24/08/2026
پی ایس ٹی بھرتی پر پشاور ہائیکورٹ کا اہم اور قابلِ توجہ فیصلہ — 50 نمبر کی شرط 30 تک کم کرنا قانونی قرار
درخواست گزاروں نے پی ایس ٹی کی آسامیوں کے لیے درخواست دی، بھرتی کے عمل میں حصہ لیا اور اسکریننگ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا، تاہم اپنے متعلقہ یونین کونسلز میں کم میرٹ کی وجہ سے تقرری حاصل نہ کر سکے۔
درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ بعض ملحقہ یونین کونسلز میں پی ایس ٹی کی آسامیاں اس لیے خالی رہ گئیں کیونکہ وہاں کوئی امیدوار مقررہ 50 پاسنگ مارکس حاصل نہیں کر سکا۔ ان کے مطابق محکمہ کو چاہیے تھا کہ ان خالی آسامیوں پر ملحقہ یونین کونسلز کے اہل امیدواروں کو موقع دیا جاتا، لیکن اس کے بجائے محکمہ نے پاسنگ مارکس 50 سے کم کرکے 30 کر دیے، جو ان کے بقول خیبر پختونخوا اپائنٹمنٹ، ڈیپوٹیشن، پوسٹنگ اینڈ ٹرانسفر آف ٹیچرز، لیکچررز، انسٹرکٹرز اینڈ ڈاکٹرز ریگولیٹری ایکٹ 2011 کی دفعہ 3 کے خلاف تھا۔
محکمہ تعلیم کا مؤقف
محکمہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 19 جولائی 2024 کو باقاعدہ پالیسی وضع اور نوٹیفائی کی گئی تھی جس کے مطابق عام حالات میں 50 نمبر qualifying threshold ہے، تاہم اگر کسی یونین کونسل میں 50 نمبر حاصل کرنے والا اہل امیدوار دستیاب نہ ہو تو پاسنگ مارکس کو 30 تک کم کیا جا سکتا ہے تاکہ تدریسی آسامیاں خالی نہ رہیں۔
محکمہ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اس عمل میں باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا، عوامی نوٹس جاری کیا گیا اور عارضی طور پر کم کیے گئے میرٹ کی فہرست بھی شائع کی گئی۔
عدالت کی اہم قانونی وجوہات
عدالت نے قرار دیا کہ:
1️⃣ یونین کونسل کا اصول:
دفعہ 3 کے تحت پی ایس ٹی کی آسامی بنیادی طور پر اسی یونین کونسل سے میرٹ پر پُر کی جانی ہے جہاں امیدوار کا مستقل رہائشی تعلق CNIC اور ڈومیسائل کے مطابق ہو۔
2️⃣ ملحقہ یونین کونسل سے تقرری:
اگر متعلقہ یونین کونسل میں کوئی اہل امیدوار دستیاب نہ ہو تو قانون کے تحت ملحقہ یونین کونسلز کے اہل امیدواروں میں سے تقرری کی جا سکتی ہے۔
3️⃣ 50 سے 30 نمبر تک کمی:
عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 3 متعلقہ اتھارٹی کو qualifying criteria، بشمول کم از کم نمبر مقرر یا revise کرنے سے منع نہیں کرتی، خصوصاً جب یہ اختیار باقاعدہ طور پر نوٹیفائی شدہ پالیسی کے تحت استعمال کیا گیا ہو۔
4️⃣ 19.07.2024 کی پالیسی:
عدالت نے واضح کیا کہ پالیسی میں دو مرحلہ طریقہ کار رکھا گیا تھا؛ پہلے 50 یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں سے آسامی پُر کی جائے گی، اور اگر ایسے امیدوار دستیاب نہ ہوں تو معیار کو 30 نمبروں تک کم کیا جا سکتا ہے۔
5️⃣ 17.10.2025 کی ہدایات:
مذکورہ پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محکمہ نے 17 اکتوبر 2025 کو باقاعدہ ہدایات جاری کیں، لہٰذا محکمہ نے اپنی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے کارروائی کی۔
6️⃣ بدنیتی یا امتیاز ثابت نہیں ہوا:
درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ محکمہ کا اقدام ملا فائیڈ (mala fide)، امتیازی، غیر قانونی یا کسی طریقۂ کار کی خلاف ورزی پر مبنی تھا۔
7️⃣ دفعہ 3 کی خلاف ورزی نہیں:
عدالت نے قرار دیا کہ پالیسی کے مطابق پاسنگ مارکس کم کرنا بذاتِ خود دفعہ 3 کی خلاف ورزی نہیں بنتا، کیونکہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ محکمہ نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا یا کسی لازمی قانونی تقاضے کی خلاف ورزی کی۔
8️⃣ آئینی اختیار میں عدالتی مداخلت کی حد:
عدالت نے واضح کیا کہ آئینی دائرۂ اختیار میں بنیادی طور پر انتظامی اقدام کی قانونی حیثیت، معقولیت اور طریقۂ کار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ عدالتی مداخلت اسی وقت مناسب ہوتی ہے جب واضح قانونی خلاف ورزی، اختیارات کا ناجائز استعمال یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو۔
حتمی فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنی قانونی شکایت ثابت کرنے میں ناکام رہے، اس لیے رِٹ پٹیشن میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں اور اسے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا گیا۔
قانونی مشاورت / واٹس ایپ: 0305-9297957
#خیبرپختونخوا #قانون