Ali & Zeb law firm

Website

Ali & Zeb law firm Trusted Law Firm | Expert Advice & Court Representation | Peshawar KPK, Pakistan

Contact For Assistance.
📞 +92 305 9297957
+92 332 9696342

نیب جائیداد کو سالہا سال منجمد رکھ کر شہری کو غیر معینہ مدت تک اس کے ملکیتی حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتا مرکزی قانونی اصو...
27/09/2026

نیب جائیداد کو سالہا سال منجمد رکھ کر شہری کو غیر معینہ مدت تک اس کے ملکیتی حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتا

مرکزی قانونی اصول

کیا نیب کسی شخص کی جائیداد منجمد کرنے کے بعد، ریفرنس دائر کیے بغیر، اسے کئی سال تک منجمد رکھ سکتا ہے؟

سندھ ہائی کورٹ نے احتسابی کارروائی اور شہری کے حقِ ملکیت کے درمیان قانونی توازن واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ جائیداد کو منجمد کرنا محض ایک مستقل نوعیت کی پابندی نہیں بلکہ قانونی اختیار کے تحت کیا جانے والا ایسا اقدام ہے جسے قانونی جواز، متعلقہ مواد اور کارروائی کی پیش رفت کے تناظر میں برقرار رہنا چاہیے۔

۱۔ جائیداد کی منجمدی مستقل سزا نہیں

نیب کی جانب سے کسی جائیداد کو منجمد کرنے کا مقصد احتسابی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر متعلقہ اثاثے کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ تاہم ایسا حکم کسی شخص کے ملکیتی حقوق پر غیر معینہ مدت تک مستقل پابندی عائد کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

۲۔ طویل غیر فعالیت عدالتی جانچ کے دائرے میں آتی ہے

اگر جائیداد منجمد کرنے کے بعد طویل عرصہ گزر جائے، مگر متعلقہ کارروائی کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا جائے اور ریفرنس بھی دائر نہ کیا جائے، تو محض ایک پرانے منجمدی حکم کی بنیاد پر شہری کو مسلسل اس کی جائیداد کے استعمال اور تصرف سے محروم رکھنا قانونی جواز کا متقاضی ہے۔

۳۔ حقِ ملکیت — آئینی تحفظ

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 شہری کے حقِ ملکیت کو آئینی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی جائیداد پر ریاستی پابندی عائد کی جائے تو اس پابندی کے لیے قانونی اختیار اور قانونی جواز موجود ہونا ضروری ہے۔

احتسابی اختیار اپنی جگہ، لیکن کسی شہری کے آئینی حقوق کو غیر معینہ مدت تک محدود رکھنے کے لیے محض ایک پرانا انتظامی حکم کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔

۴۔ احتسابی اختیار بھی قانون کے تابع ہے

نیب کو قانون کے تحت تفتیش، اثاثوں کے تحفظ اور احتسابی کارروائی کے لیے اختیارات حاصل ہیں، لیکن یہ اختیارات قانون، آئین اور عدالتی نگرانی سے ماورا نہیں ہیں۔

جب کسی شخص کی جائیداد طویل عرصے تک منجمد رہے تو عدالت یہ دیکھ سکتی ہے کہ:

✔ منجمدی کا قانونی جواز کیا تھا؟
✔ متعلقہ کارروائی کس مرحلے پر ہے؟
✔ ریفرنس دائر کیا گیا یا نہیں؟
✔ منجمدی برقرار رکھنے کے لیے کوئی جاری اور مؤثر قانونی بنیاد موجود ہے یا نہیں؟
✔ شہری کے آئینی حقِ ملکیت پر اس پابندی کا قانونی جواز کیا ہے؟

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے طویل عرصے تک جاری رہنے والی منجمدی اور کارروائی میں عدم پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے سات سال پرانے منجمدی حکم کو برقرار رکھنے کی بنیاد نہیں پائی اور درخواست گزار کو قانونی ریلیف فراہم کیا۔

📞 نیب مقدمات، جائیداد کی منجمدی، احتسابی کارروائی، آئینی درخواستوں اور ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کے لیے رابطہ کریں۔

0332 9696342

#آرٹیکل23 #آرٹیکل24 #وکلاء

منشیات کیس میں برآمدگی کی ویڈیو، چالان میں تاخیر اور ضمانت — اہم قانونی اصولکیا پولیس کی جانب سے برآمدگی کی ویڈیو ریکارڈ...
26/09/2026

منشیات کیس میں برآمدگی کی ویڈیو، چالان میں تاخیر اور ضمانت — اہم قانونی اصول

کیا پولیس کی جانب سے برآمدگی کی ویڈیو ریکارڈ نہ کرنا اور چالان میں غیر معمولی تاخیر ملزم کو ضمانت کا حق دے سکتی ہے؟

عدالت نے منشیات کے مقدمات میں ضمانت، برآمدگی کے طریقۂ کار، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، چالان میں تاخیر اور شریک ملزمان کے ساتھ یکساں سلوک سے متعلق اہم قانونی اصول واضح کیے۔

مرکزی قانونی اصول

1️⃣ ضمانت عمومی اصول ہے
اگر کسی جرم کا معاملہ ضابطۂ فوجداری کی ممنوعہ شق کے دائرے میں نہ آتا ہو تو ضمانت سے انکار معمول نہیں بلکہ اس کے لیے مخصوص قانونی وجوہات موجود ہونا ضروری ہیں۔ چنانچہ عدالت ضمانت کے مرحلے پر دستیاب مواد، جرم کی نوعیت اور تفتیش کی پیش رفت کو مدنظر رکھتی ہے۔

