Abbas Khan Sangeen Advocate

Abbas Khan Sangeen Advocate Chairman Voice of Justice

22/08/2026

بے یقینی، بے اعتمادی اور بدگمانی—یہ تینوں چیزیں انسان کے دل کا سکون چھین لیتی ہیں اور اسے بے چینی کی دُلدل میں دھکیل دیتی ہیں۔

اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو گمان کو اچھا رکھیں اور اعتماد بحال کریں۔ 🌸✨

سپریم کورٹ آف پاکستان کا کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے اہم فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹریکٹ ملازمین کی مستق...
22/08/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے اہم فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے ایک نہایت اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جب قانون کسی کنٹریکٹ ملازم کو مقررہ شرائط پوری ہونے پر مستقل ملازم تصور کرتا ہے تو محکمہ انتظامی تاخیر یا کسی مصنوعی رکاوٹ کے ذریعے اس کے قانونی حق کو روک نہیں سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ قانون کے ذریعے پیدا ہونے والا یہ حق قانون کے عمل سے خود بخود نافذ ہوتا ہے اور متعلقہ محکمہ اس پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔

مقدمے کے حقائق

اس مقدمے میں درخواست گزار پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی اوپتھلمولوجی (PICO)، پشاور سے متعلق معاملہ تھا، جبکہ جواب دہندگان نصیرہ بیگم اور ایک دوسرے ملازم نے اپنی مستقلی کے لیے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔

دونوں ملازمین کو 26 دسمبر 2001 کو تعینات کیا گیا تھا اور وہ سال 2001 سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور میں بغیر کسی وقفے کے مسلسل اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

بعد ازاں حکومتِ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے 3 جون 2010 کو ایک اعلامیہ جاری کیا، جس کے ذریعے متعلقہ طبی و صحت کے اداروں سے متعلق قانون کا اطلاق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی اوپتھلمولوجی پر کیا گیا اور یہ ادارہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے انتظامی کنٹرول میں آ گیا۔

2006 کی اہم قانونی ترمیم

اصل قانون کے تحت ادارے کے ملازمین کو کنٹریکٹ بنیادوں پر مقرر کیا جاتا تھا اور انہیں سول سرونٹ یا سرکاری ملازم تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

تاہم 2006 میں قانون میں اہم ترمیم کی گئی۔

ترمیم شدہ قانون میں یہ اصول متعارف کرایا گیا کہ اگر کوئی شخص مقررہ طریقہ کار کے مطابق کسی عہدے یا سروس کے لیے منتخب ہو لیکن اسے کنٹریکٹ بنیادوں پر مقرر کیا گیا ہو تو اسے قانون میں مقررہ وقت یا اس کی مسلسل تقرری کی تاریخ، جو بھی بعد میں ہو، سے متعلقہ ادارے میں مستقل بنیادوں پر مقرر شدہ تصور کیا جائے گا۔

مزید برآں ایسے ملازم کو تمام مقاصد کے لیے متعلقہ ادارے کا مستقل ملازم تصور کیا گیا، البتہ پنشن اور گریجویٹی کے حوالے سے قانون میں مخصوص استثنا رکھا گیا تھا۔

ملازمین کا مؤقف

ملازمین کا مؤقف تھا کہ اگرچہ ان کی ابتدائی تقرری سال 2001 میں کنٹریکٹ بنیادوں پر ہوئی تھی، لیکن بعد میں 2006 کی ترمیم کے ذریعے قانون نے انہیں مستقل ملازم تصور کرنے کا واضح قانونی حق فراہم کر دیا۔

اسی قانونی بنیاد پر انہوں نے متعلقہ ٹربیونل سے اپنی مستقلی کا حق طلب کیا۔

ٹربیونل کا فیصلہ

خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل نے قانون میں کی گئی 2006 کی ترمیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمین کی اپیل منظور کر لی اور انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی اوپتھلمولوجی، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور کے مستقل ملازمین تصور کرنے کی ہدایت جاری کی۔

اس فیصلے کے خلاف ادارے کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں محکمہ کا مؤقف

