Ch. Ejaz Khatana Advocate

Ch. Ejaz Khatana Advocate Deal In CRIMINAL, CIVIL, FAMILY And All Kind of Legal Matters. Contact
03478222337

18/05/2026

لاہور ہائی کورٹ نے دیوانی مقدمہ میں ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلوں Concurrent Findings کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سائلین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

ذیل میں ماتحت عدالتوں کا موقف اور ہائی کورٹ کی طرف سے اس کی تردید (Rebuttal) کی تفصیل دی جا رہی ہے:

کیس کے بنیادی حقائق Brief Facts درج ذیل ہیں:

​۱۔ متنازع جائیداد اور اس کی اصل ملکیت
​جائیداد کی تفصیل: تنازع کی بنیاد 02 کنال 14 مرلہ اراضی تھی، جو موضع بنسریاں، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات میں واقع ہے۔
​اصل مالکان: یہ زمین بنیادی طور پر مدعا علیہان نمبر 2 اور 3 (Respondents No. 2 & 3) کی ملکیت تھی۔

​۲۔ مدعی (منور حسین) کا موقف اور دعویٰ
​مدعی (منور حسین/Respondent No.1) نے سول کورٹ میں استقرارِ حق (Suit for Declaration) کا دعویٰ دائر کیا، جس میں اس نے درج ذیل بنیادی باتیں موقف کے طور پر اپنائیں:

​زبانی خرید و فروخت کا دعویٰ:
مدعی کا کہنا تھا کہ اس نے یہ پوری 02 کنال 14 مرلہ زمین اصل مالکان سے ایک "زبانی سودے" کے تحت خریدی تھی۔

​رقم کی ادائیگی اور قبضہ:
مدعی نے موقف اختیار کیا کہ اس نے سودے کی پوری رقم (Sale Consideration) ادا کر دی تھی، جس کے بعد زمین کا قبضہ اسے سونپ دیا گیا تھا۔ قبضہ ملنے کے بعد اس نے زمین پر چاردیواری اور ایک کمرہ تعمیر کیا، اور وہاں بجلی کا میٹر اور واٹر پمپ بھی لگوایا۔
​انتقالِ اراضی میں رکاوٹ: مدعی کے مطابق، کل رقبے میں سے 13 مرلہ زمین کا انتقال (Mutation) اس وقت منظور نہیں ہو سکا تھا، کیونکہ اصل مالکان میں سے کچھ وہاں موجود نہیں تھے۔

​مبینہ فراڈ کا الزام:
مدعی نے الزام لگایا کہ مدعا علیہ نمبر 4 (بشیر احمد)، جو کہ اصل مالکان کا مبینہ مختارِ عام (Attorney) تھا، نے سائلین کے مورثِ اعلیٰ (سردار خان) کے ساتھ ساز باز اور ملی بھگت کی۔ اس نے مدعی کے حقوق کو نقصان پہنچانے کے لیے اسی 13 مرلہ زمین کا تبادلہ (Exchange) سردار خان کے نام کر دیا، جس کا باقاعدہ انتقال ریونیو ریکارڈ میں انتقال نمبر 3264 اور 3265 (مورخہ 27.07.2004) کے ذریعے درج کروا دیا گیا۔

​ریلیف کی استدعا:
مدعی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ زمین کا مالک قابض ہے، اس لیے سردار خان کے نام ہونے والے تبادلے کے ان دونوں انتقالات کو فراڈ، غیر قانونی اور کالعدم (Void) قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔

​۳۔ سائلین (سردار خان کے ورثاء) کا جوابِ دعویٰ
​سردار خان (جو دورانِ مقدمہ وفات پا گئے اور ان کے قانونی ورثاء/Petitioners کیس کا حصہ بنے) نے مدعی کے دعوے کو سخت چیلنج کیا اور درج ذیل حقائق سامنے لائے:
​قانونی منتقلی کا تحفظ: سائلین کا موقف تھا کہ متنازع 13 مرلہ زمین اصل مالکان نے باقاعدہ قانونی طریقے سے، منظور شدہ سرکاری انتقالات (تبادلہ) کے ذریعے سردار خان کو منتقل کی تھی۔ چونکہ یہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کا حصہ ہے، اس لیے قانوناً اسے سچا تسلیم کیا جانا چاہیے۔

​زبانی معاہدے کی تردید:
انہوں نے مدعی کے زبانی سودے اور رقم کی ادائیگی کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی سودا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔

​اختیارِ سماعت کا فقدان (Lack of Lawful Authority): سائلین نے یہ اہم نکتہ اٹھایا کہ جس وقت مدعی اصل مالکان کے مبینہ مختار (بشیر احمد) کے ساتھ زبانی سودے کا دعویٰ کر رہا ہے، اس وقت بشیر احمد کے پاس اصل مالکان کی طرف سے زمین بیچنے کا کوئی قانونی مختارنامہ (Power of Attorney) موجود ہی نہیں تھا۔ لہٰذا، ایک ایسا شخص جس کے پاس کوئی قانونی اختیار نہ ہو، وہ کسی دوسرے کو زمین کیسے بیچ سکتا ہے؟

​ناقص دعویٰ:
سائلین نے اعتراض اٹھایا کہ مدعی نے اپنے دعوے میں زبانی سودے کی ضروری تفصیلات (جیسے سودے کی تاریخ، وقت، جگہ، طے شدہ رقم اور گواہوں کے نام) کا کوئی ذکر نہیں کیا، جو کہ قانون کی نظر میں لازمی ہے۔

