مزید ریمانڈ یا التواء نہیں دیا جائے گا۔

(14) ملزم کی گرفتاری کے دو ماہ بعد مزید ریمانڈ یا التواء نہ دیا جائے، الا یہ کہ ناگزیر حالات موجود ہوں۔

(15) اگر مکمل چالان جمع نہ ہو تو مجسٹریٹ نامکمل چالان کی بنیاد پر مقدمے کا ٹرائل شروع کرے گا اور گواہوں کے بیانات قلمبند کرے گا۔

(16) اگر دو ماہ کے اندر چالان جمع نہ ہو تو مجسٹریٹ اس معاملے کی رپورٹ متعلقہ سیشن جج اور ضلعی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بھیجے گا۔

(17) مجسٹریٹ محض پولیس یا استغاثہ کے ساتھ تعاون کی خاطر مشینی انداز میں ریمانڈ نہ دے۔

(18) مجسٹریٹ ہر صورت ریمانڈ اور التواء کی وجوہات اپنے حکم میں تحریر کرے گا۔

عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ مجسٹریٹس اپنے غیر قانونی یا بے ضابطہ احکامات پر ہائی کورٹ کے سامنے جوابدہ ہیں، اور

ہائی کورٹ دفعہ 439 ضابطہ فوجداری کے تحت ایسے احکامات کا جائزہ لینے کی مکمل مجاز ہے۔ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں مجسٹریٹ کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

18/05/2026

C.R.P. No.410/2023
In C.A No.310 of 2021

⚖️ Fazeelat Nasreen and another
Versus
Maqsood Begum and others

📘 اہم ترین فیصلہ — دیوانی مقدمات اور پلیڈنگز سے متعلق سپریم کورٹ کی نئی ہدایات
⚖️ دیوانی مقدمات میں نقائص، تاخیر اور ناقص پلیڈنگز کے حوالے سے نہایت اہم فیصلہ
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ:
✅ رجسٹریشن بذاتِ خود پوری دنیا کیلئے نوٹس تصور ہوتی ہے۔
یعنی اگر کوئی دستاویز رجسٹرڈ ہو چکی ہو تو بعد میں لاعلمی کا عذر قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
✅ قانونِ معیاد (Limitation Act, 1908) کی دفعہ 3 کے مطابق اگر دعویٰ مقررہ مدت کے بعد دائر کیا جائے تو عدالت اسے مسترد کرنے کی پابند ہے، چاہے مخالف فریق معیاد کا اعتراض نہ بھی اٹھائے۔
✅ 1978، 1989 اور 1991 کی انتقالات (Mutations) کو 2005 میں چیلنج کیا گیا، جو کئی دہائیوں کی خاموشی کے بعد تھا، لہٰذا ایسا دعویٰ قانوناً ناقابلِ سماعت قرار پایا۔
✅ ریونیو ریکارڈ میں طویل عرصہ سے موجود اندراجات کو معمولی بنیادوں پر ختم نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب ان کی بنیاد پر حقوق پیدا ہو چکے ہوں۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ سپریم کورٹ کی ٹرائل کورٹس کیلئے اہم ہدایات ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📌 عدالت جب کوئی دعویٰ (Plaint) وصول کرے تو درج ذیل امور لازماً چیک کرے:
1️⃣ کیا دعویٰ CPC کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے؟
2️⃣ کیا فریقین یا اسبابِ دعویٰ میں غلط شمولیت یا عدم شمولیت تو نہیں؟
3️⃣ کیا نابالغ فریق درست نمائندگی میں ہیں؟
4️⃣ کیا دعویٰ درست طور پر دستخط شدہ اور تصدیق شدہ ہے؟
5️⃣ کیا عدالت کو دائرہ اختیار حاصل ہے؟
6️⃣ کیا دعویٰ مسترد کیے جانے کے قابل تو نہیں؟
7️⃣ کیا تمام دستاویزات مناسب فہرست کے ساتھ منسلک ہیں؟
8️⃣ کیا مدعی نے سروس کیلئے پتہ فراہم کیا ہے؟
9️⃣ کیا قانونی نمائندگان کی تفصیل فراہم کی گئی ہے؟
🔟 کیا تمام مدعا علیہان کیلئے نقول، سمن اور فیس مہیا کی گئی ہے؟
1️⃣1️⃣ کیا دعویٰ قانونِ معیاد سے باہر تو نہیں؟
1️⃣2️⃣ کیا رجسٹرڈ لفافے منسلک کیے گئے ہیں؟
1️⃣3️⃣ کیا دعویٰ میں واضح ریلیف اور درست کورٹ فیس درج ہے؟
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ جوابی دعویٰ (Written Statement) کیلئے بھی اہم اصول ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
✅ تحریری جواب عموماً پہلی پیشی پر جمع ہوگا۔
✅ بلاوجہ تاخیر قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
✅ 30 دن سے زیادہ مہلت معمول کے مطابق نہیں دی جائے گی۔
✅ تمام متعلقہ دستاویزات ساتھ لگانا ضروری ہوگا۔
✅ متعدد مدعا علیہان الگ الگ جواب جمع کریں گے، الا یہ کہ دفاع ایک جیسا ہو۔
✅ متضاد دفاع ایک ہی جواب میں شامل نہیں کیے جا سکیں گے۔
✅ سیٹ آف (Set-off) واضح اور مخصوص رقم پر مبنی ہونا چاہیے۔
✅ عدالت ضرورت پڑنے پر مزید پلیڈنگز طلب کر سکتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ بار کونسلز اور لا کالجز کیلئے بھی ہدایات ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📚 بار کونسلز معیاری نمونہ جات (Model Formats) تیار کریں تاکہ نوجوان وکلاء بہتر پلیڈنگز تیار کر سکیں۔
📚 لا کالجز میں سول پروسیجر اور لیگل ڈرافٹنگ کی تعلیم میں ان اصولوں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ عدالتی انتظامیہ کیلئے حکم ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
یہ فیصلہ تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول ججز اور بار ایسوسی ایشنز کو بھیجا جائے تاکہ پورے صوبے میں یکساں طریقہ کار اور بہتر عدالتی نظم قائم ہو سکے۔
📖 حوالہ: C.R.P. No.410/2023
In C.A No.310 of 2021
⚖️ Fazeelat Nasreen and another
Versus
Maqsood Begum and others

