Umar khan official

Umar khan official We are providing our services FBR ALL MATTERS INCOME TAX SALE TAX CORPORATE PORTAL
FAMILY LAW & constitution laws ⚖️⚖️⚖️.

BALOCHISTAN REVENUE AUTHORITY REGISTRATION ALL MATTERS
SECP/ Chamber membership ETC

🇵🇰 پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں پر ایک طنزیہ تبصرہاوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5...
20/07/2026

🇵🇰 پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں پر ایک طنزیہ تبصرہ

اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

اگر حکومت روزانہ یہی 35 پیسے کی بچت جاری رکھے، تو ایک سال بعد شاید آپ اتنی رقم بچا لیں کہ آدھا کلو آم خرید سکیں! 🍋😄

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

19/07/2026

ارینج میرج میں طلاقیں بہت کم ہوتی ہیں کیوں کہ جو بندہ/بندی اپنی مرضی سے شادی نہیں کرسکتا وہ طلاق کیا دے گا

Adv umar achakzai✅  *Company registration*✅  *Import export license*✅  *PEC registration*✅  *PSEB registration*✅  *Trade...
24/04/2026

Adv umar achakzai
✅ *Company registration*
✅ *Import export license*
✅ *PEC registration*
✅ *PSEB registration*
✅ *Trade mark registration*
✅ *Filer / tax return*
✅ *NTN*
✅ *GST*
✅ *PRA / SRB / KPRA*
✅ *CHAMBER MEMBERSHIP*
✅ *FBR NOTICES*
✅ *SECP

اسلام علیکم!
آپ ہم سے فائلر بننے,سالانہ گوشوارے جمع کروانے اور ٹیکس کے متعلق تمام سروسز حاصل کر سکتے ہیں
• این ٹی این /انکم ٹیکس رجسٹریشن
• سیلز ٹیکس/ کمپنی رجسٹریشن/ ریٹرن
•سیلری / اورسیزپاکستانی ریٹرن
• ایس ایم سی / ٹریڈ مارک رجسٹریشن

عوامی آگاہی بیانتمام شہریوں کے لیے اہم اطلاع:آج کوئٹہ سٹی کورٹ کے باہر سیکیورٹی چیکنگ کے دوران ایک شخص نے خود کو وکیل (ا...
13/04/2026

عوامی آگاہی بیان

تمام شہریوں کے لیے اہم اطلاع:

آج کوئٹہ سٹی کورٹ کے باہر سیکیورٹی چیکنگ کے دوران ایک شخص نے خود کو وکیل (ایڈووکیٹ) ظاہر کیا۔ جب اس کا کارڈ چیک کیا گیا تو وہ جعلی نکلا۔ اس جعلسازی پر اس کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

عوام سے درخواست ہے کہ وکلا کے جعلی کارڈ نہ بنائیں، ورنہ آپ کے خلاف بھی مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔ نیز اپنی گاڑیوں پر "ایڈووکیٹ" کا جھوٹا بورڈ نہ لگائیں۔ یہ قانونی جرم ہے اور اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔

ہوشیار رہیں، قانون کا احترام کریں۔

قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی قانونی حیثیت اور دیوانی عدالت کا اختیار:ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ اہم اصول واضح کیا ہے کہ...
10/04/2026

قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی قانونی حیثیت اور دیوانی عدالت کا اختیار:

ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ اہم اصول واضح کیا ہے کہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ (CNIC) اپنے حامل کی منقولہ جائیداد (Movable Property) نہیں ہے، لہٰذا دیوانی عدالتیں اسے بطور جبری اقدام (Coercive Measure) ضبط، منسلک، بلاک یا منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ کارڈ محض ایک شناختی دستاویز ہے جو کسی شخص کی شناخت ثابت کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے، نہ کہ اسے کسی قسم کا حقِ ملکیت فراہم کرتا ہے۔

