Al Rahman LAW Associats

Al Rahman LAW Associats free legal assistance for poors.....

این سی سی آئی اے کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں کر سکتی۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ:-محمد عزیر انور وغیرہ بنام وفاقِ ...
25/08/2026

این سی سی آئی اے کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
محمد عزیر انور وغیرہ بنام وفاقِ پاکستان وغیرہ
I.C.A. No. 362 of 2025 بمعہ متصل اپیلیں Nos. 359، 360 اور 361 of 2025
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
فیصلہ: 28 اکتوبر 2025ء
فاضل ججز: جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس

اہم قانونی نکات:-
انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ، 2016ء — دفعہ 29 — ایف آئی اے ایکٹ، 1974ء — دفعہ 5 — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) — دائرۂ اختیار — بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو 2025ء کی ترمیم کے ذریعے Prevention of Electronic Crimes Act, 2016 کی دفعہ 29 کے تحت ایک آزاد تحقیقاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ لہٰذا NCCIA اب وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) کا ماتحت شعبہ نہیں رہی اور اسے FIA ایکٹ 1974ء کی دفعہ 5(5) کے تحت حاصل اختیارات ازخود حاصل نہیں ہیں۔ NCCIA اپنے اختیارات صرف PECA 2016ء سے حاصل کرتی ہے اور وہی اختیارات استعمال کرسکتی ہے جو پارلیمنٹ نے اسے قانون کے ذریعے تفویض کیے ہوں۔

بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار:-
عدالت نے واضح کیا کہ PECA 2016ء میں NCCIA کو زیرِ تفتیش شہریوں کے بینک اکاؤنٹس یا دیگر املاک منجمد کرنے کا کوئی صریح اختیار نہیں دیا گیا۔

NCCIA نے National Cyber Crime Investigation Agency (Function) Rules, 2025 کے Rule 5 کی بنیاد پر یہ اختیار استعمال کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت قانون سازی (subordinate legislation) اپنے بنیادی قانون (parent statute) سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور ایسا کوئی نیا substantive اختیار پیدا نہیں کرسکتی جو پارلیمنٹ نے اصل قانون میں نہیں دیا۔ لہٰذا Rule 5 بادی النظر میں PECA 2016ء کے تحت تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔

Anti-Money Laundering Act کا طریقۂ کار
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر NCCIA کی رائے میں کسی شہری کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم proceeds of crime یا منی لانڈرنگ سے متعلق ہے تو اسے Anti-Money Laundering Act, 2010ء کے تحت مقررہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔
ایسی صورت میں قانون کے مطابق متعلقہ عدالت سے حکم حاصل کرنا ضروری ہے؛ NCCIA براہِ راست بینکوں کو اکاؤنٹس منجمد کرنے کی ہدایت دے کر اس قانونی طریقۂ کار کو bypass نہیں کرسکتی۔

آئینی حقوق اور متناسب کارروائی:-
عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ کارروائی محض NCCIA کی اپنی source report کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی، جس میں مبینہ جرائم میں ہر اپیل کنندہ کے کردار کو الگ الگ واضح نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق ضروری تھا کہ پہلے تفصیلی انکوائری کی جاتی، متعلقہ افراد کو الزامات سے آگاہ کیا جاتا اور انہیں قانونی عمل میں شامل کیا جاتا۔ اس کے بجائے جلد بازی میں بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے ان کے حقِ ملکیت، ذریعۂ معاش اور زندگی پر اثر پڑ سکتا تھا۔
بالخصوص خاندان کے ان افراد کے اکاؤنٹس یا مالی حقوق کو متاثر کرنا جن کے خلاف کوئی مخصوص الزام موجود نہیں تھا، عدالت نے غیر متناسب، سخت اور غیر معقول اقدام قرار دیا۔

فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے:-
1. Intra Court Appeals منظور کرلیں؛
2. سنگل بینچ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا؛
3. NCCIA کی جانب سے اپیل کنندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کارروائی ختم کردی؛
4. متعلقہ اداروں کو اکاؤنٹس فوری طور پر unfreeze/unblock کرنے کی ہدایت کی؛ اور
5. NCCIA کو ہدایت کی کہ وہ انکوائری قانون کے عین مطابق جاری رکھے۔

Ratio Decidendi — بنیادی قانونی اصول
NCCIA محض ماتحت قانون سازی یا قواعد کے ذریعے ایسا substantive اختیار حاصل نہیں کرسکتی جو PECA 2016ء میں پارلیمنٹ نے اسے صراحتاً نہیں دیا۔

مزید برآں، ماتحت قانون سازی بنیادی قانون سے تجاوز نہیں کرسکتی اور کسی سرکاری ادارے کو ایسا اختیار نہیں دے سکتی جو اصل قانون میں موجود ہی نہ ہو۔ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسی کارروائی کے لیے واضح قانونی اختیار، مقررہ قانونی طریقۂ کار اور آئینی تقاضوں، بالخصوص قانونی جواز، تناسب اور منصفانہ طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔۔

ریونیو اتھارٹی سول کورٹ کی ڈگری کے خلاف اپیل نہیں بن سکتی!ریونیو اتھارٹی کے اختیار کی واضح حدپنجاب بورڈ آف ریونیو نے قرا...
20/08/2026

ریونیو اتھارٹی سول کورٹ کی ڈگری کے خلاف اپیل نہیں بن سکتی!

