Rahib Khan Buledi Law Firm

Rahib Khan Buledi Law Firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rahib Khan Buledi Law Firm, Lawyer & Law Firm, universal complex 2nd floor room #6 jinnah Road quetta, Quetta.

🎉 HAPPY BIRTHDAY TO OUR ESTEEMED CEO 🎉Mr. Rahib Khan Buledi , Advocate Supreme Court (ASC)The entire team of Rahib Khan ...
13/10/2026

🎉 HAPPY BIRTHDAY TO OUR ESTEEMED CEO 🎉

Mr. Rahib Khan Buledi , Advocate Supreme Court (ASC)

The entire team of Rahib Khan Buledi Law Firm extends its heartfelt birthday wishes to our respected CEO, Mr. Rahib Khan Buledi, ASC.

Your distinguished leadership, unwavering commitment to justice, and invaluable contribution to the legal profession continue to inspire us all. May this new year of your life bring you good health, lasting happiness, continued success, and greater achievements in the service of justice.

May you continue to lead with wisdom, integrity, and excellence.

Wishing you a very Happy Birthday and many more years of success and prosperity! 🎂⚖️

With utmost respect and best wishes,
Team Rahib Khan Buledi Law Firm
Uzair Baloch Sajjad Murad Abro Adv Ilyas Khosa Adv Aarif Ubaid Umrani Kasi Amel

13/10/2026
⚖️ راحب خان بلیدی لاء فرم کی ایک اور اہم کامیابیراحب خان بلیدی لاء فرم کی جانب سے ٹیم ممبر میر سجاد مراد ابڑو ایڈووکیٹ ن...
20/09/2026

⚖️ راحب خان بلیدی لاء فرم کی ایک اور اہم کامیابی

راحب خان بلیدی لاء فرم کی جانب سے ٹیم ممبر میر سجاد مراد ابڑو ایڈووکیٹ نے قتل کے مقدمہ میں مدعی کی جانب سے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 498 کے تحت دائر درخواستِ ضمانت کی مؤثر پیروی کی۔

مذکورہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 147، 148 اور 149 کے تحت درج تھا۔ میر سجاد مراد ابڑو ایڈووکیٹ نے معزز سیشن جج نصیرآباد، ڈیرہ مراد جمالی کے روبرو درخواستِ ضمانت پر مؤثر دلائل پیش کیے۔

معزز عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواستِ ضمانت مسترد کر دی، جس کے نتیجے میں ہمارے معزز موکل کے حق میں اہم قانونی کامیابی حاصل ہوئی۔

راحب خان بلیدی لاء فرم — مؤثر قانونی نمائندگی، مضبوط دلائل اور انصاف کے حصول کے لیے پُرعزم۔
Rahib Khan Buledi Law Firm ⚖️
Rahib Khan Buledi ASC
Sajjad Murad Abro
Uzair Baloch

⚖️ الحمدللہ — ایک اور اہم قانونی کامیابی ⚖️وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے آج سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار شیر افغان کی ج...
11/09/2026

⚖️ الحمدللہ — ایک اور اہم قانونی کامیابی ⚖️

وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے آج سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار شیر افغان کی جانب سے دائر درخواست خارج کر دی، جس کے نتیجے میں چیئرمین میونسپل کمیٹی کوہلو علی شیر زرکون اور دیگر جواب دہندگان کے حق میں ایک اور اہم قانونی کامیابی حاصل ہوئی۔

واضح رہے کہ سابق چیئرمین سردار شیر افغان کی جانب سے چیئرمین میونسپل کمیٹی کوہلو علی شیر زرکون اور دیگر کونسلران کے خلاف ابتدائی طور پر بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے معزز بلوچستان ہائی کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے خلاف سابق چیئرمین کی جانب سے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا گیا، تاہم آج وفاقی آئینی عدالت نے بھی مذکورہ درخواست خارج کر دی۔

اس مقدمے میں علی شیر زرکون اور دیگر جواب دہندگان کی جانب سے جناب راحب خان بلیدی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مقدمے کی پیروی کی، جبکہ عزیر حسین شاہوانی ایڈووکیٹ اور میر سجاد مراد ابڑو ایڈووکیٹ نے جناب راحب خان بلیدی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی معاونت کی۔