2️⃣ برآمدگی کی ویڈیو ریکارڈنگ — شفاف تفتیش کا اہم ذریعہ
منشیات کی برآمدگی کسی مقدمے کا بنیادی مرحلہ ہوتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں برآمدگی کے عمل کی ویڈیو یا تصاویر محفوظ کرنا تفتیش کو شفاف بنانے اور بعد ازاں پیدا ہونے والے تنازعات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اگر برآمدگی کے عمل کے متعلق اہم قانونی تقاضے بھی مشکوک ہوں اور اس کے ساتھ دیگر تفتیشی خامیاں موجود ہوں تو یہ صورتِ حال ضمانت کے مرحلے پر مزید تحقیق کے سوال کو جنم دے سکتی ہے۔

3️⃣ چالان میں غیر معمولی تاخیر اور حقِ منصفانہ ٹرائل
ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تقریباً ساڑھے تین ماہ تک دفعہ 173 ضابطۂ فوجداری کے تحت چالان پیش نہ کرنا، اگر اس تاخیر کی کوئی قابلِ قبول قانونی وجہ موجود نہ ہو، تو ملزم کے حقِ منصفانہ ٹرائل اور تیز رفتار عدالتی کارروائی کے حوالے سے اہم سوال پیدا کرتا ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A ہر شخص کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق فراہم کرتا ہے۔

4️⃣ اصولِ یکسانیت — شریک ملزم کو ضمانت ملنے کا اثر
اگر ایک ہی مقدمے میں اسی نوعیت کے الزامات اور یکساں حالات رکھنے والے شریک ملزم کو ضمانت دی جا چکی ہو، تو دیگر ملزمان کی درخواستِ ضمانت پر اصولِ یکسانیت (Rule of Consistency) کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے، بشرطیکہ ان کا مقدمہ قانونی طور پر قابلِ موازنہ ہو۔

📞 فوجداری مقدمات، منشیات کے مقدمات، ضمانت اور دیگر قانونی امور میں رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:
0332 9696342

#وکلاء

پولیس تحویل میں ویڈیو بیان، کال ڈیٹیل اور کم سن ملزم  قانونی اصولپولیس تحویل میں ریکارڈ کیا گیا بیان، خواہ ویڈیو کی صورت...
26/09/2026

پولیس تحویل میں ویڈیو بیان، کال ڈیٹیل اور کم سن ملزم

قانونی اصول

پولیس تحویل میں ریکارڈ کیا گیا بیان، خواہ ویڈیو کی صورت میں ہو، محض ریکارڈنگ کی وجہ سے قابلِ قبول اعترافِ جرم نہیں بن جاتا۔

اگر کسی ملزم کا بیان تفتیش کے دوران پولیس کی تحویل میں دفعہ 161 ضابطۂ فوجداری کے تحت ریکارڈ کیا گیا ہو تو دفعہ 162 کے قانونی تحفظات کے باعث اسے محض اس بنیاد پر ملزم کے خلاف بنیادی شہادت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ اسے ویڈیو کی شکل میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔

مقدمے کے اہم حقائق

درخواست گزار محمد نوید کے خلاف مدعی کی 13/14 سالہ بیٹی کے اغوا کے الزام میں دفعہ 365-B تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

تفتیش کے دوران پولیس نے ملزم کے متعلق کال ڈیٹیل ریکارڈ حاصل کیے اور جسمانی ریمانڈ کے دوران اس کا ایک ویڈیو ریکارڈ شدہ بیان بھی لیا۔

ملزم کا مؤقف تھا کہ لڑکی رات کے وقت خود اس کے گھر آئی تھی اور چند گھنٹوں بعد اپنے رشتہ داروں کے ساتھ چلی گئی۔ ملزم نے اپنے بیان میں نہ اغوا کا اقرار کیا اور نہ ہی جرم میں اپنی شرکت تسلیم کی۔

مزید اہم بات یہ تھی کہ نادرا کے ب فارم کے مطابق وقوعہ کے وقت ملزم کی عمر تقریباً 15 سال اور 9 ماہ تھی۔

عدالت کے اہم قانونی اصول

1۔ پولیس تحویل میں بیان کی قانونی حیثیت

عدالت نے دفعہ 161 اور 162 ضابطۂ فوجداری کے قانونی اثرات کو مدنظر رکھا۔

تفتیش کے دوران پولیس کی تحویل میں حاصل کیا گیا بیان اپنی ذات میں ایسا بنیادی ثبوت نہیں بن جاتا جس کی بنیاد پر ملزم کو مجرم قرار دیا جا سکے۔

2۔ کال ڈیٹیل ریکارڈ بھی خود کافی نہیں

پولیس نے ملزم کے خلاف کال ڈیٹیل ریکارڈ پر بھی انحصار کیا۔

تاہم محض کالوں کا ریکارڈ اس وقت تک ملزم کو جرم سے قطعی طور پر منسلک نہیں کرتا جب تک اس سے متعلق ضروری شواہد موجود نہ ہوں۔

بالخصوص یہ امر بھی واضح طور پر ثابت نہیں تھا کہ متعلقہ سم ملزم کے نام پر تھی یا خصوصی طور پر اسی کے زیرِ استعمال تھی۔

3۔ ملزم کا بیان اعترافِ جرم نہیں تھا

ملزم نے صرف یہ مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی اس کے گھر آئی تھی اور بعد ازاں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ چلی گئی۔

عدالت نے ایسے بیان کو اعترافِ جرم قرار نہیں دیا، کیونکہ اس میں جرم کے ارتکاب کا اقرار موجود نہیں تھا۔

بلکہ یہ ملزم کی جانب سے اپنے خلاف الزام کی وضاحت یا تردید پر مبنی بیان تھا۔

4۔ مقدمہ مزید تحقیق کے زمرے میں

جب ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم کے ساتھ مضبوط اور قابلِ اعتماد طور پر منسلک نہ کرے تو ضمانت کے مرحلے پر عدالت دفعہ 497(2) ضابطۂ فوجداری کے اصولِ مزید تحقیق کو مدنظر رکھ سکتی ہے۔