​۴۔ تنازع کا نچوڑ
​مختصر یہ کہ کیس کا بنیادی تنازع ایک طرف مدعی کے مبینہ زبانی سودے، بلا اختیار مختارِ عام سے لین دین اور زمین پر مادی قبضے کے گرد گھوم رہا تھا، جبکہ دوسری طرف سائلین کے حق میں ریونیو ریکارڈ میں درج باقاعدہ سرکاری انتقالات (Mutations) موجود تھے، جنہیں ہائی کورٹ نے آخر کار قانون کے مطابق درست اور بحال تسلیم کیا۔

5۔ ماتحت عدالتوں (Trial Court & Appellate Court) کے فیصلوں کی وجوہات

سول جج فرسٹ کلاس کھاریاں نے (15.12.2008) کو مدعی کے حق میں ڈگری جاری کی، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کھاریاں نے (22.06.2010) کو اس فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی بنیادی وجوہات درج ذیل تھیں:

گواہ (DW-1) کے بیان پر انحصار:
ٹرائل کورٹ نے بشیر احمد (DW-1) کے بیان کے کچھ حصوں پر انحصار کیا جس میں اس نے رقم کی وصولی اور مدعی کے قبضے کا تذکرہ کیا تھا۔

بارِ ثبوت کی منتقلی (Shifting of Burden of Proof): ماتحت عدالتوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ مدعی زمین پر قابض ہے اور ریونیو انتقالات کو چیلنج کر رہا ہے، اس لیے اب یہ سائلین (Defendants) کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے انتقالات کی قانونی حیثیت اور شفافیت کو ثابت کریں۔

دعویٰ کی نوعیت:
عدالتوں نے مدعی کے دعوٰی برائے استقرارِ حق (Suit for Declaration) کو ہی تسلیم کر کے انتقالات کو منسوخ کر دیا۔

۳۔ ہائی کورٹ کی طرف سے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی تردید (Rebuttal by High Court)
لاہور ہائی کورٹ نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو قانون اور شہادتوں کی غلط تشریح (Misreading and Non-reading of Evidence) قرار دے کر مسترد کر دیا، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

الف۔ زبانی معاہدے میں ضروری تفصیلات کا غائب ہونا (Defective Pleadings)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ مدعی کا پورا کیس ایک مبینہ "زبانی معاہدے" پر قائم تھا۔

ہائی کورٹ کا اصول:
قانون (Order VI Rules 2 & 4 CPC) کے تحت اگر کوئی دعویٰ زبانی سودے پر مبنی ہو، تو اس میں سودے کی تاریخ، وقت، جگہ، گواہان کے نام اور طے شدہ رقم کی تفصیلی وضاحت لازمی ہے۔ مدعی کے دعوے (Plaint) میں یہ بنیادی تفصیلات مکمل طور پر غائب تھیں، جو کہ کیس کے لیے مہلک (Fatal) ہے۔

ب۔ مختارِ عام کے پاس قانونی اختیار کا نہ ہونا (Lack of Lawful Authority)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے بشیر احمد کے بیان کو ادھورا پڑھا۔
ہائی کورٹ کا اصول: ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ جس وقت بشیر احمد نے مدعی کے ساتھ مبینہ زبانی سودا کیا، اس وقت اس کے پاس اصل مالکان کی طرف سے کوئی "مختارنامہ" (Power of Attorney) موجود ہی نہیں تھا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے: "کوئی بھی شخص اپنی ملکیت اور اختیار سے بڑھ کر کسی کو حقوق منتقل نہیں کر سکتا"۔ بعد میں (سنہ 2004 میں) ملنے والا مختارنامہ ماضی کے کسی مبینہ زبانی سودے کو قانونی تحفظ نہیں دے سکتا۔

ج۔ بارِ ثبوت کا غلط منتقل کیا جانا (Wrong Burden of Proof)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: عدالتوں نے بارِ ثبوت غلط طور پر مدعا علیہان (Petitioners) پر ڈال دیا کہ وہ اپنے انتقالات کو سچا ثابت کریں۔
ہائی کورٹ کا اصول: قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 117 اور 118 کے تحت، جو شخص عدالت سے ریلیف مانگتا ہے اور کسی معاہدے کا دعویٰ کرتا ہے، اسے ہی سب سے پہلے اپنا کیس ثابت کرنا ہوتا ہے۔ مدعی زبانی معاہدے کو ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا، اس لیے سائلین پر یہ ذمہ داری عائد ہی نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس کے جھوٹے دعوے کو غلط ثابت کرتے۔

د۔ ریونیو ریکارڈ کو قانونی تحفظ (Presumption of Correctness)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے سائلین کے حق میں منظور شدہ سرکاری انتقالات (Mutation Nos. 3264 & 3265) کو بلاوجہ منسوخ کیا۔
ہائی کورٹ کا اصول: سرکاری ریونیو ریکارڈ میں درج انتقالات کے ساتھ قانوناً سچائی کا گمان وابستہ ہوتا ہے۔ جب تک مدعی انتہائی ٹھوس، ناقابلِ تردید اور مضبوط شہادتوں کے ذریعے اسے جھوٹا ثابت نہ کر دے (جو وہ نہیں کر سکا)، محض قبضے یا مبہم باتوں کی بنیاد پر سرکاری ریکارڈ منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

ہ۔ دعوے کی نوعیت میں تضاد (Suit for Specific Performance vs. Declaration)
ہائی کورٹ کا اصول: مدعی کا مناسب علاج زبانی معاہدے کی تکمیلِ تعمیل (Suit for Specific Performance) کا دعویٰ دائر کرنا تھا، نہ کہ استقرارِ حق (Declaration) کا۔ ماتحت عدالتیں دعوے کی اس بنیادی اور فاؤنڈیشنل خامی کو خود سے درست کر کے کیس ازسرِنو تیار نہیں کر سکتی تھیں۔

