Ali & Zeb law firm

Ali & Zeb law firm Trusted Law Firm | Expert Advice & Court Representation | Peshawar KPK, Pakistan

Contact For Assistance.
📞 +92 305 9297957
+92 332 9696342

پی ایس ٹی بھرتی پر پشاور ہائیکورٹ کا اہم اور قابلِ توجہ فیصلہ — 50 نمبر کی شرط 30 تک کم کرنا قانونی قراردرخواست گزاروں ن...
24/08/2026

پی ایس ٹی بھرتی پر پشاور ہائیکورٹ کا اہم اور قابلِ توجہ فیصلہ — 50 نمبر کی شرط 30 تک کم کرنا قانونی قرار

درخواست گزاروں نے پی ایس ٹی کی آسامیوں کے لیے درخواست دی، بھرتی کے عمل میں حصہ لیا اور اسکریننگ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا، تاہم اپنے متعلقہ یونین کونسلز میں کم میرٹ کی وجہ سے تقرری حاصل نہ کر سکے۔

درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ بعض ملحقہ یونین کونسلز میں پی ایس ٹی کی آسامیاں اس لیے خالی رہ گئیں کیونکہ وہاں کوئی امیدوار مقررہ 50 پاسنگ مارکس حاصل نہیں کر سکا۔ ان کے مطابق محکمہ کو چاہیے تھا کہ ان خالی آسامیوں پر ملحقہ یونین کونسلز کے اہل امیدواروں کو موقع دیا جاتا، لیکن اس کے بجائے محکمہ نے پاسنگ مارکس 50 سے کم کرکے 30 کر دیے، جو ان کے بقول خیبر پختونخوا اپائنٹمنٹ، ڈیپوٹیشن، پوسٹنگ اینڈ ٹرانسفر آف ٹیچرز، لیکچررز، انسٹرکٹرز اینڈ ڈاکٹرز ریگولیٹری ایکٹ 2011 کی دفعہ 3 کے خلاف تھا۔

محکمہ تعلیم کا مؤقف

محکمہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 19 جولائی 2024 کو باقاعدہ پالیسی وضع اور نوٹیفائی کی گئی تھی جس کے مطابق عام حالات میں 50 نمبر qualifying threshold ہے، تاہم اگر کسی یونین کونسل میں 50 نمبر حاصل کرنے والا اہل امیدوار دستیاب نہ ہو تو پاسنگ مارکس کو 30 تک کم کیا جا سکتا ہے تاکہ تدریسی آسامیاں خالی نہ رہیں۔

محکمہ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اس عمل میں باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا، عوامی نوٹس جاری کیا گیا اور عارضی طور پر کم کیے گئے میرٹ کی فہرست بھی شائع کی گئی۔

عدالت کی اہم قانونی وجوہات

عدالت نے قرار دیا کہ:

1️⃣ یونین کونسل کا اصول:
دفعہ 3 کے تحت پی ایس ٹی کی آسامی بنیادی طور پر اسی یونین کونسل سے میرٹ پر پُر کی جانی ہے جہاں امیدوار کا مستقل رہائشی تعلق CNIC اور ڈومیسائل کے مطابق ہو۔

2️⃣ ملحقہ یونین کونسل سے تقرری:
اگر متعلقہ یونین کونسل میں کوئی اہل امیدوار دستیاب نہ ہو تو قانون کے تحت ملحقہ یونین کونسلز کے اہل امیدواروں میں سے تقرری کی جا سکتی ہے۔

3️⃣ 50 سے 30 نمبر تک کمی:
عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 3 متعلقہ اتھارٹی کو qualifying criteria، بشمول کم از کم نمبر مقرر یا revise کرنے سے منع نہیں کرتی، خصوصاً جب یہ اختیار باقاعدہ طور پر نوٹیفائی شدہ پالیسی کے تحت استعمال کیا گیا ہو۔

