Advocate Rizwan Ullah Khan

Advocate Rizwan Ullah Khan Advocate || Taxation || Corporate Law || Intellectual Property Law ||

انکم ٹیکس ریٹرن 2026 — بروقت فائل کریں، پُرسکون رہیں!کیا آپ نے ٹیکس ایئر 2026 کی انکم ٹیکس ریٹرن فائل کر دی ہے؟1 جولائی ...
13/08/2026

انکم ٹیکس ریٹرن 2026 — بروقت فائل کریں، پُرسکون رہیں!

کیا آپ نے ٹیکس ایئر 2026 کی انکم ٹیکس ریٹرن فائل کر دی ہے؟

1 جولائی سے 30 ستمبر 2026 انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا اہم وقت ہے۔ بروقت ریٹرن فائل کرنا صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ آپ کے مالی اور ٹیکس پروفائل کو بہتر رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

✅ جرمانوں اور قانونی پیچیدگیوں سے بچاؤ
✅ ٹیکس پروفائل بہتر اور مستحکم بنائیں
✅ ریفنڈ کلیم کرنے کا موقع
✅ بینکنگ اور دیگر مالی معاملات میں آسانی
✅ اپنی آمدن، اثاثوں اور مالی معاملات کا درست ریکارڈ برقرار رکھیں

یاد رکھیں: ریٹرن صرف فائل کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے درست معلومات اور مناسب قانونی و ٹیکس رہنمائی کے ساتھ فائل کرنا ضروری ہے۔

📌 آج ہی اپنی انکم ٹیکس ریٹرن 2026 فائل کروائیں۔

Advocate Rizwan Ullah Khan
Tax Consultant & Advocate

TAXATION || CORPORATE || INTELLECTUAL PROPERTY LAW

📍 Quetta || Islamabad
📱 WhatsApp: 03368029120

Professional • Reliable • Confidential

04/08/2026

“سر، پچھلے سال تو 1500 یا 2000 روپے میں ریٹرن فائل ہو گئی تھی، اس سال فیس اتنی زیادہ کیوں؟”

یہ جملہ میں نے کئی بار سنا ہے۔

لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا Tax Return کی اصل قیمت صرف اس کی Filing Fee ہوتی ہے؟

ہم اکثر ٹیکس ریٹرن کو ایک ایسا فارم سمجھتے ہیں جسے بس چند معلومات ڈال کر Submit کر دینا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔

ایک ریٹرن کے پیچھے آپ کی آمدن، کاروبار، بینکنگ، Assets، Investments، اخراجات، Liabilities اور گزشتہ سالوں کی مالی پوزیشن کا پورا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج آپ جو کچھ اپنی ریٹرن میں ظاہر کرتے ہیں، وہ صرف آج کے لیے نہیں ہوتا۔
یہی معلومات آنے والے سالوں میں آپ کے ٹیکس پروفائل کا حصہ بن سکتی ہیں۔

میرے پاس جب مختلف افراد کی پرانی ریٹرنز Review کے لیے آئیں تو ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت سامنے آئی۔

کسی کی Wealth Statement میں Assets اور Income کا آپس میں کوئی مناسب تعلق نہیں تھا، کسی کے Bank Balances ظاہر نہیں کیے گئے تھے، کسی نے Assets تو ظاہر کیے لیکن ان کے Sources of Investment واضح نہیں تھے، کسی کے اخراجات غیر حقیقی تھے، اور بعض افراد کے گزشتہ سال کے اعداد و شمار اگلے سال میں صحیح طریقے سے Carry Forward ہی نہیں کیے گئے تھے۔

بعض اوقات ایک چھوٹی سی غلطی کئی سالوں تک چلتی رہتی ہے۔

پھر جب کسی وقت Wealth Reconciliation، Tax Notice، Audit یا Assets کے Source کے بارے میں وضاحت طلب ہوتی ہے تو وہی شخص سوچتا ہے:

“یہ مسئلہ تو ابھی پیدا ہوا ہے، پھر اتنی مشکل کیوں ہو رہی ہے؟”

حقیقت میں مسئلہ آج پیدا نہیں ہوا ہوتا۔
مسئلہ اُس وقت پیدا ہو گیا تھا جب ریٹرن کو صرف “فائل کروانے” کی چیز سمجھا گیا تھا، “درست تیار کرنے” کی نہیں۔

اس لیے اگلی بار Tax Return فائل کرواتے ہوئے صرف یہ مت پوچھیں:

“فیس کتنی ہے؟”

یہ بھی پوچھیں:

“میری Income صحیح ظاہر ہوئی ہے؟”
“میرے Assets مکمل اور درست ہیں؟”
“Wealth Statement reconcile ہو رہی ہے؟”
“Previous Years کا record صحیح Carry Forward ہوا ہے؟”
“کل اگر FBR نے کسی figure یا Asset کی وضاحت مانگی تو میرے پاس اس کا مناسب record موجود ہوگا؟”

ایک اچھا Tax Professional صرف FBR Portal پر Return Submit نہیں کرتا۔

وہ پہلے آپ کے مالی معاملات کو سمجھتا ہے، available information اور record کو دیکھتا ہے، relevant details کو cross-check کرتا ہے، discrepancies کو identify کرتا ہے اور پھر Return کو قانون اور available facts کے مطابق prepare کرتا ہے۔

2,000 روپے میں Return File ہونا شاید سستا لگے،
لیکن غلط Return کی قیمت کبھی کبھی 2,000 روپے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

Tax Return میں مقصد صرف “Filer” بننا نہیں، بلکہ اپنا Tax Record درست رکھنا بھی ہے۔

اس لیے صرف کم فیس کے پیچھے نہ جائیں۔

اپنی Tax Compliance کو Expense نہیں، اپنی Financial Protection سمجھیں۔

سستی Filing نہیں — درست Filing اہم ہے۔

With profound grief and sorrow, we strongly condemn the heinous terrorist attack in which Mr. Abdul Hakeem Kakar, Distri...
23/07/2026

With profound grief and sorrow, we strongly condemn the heinous terrorist attack in which Mr. Abdul Hakeem Kakar, District & Sessions Judge, Mastung, and his security guard embraced martyrdom, while Mr. Tariq Lashari, Additional District & Sessions Judge, sustained critical injuries.

This cowardly act is an attack not only on members of the judiciary but also on the rule of law, justice, humanity, and the Constitution of Pakistan. Such acts of violence can never weaken our collective commitment to peace, justice, and the supremacy of law.

We extend our deepest condolences to the bereaved families and pray that Almighty Allah grants the martyrs the highest ranks in Jannat-ul-Firdous, blesses their families with patience and strength, and grants Mr. Tariq Lashari a swift and complete recovery.

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں شفافیت اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کے لیے چند اہم اقدامات ...
04/07/2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں شفافیت اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کے لیے چند اہم اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

اگر کسی بینک اکاؤنٹ میں ایک ماہ کے دوران ایک کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع ہوتی ہے، تو بینک اس اکاؤنٹ کی نگرانی کرے گا تاکہ غیر معمولی مالی لین دین کی نشاندہی کی جا سکے۔

اسی طرح، اگر ایک ماہ میں ایک کروڑ روپے سے زیادہ نقد رقم نکالی جاتی ہے، تو قابلِ اطلاق ٹیکس قوانین کے مطابق ٹیکس کی کٹوتی ہو سکتی ہے۔

بڑی مالیاتی ٹرانزیکشنز کی صورت میں بینک رقم کے ذریعے آمدن (Source of Funds) کی تصدیق بھی طلب کر سکتے ہیں، اور مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دی جا سکتی ہے۔

اس لیے ہر ٹیکس دہندہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بینک اسٹیٹمنٹس، معاہدات، تنخواہ کی سلپس اور دیگر مالی ریکارڈ درست اور مکمل رکھے۔

ان اقدامات کا مقصد کاروبار اور مالیاتی لین دین کو زیادہ شفاف بنانا، غیر دستاویزی معیشت کی حوصلہ شکنی کرنا، اور ٹیکس نظام پر عوام کا اعتماد بڑھانا ہے۔

یاد رکھیں: ہر بڑی مالیاتی ٹرانزیکشن کا ایک جائز اور دستاویزی ذریعہ ہونا چاہیے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی مخصوص معاملے میں قانونی یا ٹیکس مشورے کے لیے متعلقہ قانون یا ماہر سے رہنمائی حاصل کریں۔

ایڈووکیٹ رضوان اللہ خان

03/07/2026

اسلام آباد : حکومت کی جانب سے دس کروڑ کی بینک ٹرانزیکشن کا ڈیٹا رپورٹ کرنے کا قانون نافذ کردیا گیا ، جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک میں ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے سخت اور جدید ترین قانونی طریقہ کار متعارف کرا دیا۔

