Utra Law Associates

Call Contact the business

Utra Law Associates lawyer at Rawalpindi bar Pakistan.+923125358709

28/09/2026

جی ٹی روڈ کا تفصیلی خاکہ قابل سے بنگال تک

گزارش ہے پوری تصویر کھول کر غور سے دیکھیںاٹھویں فیل جعلی میجر جعلی عزت دار جعلی غیرت مند جعلی ولدیت جعلی شیر خوشاب۔تم نے...
27/09/2026

گزارش ہے پوری تصویر کھول کر غور سے دیکھیں
اٹھویں فیل جعلی میجر جعلی عزت دار جعلی غیرت مند جعلی ولدیت جعلی شیر خوشاب۔تم نے اپنی ایف ائی ار میں اور لوگوں کو یہ جھوٹ بولا کہ انہوں نے تمہارے اوپر فائر کیے ہے یہ بتاؤ ایک ہی ٹکر سے تین بندے کیسے مر گئے اور تمہاری گاڑی کی ونڈ سکرین میں کوئی فائر کے نشان بھی موجود نہیں ہے ایک بڑا نشان موجود ہے وہ اس بندے کی پلٹ کر ونڈ سکرین پر سر لگنے کا ہے اور بونٹ بھی ٹیڑھا بندے کے پلٹ کر بونٹ کے اوپر گرنے کی وجہ سے ہے موٹر سائیکل کے ساتھ سالن اور روٹیاں ٹنگی ہوئی ہیں۔اور اگر تصویر میں غور سے دیکھیں تو موٹر سائیکل کا ٹائر بالکل پنج گیا ہےیعنی کہ ٹکر سے بالکل ٹیڑھا میڑا ہو کر دب گیا ہے لیکن گاڑی کے ریڈیٹر تک پھر بھی نہیں پہنچ سکا اس ماڈل کی ٹویوٹا کرولا کے ریڈییٹر اور ٹویوٹا کرولا کے نشان میں کم از کم ایک فٹ کا فاصلہ ہوتا ہے تصویر میں واضح دیکھا جا سکتا ہے۔گاڑی کے فریم تک کو نقصان نہیں ہوا صرف پلاسٹک اور بونٹ ٹیڑھا ہوا ہے۔حتی کہ بونٹ کو لاک کرنے والا لاک تک صحیح سلامت اپنی جگہ پر موجود ہے اور اگر پچھلا بندہ مرا تو اگلا بھی اگر مر گیا تو درمیانہ کس طرح مر گیا ہے۔بہت ساری چیزوں کے جواب دینے ہوں گے۔تم خاندانی قبضہ گروپ ہو خاندانی قاتل ہو۔ ٹویوٹا کرولا کے فرنٹ کا صرف پلاسٹک ٹیڑھا ہوا ہے ٹوٹا تک نہیں۔لوگ اب خود جان بوجھ کر تم سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں تمہاری شہرت کی وجہ سے ۔

27/09/2026
                    شاملات دیہہ کے بارےمیں مکمل معلومات1849 میں ایسٹ انڈیا پانی کی طرف سے صوبہ پنجاب کیتشکیل کے بعد غیر ...
26/09/2026


شاملات دیہہ کے بارےمیں مکمل معلومات
1849 میں ایسٹ انڈیا پانی کی طرف سے صوبہ پنجاب کی
تشکیل کے بعد غیر آباد زمین کے لئے یہ اصول طے کیا گیا
کہ جو اس زمین پر جا کر کنواں کھودے گا وہ اس زمین کا
مالک تصور ہو گا تاہم اس مقصد کے لئے موضع جات تشکیل
دیے گئے اور کھیوٹیں بنائی گئیں اور کھیوٹ دار کو مالک دہیہ
کہا جاتا تھا

پھر یہ نظام مزید تشکیل ہوتا گیا اور 1901
تک برصغیر کے دیگر علاقوں بشمول موجودہ
خیبر پختونخواہ تک کبھی یہ نظام تشکیل ہوچکا

اعلی مالک اور ادنی مالک
اعلی مالک وہ ہوتا ہے جو جائیداد کا اصل مالک
ہو گا اور جس کے پاس جائیداد شروع سے وراثت
چل رہی ہے جبکہ ادنی مالک وہ ہو گا جس نے
اعلی مالک سے جائیداد خریدی ہو گی ۔

آبادی دیہہ
پھر ان علاقوں میں رہائش ، مندر، مسجد وغیرہ کے
لئے بھی لال لکیریں کھینچی گئیں جنکو آبادی دیہی
کا نام دیا گیا جنکے مالک صرف اعلی مالک تھے ادنی
مالک کو آبادی دہی پر ملکیتی حقوق نہ تھے

