محمد اِقبال خان سقِیم کظِیم

محمد اِقبال خان سقِیم کظِیم Writer/Lawyer/Critical Thinker

07/10/2026

آمدہ بہ قتل من آں شوخ ستم گارے
ایں طرفہ تماشہ بیں ناکردہ گنہگارے

وہ شوخ ستمگر میرے قتل پر آمادہ ہے
دیکھو یہ کیسا تماشہ ہے کہ ایک بیگناہ کو قتل کرتا ہے

گر نام و نشان من پرسد تو بگو قاصد
آوارہ و مجنونے رسوا سر بازارے

اگر وہ میرا نام اور پتہ پوچھے تو اے قاصد کہہ دینا
کہ وہ سر بازار ایک آوارہ، مجنون و رسوا ہے

اے عیسیٰ بیماراں از ہجر تو رنجورم
شاید نہ خبر داری از حالت بیمارے

اے بیماروں کے مسیحی میں تمھارے ہجر میں رنجیدہ ہوں
شاید تم بیمار کے حال سے بے خبر ہو

خواہی کہ شفا باشد بیمار محبت را
یک جرعہ خدا را دہ از شربت دیدارے

اگر تم بیمار محبت کو صحت یاب دیکھنا چاہتے ہو تو
خدا کے لۓ شربت دیدار کا ایک گھونٹ دے دو

از کوچۂ معشوقاں باز منیرؔ آید
سر بکف و جاں بر لب دل دار بہ عیارے

محبوب کی گلی میں منیر اس طرح بن سنور کر آیا ہے
کہ سر ہاتھ میں ہے، جان لبوں پر ہے اور وہ چالاک دلبر ہے۔

(نامعلوم غالبا شاعر بتخلص منیر)

06/10/2026

پاکستانی حکومت مشرقی وسطی میں ایک بدترین غلطی کرنے جارہی ہے۔ کل کے اعلامیئے میں کہا گیا یے کہ مکہ معاہدے کے تحت سعودی حکومت کی معاونت کے لئے پاکستان اور ترکی اپنی افواج سعودی عرب روانہ کررہے ہیں۔ اس وقت بلوچستان اور خیبر پختونخواہ جل رہا ہے اور سیاسی و معاشی عدم استحکام اپنے عروج پر یے۔ ایسے وقت پر اغیار میں کسی بحث اور پارلیمنٹ سے رجوع کئے بغیر جنگ میں کود پڑنا کہاں کی عقلمندی یے؟

بدقسمتی سے پاکستان میں لوگوں کو یمن کے بحران کی تاریخ اور سنگین نوعیت کا زیادہ علم نہیں اور وہ اسے فرقہ وارانہ زاویئے سے دیکھتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک طویل اور پچیدہ لڑائی یے۔ 1962 میں یمن میں انقلاب برپا ہوا جس نے روایتی اور انقلابی گروہوں کو ایک خوفناک خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ جمال عبدل ناصر کے مصر نے انقلابی حکومت کی حمایت شروع کردی جبکہ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل نے بادشاہ کے حمایتی جنہیں Royalist کہتے تھے کو اسلحہ فراہم کرنا شروع کیا۔ اس جنگ کو "مصر کا ویتنام" بھی کہتے ہیں کیونکہ اسرائیل نے مصر کو یمن میں اسی طرح پھنسا دیا جس طرح امریکہ ویتنام میں پھنس گیا تھا۔ مصر معاشی طور پر کمزور ہوگیا اور 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست نے اس کے اثر کو مزید کمزور کردیا۔

