Sardar Jawad Tariq

Sardar Jawad Tariq Wanderer !!!

موسمِ گُل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنیہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں ۔احمد مشتاق
04/11/2023

موسمِ گُل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی
ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں ۔

احمد مشتاق

کشمیر کا دل راولاکوٹ 🤍
05/09/2023

کشمیر کا دل راولاکوٹ 🤍

Full moon 🌔🫶🏻
31/08/2023

Full moon 🌔🫶🏻

29/08/2023

Amid Secterian Chaos in Gilgit baltistan people are demanding for the natural routes of Jammu Kashmir to be built again.
"Chalo Chalo Kargil Chalo"

فرقہ ورانہ فسادات کے ماحول کے بعد گلگت بلتستان کی عوام میں جموں کشمیر کے قدرتی راستے دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
"چلو چلو کارگل چلو"

Usama Mumtaz

29/08/2023

بھارتی وزیر داخلہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جموں کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی عارضی ہے، ریاستی تشخص دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے آرٹیکل 370 اور 35اے کی بحالی کا ٹائم فریم مانگ لیا۔

راولاکوٹ سے شروع ھونے والی سول نافرمانی کی تحریک نے نیا موڑ لے لیا ۔اپنے کھمبے اور ٹرانسفارمر 42 سالوں کا کرایہ اداء کر ...
28/08/2023

راولاکوٹ سے شروع ھونے والی سول نافرمانی کی تحریک نے نیا موڑ لے لیا ۔اپنے کھمبے اور ٹرانسفارمر 42 سالوں کا کرایہ اداء کر کے ایک ماہ میں اوکھاڑ کے لے جاؤ ۔دریک گاؤں کے جرگہ کے نمائندہ وفد نے ایکسیین برقیات کو درخواست دے دی۔

#راولاکوٹ

Rawalakot Stadium ❤️
27/08/2023

Rawalakot Stadium ❤️

دشمن تری تصویر سے مقتول رہے گامقبول تو ہر دور میں مقبول رہے گامحمد اسلم رضا
26/08/2023

دشمن تری تصویر سے مقتول رہے گا
مقبول تو ہر دور میں مقبول رہے گا
محمد اسلم رضا

Kel Azad Kashmir 🍁
30/07/2023

Kel Azad Kashmir 🍁

24/07/2023

آئینی عدالتوں یعنی ہائ کورٹس کی عائلی (فیملی) مقدمات میں اپیل کا حق استعمال کرنے کے بعد آرٹیکل 199 کے تحت جوریسڈیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

اسما نام کی ایک مدعیہ نے حماد حسن نامی مدعا علیہ کے ساتھ دو ہزار چودہ میں شادی کی جس کے نتیجے میں دو ہزار پندرہ میں ان کے ہاں ایک بچے یعنی محمد عمر کی ولادت ہوئ۔ دو ہزار پندرہ میں مدعیہ یعنی اسما نے مدعا علیہ یعنی اپنے شوہر کے خلاف کوہاٹ کی مقامی فیملی کورٹ میں حق مہر ، نان نفقے اور سامان جہیز کی حوالگی کے لئے کیس کیا جس پر دو ہزار اٹھارہ میں فیملی کورٹ نے مدعیہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مدعا علیہ یعنی شوہر کو پابند کیا کہ وہ مدعیہ کو تین لاکھ روپے ، گھر میں آدھا حصہ اور پانچ مرلے زمین اور دو ہزار چودہ سے نان نفقہ دینے کے علاؤہ محمد عمر یعنی بیٹے کو بھی سالانہ دس فیصد اضافے کے ساتھ نان نفقہ دینے کا فیصلہ کیا جس پر مدعا علیہ یعنی شوہر نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر ڈسٹرکٹ جج نے مدعا علیہ کے اپیل کو خارج کرتے ہوئے الٹا نان نفقہ میں سالانہ اضافہ دس کی بجائے بیس فیصد کر دیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف شوہر نے ہائ کورٹ میں ٹرائل کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلوں میں مس ریڈنگ اور نان ریڈنگ کی بنیاد پر آئینی درخواست یعنی رٹ پٹیشن جمع کی جس پر ہائ کورٹ نے باوجود اس کے کہ شوہر کی جانب حقائق پر سوال اٹھائے گئے تھے ، کیس کو نہ صرف سنا بلکہ حقائق پر فیصلہ بھی دیا لیکن مختصرا یہ کہ ہائ کورٹ نے بھی حقائق پر فیصلہ دیتے ہوئے کیس کو خارج کر دیا جس کے بعد ہائ کورٹ کے فیصلے کے خلاف حماد حسن یعنی شوہر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور یوں اس کیس کی ابتداء سپریم کورٹ میں ہوئ۔