6۔ ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ (Final Outcome)
لاہور ہائی کورٹ نے ان تمام قانونی نکات کی روشنی میں قرار دیا کہ:
ماتحت عدالتوں کے فیصلے قانون کی نظر میں پائیدار نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے شہادتوں کو پڑھنے میں سنگین غلطیاں کیں اور طے شدہ قانونی اصولوں کا غلط اطلاق کیا۔
یہ سول ریوائزن (Civil Revision) منظور (Allowed) کی جاتی ہے۔
ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلوں اور ڈگریوں کو کالعدم (Set Aside) قرار دیا جاتا ہے۔
مدعی (منور حسین) کا دعویٰ خارج (Dismissed) کیا جاتا ہے۔
سائلین کے حق میں کیے گئے تبادلے کے انتقالات نمبر 3264 اور 3265 بحال (Restored) کیے جاتے ہیں۔
اس فیصلے کو "Approved for Reporting" (نظیر کے طور پر شائع کرنے کی منظوری) قرار دیا گیا۔

17/05/2026

PLD 2026 Supreme Court 238
آسان اردو ترجمہ اور مکمل تشریح
Supreme Court of Pakistan
یہ فیصلہ بچوں کی حوالگی (Custody) اور ان کے بہترین مفاد کے بارے میں سپریم کورٹ پاکستان کا ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ عدالت نے اس میں بچوں کے حقوق، ان کی رائے، ان کی ذہنی و جذباتی حالت، اور جدید دور کے تقاضوں کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔
فیصلے کا ابتدائی جملہ
عدالت نے کہا:
“بچے کل کے انسان نہیں بلکہ آج کے انسان ہیں، اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔”
یعنی بچے صرف مستقبل کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی ان کے حقوق موجود ہیں اور ان کی بات اہم ہے۔
مقدمے کے مختصر حقائق
دو بچے تھے جن کی عمریں تقریباً 7 اور 8 سال تھیں۔
ماں نے بچوں کی کسٹڈی کے لیے عدالت میں درخواست دی۔
پہلے فیملی کورٹ نے ماں کی درخواست مسترد کر دی اور صرف ملاقات کا حق دیا۔
بعد میں اپیل میں ماں کو بچوں کی کسٹڈی دے دی گئی۔
باپ نے ہائی کورٹ میں اپیل کی لیکن وہ بھی خارج ہوگئی۔
پھر باپ سپریم کورٹ گیا۔
سپریم کورٹ نے بھی ماں کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا۔
Review اور Child Justice
عدالت نے کہا:
عام طور پر Review Petition کا دائرہ محدود ہوتا ہے، لیکن اس کیس میں بچوں کے بنیادی حقوق شامل تھے، اس لیے عدالت نے دوبارہ معاملہ دیکھا۔
عدالت نے خاص طور پر:
UN Convention on the Rights of the Child 1989
کا حوالہ دیا۔
United Nations
Article 3 کیا کہتا ہے؟
ہر ایسے معاملے میں جس کا تعلق بچے سے ہو:
بچے کا بہترین مفاد سب سے پہلی ترجیح ہوگا۔
Article 12 کیا کہتا ہے؟
ہر بچے کو حق ہے کہ:
وہ اپنی رائے دے،
اس کی بات سنی جائے،
اور اس کی عمر اور سمجھ کے مطابق اس کی رائے کو اہمیت دی جائے۔
عدالت نے کہا پہلے بچوں کی بات نہیں سنی گئی
سپریم کورٹ نے کہا:
پہلے کی کارروائی میں بچوں کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا، جو کہ ایک بڑی کمی تھی۔
اس لیے سپریم کورٹ نے:
خود بچوں سے ملاقات کی،
ان سے بات کی،
ان کی ذہنی کیفیت دیکھی،
ان کی خواہشات سنیں۔
Guardians and Wards Act 1890 کی نئی تشریح
عدالت نے کہا:
یہ قانون انگریز دور کا ہے، اس وقت بچوں کو صرف بڑوں کی نگرانی کی چیز سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اب دور بدل چکا ہے۔
اب عدالت کو:
جدید انسانی حقوق،
بچوں کے حقوق،
اور آئینی اصولوں
کے مطابق قانون کی تشریح کرنی ہوگی۔
“Welfare of Minor” کا جدید مطلب
پرانے وقت میں “فلاح” کا مطلب صرف:
کھانا،
کپڑے،
رہائش،
پیسے
سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اب اس کا مطلب بہت وسیع ہے۔
اب عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا:
بچے کی ذہنی صحت،
نفسیاتی سکون،
جذباتی کیفیت،
تعلیمی ماحول،
معاشرتی ماحول،
ثقافتی ضروریات،
مستقبل،
جذباتی وابستگی،
اور اعتماد۔
عدالت نے کہا قانون “Living Law” ہے
عدالت نے کہا:
قانون کو مردہ لفظوں کی طرح نہیں پڑھا جا سکتا۔
بلکہ:
قانون وقت کے ساتھ evolve ہوتا ہے۔
اسی لیے 1890 کے قانون کو بھی آج کے بچوں کے حقوق کے مطابق پڑھا جائے گا۔
بچے کی آواز (Voice of Child)
عدالت نے کہا:
بچے کی بات سننا صرف Formality نہیں ہے۔
بلکہ:
یہ انصاف کا حصہ ہے،
بچے کی عزت کا حصہ ہے،
بچے کو اعتماد دیتا ہے۔
عدالت نے کہا:
