KHM LAW ASsociates

KHM LAW ASsociates Serving under served

بسم اللہ الرحمن الرحیموَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدْتَّ تَرۡكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡــًٔـا قَلِيۡلًا-اور اگر تم کو ...
06/01/2023

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدْتَّ تَرۡكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡــًٔـا قَلِيۡلًا-
اور اگر تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔
اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَـكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا‏۔
اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا مزا چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔
پارہ 15
سورۂ بنی اسرائیل
آیت 74٫75
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

Extension in Date of filing of income tax returnNew last date of filing: 31 October 2022
30/09/2022

Extension in Date of filing of income tax return
New last date of filing: 31 October 2022

01/09/2022

نکاح اور اس میں موجود کالمز کی تفصیل و اہمیت

نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔

اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے

وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

عام معلومات ( کالم 1 تا 12)

ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے

حق مہر (کالم 13تا16)

حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔

نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔

اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔

اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔

خاص شرائط ( کالم نمبر 17)

کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا

اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔

اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔

طلاق تفویض (کالم نمبر 18)

اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔

اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔

عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔

شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)

اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ

حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)

اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے

دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)

دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے

اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔

نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا ہے

25/08/2022

*سوال: کیا عمومی سول مقدمہ خاتون کی سہولت کی خاطر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتاہے؟*

جواب: خاتون ذیابطیس کی مریضہ تھی اور بینائی سے محروم تھی ۔۔۔ خاتون کی رہایش کی جگہ مقدمہ منتقل کرنے کا حکم
Mst. Khalida Riffat Vs Maqsood Abbas -
*{2007 CLC 1413 Lahore}*

*خاتون کی مشکلات کے پیش نظر مقدمہ منتقل*
Woman, undoubtedly, would face more difficulties & inconvenience in comparison to a man in pursuing her case at a place other than that of her own residence - ,Case Transfer.

Muhammad Ramzan Vs Rabia Bibi -
*{2010 CLC 1438 Lahore}*

22/08/2022

قاتل وراثت کا حقدار نہ ہے۔
2018 CLC 860

جس وقت کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے اسکی وراثت فی الفور وارثان کو منتقل ہوجاتی ہے
2014 PSC 813
2013 SCMR 154

کوئی بھی معاہدہ جوخواتین کو انکےوراثتی حقوق سےمحروم کرتاہےبمطابق سپریم کورٹ اسکی کوئی حیثیت نہیں کالعدم تصورہوگا
2020 SC civil 505

11/08/2022

فیملی کیس میں خاتون کا چند دن کسی مقام پر رھائش پزیر رھنا ھی Ordinary Resides کی تعریف میں آتا ھے.
2017 MLD 580

26/07/2022

What is cheating in PPC?
Whoever, by deceiving someone, fraudulently or venally induces the person therefore deceived to deliver any property to someone, or to consent that someone shall retain any property, or advisedly induces the person therefore deceived to try to to or omit to try to to something that he wouldn't do or omit if he weren't therefore deceived, and that act or omission causes or is probably going to cause injury or damage to it person in body, mind, name or property is claimed to cheat.

پی پی سی میں دھوکہ دہی کیا ہے؟
جو بھی، کسی کو دھوکہ دے کر، دھوکہ دہی سے یا جنسی طور پر اس شخص کو آمادہ کرتا ہے، اس لیے دھوکہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی کو کوئی جائیداد فراہم کرے، یا اس بات پر رضامندی دے کہ کوئی کوئی جائیداد اپنے پاس رکھے گا، یا مشورے سے اس شخص کو آمادہ کرتا ہے جس کی وجہ سے دھوکہ دہی کی کوشش کی جائے یا اسے چھوڑنے کی کوشش کرے۔ کوئی ایسا کام جو وہ نہیں کرتا یا چھوڑتا اگر اس کو دھوکہ نہ دیا گیا ہو، اور اس عمل یا کوتاہی سے جسم، دماغ، نام یا جائیداد میں اس شخص کو چوٹ یا نقصان پہنچے گا یا اسے دھوکہ دینے کا دعوی کیا جاتا ہے۔