ریونیو اتھارٹی کے اختیار کی واضح حد

پنجاب بورڈ آف ریونیو نے قرار دیا کہ ریونیو حکام سول کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ڈگری یا فیصلے کو ریویو، تبدیل یا ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اگر کسی انتقال کی بنیاد سول کورٹ کی ڈگری ہو تو ریونیو حکام کا بنیادی کام اس ڈگری کو ریونیو ریکارڈ میں نافذ کرنا ہے، نہ کہ اس کی قانونی صحت یا درستگی پر دوبارہ فیصلہ کرنا۔

سول کورٹ کے فیصلے کا احترام لازم

اگر کسی شخص کا حقِ ملکیت یا دیگر سول حق پہلے ہی مجاز سول کورٹ کی ڈگری سے طے ہو چکا ہو تو ریونیو فورم اس فیصلے کے خلاف اپیل یا نظرثانی کی عدالت کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔ ریونیو ریکارڈ کی درستی اور سول حقوق کے حتمی تعین کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

پیچیدہ ملکیتی تنازعات سول کورٹ کا اختیار

عدالت نے واضح کیا کہ ملکیت، فراڈ، جنرل پاور آف اٹارنی، ڈگری کے نفاذ اور پیچیدہ سول حقوق سے متعلق بنیادی تنازعات کا فیصلہ ریونیو فورم کے بجائے مجاز سول کورٹ ہی کر سکتی ہے۔ ریونیو افسر محض ریونیو اندراج کی حد تک کارروائی کر سکتے ہیں اور واضح، بادی النظر غیر قانونی یا بے قاعدہ اندراج کی صورت میں قانونی دائرۂ اختیار کے اندر اصلاح کر سکتے ہیں۔

دس سال کی خاموشی اور اصولِ استاپل

فیصلے میں ایک اہم اصول یہ بھی سامنے آیا کہ اگر فریقین کسی ریونیو اندراج یا معاملے کے بارے میں دس سال سے زائد عرصے تک خاموش رہیں اور بروقت مناسب قانونی فورم سے رجوع نہ کریں تو بعد میں اس پر اعتراض Acquiescence اور Estoppel کے اصولوں سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ہر حق کا دعویٰ غیر معینہ مدت تک خاموش رہنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔

اہم قانونی اصول

“Revenue Authorities cannot sit in appeal over a Civil Court decree.”

یعنی ریونیو اتھارٹی سول کورٹ کی ڈگری کے اوپر اپیل یا نظرثانی کا اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔

نتیجہ

بورڈ آف ریونیو نے Review Petition منظور کرتے ہوئے سابقہ ریونیو حکم کو ختم کر دیا اور واضح کیا کہ اگر کسی فریق کو ملکیت، فراڈ، ڈگری یا کسی بنیادی سول حق سے متعلق شکایت ہے تو اسے مجاز سول کورٹ سے مناسب قانونی ریلیف حاصل کرنا . khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

دھوکے سے حاصل کیا گیا بے دخلی کا حکم برقرار نہیں رہ سکتا، قبضہ مل جانے کے بعد بھی عدالت حکم واپس لے سکتی ہےلاہور ہائی کو...
16/08/2026

دھوکے سے حاصل کیا گیا بے دخلی کا حکم برقرار نہیں رہ سکتا، قبضہ مل جانے کے بعد بھی عدالت حکم واپس لے سکتی ہے
لاہور ہائی کورٹ، بہاولپور بنچ — رِٹ پٹیشن نمبر 4596/2026/BWP
محمد محبوب بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ
فیصلہ: 6 اگست 2026
مقدمے کا مکمل خلاصہ
یہ مقدمہ ایک 18 مرلہ جائیداد کی بے دخلی سے متعلق تھا۔ درخواست گزار اور دوسرے افراد نے ایک شخص کے خلاف کرایہ داری کی بنیاد پر بے دخلی کی درخواست دائر کی۔ مؤقف تھا کہ کرایہ دار نے 5,000 روپے ماہانہ کرایہ پر جگہ حاصل کی، لیکن کرایہ ادا نہیں کیا اور قبضہ واپس نہیں کیا۔ کرایہ دار عدالت میں پیش نہیں ہوا، اس لیے مقدمہ یک طرفہ چلایا گیا اور 31 جنوری 2024 کو بے دخلی کا حتمی حکم جاری ہوگیا۔ بعد میں اس حکم پر عمل درآمد بھی ہوا اور جائیداد کا قبضہ درخواست گزاروں کو دے دیا گیا۔

اصل تنازعہ کہاں سے شروع ہوا؟
بعد میں جواب دہندہ نمبر 3 سامنے آیا اور اس نے مؤقف اختیار کیا کہ جس جائیداد کا قبضہ بے دخلی کے حکم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے، وہ درخواست گزاروں کی ملکیت نہیں بلکہ اس کے حق اور قبضے سے متعلق جائیداد ہے۔
اس نے الزام لگایا کہ جائیداد کی شناخت، ملکیت اور تفصیل کے بارے میں غلط بیانی کی گئی اور اہم حقائق چھپائے گئے۔
اسی بنیاد پر اس نے دفعہ 12(2) ضابطۂ دیوانی کے تحت درخواست دائر کی۔

مقامی کمیشن اور زمین کی پیمائش
فریقین کی رضامندی سے عدالت نے جائیداد کی اصل شناخت اور حد بندی معلوم کرنے کے لیے مقامی کمیشن مقرر کیا۔
تحصیلدار صدر بہاولپور کو کمیشن مقرر کیا گیا اور فریقین کی رضامندی سے جی پی ایس ماہر کی مدد سے موقع پر پیمائش کرائی گئی اور نقشہ تیار کیا گیا۔