سپریم کورٹ کے سامنے مختصرا سوال ہائ کورٹ کی جانب سے آئینی درخواست میں کیس میں حقائق کے حوالے سے فائنڈنگ دینے کا تھا یعنی کہ کیا ہائ کورٹ کسی آئینی درخواست میں حقائق کی بنیاد پر فائنڈنگ دے سکتی ہے یا نہیں ؟

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز ہائ کورٹس کو آئینی درخواستوں میں حاصل جوریسڈیکشن سے کیا ہے اور اس بابت مختلف کیس لاز کا سہارا لے کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہائ کورٹ کو حاصل جوریسڈیکشن کا استعمال اپیل یا رویژن کے متبادل کے طور پر نہیں کیا جا سکتا یعنی ہائ کورٹ شہادت کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتی اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ بھی نہیں دے سکتی کیونکہ ہائ کورٹس کی مداخلت صرف استثنائ صورتوں میں ہے۔

مندرجہ بالا اصولوں کے تعین کے بعد سپریم کورٹ موجودہ کیس کی طرف واپس آئ ہے اور یہ بات صراحت کے ساتھ کی ہے کہ چونکہ اس کیس میں بھی بنیادی سوال ٹرائل کورٹ کی حقائق کی بنیاد پر حق مہر اور نان نفقہ کی تعین پر تھا لیکن ہائ کورٹ نے غلطی سے نہ صرف اس کیس کو سنا بلکہ حقائق کے حوالے سے فیصلہ بھی دیا جو کہ یقیناً ہائ کورٹس کی جوریسڈیکشن سے باہر ہے اور ہائ کورٹ کا فیصلہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہو جو کہ ہائ کورٹ کے پاس نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس کے بعد آئین پاکستان کے آرٹیکل ایک سو ننانوے پر ایک خوبصورت بحث کی ہے کہ اس آرٹیکل کے تحت ہائ کورٹ کو کونسے اختیارات حاصل ہیں اور کونسے نہیں ہیں اور یہ بات دوبارہ لکھی ہے کہ ہائ کورٹ ٹرائل کورٹ کی جانب سے حقائق کے تعین کے بعد اس کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتی ۔

سپریم کورٹ نے اس کے بعد اپیل کے حق پر ایک خوبصورت بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ اپیل کا حق قانونی حق ہے یعنی اگر کسی قانون میں اپیل کا حق ہو تو تب ہی آپ اپیل کا حق استعمال کر سکتے ہیں اور اگر اپیل کا حق ایک قانون میں نہیں ہے تو آپ کو اپیل کا حق حاصل نہیں ہے اور چونکہ عائلی قوانین میں صرف ایک ہی اپیل کا حق ہے تو اس لئے ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا اور ہائ کورٹ کے پاس اس بات کا کوئ حق نہیں کہ وہ آئینی درخواستوں کی صورت میں فریقین کو دوسرے اپیل کا حق دیں اور وہ بھی بالخصوص فیملی کیسز میں جس میں دوسرے اپیل کا حق نہ دے کر مقننہ کی نیت بڑی واضح ہے کہ کیسز کو طول نہ دی جا سکے اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کو حتمی تصور کرنا نہایت ہی ضروری اس وجہ سے ہے کہ مقدمات بروقت ختم ہوسکیں۔ مندرجہ بالا باتوں کے تعین کے بعد سپریم کورٹ نے حماد حسن یعنی شوہر کی لیو ٹو اپیل کی درخواست خارج کردی۔

This important Judgment is Authored By Justice Ayesha Malik and Can be searched and found by C.P.1418/2023.

11/07/2023

Difficult roads lead to beautiful destinations ❤️

Wanderer !!!

Two Legends In One Frame 🖤
20/11/2022

Two Legends In One Frame 🖤

Address

Rawalakot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sardar Jawad Tariq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share