کم سن ملزم کا خصوصی قانونی تحفظ

یہ مقدمہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ وقوعہ کے وقت درخواست گزار کی عمر 16 سال سے کم تھی۔

نادرا کے ب فارم کے مطابق اس کی عمر تقریباً 15 سال اور 9 ماہ تھی۔

جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018ء کی دفعہ 6(3) کم سن ملزم کے لیے خصوصی قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے اور ایسے ملزم کے ساتھ ضمانت کے معاملے میں قانون کے مخصوص تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔

لہٰذا عدالت نے ملزم کی کم سنی کو بھی ضمانت کے معاملے میں ایک اہم قانونی عنصر کے طور پر مدنظر رکھا۔

0332 9696342

#ضمانت #دفعہ497 #دفعہ162 #وکلاء

سلیکشن کمیٹی کی سفارش سے تقرری کا حتمی حق پیدا نہیں ہوتاقانونی اصولمحض کسی امیدوار کا سلیکشن کمیٹی کی جانب سے تجویز کیا ...
25/09/2026

سلیکشن کمیٹی کی سفارش سے تقرری کا حتمی حق پیدا نہیں ہوتا

قانونی اصول

محض کسی امیدوار کا سلیکشن کمیٹی کی جانب سے تجویز کیا جانا یا کسی ابتدائی مرحلے میں منتخب ہونا، اسے تقرری کا ایسا قانونی طور پر نافذ العمل حق فراہم نہیں کرتا جس کی بنیاد پر وہ حتمی تقرری کے حکم کے بغیر اپنی تعیناتی کا مطالبہ کر سکے۔

جب تک مجاز اتھارٹی کی جانب سے حتمی تقرری کا حکم نامہ جاری نہ ہو، امیدوار کی حیثیت محض ایک متوقع امیدوار کی رہتی ہے، نہ کہ باقاعدہ مقرر شدہ ملازم کی۔

مقدمے کے اہم حقائق

وومن یونیورسٹی ملتان نے رجسٹرار سمیت مختلف آسامیوں پر بھرتی کے لیے اشتہار جاری کیا۔ درخواست گزار، مسماۃ طاہرہ اختر، کو متعلقہ سلیکشن یا سرچ کمیٹی نے رجسٹرار کی آسامی کے لیے سفارش کیا۔

تاہم، حتمی تقرری کا حکم جاری ہونے سے قبل سنڈیکیٹ کے علم میں بعض نئے مواد اور حقائق آئے۔ سنڈیکیٹ نے معاملے کو دوبارہ جائزے کے لیے متعلقہ سلیکشن کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔

بعد ازاں سلیکشن کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارش واپس لے لی۔

سنڈیکیٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ قانون کے تحت ملازمت کی شرائط و ضوابط کی باقاعدہ منظوری موجود نہیں تھی۔ چنانچہ سنڈیکیٹ نے بھرتی کے پورے عمل کو قانونی نقائص کی بنیاد پر کالعدم قرار دیتے ہوئے رجسٹرار کی آسامی کے لیے ازسرِنو اشتہار جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

درخواست گزار نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سلیکشن کمیٹی کی سفارش کے نتیجے میں اس کا تقرری کا حق قائم ہو چکا تھا اور سنڈیکیٹ کو بھرتی کا عمل منسوخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔

عدالت کے اہم قانونی مشاہدات

1۔ سلیکشن کمیٹی کی سفارش حتمی فیصلہ نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ سلیکشن کمیٹی یا سرچ کمیٹی کی سفارش بنیادی طور پر مشاورتی نوعیت رکھتی ہے۔

ایسی سفارش اس وقت تک حتمی تقرری میں تبدیل نہیں ہوتی جب تک متعلقہ قانون کے تحت مجاز تقرری کرنے والی اتھارٹی اس کی منظوری نہ دے اور امیدوار کے حق میں باقاعدہ تقرری کا حکم جاری نہ ہو۔

لہٰذا محض سفارش کی بنیاد پر امیدوار یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اسے تقرری کا حتمی اور ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہو گیا ہے۔

2۔ سنڈیکیٹ کا دوبارہ جائزہ لینے کا اختیار

سنڈیکیٹ یونیورسٹی کا ایک اہم انتظامی اور انتظامی پالیسی ساز ادارہ ہے۔ اگر حتمی تقرری سے قبل نئے حقائق، قانونی نقائص یا طریقۂ کار کی خامیاں سامنے آئیں تو متعلقہ ادارہ معاملے کا دوبارہ جائزہ لے سکتا ہے۔

ضمنی اختیارات کے اصول اور ضروری مفہوم کے تحت جس اتھارٹی کو تقرری یا بھرتی کے عمل کی نگرانی کا اختیار حاصل ہو، اسے اس عمل کی قانونی حیثیت جانچنے اور ضرورت پڑنے پر معاملہ دوبارہ متعلقہ کمیٹی کو بھیجنے کا ضمنی اختیار بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

3۔ قائم شدہ حق اور محض توقع میں فرق

عدالت نے اس امر کو اہم قرار دیا کہ:

* قائم شدہ حق وہ ہوتا ہے جو قانون کے تحت واضح طور پر وجود میں آ چکا ہو؛
* محض کسی کمیٹی کی سفارش یا ابتدائی انتخاب سے ایسا حق پیدا نہیں ہوتا؛
* حتمی تقرری کے حکم کے بغیر امیدوار صرف تقرری کی توقع رکھتا ہے؛
* ایسی توقع کو ہر صورت میں آئینی طور پر قابلِ نفاذ حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اہم اصول:

جب تک حتمی تقرری کا حکم جاری نہ ہو، امیدوار کا دعویٰ عموماً تقرری کی توقع تک محدود رہتا ہے۔

4۔ آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی نظرِثانی کی حدود

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ انتظامی کارروائی کی قانونی حیثیت، اختیار، شفافیت اور بنیادی قانونی تقاضوں کی پابندی کا جائزہ لے سکتی ہے۔