کمیشن کی رپورٹ میں اہم بات سامنے آئی کہ موقع پر موجود جائیداد تقریباً 13.4 مرلہ تھی، جبکہ بے دخلی کی کارروائی میں جائیداد 18 مرلہ ظاہر کی گئی تھی۔
کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ موقع پر موجود زمین درخواست گزاروں کی ملکیت میں اس طرح شامل نہیں تھی جس طرح انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔ رپورٹ میں زمین کو متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور موقع کی پیمائش سے جوڑا گیا۔

کمیشن کی رپورٹ پر اعتراض
درخواست گزاروں نے کمیشن کی رپورٹ کے خلاف اعتراضات کیے، لیکن کرایہ کنٹرولر نے 11 ستمبر 2025 کو ان اعتراضات کو مسترد کر دیا۔
اس حکم کو الگ سے چیلنج نہیں کیا گیا، اس لیے کمیشن کی رپورٹ سے متعلق نتائج حتمی حیثیت اختیار کر گئے۔

کرایہ کنٹرولر نے کیا فیصلہ دیا؟
کرایہ کنٹرولر نے دفعہ 12(2) کی درخواست منظور کرتے ہوئے:
31 جنوری 2024 کا بے دخلی کا حکم ختم کردیا۔
بے دخلی کی کارروائی بحال کردی۔
درخواست گزاروں کو ہدایت دی کہ جواب دہندہ نمبر 3 کو فریق بنا کر درخواست میں ضروری ترمیم کریں۔
بعد میں نظرثانی عدالت نے بھی کرایہ کنٹرولر کا حکم برقرار رکھا۔

ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی قانونی سوال
ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ:
اگر پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کے تحت کارروائی میں ضابطۂ دیوانی کا عمومی اطلاق خارج ہے، تو کیا کرایہ کنٹرولر دھوکے، غلط بیانی یا اہم حقائق چھپا کر حاصل کیا گیا بے دخلی کا حکم واپس لے سکتا ہے؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہاں، ایسا اختیار موجود ہے۔

اہم سنہری قانونی اصول
1۔ دھوکے سے حاصل کیا گیا عدالتی حکم برقرار نہیں رہ سکتا
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے Chief Settlement Commissioner v. Raja Muhammad Fazil Khan, PLD 1975 SC 331 پر انحصار کیا۔
اصول یہ ہے کہ اگر کوئی حکم عدالت کے ساتھ دھوکہ کرکے حاصل کیا گیا ہو تو عدالت یا متعلقہ ٹریبونل اس حکم کو واپس لینے کا اختیار رکھتا ہے۔ کوئی شخص اپنے دھوکے سے حاصل کیا گیا فائدہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔

2۔ کرایہ کنٹرولر بھی ایسا حکم واپس لے سکتا ہے
سپریم کورٹ کے Mst. Fehmida Begum v. Muhammad Khalid, 1992 SCMR 1908 کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ محدود اختیار رکھنے والا کرایہ ٹریبونل بھی دھوکے یا غلط بیانی سے حاصل کیا گیا حکم واپس لے سکتا ہے۔

3۔ پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ میں ضابطۂ دیوانی کا اخراج مکمل رکاوٹ نہیں
عدالت نے پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کی دفعات 26، 31 اور 34 کو باہم ملا کر پڑھا۔
خاص طور پر دفعہ 31 کے تحت کرایہ کنٹرولر کو بعض مقاصد کے لیے دیوانی عدالت کے اختیارات حاصل ہیں۔ اس لیے دفعہ 34 میں ضابطۂ دیوانی کے عمومی اخراج کو ایسا نہیں سمجھا جا سکتا کہ دھوکے سے حاصل کیے گئے حکم کو کبھی واپس ہی نہ لیا جا سکے۔

4۔ دفعہ 12(2) اپیل یا نظرثانی کا متبادل نہیں
یہ نہایت اہم اصول ہے۔
اگر کسی شخص کو صرف یہ شکایت ہو کہ عدالت نے مقدمے کا فیصلہ غلط کیا ہے تو دفعہ 12(2) استعمال نہیں کی جا سکتی۔
دفعہ 12(2) اس وقت متعلقہ ہوتی ہے جب حکم کی بنیاد میں دھوکہ، غلط بیانی، اہم حقائق چھپانا یا بنیادی دائرۂ اختیار کی خرابی ہو۔

5۔ قبضہ مل جانے سے غلط حکم درست نہیں ہوجاتا
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر کسی حکم پر عمل درآمد ہو بھی چکا ہو اور قبضہ بھی دے دیا گیا ہو، تب بھی اگر بنیادی حکم دھوکے یا سنگین غلط بیانی کی بنیاد پر حاصل ہوا ہو تو صرف عمل درآمد اسے قانونی طور پر محفوظ نہیں بنا دیتا۔
عمل درآمد دھوکے سے حاصل کیے گئے حکم کی خامی ختم نہیں کرتا۔

6۔ کرایہ ٹریبونل پیچیدہ ملکیتی تنازعے کا حتمی فیصلہ نہیں کرتا
جب جواب دہندہ نمبر 3 نے اپنی الگ ملکیت اور قبضے کا دعویٰ کیا تو معاملہ صرف مالک اور کرایہ دار کے درمیان نہیں رہا۔
اب اصل سوالات زمین کی شناخت، ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے سے متعلق ہوگئے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ایسے پیچیدہ ملکیتی تنازعے کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی، نہ کہ کرایہ ٹریبونل۔

7۔ دفعہ 12(2) منظور ہونے کے بعد عام طور پر مقدمہ واپس بھیجا جاتا ہے
عدالت نے Sheikh Muhammad Sadiq v. Elahi Bakhsh, 2006 SCMR 12 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عام اصول یہ ہے کہ دفعہ 12(2) منظور ہونے کے بعد مقدمہ دوبارہ متعلقہ عدالت کو میرٹ پر فیصلے کے لیے واپس بھیجا جائے۔