07/05/2026

تنسیخ نكاح كيبعد حق مہر کا سونا پلاٹ رقم واپس نہ کرنے کا حکم

بیوی نے عدالت میں فسخ نکاح/تکزیب نکاح کا دعویٰ داٸر کیا کہ شوہر نے اس کے ساتھ ظلم کیا اور اجازت کے بغیر دوسری شادی کر لی۔ فیملی کورٹ نے خود ہی کیس کو خلع میں تبدیل کر دیا اور بیوی کو مہر (پلاٹ سونا اور رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ بیوی کی اپیل اور آئینی درخواست بھی مسترد ہو گئی جس پر معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شوہر کی طرف سے اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا بذات خود ظلم ہے اور یہی بنیاد نکاحِ ختم کرنے کے لیے کافی تھی۔ مزید یہ کہ فیملی کورٹ کو اختیار نہیں تھا کہ بیوی کی مرضی کے بغیر خلع دے
سپریم کورٹ نے فیصلے کالعدم قرار دے کر نکاح کو فسخ کر دیا بیوی کو مہر (پلاٹ سونا اور رقم) واپس نہ کرنے کا حکم
PLD 2026 SC 91

05/05/2026

2026 ایم ایل ڈی 716
2026 MLD 716
اگر کوئی گاڑی بینک سے ہائر پرچیز معاہدے کے تحت حاصل کی گئی ہو اور وہی گاڑی کسی فوجداری مقدمے میں پولیس کے قبضے میں لے لی جائے تو ایسی گاڑی اس شخص کو سپرداری پر دی جا سکتی ہے جس نے یہ گاڑی بینک سے حاصل کی ہو اور اس کے پاس اس سلسلے میں تمام دستاویزات، بشمول بینک کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات، موجود ہوں۔