سابق چیئرمین سردار شیر افغان کی جانب سے اکرم شاہ ایڈووکیٹ جبکہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے لاء آفیسر میر حمزہ عدالت میں پیش ہوئے۔

🏆 بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست کی برخاستگی کے بعد وفاقی آئینی عدالت میں بھی چیلنج کا اخراج — مضبوط قانونی مؤقف، مؤثر دلائل اور پیشہ ورانہ قانونی پیروی کا ایک اور شاندار ثبوت۔

چیئرمین میونسپل کمیٹی کوہلو علی شیر زرکون اور دیگر جواب دہندگان کو اس اہم قانونی کامیابی پر دلی مبارکباد۔

Rahib Khan Buledi Advocate Supreme Court
Assisted by: عزیر حسین شاہوانی ایڈووکیٹ & میر سجاد مراد ابڑو ایڈووکیٹ
Uzair Baloch Sajjad Murad Abro
Rahib Khan Buledi Law Firm ⚖️

⚖️ الحمدللہ، ایک اور اہم عدالتی کامیابیراحب خان بلیدی لاء فرم کی قانونی ٹیم، جس میں عزیر حسین شاہوانی ایڈووکیٹ، میر سجاد...
09/09/2026

⚖️ الحمدللہ، ایک اور اہم عدالتی کامیابی

راحب خان بلیدی لاء فرم کی قانونی ٹیم، جس میں عزیر حسین شاہوانی ایڈووکیٹ، میر سجاد مراد ابڑو ایڈووکیٹ، اقرا کریم ایڈووکیٹ,مقصود بلیدی ایڈووکیٹ اور عارف عمرانی ایڈووکیٹ شامل ہیں، نے معزز اسپیشل جج PECA/سیشن جج، کوئٹہ کی عدالت میں ملزم کی جانب سے پیش ہو کر PECA کی دفعہ 20 کے تحت درج مقدمے میں دفعہ 265-K ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت بریت کی درخواست پر مؤثر، مدلل اور جامع قانونی دلائل پیش کیے۔

معزز عدالت نے وکلاء کے مؤثر دلائل اور پیش کردہ قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو مقدمے سے باعزت بری کر دیا۔

یہ اہم عدالتی کامیابی راحب خان بُلیڈی لاء فرم کی قانونی مہارت، پیشہ ورانہ عزم اور حصولِ انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کی عکاس ہے۔
Rahib Khan Buledi Law Firm
Rahib Khan Buledi ASC
Uzair Baloch Advocate
Adv Aarif Ubaid Umrani Advocate
⚖️ Rahib Khan Buledi Law Firm
Committed to Justice | Dedicated to Law | Excellence in Advocacy.
Criminal Lawyer

1۔ کیا ماہرِ تحریر کی رائے قابلِ قبول متعلقہ شہادت ہے؟2۔ کیا ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی شہادت کمزور ہونا، اسے ناقابلِ قبول ب...
02/09/2026

1۔ کیا ماہرِ تحریر کی رائے قابلِ قبول متعلقہ شہادت ہے؟
2۔ کیا ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی شہادت کمزور ہونا، اسے ناقابلِ قبول بناتا ہے؟
3۔ کیا آرٹیکل 59 اور آرٹیکل 84 باہم متضاد ہیں؟
4۔ کیا صرف ٹرائل میں تاخیر کا خدشہ دفاعی حق ختم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے؟
مختصر حقائقِ مقدمہ

اپیل کنندہ محمد ارسلان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 147/2022، تھانہ سمہ سٹہ، بہاولپور میں دفعہ 9(c) CNSA 1997 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ الزام تھا کہ اس کے قبضہ سے 1080 گرام کرسٹل آئس برآمد ہوئی۔

استغاثہ کے چھ گواہان کے بیانات مکمل ہونے کے بعد جب ملزم کا بیان دفعہ 342 ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ ہونا تھا تو ملزم نے آرٹیکل 59 قانونِ شہادت اور آرٹیکل 10-A آئین کے تحت درخواست دی کہ:

ریکوری میمو

شکایت

موقع کا نقشہ

کو ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کے پاس بھیجا جائے، کیونکہ استغاثہ کے اہم گواہ اور تفتیشی افسر PW-3 نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دستاویزات اسی کی تحریر میں ہیں۔

دورانِ جرح PW-3 نے اپنی تحریر دوبارہ لکھنے کی صلاحیت کے بارے میں متضاد بیانات دیے۔ ٹرائل کورٹ نے یہ کہہ کر درخواست مسترد کردی کہ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی رائے کمزور نوعیت کی شہادت ہے اور مقدمہ پہلے ہی آخری مرحلے میں ہے۔

لاہور ہائیکورٹ، بہاولپور بینچ نے قرار دیا کہ دستاویزات کی اصلیت اور مصنفیت ایک اہم متنازعہ امر ہے، اس لیے ملزم کو ماہرِ تحریر سے رائے حاصل کرنے کا موقع دینا منصفانہ ٹرائل کا حصہ ہے۔ چنانچہ اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا اور درخواست منظور کرلی گئی۔

---

اہم قانونی اصول / Legal Propositions

1۔ ماہرِ تحریر کی رائے قابلِ قبول متعلقہ شہادت ہے

آرٹیکل 59 قانونِ شہادت کے تحت کسی تحریر یا دستخط کی شناخت کے متعلق ماہرِ تحریر کی رائے ایک Relevant Fact ہے۔ اگرچہ یہ حتمی یا فیصلہ کن شہادت نہیں، لیکن عدالت اسے نظرانداز نہیں کرسکتی جب مصنفیت حقیقی طور پر متنازع ہو۔

2۔ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی شہادت کمزور ہونا، اسے ناقابلِ قبول نہیں بناتا

عدالت نے واضح کیا کہ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی رائے عمومی طور پر کمزور اور غیر حتمی شہادت سمجھی جاتی ہے، مگر صرف اسی بنیاد پر ملزم کو ایسی شہادت پیش کرنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ اس کی وقعت کا تعین مقدمے کے تمام شواہد کا جائزہ لیتے وقت کیا جائے گا۔

3۔ آرٹیکل 59 اور آرٹیکل 84 باہم متضاد نہیں

آرٹیکل 59 ماہر کی رائے جبکہ آرٹیکل 84 عدالت کو تحریر یا دستخط کا موازنہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ دونوں دفعات باہم معاون ہیں، متبادل اور باہم متصادم نہیں۔

4۔ عدالت کو محض ظاہری موازنے پر انحصار کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے

ہینڈ رائٹنگ کا موازنہ ایک پیچیدہ اور محتاط طریقے سے کیا جانے والا عمل ہے۔ خصوصاً جب جعل سازی یا تحریر کی مصنفیت سنجیدگی سے متنازع ہو، تو ماہر کی معاونت مفید بلکہ بعض حالات میں ضروری ہوسکتی ہے۔

5۔ آرٹیکل 84 کے تحت عدالتی موازنہ ہر صورت ممکن نہیں

موجودہ مقدمے میں PW-3 کی کوئی ایسی تسلیم شدہ یا ثابت شدہ تحریر ریکارڈ پر موجود نہیں تھی جس سے عدالت آرٹیکل 84 کے تحت متنازعہ تحریر کا موازنہ کرسکتی۔ اس لیے ماہرِ تحریر سے رائے لینا مناسب راستہ تھا۔

6۔ دفاع کو متعلقہ شہادت پیش کرنے کا مناسب موقع دینا Fair Trial کا حصہ ہے

آرٹیکل 10-A آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل میں ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مناسب اور مؤثر موقع دینا شامل ہے۔ ایسی شہادت جو دفاع کے بنیادی مؤقف سے براہِ راست متعلق ہو، محض رسمی یا طریقہ کار کی بنیاد پر روکی نہیں جاسکتی۔