8۔ لیکن غیر معمولی حالات میں دوبارہ مقدمہ چلانا ضروری نہیں
Haji Farman Ullah v. Latif-ur-Rehman, 2015 SCMR 1708 کے مطابق بہت ہی نادر اور خاص حالات میں عدالت دوبارہ مقدمہ چلانے کے بجائے کوئی دوسرا مناسب راستہ اختیار کر سکتی ہے۔

اس مقدمے میں ہائی کورٹ نے یہی استثنائی اصول استعمال کیا، کیونکہ اصل تنازعہ اب کرایہ داری سے زیادہ ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے کا بن چکا تھا۔

9۔ مقامی کمیشن کی رپورٹ پر انحصار درست قرار دیا گیا
درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ باقاعدہ نکات مقرر کیے بغیر اور روایتی زبانی شہادت ریکارڈ کیے بغیر فیصلہ کیا گیا۔
ہائی کورٹ نے یہ اعتراض مسترد کردیا، کیونکہ دفعہ 12(3) ضابطۂ دیوانی عدالت کو حالات کے مطابق منصفانہ اور تیز طریقۂ کار اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
اس مقدمے میں کمیشن فریقین کی رضامندی سے مقرر ہوا، جی پی ایس سے پیمائش ہوئی، نقشہ بنایا گیا اور درخواست گزاروں کو رپورٹ پر اعتراض کا پورا موقع بھی ملا۔

عدالت نے آخر میں کیا حکم دیا؟
ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی آئینی درخواست خارج کردی اور:
02 اکتوبر 2025 کا کرایہ کنٹرولر کا حکم برقرار رکھا۔
18 مئی 2026 کا نظرثانی عدالت کا حکم بھی برقرار رکھا۔
تاہم عدالت نے بہت اہم وضاحت کی کہ اس فیصلے سے کسی فریق کو جائیداد کا حتمی مالک قرار نہیں دیا گیا۔ ملکیت، حقِ ملکیت اور قبضے کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی۔

عدالت نے کن اہم فیصلوں کی رہنمائی لی؟
Chief Settlement Commissioner v. Raja Muhammad Fazil Khan — PLD 1975 SC 331
Mst. Fehmida Begum v. Muhammad Khalid — 1992 SCMR 1908
Allah Ditta v. Bashir Ahmed — PLD 1995 Lahore 76
Sheikh Muhammad Sadiq v. Elahi Bakhsh — 2006 SCMR 12
Haji Farman Ullah v. Latif-ur-Rehman — 2015 SCMR 1708
Ghulam Ali v. Rana Babar Khan — PLD 2023 Lahore 507
آخری اور آسان نچوڑ
اگر کوئی شخص عدالت سے دھوکے، غلط بیانی یا اہم حقائق چھپا کر بے دخلی کا حکم حاصل کرلے تو صرف یہ وجہ کہ اس حکم پر عمل ہوچکا ہے اور قبضہ بھی مل چکا ہے، اسے قانونی تحفظ نہیں دیتی۔ کرایہ کنٹرولر ایسا حکم واپس لے سکتا ہے۔ تاہم اگر اصل جھگڑا ملکیت اور قبضے کا پیچیدہ تنازعہ بن جائے تو اس کا حتمی فیصلہ مجاز دیوانی عدالت کرے گی۔

khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

ایئرپورٹس پر مسافروں کی آف لوڈنگ غیر قانونی قرار: اسلام آباد ہائی کورٹ کا آئینی و قانونی نکات پر مبنی تاریخی فیصلہاسلام ...
16/08/2026

ایئرپورٹس پر مسافروں کی آف لوڈنگ غیر قانونی قرار: اسلام آباد ہائی کورٹ کا آئینی و قانونی نکات پر مبنی تاریخی فیصلہ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک بھر کے ایئرپورٹس پر ایف آئی اے (FIA) کی جانب سے مسافروں کو بلاجواز آف لوڈ کرنے کی روایت کا خاتمہ کرتے ہوئے اس کارروائی کو مکمل طور پر غیر قانونی اور آئین کے منافی قرار دے دیا ہے۔

معزز جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کراچی ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیے گئے دو مسافروں (جس کی وکالت اظہر اقبال گوندل ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے کی اور منڈی بہاؤالدین کے شہریوں کے لیے بھی رٹ پٹیشن اظہر اقبال گوندل ایڈووکیٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان ) دائر کی گئی آئینی درخواستوں (W.P. No. 1585, 1587/2026 اور 5338/2025) پر اکٹھا فیصلہ جاری کیا۔
جس میں درج ذیل نکات کا جائزہ لیا گیا

آئینی حقوق اور علاقائی تعصب کا خاتمہ

عدالت عالیہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ بین الاقوامی سفر کا حق (Right to International Travel) آئین کے تحت انسان کی شخصی آزادی اور زندگی کے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک)، آرٹیکل 25 (شہریوں کی برابری) اور آرٹیکل 33 (علاقائی و نسلی تعصبات کی نفی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کے لیے یکساں شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ کسی بھی شہری کو محض اس کے ضلع، صوبے یا منڈی بہاؤالدین جیسے مخصوص علاقے سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھنا یا اضافی چھان بین کے نام پر ایئرپورٹ پر روکنا آئین کی کھلی خلاف ورزی اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔

ایف آئی اے کے دائرہ اختیار کی حد بندی

عدالت نے ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کے اختیار کی قانونی حدود متعین کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب کسی مسافر کے پاس "پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس" کی قانونی تصدیق اور پاسپورٹ پر متعلقہ انڈورسمنٹ موجود ہو، تو اس بات کا مفروضہ قائم ہوتا ہے کہ اس کے ورک پرمٹ اور کاغذات کی قانونی جانچ پڑتال مکمل ہو چکی ہے۔ ایف آئی اے کے امیگریشن عملے کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار یا اپیلٹ حیثیت نہیں کہ وہ پروٹیکٹر کے فیصلوں پر سوال اٹھائے یا اسی بنیاد پر مسافروں کو سفر سے روکے۔

ادارہ جاتی احتساب پر عدم اطمینان

جسٹس ارباب محمد طاہر نے فیصلے میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ہر آف لوڈ ہونے والا مسافر دراصل پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے دفتر کی ناکامی پر ایک چارج شیٹ ہے۔ تاہم، نظام کی بدقسمتی یہ ہے کہ غلطی یا غفلت کے مرتکب متعلقہ پروٹیکٹر یا اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی، بلکہ تمام تر سزائیں اور ذہنی اذیت صرف انہی مسافروں کے حصے میں آتی ہے جنہیں ایئرپورٹس پر بے یار و مددگار رولایا جاتا ہے۔

وفاقی حکومت کو ہدایات اور عملدرآمد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپیاں فوری عملدرآمد کے لیے سیکرٹری وزارتِ داخلہ، سیکرٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ انسانی اسمگلنگ یا گداگری جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے موجودہ قانون میں خلا موجود ہے، تو وہ ایئرپورٹس پر شہریوں کو تنگ کرنے کے بجائے "ایمیگریشن آرڈیننس" اور قانونی فریم ورک میں باقاعدہ اور مناسب ترمیم کریں-

It is a settled principle that mutation entries neither create nor extinguish title; they are maintained primarily for f...
16/08/2026

It is a settled principle that mutation entries neither create nor extinguish title; they are maintained primarily for fiscal purposes. Consequently, even if the names of the appellants-defendants or their predecessors-in-interest appeared in the revenue record, such entries, standing alone, could not confer ownership unless the underlying transaction was independently proved. Where the very foundation of the alleged transaction is doubtful, the evidentiary value of the corresponding mutation is considerably diminished. In the present case, Mutation No. 63 suffers from serious infirmities. It does not record any admission by the alleged vendor acknowledging the sale before the revenue authorities. Such an omission materially weakens the mutation because a mutation based upon sale ordinarily proceeds upon the transferor's acknowledgement of the transaction before the competent officer. The absence of any such acknowledgement casts serious doubt upon the regularity and authenticity of the mutation proceedings. Furthermore, in revenue mutation proceedings, the record ordinarily consists of two parts, namely, the pert patwar and the pert sarkar, the latter being the record maintained by the revenue authorities and constituting the best evidence of the proceedings. Despite its obvious importance, the appellants-defendants produced only the pert patwar while withholding the pert sarkar, without offering any explanation for its non-production. Had the official record been produced, it could have established whether the mutation genuinely reflected a completed sale, the precise nature of the transaction, and whether it related to the transfer of proprietary rights or merely cultivation or crop rights. In these circumstances, the Court is justified in drawing an adverse inference under Article 129(g) of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, that the withheld evidence, if produced, would have been unfavourable to the appellants-defendants. The deliberate non-production of the primary official record, coupled with the other deficiencies attending the alleged transaction, further reinforces the conclusion that the appellants-defendants failed to establish a valid transfer of title.
Civil Appeal No. 19-P of 2015 out of CPLA No. 192-7 of 2009
Ghani Rehman vs Masal Khan
23-06-2026.... khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

Mian khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125
16/08/2026

Mian khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

مشترکہ جائیداد کی نیلامی پر بڑا اصول — حصہ دار کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا!PLD 2026 Lahore 501 — Ghulam Abbas v. Muhammad...
15/08/2026

مشترکہ جائیداد کی نیلامی پر بڑا اصول — حصہ دار کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا!

PLD 2026 Lahore 501 — Ghulam Abbas v. Muhammad Ijaz

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کسی غیر منقسم مشترکہ جائیداد (Undivided Joint Property) کو شریک مالکان کے حصص کی پہلے واضح تقسیم اور نشاندہی کے بغیر نیلام نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کے مطابق ہر شریک کا اپنی غیر منقسم جائیداد میں حق برقرار رہتا ہے۔ کسی ایک شریک کے خلاف فوجداری کارروائی یا اس کے اشتہاری ملزم قرار پانے کی بنیاد پر پورے مشترکہ مال کو نیلام کرنا دوسرے شریک کے حقِ ملکیت کی خلاف ورزی ہے۔

اہم نکتہ:
حصص کی Demarcation/تقسیم کے بغیر مشترکہ جائیداد کی نیلامی غیر قانونی اور بغیر اختیارِ سماعت (without jurisdiction) ہے۔

مزید یہ کہ Section 88 Cr.P.C. کا مقصد کسی شریک یا متعلقہ شخص کو سزا دینا یا اس کی ملکیت پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ قانونی عمل کو یقینی بنانا ہے۔

عدالت نے نچلی عدالتوں کے احکامات کالعدم قرار دے دیے۔ khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

15/08/2026

❓ کیا سمری سوٹ (Order 37 CPC) میں مشروط دفاع (Conditional Leave to Defend) کی عدم تعمیل پر حقِ جرح ختم کرنے کے حکم کے خلاف آئینی درخواست (Art. 199) دائر کی جا سکتی ہے یا سول ریویژن (Sec 115) دائر ہوگی؟