سپریم کورٹ کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ متعلقہ افراد کنٹریکٹ ملازمین تھے، اس لیے ان کا معاملہ آجر اور ملازم کے تعلق سے متعلق تھا اور انہیں اپنے حق کے حصول کے لیے سول عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

تاہم عدالت کے سامنے یہ بھی تسلیم شدہ امر تھا کہ قانون میں ترمیم کے ذریعے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا قانونی فائدہ فراہم کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کی اہم آبزرویشنز

سپریم کورٹ نے متعلقہ قانون اور 2006 کی ترمیم کا تفصیلی جائزہ لیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ترمیم شدہ قانون میں استعمال ہونے والا لفظ "تصور کیا جائے گا" ایک اہم قانونی اثر رکھتا ہے۔ جب قانون کسی شخص کو کسی مخصوص قانونی حیثیت میں تصور کرتا ہے تو اس قانونی مفروضے کو اس کے مکمل قانونی نتائج کے ساتھ نافذ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ قانون ساز ادارے نے جب کنٹریکٹ ملازم کو قانون کے تحت مستقل تصور کیا تو یہ قانون سازوں کا واضح قانونی حکم تھا۔ اس حکم کو محض انتظامی کارروائی یا غیر ضروری رکاوٹوں کے ذریعے بے اثر نہیں کیا جا سکتا۔

محکمہ انتظامی تاخیر کے ذریعے حق نہیں روک سکتا

سپریم کورٹ نے نہایت اہم اصول بیان کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ضروری کارروائی مکمل کرتا اور قانون کے مطابق ملازمین کو ان کا حق فراہم کرتا۔

اگر محکمہ قانونی حکم کے باوجود کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت کو مستقل ملازمت میں تبدیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی مستقلی کا قانونی عمل شروع ہو گیا تھا، اس لیے محکمہ انتظامی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر کر کے ملازم کے قانونی حق کو مؤخر نہیں کر سکتا تھا۔

ملازمین کے حق میں بنائے گئے قوانین کی تشریح

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب کوئی قانون ملازمین یا عوام کے فائدے کے لیے بنایا گیا ہو تو اس کی تشریح اس انداز میں کی جانی چاہیے جس سے قانون کا اصل مقصد حاصل ہو۔

ایسے قوانین کی تشریح کرتے ہوئے عدالتوں کو محض تنگ اور محدود تشریح اختیار نہیں کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں قانون کے ذریعے دیا گیا فائدہ ہی ختم ہو جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ فائدہ مند قانونی شق کا مقصد حقوق، مراعات یا مالی فوائد فراہم کرنا ہو تو قانون کی تشریح ایسی ہونی چاہیے جو اس مقصد کو آگے بڑھائے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مذکورہ ترمیم نہ صرف ملازمین کے لیے فائدہ مند تھی بلکہ اصلاحی نوعیت کی بھی تھی، جس کا مقصد سابقہ قانون کی خامیوں اور مشکلات کو دور کرنا اور ملازمین کے حقوق کو مؤثر بنانا تھا۔

مساوی سلوک اور ملازمین کے حقوق

سپریم کورٹ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، آرٹیکل 3 اور آرٹیکل 38 کے اصولوں کا بھی حوالہ دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری اہلکار قانون کے مطابق، نیک نیتی کے ساتھ اور مساوی سلوک کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کے پابند ہیں۔

ریاست پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے، روزگار اور مناسب ذریعۂ معاش کی سہولیات فراہم کرے اور آجر و ملازم کے حقوق کے درمیان منصفانہ توازن قائم کرے۔

سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی، غیر قانونی پن یا ایسی خرابی موجود نہیں جس کی بنیاد پر اس فیصلے کو ختم کیا جا سکے۔

چنانچہ سپریم کورٹ نے Civil Petition No. 578-P of 2024 خارج کر دی اور Leave to Appeal سے انکار کر دیا۔

⚖️ فیصلے کا اہم قانونی اصول

جب قانون کسی کنٹریکٹ ملازم کو مقررہ شرائط پوری ہونے پر مستقل ملازم تصور کرتا ہے تو اس کا حق قانون کے عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ محکمہ انتظامی تاخیر، غیر ضروری کارروائی یا کسی مصنوعی رکاوٹ کے ذریعے ملازم کو اس قانونی حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