فنانس ایکٹ 2026ء کے تحت یکم جولائی سے ان تمام بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا ڈیجیٹل اسکروٹنی کے لیے فراہم کیا جائے گا، جن کی 6 ماہ کے دوران بینک ڈپازٹس یا ود ڈرالز کی مالیت 10 کروڑ (100 ملین) روپے سے زائد ہوگی۔

گزشتہ روز جاری ہونے والے فنانس ایکٹ 2026ء کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ایک نئی شق "سیکشن 165AB” شامل کی گئی ہے، جس کا عنوان "بینکنگ کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے مالیاتی لین دین کے ڈیٹا کی رپورٹنگ” ہے۔

اس نئے قانون کے تحت تمام بینکنگ کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ دوسرے بینکنگ یا مالیاتی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مخصوص مالیاتی لین دین کا ڈیٹا الیکٹرانک طریقے سے ایک "سینٹرل ڈیٹا ہب” پر اپ لوڈ کریں، تاکہ بینکنگ اور ٹیکس معلومات کا کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعے موازنہ کیا جا سکے۔

کون سی معلومات شیئر کی جائیں گی؟
بینکس کی جانب سے ایسے اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا شیئر کیا جائے گا جن کے کسی ایک یا تمام بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 6 ماہ کے دوران 10 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی ٹرانزکشنز ہوئیں۔

شیئر کیے جانے والے ڈیٹا میں رقم جمع کروانے اور نکلوانے کی تفصیلات ، اکاؤنٹ کا اوپننگ اور کلوزنگ بیلنس جبکہ پیک کریڈٹ (رپورٹنگ کی مدت کے دوران اکاؤنٹ میں موجود سب سے زیادہ رقم) اور ٹوٹل کریڈٹ شامل ہیں۔

یہ رپورٹنگ مالی سال کے دو حصوں میں ہوگی، پہلی مدت (1 جولائی سے 31 دسمبر) کا ڈیٹا 31 جنوری تک، جبکہ دوسری مدت (1 جنوری سے 30 جون) کا ڈیٹا 31 جولائی تک فراہم کرنا لازمی ہوگا، اس قانون میں کرنٹ، سیونگز، فکسڈ اور ٹرم ڈپازٹس سمیت تمام اقسام کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔

قانون کے مطابق، بینکس کی جانب سے شیئر کی جانے والی معلومات کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ طریقے سے پروسیس کیا جائے گا اور کراس میچنگ کے مرحلے کے دوران یہ ڈیٹا انکم ٹیکس حکام کی پہنچ سے دور رہے گا، تاکہ کسی قسم کی بلیک میلنگ یا ہراساں کرنے کا عنصر شامل نہ ہو۔

اگر سسٹم کو کسی اکاؤنٹ ہولڈر کے ٹیکس ریکارڈ اور بینک بیلنس میں بڑا فرق نظر آیا، تو ایف بی آر کا خودکار ڈیجیٹل نظام اس کیس کو ‘کمپلائنس رسک مینجمنٹ’ سسٹم کے ذریعے "نیشنل فیس لیس سینٹر” کو مزید قانونی کارروائی کے لیے بھیج دے گا۔

اس قانون کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان شیڈولڈ بینکوں کے پاس موجود افراد کے مالیاتی لین دین اور ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک محفوظ، مرکزی اور ورچوئل ڈیٹا بیس بھی قائم کر سکتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بینکوں سے موصول ہونے والی اس معلومات کی سخت رازداری کو یقینی بنائے اور قانون کے علاوہ اس ڈیٹا کے کسی بھی قسم کے غلط استعمال یا افشا کو روکے۔

03/07/2026
07/05/2026

The Federal Constitutional Court (FCC), in a landmark judgment dated May 07, 2026, has declared Section 7E of the Income Tax Ordinance, 2001, unconstitutional, providing significant relief to real estate investors and property owners.

In its short order, the Court struck down the impugned provision and dismissed the appeals filed by the Federal Board of Revenue (FBR) seeking its restoration. Consequently, all actions previously taken by the FBR under Section 7E have been declared unlawful.

It is pertinent to note that the Peshawar High Court and the Balochistan High Court had earlier also held Section 7E to be unconstitutional.

Section 7E had imposed a deemed income tax on certain immovable properties, including plots not put to active use.

Address

Islamabad
Quetta
85500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rizwan Ullah Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share