بچے کی بات سننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بات مانی جائے، بلکہ اس کے احساسات اور سوچ کو سمجھا جائے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکلز کا حوالہ
عدالت نے کہا کہ بچوں کے حقوق پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہیں۔
Article 9
زندگی اور محفوظ زندگی کا حق
Article 14
انسانی عزت کا تحفظ
Article 25
قانون کے سامنے برابری
Article 34
بچوں اور ماؤں کا تحفظ
Child-Centered Justice کیا ہے؟
عدالت نے کہا:
ہر عدالت کو بچوں کے معاملات:
“Child-Centered Approach”
سے دیکھنے چاہئیں۔
یعنی:
بچے کو مرکز بنایا جائے،
اس کے جذبات کو اہمیت دی جائے،
اس کے مستقبل کو دیکھا جائے۔
عدالت نے بچوں سے کیسے بات کی؟
یہ حصہ بہت اہم ہے۔
عدالت نے بچوں کو ڈرایا نہیں۔
بلکہ:
آرام دہ ماحول دیا،
ان سے دوستانہ انداز میں بات کی،
ہاتھ ملایا،
نرم لہجہ اختیار کیا۔
تاکہ بچے خوف کے بغیر اپنی بات کر سکیں۔
بڑے بچے نے کیا کہا؟
بڑے بچے نے کہا:
وہ:
دونوں والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
عدالت نے کہا: یہ بچے کی جذباتی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔
چھوٹے بچے کی حالت
چھوٹا بچہ developmental delay کا شکار تھا۔
یعنی:
اس کی ذہنی نشوونما سست تھی،
وہ مکمل طور پر اپنی بات نہیں بتا سکتا تھا۔
باپ کے دلائل
باپ نے کہا:
وہ بچوں کا ڈاکٹر ہے،
اس نے بچے کا علاج کروایا،
اس کے والدین بھی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں،
گھر میں اچھا ماحول ہے۔
ماں کے دلائل
ماں نے کہا:
وہ بھی ڈاکٹر ہے،
بچوں کی تعلیم اور therapy کا خیال رکھ رہی ہے،
بچے اچھے اسکول میں پڑھ رہے ہیں،
خاص بچے کی therapy لاہور میں ہو رہی ہے۔
عدالت نے Working Mother کے بارے میں اہم بات کی
عدالت نے کہا:
صرف اس وجہ سے کہ ماں نوکری کرتی ہے:
اسے نااہل نہیں کہا جا سکتا۔
بلکہ:
ایک محنتی ماں،
ذمہ دار ماں،
تعلیم یافتہ ماں
بھی بہترین سرپرست ہو سکتی ہے۔
عدالت نے کہا: ماں کی نوکری اس کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔
عدالت نے کس چیز کو زیادہ اہم سمجھا؟
عدالت نے دیکھا:
بچے کہاں emotionally stable ہیں؟
کہاں ان کی تعلیم بہتر چل رہی ہے؟
کہاں therapy جاری ہے؟
کون زیادہ وقت دے سکتا ہے؟
کس ماحول میں بچے زیادہ محفوظ ہیں؟
عدالت کا اہم مشاہدہ
عدالت نے کہا:
باپ:
دوبارہ شادی کر چکا ہے،
ایک اور بچہ بھی ہے،
دن بھر اسپتال میں مصروف رہتا ہے،
شام میں بھی پرائیویٹ پریکٹس کرتا ہے۔
اس لیے وہ گھر میں کم وقت دے سکتا ہے۔
عدالت نے ماں کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے کہا:
ماں:
بچوں کی مستقل دیکھ بھال کر رہی ہے،
جذباتی سپورٹ دے رہی ہے،
خاص بچے کی therapy کروا رہی ہے،
بچوں کو محفوظ ماحول دے رہی ہے۔
عدالت کا اہم جملہ
عدالت نے کہا:
ماں جیسی جذباتی توجہ، مستقل محبت، اور حفاظتی ماحول کوئی دوسرا مکمل طور پر فراہم نہیں کر سکتا۔
ADR / Mediation کے بارے میں عدالت کی رائے
عدالت نے کہا:
بچوں کے کیسز میں:
لڑائی،
سخت عدالتی ماحول،
لمبی مقدمہ بازی
بچوں کو ذہنی نقصان پہنچاتی ہے۔
اس لیے:
Mediation (صلح)
اور
ADR
کو ترجیح دینی چاہیے۔
عدالت کی تمام فیملی کورٹس کو ہدایت
عدالت نے کہا:
اب ہر:
Family Court،
Guardian Court،
District Judge
پر لازم ہے کہ:
✔ بچے کی بات سنے
✔ بچے کے جذبات سمجھے
✔ بچے کے بہترین مفاد کو ترجیح دے
✔ Child-Friendly ماحول بنائے
آخری فیصلہ
سپریم کورٹ نے کہا:
بچوں کی کسٹڈی ماں کے پاس رہے گی۔
باپ کو ملاقات کا حق حاصل رہے گا۔
اگر مستقبل میں حالات بدل جائیں تو باپ دوبارہ درخواست دے سکتا ہے۔
اس فیصلے کے اہم قانونی اصول
اہم Points
✔ بچے کی فلاح سب سے اہم اصول ہے
✔ بچے کی رائے ضروری ہے
✔ بچے کو حقوق رکھنے والا فرد سمجھا جائے گا
✔ ماں کی نوکری اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی
✔ عدالت صرف پیسے نہیں بلکہ جذبات بھی دیکھے گی
✔ Special Child کی خصوصی ضروریات اہم ہیں
✔ Guardians and Wards Act 1890 کو جدید انداز میں پڑھا جائے گا
✔ عدالتوں کو Child-Friendly ہونا ہوگا
سب سے آسان خلاصہ
یہ فیصلہ کہتا ہے:
بچے کی کسٹڈی صرف ماں یا باپ کے حق کی لڑائی نہیں بلکہ بچے کے مستقبل، خوشی، ذہنی سکون اور بہترین زندگی کا معاملہ ہے۔
طالب دعا
چوہدری اعجاز اسلم کھٹانہ ایڈووکیٹ
03478222337