تاہم، ہائی کورٹ خود:

* سلیکشن کمیٹی کا متبادل نہیں بن سکتی؛
* تقرری کرنے والی اتھارٹی کا کردار ادا نہیں کر سکتی؛
* انتظامی ادارے کی جگہ اپنی ذاتی رائے مسلط نہیں کر سکتی؛
* امیدوار کو محض توقع کی بنیاد پر تقرری کا حکم نہیں دے سکتی۔

عدالتی نظرِثانی کا مقصد انتظامی فیصلے کی قانونی صحت جانچنا ہے، نہ کہ عدالت خود بھرتی کے عمل کو انجام دے۔

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے قرار دیا کہ سنڈیکیٹ کی جانب سے بھرتی کے عمل کا دوبارہ جائزہ لینا اور قانونی نقائص کی بنیاد پر اسے کالعدم قرار دینا قانون کے خلاف نہیں تھا۔

عدالت نے درخواست گزار کی آئینی درخواست خارج کر دی اور یونیورسٹی کو ہدایت کی کہ رجسٹرار کی آسامی پر قانون کے مطابق نیا بھرتی کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔

📞 سروس قوانین، یونیورسٹی و تعلیمی اداروں کے تنازعات، بھرتی کے معاملات اور آئینی درخواستوں کے لیے قانونی رہنمائی و مشاورتی خدمات حاصل کریں۔

WhatsAap 0332 9696342

#آرٹیکل199 #وکلاء

محض لفظ ’’امانت‘‘ لکھ دینے سے خیانتِ امانت کا جرم نہیں بنتاقانونی اصولایف آئی آر میں محض ’’امانت‘‘ کا لفظ لکھ دینا دفعہ ...
25/09/2026

محض لفظ ’’امانت‘‘ لکھ دینے سے خیانتِ امانت کا جرم نہیں بنتا

قانونی اصول

ایف آئی آر میں محض ’’امانت‘‘ کا لفظ لکھ دینا دفعہ 406 کے جرم کے لیے کافی نہیں۔

خیانتِ امانت کا جرم اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب مقدمے کے حقائق سے اس جرم کے تمام ضروری قانونی اجزا ظاہر ہوں۔

محض کسی رقم یا مال کے بارے میں یہ لکھ دینا کہ وہ ’’امانت‘‘ کے طور پر دیا گیا تھا، بذاتِ خود خیانتِ امانت کا جرم پیدا نہیں کرتا۔

📌 مقدمے کے اہم حقائق

درخواست گزار ایک پراپرٹی ڈیلر تھا۔ اس نے مدعی کو ایک مکان دکھایا جو اس کے شریک ملزم محسن عرفان کی ملکیت تھا۔

مکان کو بارہ لاکھ روپے کے عوض رہن رکھنے کا معاملہ طے ہوا اور اس سلسلے میں درخواست گزار اور اس کے شریک ملزم نے مدعی سے سات لاکھ روپے بطور پیشگی رقم وصول کیے۔

بعد ازاں مکان کا قبضہ مدعی کو نہیں دیا گیا اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مکان کا رنگ و روغن ابھی مکمل نہیں ہوا۔

تقریباً دو ماہ گزرنے کے باوجود نہ مکان کا قبضہ دیا گیا اور نہ رقم واپس کی گئی، جس پر مدعی نے:

سپریم کورٹ کے اہم قانونی اصول

🔹 1۔ جرم کے بنیادی اجزا کا موجود ہونا لازم ہے

خیانتِ امانت ایک مخصوص قانونی جرم ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مقدمے کے بیان کردہ حقائق سے یہ ظاہر ہو کہ ملزم کے سپرد کوئی مال یا رقم کی گئی اور اس کے بعد اس میں قانون کے برخلاف بددیانتی سے تصرف یا خردبرد کا عنصر بھی موجود ہے۔

صرف یہ کہنا کہ رقم ’’امانت‘‘ تھی، جرم کے تمام قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا۔

2۔ قانونی اصطلاح کا محض استعمال کافی نہیں

فوجداری مقدمے میں کسی قانونی اصطلاح کو ایف آئی آر میں درج کر دینا بذاتِ خود جرم کی تشکیل نہیں کرتا۔

عدالت اصل حقائق کا جائزہ لیتی ہے کہ آیا ان حقائق سے متعلقہ جرم کے ضروری قانونی اجزا ظاہر ہوتے ہیں یا نہیں۔

یعنی عدالت الفاظ نہیں بلکہ ان الفاظ کے پیچھے موجود قانونی حقائق کا جائزہ لیتی ہے۔

3۔ ایف آئی آر میں جرم ہی ظاہر نہ ہو تو اعلیٰ عدالت مداخلت کرسکتی ہے

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 187 آئینِ پاکستان کے تحت مکمل انصاف کی فراہمی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست کو ایف آئی آر کی منسوخی کی کارروائی میں تبدیل کیا۔

اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جہاں مقدمے کی بنیاد ہی ایسے حقائق پر قائم ہو جن سے کوئی قابلِ تعزیر جرم تشکیل نہ پاتا ہو، وہاں محض رسمی کارروائی کے لیے ملزم کو غیر ضروری عدالتی عمل میں نہ دھکیلا جائے۔

4۔ دفعہ 249-اے ہر معاملے کا لازمی راستہ نہیں

اگر ایف آئی آر کے اپنے مندرجات ہی سے کسی جرم کے بنیادی قانونی اجزا ظاہر نہ ہوں تو ملزم کو لازماً ٹرائل کورٹ بھیج کر دفعہ 249-اے ضابطۂ فوجداری کے تحت بریت کی درخواست دائر کرنے کا پابند کرنا ہر صورت میں ضروری نہیں۔

ایسی صورتِ حال میں غیر ضروری کارروائی جاری رکھنا قانونی اور عدالتی عمل کے ناجائز استعمال کے مترادف ہو سکتا ہے۔

