22/05/2026
تاریخ کا وہ فیصلہ کن مباہلہ اور موت کا سچ
تاریخ کے اوراق میں کچھ ایسے واقعات درج ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک کھلی نشانی بن جاتے ہیں۔ یہ کہانی ہے بیسویں صدی کے آغاز کی، جب برصغیر پاک و ہند میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان کے اس دعوے کے سامنے حق کی آواز بن کر امرتسر کے مشہور عالمِ دین مولوی ثناء اللہ امرتسری کھڑے ہوئے۔
وہ تاریخی چیلنج اور آخری دعا
بات صرف بحث و مباحثے تک محدود نہیں رہی۔ 15 اپریل 1907 کو مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک آخری اور فیصلہ کن اشتہار جاری کیا، جس کا عنوان تھا: "مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ"۔ اس اشتہار میں مرزا صاحب نے خدا کے حضور ایک ایسی دعا کی، جو خود ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی تھی۔
مرزا صاحب نے لکھا:
"میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک... اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔"
دعا یہیں ختم نہیں ہوئی۔ مرزا صاحب نے خدا سے یہ بھی مانگا کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہی طاعون یا ہیضہ (Cholera) جیسی مہلک اور عبرت ناک بیماری سے ہلاک ہو جائے۔ یہ ایک ایسا چیلنج تھا جس پر پورے برصغیر کی نظریں ٹک گئیں۔
26 مئی 1908 – فیصلے کی وہ گھڑی
اس دعا کے ٹھیک ایک سال اور ایک مہینے بعد، یعنی 26 مئی 1908 کو وہ وقت آ پہنچا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ مرزا غلام احمد قادیانی لاہور میں موجود تھے کہ اچانک ان کی طبعیت شدید خراب ہو گئی۔
ان کے اپنے بیٹے، مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب 'سیرت المہدی' میں اپنی والدہ (مرزا صاحب کی اہلیہ) کی روایت سے جو لکھا، وہ اس واقعے کی حقیقت کو بالکل صاف کر دیتا ہے۔
'سیرت المہدی' میں درج ہے:
"حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا... پھر کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا۔"
بیماری اس قدر تیزی سے بڑھی کہ مرزا صاحب بیت الخلا (پاخانہ) جانے کے قابل بھی نہ رہے۔ کتاب میں آگے لکھا ہے:
"اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا، مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے، اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے..."
ہیضہ کا اعتراف اور آخری الفاظ
شدید الٹیوں اور دستوں کی وجہ سے مرزا صاحب کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی اور زبان گنگ ہونے لگی۔ اسی دوران انہوں نے اپنے سسر میر ناصر نواب سے وہ الفاظ کہے جو ان کی بیماری کی اصل نوعیت کو واضح کرتے ہیں۔ کتاب 'حیاتِ ناصر' کے مطابق مرزا صاحب نے فرمایا:
"میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔"
اس اعتراف کے کچھ ہی دیر بعد، اسی عبرت ناک حالت میں، 26 مئی 1908 کو مرزا غلام احمد قادیانی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
تاریخ کا حتمی فیصلہ
مرزا صاحب کی اپنی ہی لکھی ہوئی دعا اور چیلنج کے مطابق، جو جھوٹا تھا اسے سچے کی زندگی میں ہی موت کی آغوش میں جانا تھا۔ مرزا صاحب 1908 میں ہیضہ کی حالت میں فوت ہو گئے، جبکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب اس واقعے کے بعد نہ صرف زندہ رہے، بلکہ اگلے 40 سال تک بقیدِ حیات رہے اور انہوں نے 1948 میں وفات پائی۔
مرزا صاحب کا اپنا لکھا ہوا اشتہار، ان کی اپنی دعا اور ان کی وفات کا طریقہ، آج بھی تاریخ کی سب سے بڑی سچائیوں میں سے ایک بن کر معلوماتی اور تاریخی کتابوں میں محفوظ ہے۔
عبد اللہ الرحمن Mr Abr Abdullah