انتہائی رنج و غم کے ساتھ میں اپنے پیارے  انکل حاجی محمد اسلام صاحب میرپور والوں کے انتقال کی خبر دے رہا ہوں، جو مرحوم کر...
09/05/2026

انتہائی رنج و غم کے ساتھ میں اپنے پیارے انکل حاجی محمد اسلام صاحب میرپور والوں کے انتقال کی خبر دے رہا ہوں، جو مرحوم کرنل رشید صاحب کے چھوٹے بھائی اور طاہر الاسلام، فرقان الاسلام، عرفان الاسلام، رضوان الاسلام اور سیف الاسلام کے محترم والد تھے۔

ان کی نماز جنازہ بروز اتوار، 10 مئی 2026، صبح 11 بجے جامع مسجد عبداللہ بن مسعود، ڈی-4 فٹ بال چوک میں میرپور ادا کی جائے گی۔

"إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"(بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔)

مرحوم حاجی محمد اسلام صاحب نہایت اعلیٰ کردار، شرافت اور مہمان نوازی کے مالک تھے۔ میرپور میں ان کا گھر اہلِ علاقہ اور آنے جانے والوں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا، جہاں ہر شخص کا خلوص، محبت اور بہترین انداز میں استقبال کیا جاتا تھا۔ محدود وسائل کے باوجود وہ اپنی استطاعت کے مطابق فلاحی اور خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور اہلِ علاقہ کے ساتھ بے حد محبت، شفقت اور خلوص سے پیش آتے تھے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، اپنی بے پایاں رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

اللہ رب العزت تمام لواحقین کو صبرِ جمیل، ہمت اور استقامت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

06/05/2026

Issue:
Whether a Justice of the Peace can direct registration of an FIR in cases of child marriage.
Citation:
2026 MLD 525
Final Judgment of the Court
The Lahore High Court has categorically held that a Justice of the Peace does not possess the authority to order the direct registration of an FIR in matters relating to child marriage. The Court observed that the proper legal course is to initiate proceedings under the Child Marriage Restraint Act, 1929 through the Union Council.
Accordingly, the direction issued by the Justice of the Peace for registration of the FIR was declared to be without lawful authority and hence set aside.
Legal Propositions
Violation of Human Rights:
Child marriage constitutes a violation of fundamental rights including equality, education, and health. However, such violations must be addressed through the prescribed legal mechanism.
Jurisdiction of Justice of the Peace:
Under Sections 22-A and 22-B of the Code of Criminal Procedure, a Justice of the Peace may issue directions only to police authorities.
Union Council vs. Police Authority:
The Union Council does not fall within the definition of a police authority; therefore, the Justice of the Peace cannot issue directions to it.
Proper Procedure for Complaint:
Under Section 9 of the Child Marriage Restraint Act, 1929, the aggrieved party must approach the Union Council, which is obligated to file a complaint before the competent court.
Remedy in Case of Inaction:
If the Union Council fails to act, the aggrieved party may invoke the constitutional jurisdiction of the High Court under Article 199 by filing a writ petition for Mandamus.
Petitioner’s (Contentions)
The petitioner (husband) contended that the Justice of the Peace had exceeded his jurisdiction by directing registration of an FIR. Reliance was placed on Sections 22-A and 22-B Cr.P.C. and Article 199 of the Constitution of Pakistan, arguing that since the Union Council is not part of the police machinery, any such direction is unlawful.
Respondent’s (Contentions)
The respondent (mother of the minor girl) asserted that the marriage of her underage daughter was illegal and warranted immediate intervention. She invoked international human rights instruments, including:
Article 16(2) of the Universal Declaration of Human Rights (UDHR)
Article 24(3) of the UN Convention on the Rights of the Child (UNCRC)
The Convention on the Elimination of All Forms of Discrimination Against Women (CEDAW)
to emphasize that child marriage is a grave violation of fundamental human rights requiring urgent legal action.
Regards:
Chaudhry Ejaz Aslam Khattana
Advocate, High Court & Federal Shariat Court of Pakistan
📞 0347-8222337