23/07/2022

*Inheritance in Urdu

*وراثت کی تقسیم کا قانونی طریقہ کار آسان اردو زبان میں ملاحظہ فرمائیں.*

*وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:*

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گ

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

21/07/2022

دوران آپریشن ڈاکٹر کی غفلت سے تولیہ پیٹ کے اندر رہ گیا، دعویٰ ہرجانہ ڈگری ہوا.
2002 CLC 96.
2001 CLC 875.
ایشو فریم کرنے اور شہادت گواہان قلمبند کرنے سے قبل دعویٰ ہرجانہ، زیرِ آرڈر 7 رول 11 ض د خارج نہیں ہو گا.
2021 MLD 354.
محض کسی کے خلاف FIR درج کروانے کی بناء پر Malacious Prosecution کا اطلاق نہ ہو گا،بلکہ اس کے لئے مدعا علیہ کی بد نیتی کا ثابت کرنا ضروری ہے.
PLD 2017 Bal 85.
مریضوں کے معاملے میں ڈاکٹرز اپنی غفلت اور لاپرواہی کی صورت میں ہرجانہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے.
1996 CLC 1440.
PLD 1991 SC 699.
گاڑی کا مالک صرف اسی صورت میں ہرجانہ ادا کرنے کا پابند ہو گا، جب کہ ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہو گا.
1995 CLC 83.
1992 CLC 185.

19/07/2022

◾پہلی شرط: وکیل عادل و منصف و صادق ہو

قرآن کریم نے اس شرط کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا "[الاحزاب:70 ]

ترجمہ:

اے إیمان والو! اللہ سے ڈرو ، اور سیدھی سیدھی بات کرو۔

اور سورہ مائدہ میں واضح فرمایا:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ" [ المائدة :8 ]

ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف ( و عدل) کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اسکے خلاف نا انصافی پر نہ ابھارے ، عدل کرنا اور وہ ( عدل و انصاف ہی) اللہ کے زیادہ قریب ( مقبول) ہے ، اور اللہ سے ڈرنا بے شک وہ خبر دینے والا ہے اسکی جو کچھ تم کرتے ہو.

اس آیت میں واضح فرمادیا کہ ایک وکیل صرف دوسرے وکیل کو ہرانے کے لیے جھوٹی گواہیاں قائم نہ کرے ، اور نہ ہی کوئی گواہ یا جج کسی سے دشمنی کی بنیاد پہ غلط فیصلہ دے۔ اور تقوی کی بات اس لیے کی کہ جھوٹے گواہ جج سے تو چھپا سکتے ہو لیکن اس اللہ رب العزت سے نہیں جس سے کائنات کا ادنی سا ذرہ بھی پوشیدہ نہیں اور وہ تمہیں تمہارے ہر ظلم کی خبر دے گا لہذا ڈرنا۔

حتی کہ قرآن کریم نے ایک اور مقام پر تو اتنا بھی فرمایا کہ اگر کیس تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو تب بھی عدل و انصاف و صدق کا دامن نہ چھوڑنا جیسے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ " [النساء: من 135 ]

ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے بن جاؤ اگرچہ وہ گواہی تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو یا آپکے والدین یا پھر رشتہ داروں کے ( لیکن اس وقت بھی انصاف و صدق و عدل کا پیکر بن کر رہنا)۔

18/07/2022

تھانہ،کہچری میں ضمانت کیا ہوتی ہے۔ضمانتی،فردات،مالک،مچلکے کا کلچر کیا ہے
*عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کا طریقہ کار*

اگر آپکے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو تو آپ عدالت سے رجوع کرکے ضمانت حاصل کرکے
گرفتاری سے بچ سکتے ہیں

عدالت ضمانت دینے کے بعد مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتی ہے جس کے بعد روبکار جاری ہوتا ہے جو آپ لے کر پولیس اسٹیشن جا کر شامل تفتیش ہوکر خود کو بے گناہ ثابت کرسکتے ہیں

اگر آپ شامل تفتیش نہیں ہونگے تو عدالت آپکی ضمانت خارج کرسکتی ہے

اگر آپ شامل تفتیش ہوے ہوں اور پولیس نے آپکو بے گناہ قرار دیا ہو تو آپ عدالت سے اپنی ضمانت واپس لے سکتے ہیں کیونکہ ضمانت صرف پولیس کی گرفتاری سے بچنے کے لیے ہوتی ہےضمانت کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں

*Pre Arrest Bail Section 498 Code of Criminal Procedure*
ضمات قبل از گرفتاری مقدمہ درج ہونے کے بعد آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے کسی بھی مقدمہ کی کراسکتے ہیں یہ ضمانت سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ دے سکتی ہے

*Post Arrest Bail 496,497 Code of Criminal Procedure*
گرفتاری کے بعد آپ عدالت کو معقول وجہ بتا کر کسی بھی جرم کی ضمانت کراسکتے ہیں جو قابل ضمانت جرائم ہیں ان میں ضمانت بطور حق ملزم کو دی جاتی ہے جبکہ دیگر ناقابل جرائم میں ملزم کے وکیل نے عدالت کو ٹھوس وجہ بتانا ہوتی ہے

*Protective Bail 498,561 A Code of Criminal Procedure*
حفاظتی ضمانت صرف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دے سکتی ہے جب ملزم کے خلاف مقدمہ کسی اور جگہ یا شہر ہو اور وہاں پولیس نے ناکہ لگایا ہوا ہو یا گرفتار کرنے کا انتظار کررہی ہو تو ملزم کسی بھی ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت لے کر اپنے شہر پہنچ کر مزید کاروائی عمل میں لاتا ہے

*Bail After Conviction 426 Code of Criminal Procedure*
جب کوئی شخص کسی جرم میں سزا ہوجاے تو وہ سزا کی اپیل کے ساتھ سزامعطلی کی بھی درخواست لف کرتا ہے اور اگر عدالت سمجھے کی اپیل کی سماعت سے پہلے بادی النظر میں سزا معطل ہوسکتی ہے تو وہ ملزم کی اپیل کی شنوائی تک سزا معطل کرکے رہا کرسکتی ہے

*Required Documents For Bail*
ضمانت کے لیے ضروری ہے کہ آپ وکیل صاحب کو ایف آئی آر کی کاپی اور شناختی کارڈ کی نقل بھی فراہم کریں ,قبل از گرفتاری ضمانت میں ملزم کی حاضری بھی لازمی ہوتی ہے

ایک بات یاد رکھیں ملزم کو ضمانت دینا مکمل عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے لہذا ملزم کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے

سب سے پہلے اس چیز کا مشاہدہ کریں کہ ملزم پر لگاے ہوے الزامات کس طرح قابل جواز ہیں اور کس طرح جواز بنا کر ملزم کو ضمانت کا حقدار قرار دیا جاسکتا ہے

ملزم پر لگاے گئے الزامات کا بخور مشاہدہ کرکے انکی نوعیت کا اندازہ لگائیں

جان بوجھ کر پاکستانی نوٹ پھاڑنے کی سزاپاکستانی کرنسی سٹیٹ بینک کی ملکیت ہے جسے ہم صرف لین دین کے لیے اور دیگر ضروریات کے...
15/07/2022

جان بوجھ کر پاکستانی نوٹ پھاڑنے کی سزا

پاکستانی کرنسی سٹیٹ بینک کی ملکیت ہے جسے ہم صرف لین دین کے لیے اور دیگر ضروریات کے لیے حاصل کرسکتے ہیں یا استعمال کرسکتے ہیں

تاہم کوئی کرنسی نوٹ جو آپکے قبضہ میں ہو اسے آپ پھاڑ یا ضائع یا پھر جلا نہیں سکتے. کرنسی پر موجود قائد اعظم کی فوٹو کو ڈی فیس کرنا مثلاً بابائے قوم کی تصویر پر مونچھیں بنانا یا تصویر کو بگاڑنا جرم ھے۔

پاکستانی کرنسی کو نقصان پہنچانا سنگین جرم ہے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 477کے تحت کرنسی نوٹ کو نقصان پہنچانے کی سزا 7 سال قید ہے اور یہ جرم ناقابل ضمانت جرم ہے.

Address

51-B , Satelite Town RWP
Rawalpindi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923330557795

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KHM LAW ASsociates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KHM LAW ASsociates:

Share