حتمی قانونی اصول

جہاں ایف آئی آر کے اپنے مندرجات سے کسی جرم کے بنیادی قانونی اجزا ظاہر نہ ہوں، وہاں ملزم کو غیر ضروری فوجداری کارروائی اور مقدمے کا سامنا کروانا قانون کے عمل کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

📞 فوجداری مقدمات، ایف آئی آر کی منسوخی، قبل از گرفتاری ضمانت اور دفعہ 406 تعزیراتِ پاکستان کے معاملات میں قانونی رہنمائی و مشاورتی خدمات کے لیے رابطہ کریں۔

WhatsApp +92 332 9696342

#آرٹیکل187 #وکلاء

240 فٹ کے فاصلے سے شناخت، شام کی کم روشنی اور فوجداری مقدمہ — ملزم کو شک کا فائدہ قانونی اصولمحض کسی شخص کو وقوعہ کے قری...
24/09/2026

240 فٹ کے فاصلے سے شناخت، شام کی کم روشنی اور فوجداری مقدمہ — ملزم کو شک کا فائدہ

قانونی اصول

محض کسی شخص کو وقوعہ کے قریب موجود ہونا یا گواہ کا اسے ملزم کے طور پر نامزد کرنا کافی نہیں؛ اگر وقوعہ کے حالات، فاصلہ، روشنی اور گواہ کے مشاہدے کی قدرتی صلاحیت ایسی ہو کہ ملزم کی درست شناخت پر معقول شک پیدا ہو، تو سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

240 فٹ کا فاصلہ — شناخت کی اہمیت

سپریم کورٹ نے شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کو اہم قرار دیا کہ موقع کے نقشے کے مطابق گواہوں اور ملزم کے درمیان تقریباً 240 فٹ یعنی 48 کرم کا فاصلہ موجود تھا۔

اتنے فاصلے سے، خصوصاً فائرنگ اور خوف و ہراس کی صورتِ حال میں، کسی شخص کے چہرے، حرکات اور بالخصوص اس بات کی درست شناخت کرنا کہ کس شخص نے مقتول پر فائر کیا، ایک اہم سوالِ شہادت بن جاتا ہے۔

وقوعہ کا وقت — شام / Dusk

اگر وقوعہ ایسے وقت پیش آئے جب دن کی روشنی کم ہو رہی ہو اور شام کا آغاز ہو چکا ہو تو گواہ کی بصری مشاہدے کی صلاحیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

لہٰذا عدالت کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ گواہ نے ملزم کو شناخت کیا؛ بلکہ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ:

گواہ نے ملزم کو کس فاصلے سے، کس روشنی میں، کتنی دیر تک اور کن حالات میں دیکھا؟

یہ تمام عوامل شناختی شہادت کی قابلِ اعتماد حیثیت متعین کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

فائرنگ کے دوران گواہوں کا پناہ لینا

عدالت نے وقوعہ کے قدرتی حالات کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔

اگر فائرنگ کے دوران گواہ اپنی جان بچانے کے لیے بیٹھک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہوں تو ایسے حالات میں 240 فٹ دور موجود شخص کی حرکات کا مسلسل اور واضح مشاہدہ، خصوصاً یہ تعین کرنا کہ مقتول کو کس ملزم کی گولی لگی، مزید محتاط عدالتی جائزے کا متقاضی ہے۔

شناختی شہادت کا بنیادی قانونی امتحان

فوجداری مقدمے میں شناختی شہادت کو محض اس بنیاد پر قبول نہیں کیا جا سکتا کہ گواہ نے عدالت میں ملزم کی طرف اشارہ کر دیا۔

عدالت کو مجموعی حالات کا جائزہ لینا ہوتا ہے، بالخصوص:

فاصلہ + روشنی + مشاہدے کا دورانیہ + وقوعہ کے حالات + گواہ کی پوزیشن = شناخت کی قابلِ اعتماد حیثیت

اگر ان عوامل سے شناخت کے بارے میں معقول شک پیدا ہو جائے تو محض زبانی دعویٰ سزا برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں رہتا۔

⸻

شک کا فائدہ — ملزم کا قانونی حق

فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ استغاثہ پر الزام کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے کا بارِ ثبوت ہوتا ہے۔

اگر استغاثہ کے مقدمے میں ایسا ایک بھی معقول اور قابلِ قبول شک موجود ہو جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں حقیقی غیر یقینی پیدا کرے، تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔

اہم قانونی نکتہ:

Benefit of Doubt کوئی عدالتی رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔

اور یہ اصول صرف متعدد شکوک کی موجودگی تک محدود نہیں؛ ایک معقول شک بھی، اگر مقدمے کے بنیادی جزو کو متاثر کرتا ہو، ملزم کے حق میں جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ نے استغاثہ کی شہادت، وقوعہ کے حالات، گواہوں کی مشاہداتی صلاحیت، فاصلے اور روشنی کے عوامل کا مجموعی جائزہ لیا اور ملزم کے خلاف شناختی شہادت کو محفوظ اور قابلِ اعتماد معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں شک کا فائدہ دیا۔

چنانچہ نچلی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں کو برقرار نہیں رکھا گیا اور ملزم کو باعزت بری کر دیا گیا۔

WhatsApp: +92-332-9696342

#دفعہ302 #دفعہ148 #دفعہ149 #وکلاء

حوالہ/ہنڈی کیس میں ضمانت کا اصول — جرم کی سزا کم ہو تو ضمانت حقِ عام ہے مرکزی قانونی اصولدفعہ 497 Cr.P.C. کے تحت ایسا نا...
24/09/2026