​❓ کیا عدالتِ عالیہ کا دفتر (High Court Office) آئینی درخواست پر یہ اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ متبادل قانونی داد رسی (Civil Revision) موجود ہونے کی وجہ سے درخواست ناقابلِ سماعت ہے؟

​📌 One-Line Citation Description
آرڈر 37 CPC کے تحت مشروط دفاع کی عدم تعمیل پر جرح کا حق ختم ہونے اور درخواست خارج ہونے کا حکم ایک "Case Decided" ہے، جس کے خلاف آئینی درخواست کے بجائے دفعہ 115 CPC کے تحت نگران درخواست (Civil Revision) ہی قانوناً درست داد رسی ہے۔
​⚖️ 2026 M L D 1037
[Lahore High Court]
👥 Waqar Ahmad Vs. Additional District Judge, Sheikhupura & another

​(Decided on 18.11.2025)
Bench: Mr. Justice Muzamil Akhtar Shabir

​📘 Definitions of Legal Concepts

​⛔ Case Decided (فیصلہ شدہ مقدمہ / کیس ڈیسائیڈڈ): دفعہ 115 CPC کے تحت "Case Decided" سے مراد محض حتمی ڈگری نہیں، بلکہ مقدمے کے دوران کسی ذیلی درخوا ست یا تنازعے کا حتمی تصفیہ بھی ہے جس سے فریقین کے کسی اہم حق کا تعاقب ہوتا ہو۔

​⛔ Alternate Remedy Bar in Constitutional Jurisdiction (آئینی دائرہ اختیار میں متبادل داد رسی کی رکاوٹ): آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار اس وقت تک استعمال نہیں ہو سکتا جب تک قانون میں کوئی اور مؤثر اور متبادل داد رسی (مثلاً سول ریویژن) موجود ہو۔

​⛔ Conditional Leave to Defend in Summary Suits (آرڈر 37 کے تحت مشروط دفاع): زرِ ڈگری یا مچلکے کی ضمانت کی شرط پر دیا گیا دفاع کا حق عدم تعمیل کی صورت میں واپس لیا جا سکتا ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کی حیثیت غیر مشروط طور پر دفاع نہ کرنے والے فریق کی ہو جاتی ہے۔

​⚖️ Definitions of Sections & Laws

⛔ Section 115, Code of Civil Procedure (CPC), 1908: نگران دائرہ اختیار (Revisional Jurisdiction of High Court)۔

⛔ Order ###VII (Order 37), CPC, 1908: تجارتی دستاویزات اور ریکوری کے سمری مقدمات (Summary Suits on Negotiable Instruments)۔

⛔ Article 199, Constitution of Pakistan, 1973: ہائی کورٹ کا آئینی/رٹ دائرہ اختیار (Constitutional Jurisdiction)۔

​Posted by Legal Luminaries

​📖 Background of the Case
رسپانڈنٹ/مدعی نے پٹیشنر کے خلاف 1,20,00,000 (ایک کروڑ بیس لاکھ) روپے کی وصولی کا دعویٰ زیر آرڈر 37 CPC دائر کیا۔ پٹیشنر کو مطلوبہ رقم کی مساوی ضمانتی مچلکے (Surety Bonds) جمع کروانے کی شرط پر دفاع (Leave to Defend) کی اجازت دی گئی۔

پٹیشنر متعدد مواقع ملنے کے باوجود شرط پوری کرنے میں ناکام رہا، جس پر عدالت نے مشروط دفاع کا حکم واپس لے لیا۔ بعد ازاں پٹیشنر نے مدعی کے گواہان پر جرح کی اجازت کے لیے درخواست دی جو ٹرائل/ڈسٹرکٹ کورٹ نے خارج کر دی۔ پٹیشنر نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Writ Petition) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے آفس نے اعتراض اٹھایا کہ آئینی درخواست ناقابلِ سماعت ہے اور پٹیشنر کو سول ریویژن (Civil Revision) دائر کرنی چاہیے۔

​⚖️ Core Legal Questions
❓ کیا زیرِ نظر حکم جس کے خلاف قانون میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اس کے خلاف نگران درخواست (Civil Revision) دائر کی جا سکتی ہے؟

❓ کیا آفس کا اعتراض (Office Objection) درست تھا کہ پٹیشنر کو آئینی درخواست کی بجائے سول ریویژن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے؟

​🏛️ Court's Observations & Legal Principles

​✅ متبادل داد رسی کا وجود: عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ دفعہ 115(1) CPC کے تحت ہر اس حکم کے خلاف سول ریویژن دائر کی جا سکتی ہے جس کے خلاف قانون میں اپیل کا حق موجود نہ ہو۔ چونکہ زیرِ بحث آرڈر کے خلاف اپیل قابلِ سماعت نہ تھی، اس لیے قانوناً سول ریویژن ہی بنیادی راستہ تھا۔

​✅ "Case Decided" کی قانونی تعبیر: عدالت نے قرار دیا کہ جرح کی اجازت کی درخواست کا اخراج (Dismissal of Application) اپنے اندر اس درخواست کی حد تک ایک حتمی فیصلہ (Final Order) ہے اور یہ دفعہ 115 CPC کی تعریف کے مطابق "Case Decided" کے زمرے میں آتا ہے۔

​✅ نگران درخواست کے استحقاق کا جائزہ: عدالت نے واضح کیا کہ آیا یہ معاملہ دفعہ 115 CPC کے تین مخصوص گراؤنڈز (دائرہ اختیار کا تجاوز، عدم استعمال یا غیر قانونی استعمال) میں پورا اترتا ہے یا نہیں، اس بات کا فیصلہ ریویژن پٹیشن کو میرٹ پر سنتے وقت ہی کیا جا سکتا ہے، لیکن آئینی درخواست کو براہِ راست قبول نہیں کیا جا سکتا۔