یہ فیصلہ ان تمام کنٹریکٹ ملازمین کے لیے نہایت اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے جن کے بارے میں کسی قانون یا قانونی ترمیم کے ذریعے مستقلی کا حق پیدا ہوا ہو۔

کیا قید میں دن اور رات دونوں الگ الگ شمار ہوتے ہیں؟ یہ بات قانونا غلط ہے جیل میں بھی باہر کی طرح ایک دن 24 گھنٹے کا ہی ہ...
22/08/2026

کیا قید میں دن اور رات دونوں الگ الگ شمار ہوتے ہیں؟ یہ بات قانونا غلط ہے جیل میں بھی باہر کی طرح ایک دن 24 گھنٹے کا ہی ہوتا ہے۔ تو پھر قیدی اپنی مقررہ سزا کا ٹنے سے قبل کیسے باہر آجاتا ہے؟ ضابطہ فوجداری کے دفعہ 401 اور پرزن رولز کے چیپٹر نمبر 8 کے مطابق قیدی کو مختلف اوقات میں سزا میں خاص و عام معافی کی جاتی ہے۔ کبھی تہوار پہ، کبھی اچھے کردار پر اور اس طرح مختلف قسم کے امتحانات کو پاس کرنے پر بھی معافی دی جاتی ہے۔
تعزیرات پاکستان کے مطابق عمر قید 25 سال ہوتا ہے (جو میرے سمجھ سے باہر ہے) اس طرح قیدی کو عام و خاص معافی دے کر قیدی 7یا 8 سال میں باہر آجاتا ہے حالانکہ یہ پرزن رولز کے خلاف ہے کیونکہ پرزن رول نمبر 217 کے مطابق عمر قید کو 15 سال سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ باقی دنیا میں جہاں صرف Assault اور Battery کے لئے مجرم کو 7 ,8 سال سزا دی جاتی ہے پاکستان میں قتل کے لئے اتنی سزا مختص ہے۔

22/08/2026
کیا کسی ملازم کے خلاف متنازع اور قابلِ ثبوت الزامات ہوں تو اسے باقاعدہ انکوائری کے بغیر، صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر بڑی ...
22/08/2026

کیا کسی ملازم کے خلاف متنازع اور قابلِ ثبوت الزامات ہوں تو اسے باقاعدہ انکوائری کے بغیر، صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر بڑی سزا دی جاسکتی ہے؟
شوکاز نوٹس میں بغیر وجوہات انکوائری ختم کی جاسکتی؟

جب کارروائی PEEDA Act کے تحت شروع کی گئی تھی تو ایسی سزا جو Act میں موجود ہی نہیں قانونی طور پر دی جاسکتی ہے؟

یہ فیصلہ ملازمین کے محکمانہ احتساب، باقاعدہ انکوائری، حقِ سماعت، آرٹیکل 10-A اور PEEDA Act, 2006 کے حوالے سے خاصا اہم ہے۔ عدالت نے بنیادی طور پر یہ قرار دیا کہ متنازع حقائق پر مبنی الزام لگا کر، باقاعدہ انکوائری کے بغیر اور PEEDA Act میں موجود نہ ہونے والی سزا دے کر ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا جا سکتا۔

1۔ مقدمے کا پس منظر

درخواست گزار Shafique Khushnood لاہور جنرل ہسپتال میں مستقل بنیادوں پر Security Guard (BS-01) تھا۔

اس پر دو بنیادی الزامات لگائے گئے:

1. 01.05.2024 کو رات تقریباً 4:30 بجے ہسپتال کے آرتھو وارڈ سے A.C. pipes چوری کرتے ہوئے پکڑے جانے کا الزام۔

2. 15.06.2024 تا 22.07.2024 ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کا الزام۔

محکمے نے 15.07.2024 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، مگر باقاعدہ انکوائری نہیں کرائی اور 24.07.2024 کو اسے ملازمت سے "termination" کے ذریعے فارغ کر دیا۔

اس کی محکمانہ اپیل بھی مسترد ہوگئی۔

بعد ازاں پنجاب سروس ٹربیونل نے بھی یہ کہہ کر اپیل خارج کردی کہ وہ مناسب فورم نہیں تھا، چنانچہ ملازم نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