حوالہ/ہنڈی کیس میں ضمانت کا اصول — جرم کی سزا کم ہو تو ضمانت حقِ عام ہے

مرکزی قانونی اصول

دفعہ 497 Cr.P.C. کے تحت ایسا ناقابلِ ضمانت جرم جس کی سزا دس سال سے کم ہو اور جو ممنوعہ شق میں شامل نہ ہو، اس میں ضمانت اصول ہے جبکہ انکار استثنا۔

اگر مقدمہ دستاویزی شہادت پر مبنی ہو، ملزم کی مزید تحویل تفتیش کے لیے ضروری نہ ہو اور ضمانت سے انکار کی کوئی غیر معمولی وجہ موجود نہ ہو تو ملزم کو مسلسل حراست میں رکھنا قانوناً قابلِ جواز نہیں۔

مقدمے کا اہم قانونی پہلو — سزا کا تعین

مقدمہ Foreign Exchange Regulation Act, 1947 کی دفعات 5 اور 23 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

وقوعہ کا عرصہ 2007 تا 2015 تھا، جبکہ دفعہ 23 میں سزا میں اضافہ 2020 میں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 12 کے تحت اصولِ عدمِ اطلاقِ سابقہ سزا کو ملحوظ رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کو وہی سزا دی جاسکتی ہے جو وقوعہ کے وقت قانون میں مقرر تھی۔

لہٰذا موجودہ مقدمے میں دفعہ 23 کی سابقہ سزا، یعنی دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں، قابلِ اطلاق تھی۔

دفعہ 497 Cr.P.C. — ضمانت کا بنیادی اصول

سپریم کورٹ نے سابقہ نظیر Tariq Bashir v. The State (PLD 1995 SC 34) کے اصول کو دہرایا کہ دس سال سے کم سزا والے ناقابلِ ضمانت جرائم، جو دفعہ 497 کی ممنوعہ شق میں شامل نہیں، میں:

ضمانت اصول ہے — انکار استثنا۔

ضمانت سے انکار کے لیے غیر معمولی حالات موجود ہونا ضروری ہیں، مثلاً:

▪️ ملزم کے فرار ہونے کا حقیقی خدشہ؛
▪️ استغاثہ کے شواہد پر اثرانداز ہونے کا امکان؛
▪️ جرم کے دوبارہ ارتکاب کا خطرہ؛ یا
▪️ ملزم کا سابقہ مجرم ہونا۔

دستاویزی شہادت اور مزید تفتیش

سپریم کورٹ نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ prosecution کا مقدمہ بنیادی طور پر دستاویزی شہادت پر مبنی تھا اور ایسا کوئی قابلِ قبول جواز پیش نہیں کیا گیا کہ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے جسمانی یا عدالتی تحویل میں رکھنا ضروری ہے۔

ایسی صورت میں ضمانت کا اصول ہی لاگو ہوتا ہے۔

جرمانہ متبادل سزا ہو تو مسلسل حراست

عدالت نے یہ اہم اصول بھی بیان کیا کہ جہاں جرم کی سزا میں قید یا جرمانہ یا دونوں متبادل طور پر مقرر ہوں، وہاں محض مقدمے کے دوران ملزم کو جیل میں رکھنے سے احتراز کیا جانا چاہیے۔

اگر بالآخر عدالت صرف جرمانے کی سزا دے تو دورانِ مقدمہ گزرا ہوا قید کا عرصہ واپس نہیں کیا جاسکتا۔

اس لیے ضمانت سے انکار کو قبل از وقت سزا (Premature Punishment) کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے اس اصول کو آئین کے آرٹیکل 13(ا)، دفعہ 403 Cr.P.C. اور دفعہ 26 General Clauses Act کے قانونی اصولوں سے بھی مربوط کیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ضمانت مسترد کرنے والے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کیا اور بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔

ملزمان کو 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور مساوی مالیت کی دو ضمانتوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ عدالت نے انہیں ٹرائل کورٹ کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر جانے سے بھی روک دیا۔

📞 فوجداری مقدمات، FIA، ضمانت اور دیگر قانونی امور کے لیے رابطہ کریں:
WhatsApp: 0332 9696342

#ضمانت #دفعہ497

معاہدۂ بیع ثابت نہ ہو تو تعمیلِ مختص نہیں — حاشیائی گواہان کی شہادت کی اہمیت مرکزی قانونی اصولجب مدعا علیہ معاہدۂ بیع ...
23/09/2026

معاہدۂ بیع ثابت نہ ہو تو تعمیلِ مختص نہیں — حاشیائی گواہان کی شہادت کی اہمیت

مرکزی قانونی اصول

جب مدعا علیہ معاہدۂ بیع کے وجود یا اس پر اپنے دستخط/اجرا سے انکار کرے تو مدعی پر معاہدے کے باقاعدہ اجرا کو قانونِ شہادت کے تقاضوں کے مطابق ثابت کرنا لازم ہے۔ محض معاہدۂ بیع پیش کردینا، اس کے مندرجات بیان کردینا یا قبضے کا دعویٰ کرنا بذاتِ خود تعمیلِ مختص کی ڈگری کے لیے کافی نہیں۔

حاشیائی گواہان کی اہمیت

اگر معاہدۂ بیع کی صحت اور اجرا متنازع ہو اور قانوناً اس کی تصدیق حاشیائی گواہان کے ذریعے درکار ہو تو مدعی کو متعلقہ حاشیائی گواہان عدالت میں پیش کرکے معاہدے کے اجرا کو ثابت کرنا ہوگا۔

محض دستاویز کا عدالت میں پیش ہونا، اس کے قانونی ثبوت کا متبادل نہیں۔

گواہان پیش نہ کرنے کا قانونی اثر

اگر مدعی کے لیے دستیاب اور متعلقہ حاشیائی گواہان کو بغیر معقول وجہ کے عدالت میں پیش نہ کیا جائے تو قانونِ شہادت کے تحت منفی قرینہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر وہ گواہ پیش کیے جاتے تو ان کی شہادت مدعی کے مؤقف کی تائید نہ کرتی۔