​⚖️ Final Order
لاہور ہائی کورٹ (جسٹس مزمل اختر شبیر) نے:
ہائی کورٹ کے آفس کا اعتراض (Office Objection) برقرار رکھا (Sustained)۔
پٹیشنر کو آئینی درخواست کے بجائے باقاعدہ سول ریویژن (Civil Revision) دائر کرنے کی ہدایت کی۔

​📑 Ratio Decidendi
اگر کسی ذیلی آرڈر کے خلاف اپیل کا حق نہ ہو اور وہ آرڈر قانونی طور پر "Case Decided" بنتا ہو، تو آرٹیکل 199 کے تحت آئینی درخواست کے بجائے دفعہ 115 CPC کے تحت سول ریویژن دائر کرنا لازمی اور قانونی داد رسی ہے۔

​💼 Practical Utility for Advocates
وکلاءِ مدعا علیہ / سمری سوٹ (Counsel for Defendant in Order 37):
اگر آرڈر 37 CPC کے تحت شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ذیلی درخواست (مثلاً جرح کا حق) خارج ہو جائے، تو سیدھا ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کی غلطی سے بچیں اور دفعہ 115 CPC کے تحت سول ریویژن دائر کریں۔
وکلاءِ مدعی / آفس اعتراضات (Counsel for Plaintiff / Office Objections):
اگر مخالف فریق ٹرائل کورٹ کے کسی ذیلی حکم کے خلاف ڈائریکٹ رٹ پٹیشن دائر کرے، تو اس نظیر کو پیش کر کے متبادل داد رسی (Civil Revision) کی بنیاد پر رٹ کو ناقابلِ سماعت (Non-maintainable) قرار دلوائیں۔

​🎯 Quotable Legal Principle
"Where an application seeking permission to cross-examine witnesses is dismissed in a suit under Order ###VII CPC, such dismissal constitutes a 'case decided' within the ambit of Section 115 CPC. In the absence of a right of appeal, the proper and ordinary remedy is a Civil Revision under Section 115 CPC, and a Constitutional Petition under Article 199 is not maintainable due to the availability of an adequate statutory remedy."

​Posted by Legal Luminaries

​📚 Precedents Relied Upon & Distinguished
​❗️نظائر جن کی تمیز/تفریق کی گئی (Distinguished Precedents):
​🆚 Habib Bank Limited Karachi v. Zaki Muhammad Siddiquie and 2 others (PLD 1979 Kar. 129)
​🆚 Hafiz Muhammad Owais v. Addl: District Judge and others (2024 CLC 577)

​Posted by Legal Luminaries

2026 M L D 1037

[Lahore]

Before Muzamil Akhtar Shabir, J

WAQAR AHMAD---Petitioner

versus

ADDITION DISTRICT JUDGE, DISTRICT SHEIKHUPURA and another---Respondents

D. No. 151940 of 2025, decided on 18th November, 2025.

Civil Procedure Code (V of 1908)

----S. 115 & O.###VII---Constitution of Pakistan, Art. 199---Closure of right to cross examine the witnesses assailed before High Court---Remedy---Whether constitutional petition or civil revision?---Petitioner filed constitutional petition by calling in question order passed by District Court, whereby right of the petitioner to cross examine witnesses of respondent / plaintiff had been closed for his failure to comply with the condition mentioned. in the leave granting order The office of High Court raised the objection on maintainability of constitutional petition and directed to avail proper remedy i.e. Civil Revision---Validity--- Perusal of S.115(1) C.P.C. shows that remedy of civil revision is available against any order, appeal where-against is not available under the law--- In the present case, respondent filed a suit under O.###VII, C.P.C. for recovery of Rs.1,20,00,000/- against the petitioner which was contested by him and he was granted leave to defend subject to furnishing of the surety bonds equivalent to the amount claimed in the suit i.e. Rs.1,20,00,000/-, however, as said condition was not complied with by the petitioner, despite availing various opportunities; hence, the said order was subsequently recalled; where-after the petitioner submitted an application before the Trial/District Court seeking permission to cross examine witnesses of respondent / plaintiff---The said id application had been dismissed through the impugned order--- No appeal is maintainable against said order, therefore, in terms of S.115(1), C.P.C. ordinarily a revision petition is to be filed against such an order as dismissal of application, vide impugned order, was a final order as regards the decision of said application and case decided in terms of S.115, C.P.C., therefore, could be called in question through revision petition and while hearing the said revision on merits, the question whether the matter falls within the three grounds provided for exercise of civil revision or not would be decided on its own merits in accordance with law---Office objection was sustained accordingly. [pp. 1038, 1039, 1040, 1042] A, B, C, D & E

Habib Bank Limited Karachi v. Zaki Muhammad Siddiquie and 2 others PLD 1979 Kar. 129 and Hafiz Muhammad Owais v. Addl: District Judge and others 2024 CLC 577 distinguished. khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

رجسٹرڈ مختارنامہ کے تحت زمین فروخت کرنے کا اختیار معاہدۂ فروخت تک وسیع ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہدیو...
14/08/2026

رجسٹرڈ مختارنامہ کے تحت زمین فروخت کرنے کا اختیار معاہدۂ فروخت تک وسیع ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
دیوانی اپیل نمبر 435-L اور 436-L از 2012
فیصلہ: 10 اگست 2026
مقدمہ: سعد یونس وغیرہ بنام غلام باری وغیرہ
اس مقدمہ میں اصل تنازع یہ تھا کہ زمین کے مالک کی طرف سے بنائے گئے رجسٹرڈ مختارنامے کے تحت مختار کو زمین فروخت کرنے کا اختیار حاصل تھا یا نہیں، اور کیا اس اختیار کے تحت وہ زمین فروخت کرنے کا معاہدہ بھی کر سکتا تھا۔

