07/02/2026
PLD 2026 SC 75
سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ #وکیل کے پروفیشنل #فیس کی ادائیگی کیلئے دیا گیا #چیک اگرعدم ادائیگی کی وجہ سے ڈس آنر ہو جائے تو #جرم کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں ؟؟؟؟؟
واقعات:
مقدمہ کرنے والا وکیل تھا۔ الزام لگایا گیا شخص اس کا کلائنٹ تھا۔ کلائنٹ نے وکیل کی فیس کے طور پر چیک دیا۔ جب چیک پیش کیا گیا تو وہ ڈس آنر ہوگیا۔ وکیل نے سیکشن 489-F کے تحت کرمنل کیس دائر کیا۔ الزام لگائے گئے شخص نے ضمانت کے لیے درخواست دی۔
مسئلہ:
کیا پیشہ ور قانونی فیسوں کی عدم ادائیگی کو سیکشن 489-F کے تحت کرمنل جرم قرار دیا جاسکتا ہے؟
عدالت کا فیصلہ:
فیس کی عدم ادائیگی بنیادی طور پر معاہدے کی ہے، نہ کہ خودکار طریقے سے جرم۔ #کرمنل قانون کو کی #وصولی کے لیے کیا جاسکتا۔ ایک موکل جو قانونی فیس ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے اسے عام طور پر اس طرح نمٹا جانا چاہیے:
سول مقدمہ دائر کرکے وصولی کے لیے،
یا
کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کے سیکشن 73 کے تحت معاوضہ۔
سیکشن 489-F کا مقصد جعل سازی کو سزا دینا ہے، نہ کہ رقم کی ادائیگی کو یقینی بنانا۔ مجرمانہ نیت (بدنیتی) ضروری ہے۔ محض ایک چیک جاری کرنا جو بعد میں ڈس آنر ہوجائے، بدنیتی ثابت نہیں کرتا۔ اپنے ہی موکل کے خلاف کرمنل کارروائی صرف استثنائی صورتوں میں جائز ہے جہاں کوئی دوسرا حل موجود نہ ہو۔ سول کے حل موجود تھے، اس لیے کرمنل مقدمہ غیرضروری تھا۔
عدالت کا فیصلہ:
ضمانت منظور کر لی گئی۔
Facts:
The complainant was an advocate. The accused was his client. The client gave a cheque as professional fee. When the cheque was presented, it was dishonoured.
The advocate filed a criminal case under section 489-F PPC. The accused applied for bail.
Issue:
Can non-payment of professional legal fees through a dishonoured cheque be treated as a criminal offence under section 489-F PPC?
Court’s Findings:
Non-payment of fees is basically a breach of contract, not automatically a crime. Criminal law cannot be used to recover civil dues.
A client failing to pay legal fees should normally be dealt with through:
Civil suit for recovery, or
Compensation under Section 73 of the Contract Act, 1872.
Section 489-F PPC is meant to punish fraud, not to force payment of money. Mens rea (dishonest intention) is essential. Simply issuing a cheque that later bounces does not prove dishonest intent. Criminal action against one’s own client is allowed only in exceptional cases, where no other remedy exists. Civil remedies were clearly available, so criminal prosecution was unnecessary.
Court Decision:
Bail was Granted