لہٰذا حاشیائی گواہان کو پیش نہ کرنا محض ایک تکنیکی کمی نہیں بلکہ معاہدے کے اثبات پر براہِ راست اثر انداز ہونے والا امر ہوسکتا ہے۔

تعمیلِ مختص کوئی مطلق حق نہیں

Specific Performance محض معاہدۂ بیع دکھا دینے سے بطورِ حق خودکار طور پر حاصل نہیں ہوجاتی۔

عدالت کو معاہدے کے اجرا، اس کے قانونی تقاضوں، فریقین کے طرزِ عمل اور مقدمے کے مجموعی حالات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

اگر دورانِ مقدمہ جائیداد کسی تیسرے فریق کو منتقل ہوچکی ہو تو عدالت کو اس منتقلی کے قانونی اثرات اور متعلقہ فریقین کے حقوق کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔

اہم قانونی نکتہ

معاہدۂ بیع کا وجود ثابت کرنا اور اس کی بنیاد پر تعمیلِ مختص حاصل کرنا دو الگ مراحل ہیں۔

پہلے مدعی کو معاہدے کا قانونی اور قابلِ اعتماد اثبات کرنا ہوگا؛ اس کے بعد ہی عدالت Specific Performance کی صوابدید استعمال کرے گی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے ریکارڈ پر موجود شہادت اور معاہدۂ بیع کے اثبات کے قانونی تقاضوں کا جائزہ لیتے ہوئے نچلی عدالتوں کی جانب سے دی گئی ڈگریاں کالعدم قرار دیں، مدعی کا دعویٰ خارج کیا اور اپیل منظور کرلی۔

WhatsApp: 0332 9696342

دفعہ 169 Cr.P.C. کے تحت ملزم کی رہائی — پولیس کا قانونی اختیار اور عدالتی مداخلت کی حدودمرکزی قانونی اصولدفعہ 169 ضابطہ ...
23/09/2026

دفعہ 169 Cr.P.C. کے تحت ملزم کی رہائی — پولیس کا قانونی اختیار اور عدالتی مداخلت کی حدود

مرکزی قانونی اصول

دفعہ 169 ضابطہ فوجداری کے تحت اگر تفتیشی افسر کو یہ معلوم ہو کہ ملزم کے خلاف مقدمہ عدالت میں بھیجنے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تو اسے مچلکوں پر رہا کیا جا سکتا ہے۔ ایسی رہائی حتمی بریت نہیں ہوتی بلکہ تفتیشی مرحلے کا ایک عبوری اقدام ہے۔

مقدمے کے اہم حقائق

درخواست گزار نے دیرینہ دشمنی کی بنیاد پر فائرنگ کے نتیجے میں اپنے چچا اور کزن کے قتل کی ایف آئی آر درج کرائی، جس میں تین افراد کو نامزد کیا گیا۔

نامزد ملزمان نے ابتدا میں عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی، تاہم بعد ازاں اپنی ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں۔

اس کے بعد تفتیشی افسر نے دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ رائے قائم کی کہ ملزمان کے خلاف کافی شہادت موجود نہیں، چنانچہ انہیں دفعہ 169 Cr.P.C. کے تحت مچلکوں پر رہا کردیا گیا۔

درخواست گزار نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جائے وقوعہ کے شواہد، عینی گواہان اور طبی شہادت موجود ہونے کے باوجود ملزمان کو رہا کرنا غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی تھا۔

دفعہ 169 اور دفعہ 170 Cr.P.C. میں بنیادی فرق

دفعہ 169 Cr.P.C.
اگر تفتیش کے دوران ملزم کے خلاف الزام کو عدالت میں بھیجنے کے لیے کافی شواہد یا معقول بنیاد موجود نہ ہو تو تفتیشی افسر اسے مچلکوں پر رہا کرسکتا ہے۔

دفعہ 170 Cr.P.C.
اگر تفتیش کے نتیجے میں ملزم کے خلاف کافی شواہد موجود ہوں تو اسے حراست میں لے کر یا قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کرکے مقدمہ چلانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

دفعہ 169 کے تحت رہائی کی قانونی حیثیت

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ:

دفعہ 169 کے تحت رہائی حتمی بریت نہیں ہے۔

یہ صرف تفتیشی مرحلے کا عبوری اقدام ہے۔ اگر بعد میں مزید قابلِ اعتماد شواہد سامنے آجائیں تو قانون کے مطابق ملزم کے خلاف مزید کارروائی کی جاسکتی ہے۔

صرف ایف آئی آر یا ریکوری کافی نہیں

محض یہ حقیقت کہ:

▪️ ایف آئی آر درج ہوچکی ہے؛
▪️ ملزم نامزد ہے؛ یا
▪️ جائے وقوعہ سے کوئی ریکوری ہوئی ہے؛

تفتیشی افسر کو شواہد کا آزادانہ جائزہ لینے اور دفعہ 169 Cr.P.C. کے تحت مناسب رائے قائم کرنے سے نہیں روکتی۔

اصل سوال یہ ہے کہ تفتیش کے نتیجے میں ملزم کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے قانونی طور پر کافی شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

ہائی کورٹ کی مداخلت کی حدود

آئینی عدالتیں عام طور پر جاری پولیس تفتیش میں مداخلت نہیں کرتیں، بالخصوص جب تفتیش قانون کے مطابق جاری ہو۔

البتہ اگر:

▪️ واضح بدنیتی ثابت ہو؛
▪️ قانونی اختیار کا ناجائز استعمال ہو؛
▪️ تفتیش قانون کی صریح خلاف ورزی پر مبنی ہو؛ یا
▪️ ریکارڈ سے واضح غیر قانونی اقدام سامنے آئے؛

تو آئینی عدالت مناسب مداخلت کرسکتی ہے۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ

پشاور ہائی کورٹ، بنوں بنچ نے قرار دیا کہ موجودہ معاملے میں درخواست گزار پولیس کی کارروائی میں بدنیتی یا سیاسی اثر و رسوخ کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔

لہٰذا تفتیشی افسر کی جانب سے دفعہ 169 Cr.P.C. کے تحت ملزمان کی رہائی کو غیر قانونی قرار دینے کی کوئی بنیاد موجود نہیں تھی۔

درخواست خارج کردی گئی۔

📞 فوجداری مقدمات، ضمانت، تفتیش اور دیگر قانونی امور کے لیے رابطہ کریں:
WhatsApp: +92-332-9696342

وراثتی جائیداد بطورِ حقِ مہر: شریک مالک پورا گھر منتقل نہیں کرسکتا مرکزی قانونی اصولمشترکہ وراثتی جائیداد کا کوئی شریک م...
22/09/2026

وراثتی جائیداد بطورِ حقِ مہر: شریک مالک پورا گھر منتقل نہیں کرسکتا

مرکزی قانونی اصول

مشترکہ وراثتی جائیداد کا کوئی شریک مالک اپنے شرعی و قانونی حصے سے زیادہ جائیداد کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں کرسکتا۔ لہٰذا شوہر اپنی موروثی ملکیت کے صرف اپنے حصے کی حد تک تصرف کرسکتا ہے؛ وہ پورے مشترکہ گھر کو بطورِ حقِ مہر دے کر دیگر شرعی ورثاء کے حقوق متاثر نہیں کرسکتا۔

مقدمے کے اہم حقائق

ایک خاتون نے حقِ مہر کے عوض ایک گھر کے قبضے کے حصول کا دعویٰ دائر کیا اور اس کے حق میں ڈگری حاصل کی۔

متعلقہ گھر اس کے شوہر کے والد کی ملکیت تھا، جو نکاح سے کافی عرصہ قبل وفات پاچکے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مذکورہ جائیداد شوہر، اس کی والدہ اور دیگر شرعی ورثاء میں منتقل ہوچکی تھی۔

بعد ازاں ایسے ورثاء جو اصل مقدمے میں فریق نہیں تھے، انہوں نے دھوکہ دہی، غلط بیانی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی کی بنیاد پر Section 12(2) CPC کے تحت ڈگری کو چیلنج کیا۔

1۔ شریک مالک کے اختیار کی قانونی حد

Co-sharer صرف اپنے ثابت شدہ حصے تک تصرف کرسکتا ہے۔

اگر کسی جائیداد میں متعدد شرعی ورثاء شریک مالک ہوں تو ان میں سے کوئی ایک شریک مالک پورے ترکہ یا دوسرے ورثاء کے حصوں کو بطورِ مہر منتقل نہیں کرسکتا۔

اپنا حصہ منتقل کرنا ≠ پوری مشترکہ جائیداد منتقل کرنا

لہٰذا حقِ مہر کے کسی دعوے کے ذریعے دیگر شرعی ورثاء کے ملکیتی حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے۔

2۔ Section 12(2) CPC اور Fraud

دفعہ 12(2) CPC کے تحت ڈگری کو چیلنج کرنے کا اختیار اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب ڈگری:

▪️ فراڈ؛
▪️ غلط بیانی؛ یا
▪️ عدالت کے دائرۂ اختیار سے متعلق قانونی نقص

کی بنیاد پر متاثر ہو۔

تاہم اس درخواست کے لیے درست فورم کا تعین بھی بنیادی قانونی تقاضا ہے۔

3۔ Doctrine of Merger

جب کسی مقدمے کا فیصلہ اپیل یا ریویژن میں اعلیٰ عدالت کے سامنے پہنچ کر حتمی طور پر طے ہوجائے تو ماتحت عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدالت کے فیصلے میں ضم (merge) ہوجاتا ہے۔

چنانچہ ماتحت عدالت کا فیصلہ اپنی علیحدہ اور آزاد قانونی حیثیت برقرار نہیں رکھتا۔

4۔ Section 12(2) CPC — درخواست کہاں دائر ہوگی؟

سپریم کورٹ نے دفعہ 12(2) CPC کے قانونی طریقۂ کار اور فورم کی اہمیت واضح کی۔

جب کسی مقدمے کا حتمی فیصلہ اعلیٰ عدالت سے صادر ہوچکا ہو تو بعد میں اسی معاملے سے متعلق Section 12(2) کی درخواست ایسے فورم کے سامنے دائر نہیں کی جاسکتی جو اس حتمی فیصلے کے قانونی اثر کو نظرانداز کرے۔

فورم کا درست انتخاب محض طریقۂ کار کا مسئلہ نہیں بلکہ Section 12(2) کی قابلِ سماعت ہونے کے لیے بنیادی قانونی تقاضا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے درخواستِ اجازتِ اپیل خارج کرتے ہوئے ماتحت اپیلٹ عدالت اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔

قانونی نچوڑ

“شریک مالک اپنی مشترکہ وراثتی جائیداد میں صرف اپنے شرعی و قانونی حصے کی حد تک تصرف کرسکتا ہے؛ وہ دیگر شرعی ورثاء کے حصوں کو بطورِ حقِ مہر منتقل نہیں کرسکتا۔ مزید برآں، Section 12(2) CPC کے تحت ڈگری کو چیلنج کرنے کے لیے نہ صرف قانونی بنیاد بلکہ قانوناً مجاز فورم کا انتخاب بھی لازم ہے، اور اعلیٰ عدالت کے حتمی فیصلے کے بعد Doctrine of Merger کے اصول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔”

وراثتی جائیداد، حقِ مہر، سول مقدمات اور دیگر قانونی امور کے لیے رابطہ کریں:
WhatsApp: 0332 9696342

Address

Office No. B-11, Al-Nimra Plaza, Oppisite To Govt College, Faqir Abad, KPK
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali & Zeb law firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share