پھر وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں بڑھتی ہیں جس میں
چراگاہ، جناز گاه، قبرستان، سکول، ہسپتال وغیرہ کے لئے
جگہ بنائی گئیں جن کو شاملات دہی کا نام دیا گیا جو کہ
تناسب کے حساب سے سب مالکان کی زمینوں پر بناے
کئے تھے ان جگہوں کو مالک پچ نہیں سکتے تھے صرف
ان چیزوں سے مستفید ہوسکتے تھے

شاملات دیہہ کون کلیم کر سکتا ہے
یہ جائیداد اعلی مالک کبھی بھی کلیم کر سکتا ہے مگر ادنی مالک
شاملات دیہہ والی زمین کو کلیم نہیں کر سکتا چاہے اعلی مالک نے
ادنی مالک کو قبضہ ہی کیوں نہ دیا ہو کیونکہ جب لال لکیریں بنی
تھیں تو اس وقت محکمہ مال کے ریکارڈ میں اعلی مالک نام شاملات
وہیں پر تحریر کیا گیا تھا

اسی لئے اب کہا جاتا ہے کہ شاملات دیہہ کا
مالک کوئی نہیں حالانکہ اس کے مالک ابھی تک
بھی مشترکہ طور پر اعلی مالک ہیں اور وہ کبھی
بھی کلیم کر سکتے ہیں۔۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Hamet Marak, اتيكي محند
23/09/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Hamet Marak, اتيكي محند

"تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، وہ بہت رقیق القلب (نرم دل) اور حساس دل والے ہیں۔ ایمان یمن کا ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔"(صحی...
19/09/2026

"تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، وہ بہت رقیق القلب (نرم دل) اور حساس دل والے ہیں۔ ایمان یمن کا ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔"(صحیح بخاری: 4388، صحیح مسلم: 52)

"میں حوضِ کوثر کے پاس کھڑا (دوسرے لوگوں کو) لاٹھی سے ہٹاؤں گا تاکہ اہلِ یمن کے لیے راستہ صاف ہو جائے (تاکہ وہ پہلے پانی پی سکیں)۔"(صحیح مسلم: 2301)

بہت سی دیگر احادیث میں بھی اہل یمن کے فضائل بیان ہوئے ہیں، ہمارے ہاں یمنیوں یا حوثیوں کو محض شیعہ ڈکلیئر کر کے معاملہ گول مول کر دیا جاتا ہے حالانکہ یمن کے حوثیوں کو (اثنا عشری) شیعہ بطور شیعہ مانتے ہی نہیں بلکہ انہیں گمراہ سمجھتے ہیں کیونکہ انکا زیدیہ مکتب فکر بالکل حنفی مسلک کے بالمثل ہے سوائے ایک بات کہ ۔ انکے ہاں ملک کی حکمرانی کا حق صرف نبی ص کی بیٹی حضرت فاطمہ رض کے بچوں کی نرینہ اولاد یا انکے شجرے کو ہے۔

کم لوگوں کو پتہ ہے کہ یمن عملی طور پر دو ملک ہیں ۔ آبادی کے لحاظ سے بڑے حصے یعنی 75 سے 80 فیصد علاقے پر حکومت حوثیوں کی ہے ۔ جب کہ ایریا کے اعتبار سے ذیادہ بڑے جغرافیے پر سنی قبائل کی حکومت اور قبضہ ہے۔

مغرب اور عرب ممالک خصوصا" سعودی عرب سنی قبائل کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں اور حوثیوں کی حکومت جو ملک آبادی کے سب سے بڑے حصے پر راج کر رہے ہیں اس پر گذشتہ کئی برس سے ہر طرح کی معاشی پابندیاں اور بلاکیڈ لگا رکھا ہے۔

ملک کی 80 فیصد آبادی والے علاقوں پر نہ صرف حوثیوں کی حکومت ہے بلکہ فوجی لحاظ سے بھی حوثی جدید ترین اسلحہ میزائل ، ہوائی دفاعی نظام اور ڈرونز رکھنے کے علاوہ اقوام متحدہ کی 2024 پینل ایکسپرٹ رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد انتہائی تربیت یافتہ فوج بھی رکھتے ہیں ۔

مغربی اور عرب میڈیا کے زیر اثر ہمارا میڈیا بھی حوثیوں کو ایسے پینٹ کرتا ہے جیسا کہ یہ چند باغی لوگ ہیں جو بلاوجہ سعودی عرب پر حملے کرتے ہیں ۔ چونکہ ہمارے ہاں سنی فرقوں کا پلڑا بھاری ہے اس لیے حوثیوں کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پراپگنڈہ آنکھ بند کرکے قبول کیا جاتا ہے ۔