اس خانہ جنگی کے بعد یمن بہت عرصہ علی صالح کی ایک غیت مقبول آمریت کے ماتحت تھا۔ اسی دوران زیدی شعیہ کمیونیٹی نے 1990 میں مزاحمت شروع کی یاد رہے کہ اس خطے کے لوگ 1960 کی خانہ جنگی میں سعودی عرب کے ساتھ تھے لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بدعنوانی کی وجہ سے وہ حکومت مخالف ہوئے۔ آج یہ گروہ حوثی یا انصار اللہ کے نام سے مشہور ہے اور ان کی اپنی تاریخ آپ کو یوٹیوب پر کئی ویڈیوز مل جائیں گی۔ بہرحال 2004 سے یمن میں خانہ جنگی کی کیفیت رہتی ہے جس میں شدت 2011 کے مظاہروں کے بعد آتی ہے جس کے بعد علی صالح مستعفی ہوجاتے ہیں اور ایک اور فوجی آمر بر سر اقتدار آجاتا یے۔ 2014 میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف حوثی بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف فوج کشی کرتے ہیں جس میں انہیں عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے اور وہ دارلحکومت ثنا پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ 2015 میں علی صالح کے ساتھ، جن کے خلاف 2011 میں انہوں نے مزاحمت کی ہوتی ہے، مل کر ایک قومی حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔

یہاں سے سعودی عرب اور متحدہ امارات کا ایک خوفناک رول شروع ہوتا یے۔ نئی حکومت کو ماننے کے بجائے وہ یمن پر بدترین بمباری اور محاصرے کا آغاز کرتے ہیں جو آج تک قائم ہے۔ 2016 میں کئی عالمی ادارے، بشمول WHO, یہ رپورٹ کرتے ہیں کہ سعودی، اماراتی، اور امریکی بمباری اور پابندیوں کی وجہ سے یمن میں قحط آچکا ہے جس سے ہزاروں بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس محاصرے کے دوران یمن ایران کے ساتھ اہنے تعلقات بہتر کرتا یے اور اپنی فوجی صلاحیت کو بھی مضبوط کرتا یے۔ 2015 سے 2016 تک مغربی و سعودی بمباری، پابندیوں، اور پروپیگینڈہ کے باوجود حوثی مزید کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ملک کے بیشتر علاقے پر اپنی حکومت قائم کرلیتے ہیں اور 2022 میں ایک امن معادہ بھی ہوجاتا ہے۔

اگلے سال غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف یمن پہلا ملک ہوتا ہے جو اسرائیل پر باقاعدہ حملہ بھی کرتا ہے اور باب المینداب کو بھی اسرائیلی تجارت کے لئے بند کردیتا ہے۔ اس فیصلے کی سزا کے طور پر ایک بار پھر ان پر بمباری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں پہل اسرائیل کرتا ہے جبکہ متحدہ امارات جنوبی کونسل نامی ایک علیحدگی پسند گروہ کی حمایت شروع کردیتا جسکئ وجہ سے اس کا سعودی عرب سے بھی تضاد بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال جنوری میں سعودی عرب نے امارات کے حمایتی جنوبی کونسل پر بمباری بھی کی اور اپنی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے ترکی اور پاکستان سے مکہ معادہ بھی کیا۔

ایران جنگ نے اس مسئلے کو مزید پچیدہ کردیا یے۔ یمن میں اقتصادی اور عسکری محاصرہ بڑھ چکا ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل کی کوشش ہے کہ لبنان ایراب یمن شام سمیت پورے خطے میں مزاحمت کو کچل دیا جائے۔ اس لئے یہ معاملے صرف پراکسی کا نہیں بلکہ یمن کی اندرونی تاریخ اور عالمی سیاست سےجڑا ہوا یے۔ اسی طرح سعودی پر حملے بھی کوئی اچانک نہیں ہوئے بلکہ اس طویل تاریخ کا حصہ ہے جس میں مسلسل سعودی مداخلت نے یمن میں عدم استحکام کے ساتھ ساتھ بھوک، غربت اور سماجی تباہی کو خوفناک حد تک اضافی کیا۔