05/05/2026

Under the recent amendments (2024–25) to the Criminal Procedure Code (CrPC), the exclusive authority of the police in the registration of First Information Reports (FIRs) has been significantly curtailed, and the powers of the Area Magistrate have been substantially enhanced.
A detailed account of these legal reforms and the expanded authority of Magistrates is as follows:
1. Enhanced Powers of the Magistrate
Previously, a complainant seeking registration of an FIR had to approach the Sessions Judge acting as Justice of Peace under Sections 22-A and 22-B CrPC, which was often a time-consuming process. Under the new amendments:
Direct Intervention:
The Magistrate is no longer confined to the role of remand proceedings. In cases where the police delay or refuse to register an FIR, the aggrieved person may directly approach the Magistrate under Sections 156(3) and 190 CrPC.
Order for Registration of FIR:
The Magistrate now possesses explicit authority to direct the police to register an FIR forthwith and submit a compliance report along with a copy of the FIR before the Court.
Accountability of Police:
If the police fail to comply within 24 hours, the Magistrate may summon the Station House Officer (SHO) and initiate proceedings for departmental action by referring the matter to superior authorities.
2. Key Amendments (2024–25)
The overarching objective of these reforms is to ensure “justice at the doorstep.” The salient features include:
(a) Digital FIR System and Timelines
All complaints are now digitally recorded.
If the police fail to take a decision within 24 hours (either to register or reject the FIR), the system automatically flags the complaint as “pending,” requiring explanation from the District Police Officer (DPO).
(b) Zero FIR
A police station cannot refuse to register an FIR on the ground of lack of territorial jurisdiction.
It must register a “Zero FIR” and subsequently transfer the case to the appropriate jurisdiction.
(c) Penal Consequences for Police Officers (Section 166-A PPC)
A police officer who deliberately refuses or delays the registration of an FIR may be subjected to criminal liability, including imprisonment and fine.
The Magistrate is empowered to initiate such proceedings.
3. Procedure for Registration of FIR (Step-by-Step)
In case of refusal or delay in registration:
First Step:
Submit a written application at the police station and obtain a diary number (tag number), or file a complaint online via the Punjab Police App or service centers.
Second Step:
If no action is taken within 24 hours, approach the Sub-Divisional Police Officer (SDPO/DSP) or the District Police Officer (DPO).
Third Step (Judicial Remedy):
If the police still fail to act, file an application before the Area Magistrate through counsel. The Magistrate may call for the record and, upon satisfaction, direct registration of the FIR.
4. Amendment to Section 154 CrPC (Digital and Automated FIR Registration)
Online Reporting:
Citizens may now lodge complaints through online portals or designated applications. If the information discloses a cognizable offence, the system is obligated to ensure automatic registration.
Time-Bound Action:
Police officers cannot delay registration arbitrarily. Any refusal is recorded as a “default” in the system, triggering accountability at higher levels.
5. Expanded Jurisdiction under Sections 190 and 156 CrPC
Direct Orders by Magistrate:
The complainant may directly approach the Magistrate for redress. The Magistrate may order immediate registration of the FIR and submission of a report.
Supervisory Role:
The Magistrate may also oversee the quality of investigation and recommend disciplinary action in cases of delay or misconduct.
6. Zero FIR (Reiterated Legal Position)
Even where the offence falls outside territorial jurisdiction, the concerned police station is legally bound to register a Zero FIR. Refusal to do so constitutes misconduct and may attract penal consequences.
7. Objectives of the 2025 Amendments
Elimination of Police Discretion:
The police can no longer insist on preliminary inquiry before registering an FIR in cognizable offences.
Empowerment of Magistracy:
Relief is made accessible at the level of the Area Magistrate instead of higher courts.
Use of Technology:
Computerized systems ensure transparency and minimize human interference.
8. Timelines for FIR Registration
Immediate Registration:
In cognizable offences (e.g., murder, robbery, kidnapping, r**e), FIR must be registered without delay and without preliminary inquiry.
24-Hour Rule:
In cases requiring preliminary verification (e.g., civil disputes), the police must decide within 24 hours whether to register or reject the complaint.
Compliance with Magistrate’s Order:
Upon direction by the Magistrate under Sections 154/156 CrPC, the police must comply within 24–48 hours and submit a report.
Priority Cases:
Offences involving women and children must be acted upon within 1–2 hours to preserve evidence.
9. Consequences of Non-Compliance
Digital Monitoring:
Delays trigger automatic alerts to senior officers through internal dashboards.
Criminal Liability (Section 166-A PPC):
Deliberate non-registration may result in prosecution, including imprisonment and fine.
Legal Note:
These amendments are presently being implemented at the provincial level in Punjab through the Punjab Criminal Law (Amendment) Ordinance/Act, aimed at expediting the criminal justice system at the grassroots level.