---

2۔ اصل قانونی سوال کیا تھا؟

عدالت کے سامنے بنیادی طور پر یہ سوال تھا:

کیا کسی ملازم کے خلاف متنازع اور قابلِ ثبوت الزامات ہوں تو اسے باقاعدہ انکوائری کے بغیر، صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر بڑی سزا دی جاسکتی ہے؟

عدالت کا جواب واضح طور پر نہیں تھا۔

---

3۔ انکوائری کیوں ضروری تھی؟

یہ اس فیصلے کا سب سے اہم حصہ ہے۔

ملازم نے چوری کے الزام سے صاف انکار کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ:

> اسے سیکیورٹی سپروائزر نے بتایا کہ کوئی شخص A.C. pipe کاٹ رہا ہے، وہ موقع پر گیا لیکن وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔

لہٰذا معاملہ admitted fact نہیں تھا بلکہ disputed question of fact تھا۔

ایسی صورت میں یہ معلوم کرنا ضروری تھا کہ:

چوری کس نے دیکھی؟

سیکیورٹی سپروائزر نے کیا دیکھا؟

درخواست گزار واقعی موقع پر موجود تھا یا نہیں؟

کوئی A.C. pipe برآمد ہوا یا نہیں؟

کوئی گواہ موجود تھا؟

CCTV یا کوئی دوسری دستاویزی شہادت موجود تھی؟

درخواست گزار ڈیوٹی پر تھا یا غیر حاضر؟

یہ تمام سوالات evidence سے طے ہونے تھے۔

اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ محض شوکاز نوٹس کی بنیاد پر الزام ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

---

4۔ شوکاز نوٹس میں انکوائری ختم کرنے کی وجہ کیوں ناکافی تھی؟

محکمے نے شوکاز نوٹس میں صرف یہ لکھا کہ متعلقہ اتھارٹی کی رائے میں انکوائری ضروری نہیں۔

لیکن عدالت نے کہا کہ صرف یہ کہنا کہ:

"It is not necessary to hold an inquiry"

کافی نہیں ہے۔

اگر محکمہ باقاعدہ انکوائری ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے وجوہات (reasons) تحریری طور پر بیان کرنا ہوں گی کہ:

آخر کن غیر معمولی یا قابلِ جواز حالات کی وجہ سے انکوائری ضروری نہیں ہے۔

اس مقدمے میں ایسی کوئی cogent and justifiable reason موجود نہیں تھی۔

لہٰذا انکوائری ختم کرنا محض ایک whimsical / arbitrary exercise قرار پایا۔

---

5۔ Article 10-A کا اہم کردار

عدالت نے آئین کے Article 10-A کو خاص اہمیت دی۔

Article 10-A کا بنیادی اصول fair trial and due process ہے۔

محکمانہ کارروائی میں بھی جب کسی ملازم پر سنگین الزام لگا کر اسے بڑی سزا دی جارہی ہو تو اسے مناسب موقع ملنا چاہیے کہ وہ:

الزام کا جواب دے؛

شہادت پیش کرے؛

اپنے گواہ پیش کرے؛

مخالف گواہوں سے جرح کرے؛

دستاویزی شہادت کو challenge کرے؛

اور اپنا مکمل دفاع پیش کرے۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کو یہ مواقع نہیں دیے گئے۔

لہٰذا کارروائی Articles 4 & 10-A کے خلاف تھی۔

---

6۔ Article 4 بھی کیوں اہم ہے؟

Article 4 ہر شخص کے اس حق سے متعلق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔

یعنی محکمہ کسی ملازم کے خلاف من مانی کارروائی نہیں کرسکتا۔

اگر قانون کسی خاص طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے تو محکمہ کو اسی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔

اس کیس میں عدالت نے یہی اصول لاگو کیا کہ:

قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کو نظرانداز کرکے ملازم کو سزا دینا قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔

---

7۔ Attendance Register کا کیا اثر تھا؟

درخواست گزار نے جون اور جولائی 2024 کا attendance register بھی پیش کیا۔

عدالت کے مطابق اس میں وہ اکثر تاریخوں پر حاضر دکھائی دے رہا تھا۔

لہٰذا اس کا یہ دفاع بھی ایسا معاملہ تھا جسے محض افسر کی رائے سے ختم نہیں کیا جاسکتا تھا۔