اس تاریخ کا ادراک کئے بغیر ایک ایسی جنگ میں کود پڑنا جس میں یمن کی اندرونی پچیدگی کے ساتھ خطے میں مختلف ممالک شامل ہیں پاکستان کے لئے ایک بدترین ویتنام بن سکتا ہے۔ یہ کوئی حق یا باطل کی جنگ نہیں بلکہ ایک کمزور اشرافیہ کی سستے ڈالر کمانے کی بھیانک کوشش ہے جس کا خمیازہ نا صرف یمن کے عوام اور ہمارے فوجی جوان بھگتے گیں بلکہ کشیدگی کی ایک لہر پاکستان کے اندر بھی ہماری زندگیوں کو متاثر کرے گی۔ اس لئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کا مقصد یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا ہونا چاہئے نا کہ ایک فریق بن کر اغیار کی جنگ میں شامل ہونا۔ پہلے ہی ہم آج تک افغانستان کے نام نہاد جہاد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سےجو ممالک اشرافیہ کی مراعات پورا کرنے کے لئے چل رہے ہوتے ہیں، وہ نہ تاریخ سے سیکھتے ہیں اور نہ ہی کرائے کی جنگوں میں اپنوں کو مروانے میں دیر کرتے ہیں۔
(Scholar/Social Activist: Ammar Ali Jan)

06/10/2026

میرے خالِق تیرا تو بنتا تھا !
ہم پہ بندوں نے کیوں خدائی کی؟

(سیّد اویس حسین بخاری)

06/10/2026

"لوگ سمجھتے ہیں کیمیا سے سونا بنتا ہے، حالانکہ اصل کیمیا خود سونا بن جانے کا نام ہے۔"

منقول از ابنِ عربی

06/10/2026

واپس نہ جا وہاں کہ تیرے شہر میں منیر
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا

(منیر نیازی)

05/10/2026

نعمت کو منعم کی رضا کی خاطر اُن لوگوں پر خرچ کرنا، جن کے پاس وہ نعمت نہیں ہے ، یہ گویا اُس نعمت کا شکرانہ ہے ۔

"کم ہی ہیں میرے بندوں میں جو شُکر گزار ہیں " القرآن

(حضرت واصف علی واصفؒ)

05/10/2026

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سورت قصص میں الله تعالی نے فرمایا :

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ
ہم نے ان پر پہلے ہی سے یہ بندش لگا دی تھی کہ دودھ پلانے والیاں انہیں دودھ نہ پلا سکیں۔(سورت قصص: 12)

فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی گئی کہ بچہ دودھ پی لے اور مسئلہ حل ہو جائے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔

اس مسئلے کے ظاہر کو دیکھنے میں بچے کا نقصان نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خیر ہے۔ کیونکہ اگر وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ نہ ہوتا تو پھر فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ (یعنی اس طرح ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کے پاس لوٹا دیا) کیسے ہوتا؟

کبھی کبھار ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ کچھ چیزوں پر بندش لگ جاتی ہے، چاہت اور کوشش کے باوجود دروازہ نہیں کھل رہا ہوتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ربِ محبت صرف ہم سے روک رہا ہے، وہ روکنے کے بدلے میں کچھ دے بھی رہا ہوتا ہے۔ جیسے یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دودھ پلانے والیوں کو روکا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی ان کی ماں کو ان تک پہنچانے کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔ ایک چیز بظاہر مصیبت نظر آ رہی ہے جبکہ حقیقت میں وہ خیر کا پیش خیمہ ہے۔

رب محبت ہمیں اپنے فیصلوں کے پیچھے چھپی حکمت عطا فرمائے۔ آمین

(محمد اکبر: 5 اکتوبر 2026ء)

05/10/2026

خیالِ یار سلامت تُجھے خدا رکھے
ترے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی

(جگر مراد آبادی)

05/10/2026

جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا

(امیر مینائی)

04/10/2026

ہائے بوسيدگی مرے گھر کی
ایک دستک پہ ِگر گئی دیوار

(راشد عارف)

Address

Gomal House
Rahimyar Khan
64200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محمد اِقبال خان سقِیم کظِیم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share