4️⃣ 19.07.2024 کی پالیسی:
عدالت نے واضح کیا کہ پالیسی میں دو مرحلہ طریقہ کار رکھا گیا تھا؛ پہلے 50 یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں سے آسامی پُر کی جائے گی، اور اگر ایسے امیدوار دستیاب نہ ہوں تو معیار کو 30 نمبروں تک کم کیا جا سکتا ہے۔

5️⃣ 17.10.2025 کی ہدایات:
مذکورہ پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محکمہ نے 17 اکتوبر 2025 کو باقاعدہ ہدایات جاری کیں، لہٰذا محکمہ نے اپنی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے کارروائی کی۔

6️⃣ بدنیتی یا امتیاز ثابت نہیں ہوا:
درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ محکمہ کا اقدام ملا فائیڈ (mala fide)، امتیازی، غیر قانونی یا کسی طریقۂ کار کی خلاف ورزی پر مبنی تھا۔

7️⃣ دفعہ 3 کی خلاف ورزی نہیں:
عدالت نے قرار دیا کہ پالیسی کے مطابق پاسنگ مارکس کم کرنا بذاتِ خود دفعہ 3 کی خلاف ورزی نہیں بنتا، کیونکہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ محکمہ نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا یا کسی لازمی قانونی تقاضے کی خلاف ورزی کی۔

8️⃣ آئینی اختیار میں عدالتی مداخلت کی حد:
عدالت نے واضح کیا کہ آئینی دائرۂ اختیار میں بنیادی طور پر انتظامی اقدام کی قانونی حیثیت، معقولیت اور طریقۂ کار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ عدالتی مداخلت اسی وقت مناسب ہوتی ہے جب واضح قانونی خلاف ورزی، اختیارات کا ناجائز استعمال یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو۔

حتمی فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنی قانونی شکایت ثابت کرنے میں ناکام رہے، اس لیے رِٹ پٹیشن میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں اور اسے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا گیا۔

قانونی مشاورت / واٹس ایپ: 0305-9297957

#خیبرپختونخوا #قانون

سرکاری بھرتی منسوخ ہو جائے تو عمر کی حد کیسے دیکھی جائے گی؟کیس کا خلاصہضلع کرک کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کلاس فور کی آسام...
24/08/2026

سرکاری بھرتی منسوخ ہو جائے تو عمر کی حد کیسے دیکھی جائے گی؟

کیس کا خلاصہ

ضلع کرک کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کلاس فور کی آسامیوں کا اشتہار 2 فروری 2020 کو جاری ہوا۔ بعد میں انتظامی اور ضابطہ جاتی خامیوں کے باعث تقرریاں منسوخ کردی گئیں، حالانکہ بعض امیدوار اپنی پروبیشن مدت بھی مکمل کرچکے تھے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر غلطی محکمہ یا متعلقہ حکام کی ہو اور امیدوار کے خلاف فراڈ، غلط بیانی یا ملی بھگت ثابت نہ ہو تو اس غلطی کا نقصان امیدوار کو نہیں دیا جاسکتا۔

چونکہ سلیکشن کمیٹی کی سفارشات کا قابلِ اعتماد ریکارڈ موجود نہیں تھا، اس لیے تقرریاں کالعدم قرار دے کر بھرتی کا عمل قانون کے مطابق دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا گیا۔

سابقہ امیدواروں کو خود بخود ملازمت کا حتمی حق نہیں ملا، تاہم انہیں قواعد کے مطابق دوبارہ ہونے والے انتخابی عمل میں شامل کرنا ہوگا۔

عمر کی حد کا اصول

دوبارہ بھرتی میں عمر کا تعین درج ذیل بنیادوں پر ہوگا:

اصل اشتہار
متعلقہ سروس رولز
مقررہ کٹ آف ڈیٹ
عمر میں قابلِ اطلاق رعایت
تعلیمی قابلیت اور دیگر شرائط
میرٹ اور کردار کی تصدیق

عمر ہمیشہ اسی تاریخ پر دیکھی جائے گی جو اشتہار یا قواعد میں کٹ آف ڈیٹ کے طور پر مقرر ہو۔