7۔ CNSA کی دفعہ 29 کا Reverse Burden مطلق نہیں

دفعہ 29 CNSA کے تحت ملزم کے خلاف مفروضہ اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب استغاثہ پہلے ایک Prima Facie قابلِ اعتبار مقدمہ قائم کرے۔ یہ دفعہ استغاثہ کو اپنی ابتدائی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی۔

8۔ Recovery proceedings کی مصنفیت متنازع ہو تو یہ بنیادی مسئلہ ہے

جب ملزم یہ مؤقف اختیار کرے کہ ریکوری میمو اور دیگر اہم دستاویزات پولیس افسر نے خود تحریر نہیں کیں بلکہ کارروائی بعد میں تیار کی گئی، تو ان دستاویزات کی authorship کا تعین مقدمے کے فیصلہ پر اثر انداز ہونے والا مادی مسئلہ بن سکتا ہے۔

9۔ صرف ٹرائل میں تاخیر کا خدشہ دفاعی حق ختم کرنے کی بنیاد نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ procedural convenience یا مقدمے میں معمولی تاخیر، ملزم کے بنیادی حقِ دفاع پر غالب نہیں آسکتی۔ اگر ماہر کی رائے کسی اہم متنازعہ امر کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہو تو صرف تاخیر کی بنیاد پر اسے مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

10۔ دفعہ 540 ضابطہ فوجداری وسیع اختیار فراہم کرتی ہے

عدالت کسی بھی مرحلے پر ایسی شہادت طلب کرسکتی ہے جو منصفانہ فیصلہ کے لیے ضروری ہو۔ اگر ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی رائے کسی اہم تنازع کو حل کرنے کے لیے ضروری ہو تو دفعہ 540 کے تحت بھی عدالت مناسب حکم دے سکتی ہے۔

11۔ درخواست مسترد کرتے وقت وجوہات دینا ضروری ہیں

اگر کسی فریق کی طرف سے اہم دستاویز کی اصلیت جانچنے کے لیے ماہر کی رائے طلب کی جائے اور عدالت اسے مسترد کرے تو، خصوصاً جب وہ دستاویز مقدمے کے نتیجے پر اثرانداز ہوسکتی ہو، عدالت کو مناسب اور معقول وجوہات ریکارڈ کرنا لازم ہے۔

12۔ موجودہ مقدمے کا مرکزی Ratio

جب دفاع کسی اہم استغاثہ دستاویز کی مصنفیت/اصلیت کو سنجیدگی سے چیلنج کرے، اور جرح کے دوران متعلقہ گواہ کے بیانات سے حقیقی تنازع بھی پیدا ہوجائے، تو محض یہ کہہ کر ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی رائے حاصل کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسی رائے کمزور یا غیر حتمی شہادت ہے۔ ایسی صورت میں دفاع کو ماہر کی رائے حاصل کرنے کا موقع دینا آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کا تقاضا ہوسکتا ہے۔

اہم نکتہ: اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی رائے لازماً درست یا فیصلہ کن ہوگی؛ اصل اصول یہ ہے کہ متعلقہ اور مادی دفاعی شہادت پیش کرنے کا موقع پہلے دیا جائے، اس کی وقعت کا فیصلہ بعد میں کیا جائے۔
Rahib Khan Buledi Law Firm
Uzair Baloch Rahib Khan Buledi
Sajjad Murad Abro
fans






🚨 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: CNS کیس میں 12 کلو چرس کیس ختمTariq Sajjad Khan v. The State | 2026 SCMR 1215_فیصلہ: 23 اک...
02/09/2026

🚨 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: CNS کیس میں 12 کلو چرس کیس ختم
Tariq Sajjad Khan v. The State | 2026 SCMR 1215
_فیصلہ: 23 اکتوبر 2025 | بینچ: جسٹس محمد ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس علی باقر نجفی_

کیس کا پس منظر:
اینٹی نارکوٹکس فورس نے 06.08.2017 کو ملزم سے موٹر سائیکل پر *12 کلو چرس* برآمدگی کا دعویٰ کیا۔
ٹرائل کورٹ نے 12 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سزا کم کر کے "مدت جو گزار چکے" کر دی۔
سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا؟ اور ملزم کیوں بری ہوا ⚖️