یہ بھی ایک disputed question of fact تھا جسے باقاعدہ انکوائری میں evidence کے ذریعے determine کیا جانا چاہیے تھا۔

---

8۔ Supreme Court کے اہم اصول

عدالت نے کئی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر انحصار کیا۔

(الف) 2026 SCMR 300 — Arbab and others

اس اصول کو reinforce کیا گیا کہ disciplinary proceedings کا مقصد ملازم کو الزام کا دفاع کرنے کا fair and reasonable opportunity دینا ہے۔

(ب) 1996 SCMR 201 — National Bank of Pakistan v. Basharat Ali

قدرتی انصاف کے اصولوں کے تحت ملازم کو اپنے خلاف الزام کا مناسب دفاع کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔

(ج) 2007 SCMR 1726 — Saad Salam Ansari

یہ مقدمہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ PEEDA Act کے تحت ملازم کو بڑی سزا دینے سے پہلے عمومی طور پر inquiry ضروری ہے۔

خصوصاً جب ملازم اپنے خلاف الزام سے انکار کرے تو اسے evidence پیش کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔

(د) 2023 SCMR 291 — Chief Engineer GEPCO v. Khalid Mehmood

یہ اس فیصلے کا انتہائی اہم precedent ہے۔

اصول یہ ہے:

> اگر الزام disputed facts پر مبنی ہو تو باقاعدہ انکوائری ضروری ہے۔

البتہ اگر معاملہ ایسے admitted documents پر مبنی ہو جن پر کوئی حقیقی تنازع نہ ہو تو ہر کیس میں full-fledged inquiry لازمی نہیں۔

یعنی:

Admitted facts/documents → inquiry dispense ہوسکتی ہے

لیکن:

Disputed facts → regular inquiry ضروری

---

9۔ Major Penalty کے معاملے میں اصول

عدالت نے Naseeb Khan v. Divisional Superintendent Pakistan Railways (2008 SCMR 1369) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ:

جب major penalty دی جارہی ہو تو اصولِ قدرتی انصاف کے تحت ملازم کو:

باقاعدہ انکوائری،

دفاع کا موقع،

personal hearing،

اور مناسب طور پر اپنا مؤقف ثابت کرنے کا موقع

دینا ضروری ہے۔

اس کیس میں یہ safeguards فراہم نہیں کیے گئے۔

---

10۔ "Termination" سب سے اہم قانونی نکتہ

یہ فیصلہ صرف عدمِ انکوائری کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ PEEDA Act کے تحت سزا کی قانونی نوعیت کے حوالے سے بھی بہت اہم ہے۔

عدالت نے Section 4 PEEDA Act, 2006 کا جائزہ لیا۔

اس میں major penalties میں شامل ہیں:

Recovery

Reduction to lower post/pay scale

Forfeiture of past service

Compulsory retirement

Removal from service

Dismissal from service

لیکن:

"Termination from service"

بطور penalty PEEDA Act کی Section 4 میں موجود نہیں۔

لہٰذا عدالت نے قرار دیا کہ جب کارروائی PEEDA Act کے تحت شروع کی گئی تھی تو ایسی سزا جو Act میں موجود ہی نہیں، یعنی termination from service، قانونی طور پر نہیں دی جاسکتی۔

یہ ایک independent ground بھی تھا جس کی بنیاد پر impugned order غیر قانونی قرار پایا۔

---

11۔ "Removal" اور "Dismissal" بمقابلہ "Termination"

یہ distinction عملی طور پر بہت اہم ہے۔

عدالت نے یہ نہیں کہا کہ محکمہ کسی ملازم کو کبھی ملازمت سے الگ نہیں کرسکتا۔

بلکہ عدالت نے کہا:

اگر PEEDA Act کے تحت disciplinary proceedings شروع کی گئی ہیں تو سزا بھی اسی Act میں prescribed penalties میں سے ہونی چاہیے۔

یعنی اتھارٹی اپنی طرف سے ایک نئی penalty:

"Termination from service"