رابطہ فوجداری عرضی نمبر 9627/23
یو بی ایل بذریعہ محمد امتیاز احمد بمقابلہ ایڈیشنل سیشن جج وغیرہ

05/05/2026

⚖️ اہم قانونی نکات (2026 LHC 2859)
Crl. Misc. 531-B-26
Syed Muhammad Zahid Munawar بنام ریاست وغیرہ
بذریعہ: Muhammad Amjad Rafiq
بتاریخ: 02-04-2026
🔹 (i) دفعہ 174 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) کی کارروائی کب ہوتی ہے؟
جب کسی شخص کی پُراسرار، غیر طبعی یا مشکوک موت واقع ہو (مثلاً حادثہ، خودکشی یا نامعلوم حالات)، تو پولیس ابتدائی انکوائری کے لیے دفعہ 174 Cr.P.C. کے تحت کارروائی کرتی ہے، جسے عام طور پر انکوائری برائے موت (Inquest Proceedings) کہا جاتا ہے۔
🔹 (ii) کیا پولیس مدعی کے بیان کے برخلاف مختلف دفعات کے تحت FIR درج کر سکتی ہے؟
❌ نہیں۔
پولیس مدعی کے بیان (Narrative) کے خلاف جا کر اپنی مرضی سے مختلف تعزیری دفعات لگا کر FIR درج نہیں کر سکتی، خصوصاً جب معاملہ صرف دفعہ 174 Cr.P.C. کی رپورٹ پر مبنی ہو۔
🔹 (iii) کیا پراسیکیوٹر FIR موصول ہونے پر دفعات میں تبدیلی کی ہدایت دے سکتا ہے؟ (سیکشن 12 CPS Act)
❌ نہیں۔
پراسیکیوٹر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ FIR میں درج دفعات کو تبدیل کرنے کا حکم دے۔ اس کا کردار صرف قانونی رائے (Legal Opinion) دینا ہے، نہ کہ تفتیش یا FIR میں مداخلت کرنا۔
🔹 (iv) کیا پراسیکیوٹر عدالت کا دائرہ اختیار (Jurisdiction) تبدیل کر سکتا ہے؟
❌ ہرگز نہیں۔
عدالت کا دائرہ اختیار قانون کے مطابق طے ہوتا ہے، اور پراسیکیوٹر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اسے تبدیل کرے۔
🔹 (v) کیا دفعہ 173 Cr.P.C. کی رپورٹ کے بعد پراسیکیوٹر دوبارہ کیس ریویو رپورٹ دے سکتا ہے؟ (سیکشن 9(7) CPS Act)
❌ نہیں۔
جب پولیس چالان (Report under section 173 Cr.P.C.) عدالت میں جمع کرا دے، تو اس کے بعد پراسیکیوٹر از خود نئی ریویو رپورٹ جمع نہیں کرا سکتا۔
⚖️ اہم اصول (Principle of Law)
👉 صرف دفعہ 174 Cr.P.C. کی رپورٹ کی بنیاد پر:
ایف آئی آر مدعی کے بیان کے برعکس مختلف دفعات کے تحت درج نہیں کی جا سکتی۔
⚖️ پراسیکیوٹر اور عدالت کا کردار (Alternate Charge)
عدالت نے واضح کیا کہ:
پراسیکیوٹر کا کردار مشاورتی (Advisory) ہے، تفتیشی نہیں
اگر کیس کے حقائق اجازت دیں تو
👉 عدالت خود متبادل دفعات (مثلاً 302 یا 322 PPC) کے تحت چارج فریم کر سکتی ہے
حتمی اختیار عدالت کے پاس ہے، نہ کہ پولیس یا پراسیکیوٹر کے.
طالب دعا۔

Address

Professional Block Chamber No#5 District Court Rawalpindi
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Attorney posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Attorney:

Shortcuts

Share

Category