اگر اصل اشتہار کی تاریخ ہی متعلقہ کٹ آف ڈیٹ ہو اور امیدوار اس تاریخ پر اہل ہو، تو بعد میں ہونے والی سرکاری تاخیر کی وجہ سے اسے عمر کی حد سے باہر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عملی رہنمائی

اگر آپ کی بھرتی منسوخ ہوئی ہے یا عمر کی حد کا مسئلہ درپیش ہے تو:

اصل اشتہار اور اس میں درج کٹ آف ڈیٹ محفوظ کریں۔
اپنی درخواست، رول نمبر، ٹیسٹ یا انٹرویو کا ریکارڈ سنبھال کر رکھیں۔
منسوخی کا حکم نامہ اور دوبارہ بھرتی سے متعلق تمام نوٹیفکیشن حاصل کریں۔
متعلقہ سروس رولز اور عمر میں رعایت کے قواعد کا جائزہ لیں۔
دوبارہ بھرتی میں اپنا نام شامل نہ ہونے یا عمر کی بنیاد پر نااہلی کی صورت میں تحریری اعتراض جمع کرائیں۔
فراڈ یا غلط بیانی کے الزام کی صورت میں فوری طور پر ماہر وکیل سے قانونی رائے لیں۔

سابقہ امیدواروں کو دوبارہ زیرِ غور لایا جائے گا، مگر ملازمت خود بخود نہیں ملے گی۔ حتمی تقرری میرٹ، اہلیت، کردار کی تصدیق اور دیگر قانونی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگی۔

بھرتی کا عمل شفاف، منصفانہ، میرٹ پر مبنی اور قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ سرکاری ملازمت میں مساوی مواقع کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 25 اور 27 بھی اہم ہیں۔

اگر آپ کی سرکاری بھرتی منسوخ ہوئی ہے یا عمر کی حد کا مسئلہ درپیش ہے تو اپنے تمام دستاویزات محفوظ رکھیں اور بروقت قانونی مشورہ حاصل کریں۔

واٹس ایپ: 0332-9696342

#خیبرپختونخوا #آرٹیکل25 #آرٹیکل27 #میرٹ #وکلاء

ازسرِ نو محکمانہ انکوائری کے حکم کے خلاف فوری عدالتی چارہ جوئی؟ — سپریم کورٹ کا جامع قانونی خلاصہبنیادی قانونی اصولسپریم...
23/08/2026

ازسرِ نو محکمانہ انکوائری کے حکم کے خلاف فوری عدالتی چارہ جوئی؟ — سپریم کورٹ کا جامع قانونی خلاصہ

بنیادی قانونی اصول

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ازسرِ نو انکوائری (De Novo Inquiry) کا حکم عموماً محکمانہ کارروائی کا ایک عبوری مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ نہ تو حتمی سزا ہوتی ہے اور نہ ہی آخری محکمانہ فیصلہ۔

اس لیے صرف دوبارہ انکوائری شروع کیے جانے کی بنیاد پر ہر معاملے میں فوری طور پر عدالت سے رجوع کا حق پیدا نہیں ہوتا۔

ازسرِ نو انکوائری کیا ہے؟

ازسرِ نو انکوائری سے مراد ایسی نئی محکمانہ انکوائری ہے جو پہلے کی گئی انکوائری کے بعد دوبارہ شروع کی جائے۔

یہ حکم بعض حالات میں جاری کیا جاسکتا ہے، مثلاً:

* پہلی انکوائری میں بنیادی قانونی خامی ہو؛
* مقررہ طریقۂ کار پر عمل نہ کیا گیا ہو؛
* ملازم کو مؤثر دفاع کا موقع نہ ملا ہو؛
* انکوائری رپورٹ ناقص یا نامکمل ہو؛
* متعلقہ اتھارٹی کو مزید تحقیقات ضروری محسوس ہوں۔