05/05/2026

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور علاقہ مجسٹریٹ کو پہلے سے زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے۔
نیچے ان نئی قانونی تبدیلیوں اور مجسٹریٹ کے اختیارات کی تفصیل دی گئی ہے:
1. مجسٹریٹ کے اختیارات میں نئی تبدیلیاں (Power of Magistrate)
پہلے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے شہریوں کو دفعہ 22-A/22-B کے تحت سیشن جج (جسٹس آف پیس) کے پاس جانا پڑتا تھا، جو کہ ایک طویل عمل تھا۔ اب نئی ترامیم کے تحت:
• براہِ راست مداخلت (Direct Intervention): مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے والا جج نہیں رہا۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے، تو سائل سیکشن 156(3) اور سیکشن 190 کے تحت مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔
• حکمِ اندراجِ مقدمہ: مجسٹریٹ کے پاس اب یہ واضح اختیار ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے اس کی نقل عدالت میں پیش کی جائے۔
• پولیس کی جواب طلبی: اگر پولیس 24 گھنٹے کی ٹائم لائن کے اندر اندراج نہیں کرتی، تو مجسٹریٹ متعلقہ ایس ایچ او (SHO) کو طلب کر کے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو لکھ سکتا ہے۔
2. نئے قانون کی اہم ترامیم (2024-25)
نئے سسٹم کا مقصد "انصاف آپ کی دہلیز پر" کے تصور کو حقیقت بنانا ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
الف) ڈیجیٹل ایف آئی آر اور ٹائم لائن
• اب ہر درخواست کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کرتی (یعنی پرچہ درج کرنا یا خارج کرنا)، تو سسٹم میں وہ درخواست خود بخود "Pending" ظاہر ہوتی ہے جس کا جواب ڈی پی او (DPO) کو دینا پڑتا ہے۔
ب) زیرو ایف آئی آر (Zero FIR)
• نئی ترمیم کے تحت کوئی بھی تھانہ یہ کہہ کر درخواست مسترد نہیں کر سکتا کہ "یہ علاقہ ہمارے پاس نہیں آتا"۔ انہیں پرچہ درج کرنا ہوگا (جسے زیرو ایف آئی آر کہتے ہیں) اور پھر اسے متعلقہ تھانے منتقل کرنا ہوگا۔
ج) پولیس افسر کے خلاف سزا (Section 166-A PPC)
• اگر کوئی پولیس افسر جان بوجھ کر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے یا تاخیر کرے، تو اسے تعزیراتِ پاکستان کے تحت قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ اس کارروائی کا آغاز کروا سکتا ہے۔
3. ایف آئی آر درج کروانے کا نیا طریقہ کار (Step-by-Step)
اگر آپ کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا، تو آپ ان مراحل سے گزر سکتے ہیں:
1. پہلا مرحلہ: تھانے میں تحریری درخواست دیں اور ڈائری نمبر (Tag Number) حاصل کریں۔ یا پنجاب پولیس کی ایپ/خدمت مرکز پر آن لائن اپلائی کریں۔
2. دوسرا مرحلہ: اگر 24 گھنٹے میں پرچہ درج نہ ہو، تو ایک درخواست ایس ڈی پی او (SDPO/DSP) یا ڈی پی او (DPO) کو دیں۔
3. تیسرا مرحلہ (عدالتی راستہ): اگر پولیس پھر بھی کارروائی نہ کرے، تو اپنے وکیل کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دیں۔ مجسٹریٹ ریکارڈ طلب کرے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پولیس کو پرچہ درج کرنے کا حکم جاری کرے گا۔

1. سیکشن 154 میں ترمیم (FIR کا ڈیجیٹل اور خودکار اندراج)
نئی ترمیم کے بعد اب ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا طریقہ کار صرف تھانیدار کی مرضی پر منحصر نہیں رہا:
• آن لائن اندراج: اب کوئی بھی شہری آن لائن پورٹل یا مخصوص ایپ کے ذریعے اطلاع دے سکتا ہے۔ اگر اطلاع قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی ہے، تو سسٹم اسے خودکار طریقے سے رجسٹر کرنے کا پابند ہے۔
• وقت کی پابندی: پولیس افسر اب ایف آئی آر درج کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہیں کر سکتا۔ اگر وہ انکار کرے تو سسٹم میں اس کا اندراج "ڈیفالٹ" کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جس کی جوابدہی اعلیٰ افسران کو کرنی پڑتی ہے۔
2. مجسٹریٹ کے اختیارات (سیکشن 190 اور 156 میں اضافہ)
2025 کی ترامیم میں مجسٹریٹ کو تھانے کے معاملات پر زیادہ کنٹرول دیا گیا ہے تاکہ 22-A اور 22-B کے بوجھ کو کم کیا جا سکے:
• براہِ راست حکمِ اندراج: اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو سائل براہِ راست متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔ مجسٹریٹ کو اب یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے (پہلے یہ اختیار زیادہ تر سیشن جج کے پاس 22-A کے تحت تھا)۔
• مداخلت کا اختیار: مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے تک محدود نہیں، بلکہ وہ تفتیش کے معیار اور ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر پر پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
3. زیرو ایف آئی آر (Zero FIR) کا تصور
نئی ترمیم میں یہ قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی جرم کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ہوا ہے، تب بھی متعلقہ تھانہ اطلاع ملنے پر "زیرو ایف آئی آر" درج کرنے کا پابند ہے۔ بعد میں اسے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا جائے گا، لیکن اندراج سے انکار جرم تصور ہوگا۔
خلاصہ: 2025 کی ترامیم کا مقصد
1. پولیس کی صوابدید کا خاتمہ: پولیس اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ "پہلے انکوائری ہوگی پھر پرچہ ہوگا"۔ اگر جرم ہوا ہے تو پرچہ فوری درج کرنا لازمی ہے۔
2. مجسٹریٹ کی بااختیاری: عوام کو ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ جانے کے بجائے مقامی مجسٹریٹ سے فوری ریلیف دلوانا۔
3. ٹیکنالوجی کا استعمال: انسانی مداخلت کم کر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے اندراج کو یقینی بنانا۔
قانونی نکتہ: یہ ترامیم فی الحال پنجاب کی سطح پر "پنجاب کرمنل لا (ترمیمی) آرڈیننس/ایکٹ" کے ذریعے نافذ العمل کی جا رہی ہیں تاکہ نظامِ انصاف کو نچلی سطح پر تیز کیا جا سکے۔