قانون کے مطابق ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ خود کو متعلقہ اتھارٹی (نادرا) کے ساتھ رجسٹرڈ کروائے۔ نادرا کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ درحقیقت وفاقی حکومت کی ملکیت ہوتا ہے، جیسا کہ نادرا آرڈیننس، 2000 کی دفعہ 18 میں واضح کیا گیا ہے۔ اس کارڈ کو نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ منتقل کیا جا سکتا ہے، نہ کسی دوسرے کے قبضہ میں دیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی یہ حامل کی وفات کے بعد وراثت میں منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کسی بھی صورت میں جائیداد کے زمرے میں نہیں آتا، اگرچہ بظاہر یہ ایک مادی (Physical) شے ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ چونکہ CNIC کو منقولہ جائیداد تصور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دیوانی عدالتیں اسے کسی مقدمہ میں دباؤ ڈالنے کے لیے بطور ذریعہ استعمال نہیں کر سکتیں۔ چنانچہ اسے ضبط کرنا، بلاک کرنا یا منسوخ کرنا دیوانی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ اس قسم کے اقدامات صرف متعلقہ مجاز اتھارٹی یعنی نادرا ہی کر سکتی ہے، اور وہ بھی صرف ان حالات اور طریقہ کار کے مطابق جو قانون میں، خصوصاً نادرا آرڈیننس، 2000 کی دفعہ 18 میں مقرر کیے گئے ہیں۔

لہٰذا عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ CNIC کی حیثیت محض ایک شناختی دستاویز کی ہے، نہ کہ جائیداد کی، اور اسے دیوانی کارروائی میں بطور جبری ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ: رٹ پٹیشن نمبر 8895 بابت 2025
محمد علی انصاری بنام وفاقِ پاکستان و دیگر

📱

قانون ہر معاملے کے لیے مخصوص وقت مقرر کرتا ہے، جسے Limitation Period کہا جاتا ہے۔🔹 اپیل اور عدالتی درخواستوں کی اہم مدتی...
26/01/2026

قانون ہر معاملے کے لیے مخصوص وقت مقرر کرتا ہے، جسے Limitation Period کہا جاتا ہے۔
🔹 اپیل اور عدالتی درخواستوں کی اہم مدتیں:
▪️ ڈسٹرکٹ کورٹ میں سول اپیل — 30 دن
▪️ ہائی کورٹ میں پہلی اپیل — 90 دن
▪️ ہائی کورٹ میں دوسری اپیل — 60 دن
▪️ ریویژن (Revision Petition) — 90 دن
⏰ ان مدتوں کے بعد اپیل دائر کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور تاخیر کی معقول وجہ دینا لازمی ہوتی ہے۔
💰 مالی معاملات اور سول دعوے:
▪️ رقم کی وصولی
▪️ معاہدے (Agreement / Contract) کی خلاف ورزی
➡️ ان معاملات میں عدالت جانے کی مدت عموماً 3 سال ہوتی ہے۔
اگر 3 سال گزر جائیں تو دعویٰ مدتِ معیاد کی بنیاد پر مسترد ہو سکتا ہے۔
🏠 جائیداد کے معاملات:
▪️ غیر منقولہ جائیداد پر قبضے یا ملکیت کا دعویٰ — 12 سال
▪️ عدالتی ڈگری پر عملدرآمد (Ex*****on) — 12 سال
⚠️ بہت سے لوگ ڈگری حاصل کرنے کے بعد مطمئن ہو جاتے ہیں،
مگر یاد رکھیں:
ڈگری پر عملدرآمد نہ کیا جائے تو وہ کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہے۔
📝 تحریری جواب (Written Statement):
عدالت کی جانب سے سمن موصول ہونے کے بعد:
➡️ 30 دن کے اندر تحریری جواب دینا لازمی ہے
➡️ غیر معمولی حالات میں عدالت زیادہ سے زیادہ 90 دن تک توسیع دے سکتی ہے
❌ بلاجواز تاخیر پر دفاع کا حق ختم بھی ہو سکتا ہے۔
🚗 موٹر وہیکل ایکسیڈنٹ کلیم:
قانون میں کوئی سخت مدت مقرر نہیں،
لیکن: ⚠️ غیر ضروری تاخیر
⚠️ شواہد کے ضائع ہونے
⚠️ گواہوں کے غائب ہونے
کی وجہ سے کلیم کمزور ہو سکتا ہے۔
⚠️ چیک ڈس آنر (سیکشن 138):
✔️ چیک باؤنس ہونے کے بعد:
📨 30 دن کے اندر قانونی نوٹس دینا لازمی
✔️ نوٹس ملنے کے بعد اگر 15 دن میں ادائیگی نہ ہو:
📄 اگلے 30 دن کے اندر مقدمہ دائر کرنا ضروری ہے
⛔ ایک دن کی تاخیر بھی کیس کو ناقابلِ سماعت بنا سکتی ہے۔

Address

JINNAH Road
Quetta
873000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umar khan official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share