حوثیوں کی طاقت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ ماضی کے اپنے نقصانات اور تجربات سے سبق سیکھ کر امریکہ بھی ان سے جنگ سے کتراتا ہے۔ اسی لیے ان سے امن معاہدہ کرنے میں ہی عافیت جانی ۔حالیہ سعودی یمن جنگ میں شہزادہ سلمان نے دوبار فون کرکے صدر ٹرمپ سے یمن کے خلاف مدد کی درخواست کی جسے ٹرمپ نے رد کردیا یہ کہہ کر ہمارا حوثیوں سے ایگریمنٹ ہے۔

حوثیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جب ساری دنیا کہ مسلمان ممالک فلس3 کی حمایت سے پیچھے ہٹ گئے تو یہ پھر بھی نہیں ہٹے اور ڈٹے رہے ۔

اس وقت اہل کپر ایران سے ذیادہ یمن سے متوحش ہیں ۔ اسی لیے اب کوشش کی جا رہی ہے کہ انکے خلاف انتہا پسند اور احمق سنی فرقوں کو استعمال کیا جائے۔

تاریخی طور سنی فرقے ذیادہ تر یعقوبیوں اور امریکیوں کے ہاتھوں استعمال کا کھلونا بنے رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے انکار کے بعد شہزادہ شام سے کرائے کے گوریلے لانے کے درپے ہے تاکہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑے۔

سعودی عرب کو پاکستان کی طرف سے بردرانہ مشورہ یہی ہوگا کہ خامخواہ کی لڑائی میں پڑنے کی بجائے حوثیوں سے صلح کی قراداد پر دستخط کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یمن پر سعودی کی جانب سے بے رحمانہ قسم کی بمباری کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ وہ جوابی میزائل حملے بھی نہ کریں ۔ اسکے ساتھ ساتھ یمن کا معاشی اور فضائی بلاکیڈ بھی ختم کرے۔ صرف اتنا کرنے سے دونوں ممالک کے تعلقات نارمل ہو جائیں گے اور آپس میں حملوں کا تبادلہ بھی بند ہوگا۔

اگر سعودی قیادت اجازت دے تو پاکستان ایران کے توسط سے اس معاملے میں بہت مثبت رول ادا کر سکتا ہے۔ اور ان دونوں مسلمان ممالک کا جھگڑا ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے۔

پاکستانی زندہ باد مردہ باد قوم کو بھی نصیحت ہے کہ ذیادہ میڈیا اور فرقہ ورانہ پراپیگنڈے کے اثر میں اکر اس بات پر یقین کرنا شروع نہ کر دیں کہ اس جنگ میں حوثی ظالم ہیں اور دوسرے مظلوم ۔ بلکہ درحقیقت حوثی مظلوم بھی ہیں اور مقہور بھی ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ اس حالیہ جنگ میں اب تک یمن کی طرف سے کئے حملے میں ایک بھی سعودی شہری نہیں مرا جبکہ سعودی کی طرف سے بمباری میں درجنوں عام یمنی جان سے جا چکے ہیں۔

معصوم اور بے گناہ عرب شیوخ و شاہ ! پھر بھی زومبیز کہیں گے کہ “اندروں اندروں “ ایران اسرائیل اور امریکہ سے ملا ہوا ھے ! س...
17/09/2026

معصوم اور بے گناہ عرب شیوخ و شاہ ! پھر بھی زومبیز کہیں گے کہ “اندروں اندروں “ ایران اسرائیل اور امریکہ سے ملا ہوا ھے !
سازشیوں کا جرمنی میں اکٹھی بیٹھک !

امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے مطابق امریکا، اسرائیل اور سات عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی سربراہان نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں ایک غیر اعلانیہ اجلاس کیا، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید Axios نے دو اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ اجلاس امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے منعقد کیا۔
اجلاس میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے فوجی سربراہان شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر نے شرکا کو یقین دلایا کہ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں کے باوجود امریکا خطے سے اپنی فوجی موجودگی ختم نہیں کرے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بڑھانے کے امریکی منصوبے پر بھی بریفنگ دی۔
اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اجلاس کے شرکا کو مختلف محاذوں پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے آگاہ کیا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس اجلاس کی خبر سامنے آنے سے پہلے کسی شریک ملک نے اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔
تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں ایک طے شدہ کانفرنس کے دوران آٹھ ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی میزبانی کی گئی، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال ہوا۔
اس خبر کو میں نے پوری احتیاط سے چیک کیا ھے اور تصدیق کی ھے-
اب بتائیں ؟

Address

Shair Shah Sori Block Office # 130
Rawalpindi

Telephone

+923125358709

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Utra Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Utra Law Associates:

Shortcuts

Share