23/07/2026
بلوچستان بار کونسل کے ممبر افضل حریفال ایڈووکیٹ نے مستونگ میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین محمد زمان کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ججز اور عدلیہ پر حملہ دراصل ریاست، آئین اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی اور دہشت گردی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جہاں زیارت، ہنہ اوڑک، کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر مسافروں کو نشانہ بنانے، قومی شاہراہوں پر بے گناہ ٹرانسپورٹرز کی گاڑیاں جلانے اور دیگر مختلف دہشت گرد واقعات میں درجنوں بے گناہ شہری، سیکیورٹی اہلکار، سرکاری افسران اور وکلا اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔افضل حریفال ایڈووکیٹ نے کہا کہ دہشت گرد عناصر منظم انداز میں صوبے کے امن، عدالتی نظام اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ سیکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ناکامی کو مذمتی بیانات سے چھپانے کی بجائے اس المناک واقعے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ بلوچستان میں شاہراہوں، عدالتی افسران، وکلا اور عام شہریوں کی حفاظت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اور دیرپا سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کا سدباب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بار کونسل شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ہر سطح پر قانون کی حکمرانی، انصاف کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے گی۔