سپریم کورٹ کے سامنے اصل سوال یہ تھا اکہ کیا ہائی کورٹ نے نظرثانی کے اختیار میں ماتحت عدالتوں کی کنکریٹ فائنڈنگز میں مداخلت کرکے درست کیا؟
اور:
کیا زمین فروخت کرنے کا اختیار رکھنے والا مختار، واضح پابندی نہ ہونے کی صورت میں زمین فروخت کرنے کا معاہدہ بھی کر سکتا ہے؟
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ مختارنامے کو قانون کے تحت خاص اہمیت حاصل ہے۔
قانونِ شہادت کے آرٹیکل 95 کے مطابق باقاعدہ تصدیق شدہ مختارنامے کے بارے میں عدالت اس کے درست طور پر بنائے جانے کا مفروضہ رکھتی ہے، جب تک اس کے خلاف مضبوط ثبوت پیش نہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اس اصول کی وضاحت کے لیے متعدد سابقہ فیصلوں کا حوالہ بھی دیا، جن میں:
Mst. Iqbal Bibi v. Kareem Hussain Shah — 2024 SCMR 1233
Anjuman-e-Khuddam-ul-Qur'an v. Lt. Col. (R) Najam Hameed — PLD 2020 SC 390
Abdul Aziz v. Abdul Hameed — 2022 SCMR 842
شامل ہیں۔
نظرثانی کے اختیار پر سپریم کورٹ کا اہم اصول۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ نظرثانی کی عدالت، اپیل کی عدالت نہیں ہوتی۔
اگر ماتحت عدالت اور پہلی اپیل کی عدالت دونوں نے شواہد کا جائزہ لے کر ایک ہی نتیجہ نکالا ہو تو ہائی کورٹ صرف اس وجہ سے ان نتائج کو تبدیل نہیں کر سکتی کہ اسے شواہد کی دوسری تشریح زیادہ مناسب محسوس ہوتی ہے۔
نظرثانی میں مداخلت کے لیے واضح قانونی خرابی، اختیارِ سماعت کی غلطی، اہم شواہد کو غلط پڑھنا یا نظرانداز کرنا، یا ایسا فیصلہ ہونا ضروری ہے جو واضح طور پر ناقابلِ قبول ہو۔
صرف دوسری رائے ممکن ہونا نظرثانی میں مداخلت کی کافی وجہ نہیں ہے۔
زمین فروخت کرنے کا اختیار اور معاہدۂ فروخت
سپریم کورٹ نے اس نکتے پر بھی ہائی کورٹ سے اختلاف کیا۔ عدالت نے معاہدہ قانون کی دفعات 188 اور 189 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ جب اصل مالک کسی شخص کو کوئی کام کرنے کا اختیار دیتا ہے تو اس کام کو مکمل کرنے کے لیے ضروری اور معمول کے ضمنی کام بھی اس اختیار میں شامل ہو سکتے ہیں، جب تک مختارنامے میں واضح پابندی موجود نہ ہو۔
لہٰذا اگر کسی مختار کو زمین فروخت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے تو عام طور پر اس اختیار میں زمین فروخت کرنے سے پہلے معاہدۂ فروخت کرنے کا اختیار بھی شامل ہو سکتا ہے۔
کیا احمد دین پر کوئی پابندی تھی؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ احمد دین کو زمین فروخت کرنے کا معاہدہ کرنے سے واضح طور پر منع کیا گیا تھا۔
اس لیے زمین فروخت کرنے کا اختیار ہونے کی صورت میں اس مقصد کے لیے معاہدہ کرنا بھی اس کے اختیار کے دائرے میں تھا۔
35 ہزار روپے کا بیعانہ
احمد دین نے 35,000 روپے بطور بیعانہ وصول کیے تھے اور اس رقم کو غلام باری کے زرعی بینک کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اس عمل کو بھی مقدمے کے دوسرے شواہد کے ساتھ اہم سمجھا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ محمد یونس معاہدہ پورا کرنے کے لیے تیار تھا اور معاہدہ مکمل نہ ہونے کی وجہ اس کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں بلکہ غلام باری کی جانب سے مختارنامہ ختم کرنا تھا۔
سپریم کورٹ نے نظرثانی کے اختیار اور ماتحت عدالتوں کے بیک وقت نتائج کے بارے میں متعدد سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیا، جن میں:
Sultan Muhammad v. Muhammad Qasim — 2010 SCMR 1630
Muhammad Sarwar v. Hashmal Khan — PLD 2022 SC 13
Mst. Zarsheda v. Nobat Khan — PLD 2022 SC 21
Salamat Ali v. Muhammad Din — PLJ 2023 SC 8
Mst. Farzana Zia v. Mst. Saadia Andaleeb — 2024 SCMR 916
شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے دونوں اپیلیں منظور کر لیں۔
لاہور ہائی کورٹ کا 30 مارچ 2012 کا فیصلہ ختم کر دیا گیا۔
اس کے بجائے:
سینئر سول جج رحیم یار خان کا 29 جولائی 1986 کا فیصلہ بحال کر دیا گیا۔
اور
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج رحیم یار خان کا 25 جولائی 2011 کا فیصلہ بھی بحال کر دیا گیا۔
khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

Address

Adeel Filling Station, Thalli Chowk, Bypass Road, Rahimyar Khan
Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Rahman LAW Associats posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Rahman LAW Associats:

Shortcuts

Share