سپریم کورٹ نے conviction اور sentence دونوں ختم کر کے ملزم کو بری کر دیا۔ 3 بڑی وجوہات:

1. شہادت میں سنگین تضادات - Benefit of Doubt*
1. وزن کا فرق: FIR میں ہر پیکٹ 1200 گرام لکھا تھا = 12 کلو۔ لیکن عدالت میں کھول کر تولنے پر 10 پیکٹ کا کل وزن 9.930 کلو* نکلا۔ انفرادی وزن بھی 912 گرام سے 1096 گرام تک تھا۔
2. رنگ کا فرق:
گواہ نے کہا برآمد شدہ چرس کا رنگ "بھورا" تھا۔ لیکن عدالت میں کھولنے پر وہ "کالا" نکلا۔
3. Roznamcha میں اندراج نہیں:* مالِ مقدمہ پولیس اسٹیشن پہنچا لیکن روزنامچے میں چرس کی کوئی تفصیل نہیں لکھی گئی۔ صرف موٹر سائیکل کا ذکر تھا۔

2. CNS ایکٹ میں Proof کا Standard سب سے بلند ہے*
عدالت نے کہا: _"Control of Narcotic Substances Act, 1997 ایک سخت قانون ہے۔ اس لیے اس کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے شہادت کا معیار بھی سب سے اعلیٰ ہونا چاہیے، جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو۔"_
لیکن استغاثہ اس معیار پر پورا نہ اتر سکا۔

3. CCTV فوٹیج نہ دینا = شک پیدا ہونا
ملزم نے شروع سے کہا تھا کہ یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔ اس نے پولیس اسٹیشن کی *CCTV فوٹیج* مانگی تاکہ ثابت کرے کہ برآمدگی پلانٹ کی گئی۔
تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ کیمرے لگے تھے لیکن فوٹیج قبضے میں نہیں لی گئی اور نہ عدالت میں پیش کی گئی۔
سپریم کورٹ نے کہا: _"اگر CCTV فوٹیج پیش کی جاتی تو یہ فیصلہ کن طور پر ملزم کی بے گناہی یا جرم ثابت کر سکتی تھی۔"_

بونس قانونی نکتہ: Sec 423 CrPC
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ *اپیلٹ کورٹ کا فرض صرف رسمی نہیں ہے۔ Sec 423 CrPC کے تحت اپیلٹ کورٹ کو ریکارڈ پرکھ کر میرٹ پر فیصلہ کرنا لازمی ہے، چاہے وکیل صرف سزا کم کرنے کی استدعا ہی کیوں نہ کرے۔

نتیجہ: اپیل منظور۔ سزا ختم۔ ملزم بری ✅

🎯 وکلاء اور عوام کے لیے 3 بڑے سبق:
1. *Narcotics کیس میں وزن، رنگ، اور سیزنگ کی کارروائی میں ایک گرام کا فرق بھی کیس ختم کروا سکتا ہے۔
2. *CCTV, Roznamcha جیسے ثبوت نہ دینا استغاثہ کے لیے مہنگا پڑتا ہے۔
3. اپیل میں صرف سزا کم مانگنے سے بھی کورٹ conviction کو خود پرکھنے کی پابند ہے۔

قانون کا اصول: _"شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو جائے گا"_

اس فیصلے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں 👇

#وکیل




_مزید اہم فیصلوں کی آسان وضاحت کے لیے پیج فالو کریں_

CEO Rahib Khan Buledi Law Firm Mr. Rahib Khan Buledi ASC, Member Balochistan Bar Council, Ex Member Judicial Commission ...
30/08/2026

CEO Rahib Khan Buledi Law Firm Mr. Rahib Khan Buledi ASC, Member Balochistan Bar Council, Ex Member Judicial Commission of Pakistan, Ex Vice Chairman Balochistan Bar Council addressing Members of Sindh High Court Bar Association at Bar Room SHC Karachi , during a program.






30/11/2025
30/11/2025

Address

Universal Complex 2nd Floor Room#6 Jinnah Road Quetta
Quetta
87500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahib Khan Buledi Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share