نہیں بنا سکتی جب Act میں ایسی penalty موجود نہ ہو۔

---

12۔ Appellate Authority کی غلطی

محکمانہ اپیل مسترد کرتے وقت appellate authority نے بھی معاملے کو مناسب طور پر examine نہیں کیا۔

ہائی کورٹ نے اسے:

mechanical, stereotype and perfunctory

قرار دیا۔

یعنی appellate authority کو یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ:

الزام کس evidence پر ثابت ہوا؟

inquiry کیوں dispense کی گئی؟

employee کو defence کا موقع ملا یا نہیں؟

penalty قانون میں موجود ہے یا نہیں؟

لیکن ایسا meaningful consideration نہیں ہوا۔

---

13۔ High Court کا حتمی حکم

ہائی کورٹ نے:

دونوں impugned orders set aside کردیئے۔

یعنی:

24.07.2024 کا termination order ختم۔

19.09.2024 کا departmental appellate order ختم۔

اور درخواست گزار کو:

service میں reinstate

کرنے کا حکم دیا۔

---

14۔ لیکن back benefits خودکار طور پر نہیں دیے گئے

یہ ایک اہم نکتہ ہے۔

عدالت نے فوراً مکمل back benefits دینے کا حکم نہیں دیا۔

بلکہ competent authority کو ہدایت کی کہ:

back benefits کا معاملہ قانون کے مطابق decide کیا جائے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ reinstatement تو ہوگئی، لیکن پچھلی مدت کی تنخواہ، واجبات وغیرہ کا فیصلہ متعلقہ اتھارٹی کو قانون کے مطابق کرنا ہوگا۔

---

15۔ محکمہ دوبارہ کارروائی کرسکتا ہے؟

جی ہاں۔

یہ بھی فیصلے کا بہت اہم حصہ ہے۔

ہائی کورٹ نے صرف یہ کہا کہ موجودہ کارروائی اور سزا غیر قانونی تھی۔

عدالت نے competent authority کو اجازت دی کہ:

الزامات کے بارے میں قانون کے مطابق regular inquiry conduct کی جاسکتی ہے۔

یعنی:

Reinstatement ≠ acquittal from charges

یہ فرق یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔

ملازم کو ابھی چوری کے الزام سے judicially بری قرار نہیں دیا گیا۔

بلکہ عدالت نے کہا کہ:

اس کا جرم یا بے گناہی مناسب انکوائری کے ذریعے طے ہوگی۔

---

16۔ اس فیصلے سے نکلنے والے اہم Legal Propositions



متنازع حقائق پر مبنی الزام صرف show-cause notice کی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔



Major penalty کی صورت میں regular inquiry عمومی اصول ہے۔



Inquiry dispense کی جائے تو competent authority کو واضح، منطقی اور قابلِ جواز وجوہات تحریری طور پر دینی ہوں گی۔



Article 10-A کے تحت fair hearing اور due process محکمانہ disciplinary proceedings میں بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔



ملازم کو مخالف گواہوں سے cross-examination کا مناسب موقع دینا ضروری ہے، جہاں الزام evidence پر منحصر ہو۔



اگر الزام disputed question of fact ہو تو regular inquiry سے گریز نہیں کیا جاسکتا۔



Admitted documents یا admitted facts کی صورت میں ہر کیس میں مکمل inquiry لازمی نہیں۔



محکمہ PEEDA Act میں موجود نہ ہونے والی penalty impose نہیں کرسکتا۔



"Termination from service" Section 4 PEEDA Act میں prescribed penalty نہیں؛ لہٰذا PEEDA proceedings میں اس نام سے major penalty دینا غیر قانونی قرار دیا گیا۔

10۔

Mechanical اور non-speaking departmental appellate order بھی judicial review میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

22/08/2026

دوسروں کا احساس ہی انسانیت ہے..

باپ۔ بیٹا۔۔۔۔👨‍👦💬۔۔۔۔
22/08/2026

باپ۔ بیٹا۔۔۔۔👨‍👦💬۔۔۔۔

21/08/2026

تعلیم سکول بچے اور بارش کا پانی۔۔۔۔

Address

Peshawar
PESHAWAR

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abbas Khan Sangeen Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abbas Khan Sangeen Advocate:

Shortcuts

Share