18/09/2026
کیا محکمہ مال اور پٹواڑی زبانی حکم پر دہائیوں پرانی ملکیت تبدیل کر سکتے ہیں؟ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ!
کیا گورنمنٹ زبانی احکامات اور فرضی فردِ بدر بنا کر شہریوں کی سالہا سال پرانی ملکیت ختم کر سکتی ہے؟
تفصیلات فیصلہ
عدالت کا نام
: لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ، ملتان
کیس نمبر: R.F.A. No. 504 of 2023 (معہ منسلک اپیلیں R.F.A. Nos. 478, 479, 484/2023 اور R.S.A. No. 01/2024)
فریقین:
صوبہ پنجاب بذریعہ ڈسٹرکٹ کلیکٹر ملتان وغیرہ بنام محمد ارجمند خان وغیرہ
ہسٹری / فاضل جج: معزز جج محمد ساجد محمود سیٹھی (تاریخِ سماعت/فیصلہ: 08.09.2026)
ٹرائل کورٹ فیصلہ: سول جج ملتان کا فیصلہ مورخہ 23.06.2023
سادہ سمت فیصلہ
):
لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ مال اور پنجاب حکومت کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے شہریوں کے ملکیت کے حق کو بحال رکھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سال 2013 میں تیار کی گئی "فرد بدر نمبر 634" مکمل طور پر غیر قانونی، باطل اور کالعدم ہے۔
پٹواڑی یا ریونیو افسران بغیر نوٹس، بغیر باقاعدہ انکوائری اور صرف زبانی حکم پر پرانا مالکانہ ریکارڈ تبدیل نہیں کر سکتے۔
جن شہریوں کی زمین سڑک کی توسعی منصوبے (چوک کمہاراں والا تا پیران غائب روڈ) کے لیے یکجا/ایکواائر کی گئی تھی، انہیں معاوضہ دینا حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے۔
ٹرائل کورٹ کی جانب سے متاثرین کے حق میں دیا گیا فیصلہ اور 20% اسپیشل کاسٹ/معاوضہ کا حکم برقرار رکھا گیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایک بار جب رجسٹرڈ بیع نامہ اور جریدہ/جماعبندی میں نام درج ہو جائے تو محض ایک فرد بدر سے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا
اہم قانونی نکات (Key Legal Findings):
بغیر نوٹس کارروائی باطل (Audi Alteram Partem):
سیکشن 44 ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 اور آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت متاثرہ فریق کو سنے بغیر ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
شفاہی احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں:
پٹواڑی کا یہ اعتراف کہ اس نے اعلیٰ حکام کے "زبانی حکم" پر فرد بدر بنائی، قانون کی نظر میں نااہلی ہے؛ ایسی تبدیلی بالکل کالعدم سمجھی جائے گی۔
سیکشن 45 کی حدود:
سیکشن 45 لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت درستی صرف معمولی کتابتی غلطیوں (Clerical errors) کی ہو سکتی ہے، دہائیوں پرانی ملکیت کو منسوخ کرنے کے لیے نہیں۔
محکمہ مال کا اختیارات سے تجاوز:
ریونیو حکام کے پاس کسی سول کورٹ کے ڈگری یا حکم کے بغیر کسی شخص کی ملکیت کا حق ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
مدعی / پٹیشنر کی طرف سے پیش کردہ عدالتی نظائر (Judgement References for Plaintiffs/Respondents):
Ghuzar Ahmad Khan and 2 others v. Deputy Commissioner, Hafizabad and 2 others (2002 CLC 1746) - بغیر انکوائری اور نوٹس کے ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی غیر قانونی ہے۔
Mir Mazhar Talpur v. Province of Sindh (2026 CLC 40) - لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ریکارڈ کی درستی کی محدود حدود سے متعلق۔
Khair Muhammad and others v. Hayat Khan and others (2026 CLC 307) - فریقین کی رضامندی یا سول کورٹ ڈگری کے بغیر اندراج میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
Allah Bakhsh v. Member (J-VIII) Board of Revenue, Punjab (PLD 2012 Lahore 160) - حقوقِ ملکیت کو فرد بدر سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
Muhammad Hanif and 6 others v. Syed Zakir Hussain Shah (2022 MLD 143) - غیر قانونی فرد بدر قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔
Habib Khan v. Mst. Bibi Zohra (PLD 2012 Peshawar 80) & Muhammad Iqbal v. Rab Nawaz (2018 YLR 1813) - طویل عرصے سے چلے آ رہے اندراجات کو یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
Mst. Shireen Khanum v. Member (Revenue), Board of Revenue (2001 YLR 2387) & Mst. Gulzar Bibi v. Chief Commissioner, I.C.T. (2009 CLC 542) - ملکیت کے تنازع کا فیصلہ سول کورٹ ہی کر
سکتی ہے، ریونیو افسران نہیں۔
مدعا علیہان / حکومت پنجاب کے موقف کے اہم نکات (Government/Appellants Side):
حکومت اور محکمہ آبپاشی کا موقف تھا کہ متنازعہ رقبتہ محکمہ آبپاشی کی ملکیت تھا اور مدعیان کا اندراج غلط تھا۔
حکومت کا دعویٰ تھا کہ فرد بدر نمبر 634 مورخہ 20.03.2013 ریونیو ریکارڈ کی درستی کے لیے ضابطے کے تحت بنائی گئی تھی۔
اپیل میں موقف اپنایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ثبوتوں کا صحیح جائز نہیں لیا اور اسپیشل کاسٹ کا حکم غلط دیا۔ (تاہم ہائی کورٹ نے یہ تمام عذر رد کر دیے
For more info
Follow Page
AL Rahman law associates. Watsap 0300 8671125