1. فوری اندراج (Instant Registration)
• قابلِ دست اندازی جرائم (Cognizable Offenses): اگر جرم کی اطلاع واضح ہے اور وہ سنگین نوعیت کا ہے (جیسے ڈکیتی، قتل، اغوا یا زیادتی)، تو پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ اس میں کسی قسم کی "ابتدائی انکوائری" کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔
2. 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن (The 24-Hour Rule)
• اگر اطلاع ملنے پر پولیس کو جرم کی نوعیت کے حوالے سے شک ہو یا معاملہ مالی لین دین (Civil nature) جیسا لگے، تو وہ ابتدائی تصدیق کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی اب وقت مقرر ہے:
• زیادہ سے زیادہ وقت: اطلاع ملنے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر پولیس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پرچہ درج کرنا ہے یا اسے خارج کرنا ہے۔
• آن لائن درخواست: اگر درخواست "پنجاب پولیس ایپ" یا "خدمت مرکز" کے ذریعے دی گئی ہے، تو سسٹم خودکار طریقے سے وقت کا حساب رکھتا ہے (Time Stamping)۔
3. مجسٹریٹ کا حکم اور ٹائم لائن
• سیکشن 154 اور 156 کے تحت: اگر سائل مجسٹریٹ کے پاس جائے اور مجسٹریٹ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے (Direction for FIR)، تو پولیس کو عام طور پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر کمپلائنس رپورٹ عدالت میں جمع کروانی ہوتی ہے۔
4. حساس جرائم کے لیے ترجیحی وقت
• خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم: ایسے مقدمات میں ٹائم لائنز مزید سخت ہیں۔ آئی جی پنجاب کی حالیہ ہدایات اور ترامیم کے مطابق، ایسے واقعات کی اطلاع ملتے ہی 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر اندراج کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میڈیکل یا دیگر شواہد ضائع نہ ہوں۔
اگر پولیس ٹائم لائن کی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوگا؟
نئی ترامیم کے تحت اگر تھانہ مقررہ وقت میں پرچہ درج نہیں کرتا تو:
1. ڈیجیٹل الرٹ: پولیس کا انٹرنل مانیٹرنگ سسٹم (Dashboard) متعلقہ ڈی پی او (DPO) کو الرٹ بھیج دیتا ہے کہ درخواست "Pendency" میں چلی گئی ہے۔
2. سیکشن 166-A (PPC): اگر پولیس افسر جان بوجھ کر قانونی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج نہیں کرتا، تو اس کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں قید اور جرمانہ شامل ہے۔

05/05/2026

یہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ہے جو جسٹس محمد جواد ظفر نے کرمنل ریویژن نمبر 59293/2025 میں سنایا۔ اس فیصلے کے اہم نکات اردو میں درج ذیل ہیں:

​1. کیس کا پس منظر
​یہ کیس ایف آئی آر نمبر 503/2012 (تھانہ ساؤتھ کینٹ، لاہور) سے متعلق ہے، جو قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت درج تھی۔
​ملزم (محمد اکرم) نے ٹرائل کورٹ کے تین مختلف احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جن میں گواہ کو دوبارہ بلانے اور ملزم کا بیان دوبارہ ریکارڈ کرنے جیسے معاملات شامل تھے۔

​2. گواہ کو دوبارہ بلانا اور ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت
​جوہری نکتہ: استغاثہ نے ایک مجسٹریٹ (جہاں زیب عطا) کو بطور گواہ بلایا جنہوں نے ملزم کی شناختی پریڈ کروائی تھی۔ چونکہ وہ آسٹریلیا میں تھے، اس لیے ان کی شہادت اسکائپ (Skype) کے ذریعے ریکارڈ کی گئی۔
​عدالت کا فیصلہ: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ انصاف کے حصول کے لیے ٹرائل کورٹ کسی بھی وقت کسی ضروری گواہ کو بلا سکتی ہے (دفعہ 540 Cr.P.C)۔ ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت ریکارڈ کرنا قانونی ہے، خاص طور پر جب دفاعی کونسل نے اس وقت اعتراض نہ کیا ہو۔

​3. دستاویز کو ریکارڈ سے ہٹانا (De-exhibiting Documents)
​ملزم کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ شناختی پریڈ کی دستاویز کو ریکارڈ سے خارج کر دیا جائے کیونکہ وہ تصدیق شدہ نقل نہیں تھی۔
​عدالت کا فیصلہ: عدالت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور کہا کہ ایک بار جب متعلقہ گواہ نے خود پیش ہو کر دستاویز کی تصدیق کر دی ہو، تو اسے محض تکنیکی بنیادوں پر ریکارڈ سے نہیں نکالا جا سکتا۔ اس کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹ حتمی فیصلے میں کرے گی۔

​4. ملزم کا دوبارہ بیان (Section 342 Cr.P.C)
​ملزم کا موقف تھا کہ ایک بار دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ ہو جائے تو دوبارہ ریکارڈ نہیں ہو سکتا۔
​عدالت کا فیصلہ: عدالت نے اس موقف کو غلط قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ٹرائل کے دوران کوئی نئی شہادت سامنے آتی ہے، تو یہ ملزم کا حق ہے (اور عدالت کی ذمہ داری ہے) کہ وہ اس نئی شہادت پر ملزم کا دوبارہ بیان لے تاکہ اسے صفائی کا پورا موقع ملے۔

​5. عدالت کا اختیار (دفعہ 540)
​عدالت نے زور دیا کہ کرمنل جسٹس سسٹم کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ سچائی تک پہنچنا ہے۔
​جج نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس وسیع اختیارات ہیں کہ وہ انصاف کی فراہمی کے لیے کسی بھی مرحلے پر کسی بھی شخص کو بطور گواہ طلب کر سکتی ہے، چاہے وہ پہلے لسٹ میں شامل ہو یا نہ ہو۔l
​حتمی نتیجہ
​لاہور ہائی کورٹ نے ملزم (محمد اکرم) کی تمام درخواستیں خارج کر دیں اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے احکامات میں کوئی غیر قانونی پہلو یا دائرہ اختیار کی غلطی موجود نہیں ہے۔
​درخواست خارج (Dismissed) کر دی گئی۔

Address

Near Post Office District Courts Rawalpindi
Rawalpindi

Telephone

+923478222337

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch. Ejaz Khatana Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ch. Ejaz Khatana Advocate:

Share