تاہم ازسرِ نو انکوائری کا حکم بھی قانون، اختیار اور فطری انصاف کے اصولوں کے تابع ہوتا ہے۔

آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا اختیار

آئین کا آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی یا اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے جاری کیے گئے احکامات کا جائزہ لے۔

اگرچہ ازسرِ نو انکوائری کا حکم عموماً عبوری ہوتا ہے، لیکن ہائی کورٹ درج ذیل حالات میں مداخلت کرسکتی ہے:

* حکم کسی غیر مجاز اتھارٹی نے جاری کیا ہو؛
* قانون یا مقررہ طریقۂ کار کی بنیادی خلاف ورزی ہوئی ہو؛
* حکم بدنیتی یا غیر قانونی مقصد پر مبنی ہو؛
* ملازم کو مؤثر سماعت یا دفاع کا موقع نہ دیا گیا ہو؛
* کارروائی واضح طور پر اختیار سے تجاوز پر مبنی ہو؛
* کوئی مؤثر متبادل قانونی چارہ جوئی دستیاب نہ ہو۔

آرٹیکل 212 اور سروس ٹربیونل کا کردار

آئین کا آرٹیکل 212 سرکاری ملازمین کے سروس معاملات کے لیے سروس ٹربیونلز کو خصوصی اختیار دیتا ہے۔

چنانچہ اگر متعلقہ سروس قانون کے تحت:

* اپیل کا حق موجود ہو؛
* نظرثانی کا مؤثر راستہ دستیاب ہو؛
* سروس ٹربیونل کو معاملہ سننے کا اختیار حاصل ہو؛

تو ہائی کورٹ عموماً آرٹیکل 199 کے تحت براہِ راست درخواست سننے سے گریز کرتی ہے۔

آرٹیکل 199 اور آرٹیکل 212 کا باہمی تعلق

آرٹیکل 212، آرٹیکل 199 کے اختیار کو ہر صورت ختم نہیں کرتا۔ عدالت ہر مقدمے میں یہ جائزہ لیتی ہے کہ:

1. زیرِ اعتراض حکم حتمی ہے یا عبوری؛
2. متعلقہ فورم کو اس حکم کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؛
3. متبادل قانونی چارہ جوئی واقعی مؤثر ہے یا صرف رسمی؛
4. معاملہ محض سروس تنازع ہے یا اختیار اور قانونی جواز کا بنیادی سوال بھی شامل ہے؛
5. فطری انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔

فوری عدالتی مداخلت کب مشکل ہوتی ہے؟

اگر ازسرِ نو انکوائری کا حکم:

* مجاز اتھارٹی نے جاری کیا ہو؛
* قانون کے مطابق جاری کیا گیا ہو؛
* ملازم کو دفاع کا مناسب موقع حاصل ہو؛
* متعلقہ سروس قانون کے تحت مؤثر اپیل یا ٹربیونل کا راستہ موجود ہو؛
* اور حکم صرف عبوری نوعیت کا ہو؛

تو ہائی کورٹ عموماً اس مرحلے پر مداخلت نہیں کرتی۔

ایسی صورت میں ملازم کو محکمانہ کارروائی مکمل ہونے یا دستیاب قانونی فورم سے رجوع کرنے کا انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔

مداخلت کی ممکنہ بنیادیں

ہائی کورٹ ازسرِ نو انکوائری کے حکم کا جائزہ لے سکتی ہے اگر:

* اتھارٹی کے پاس قانونی اختیار ہی نہ ہو؛
* حکم قانون کے صریحاً خلاف ہو؛
* کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو؛
* ملازم کو نوٹس یا سماعت کا موقع نہ دیا گیا ہو؛
* انکوائری پہلے ہی حتمی طور پر مکمل ہوچکی ہو اور دوبارہ کارروائی قانوناً ممنوع ہو؛
* متبادل فورم مؤثر ریلیف فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر معاملہ دوبارہ اسی عدالت کو بھیج دیا۔

ہائی کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ ازسرِ نو جائزہ لے کہ:

* ازسرِ نو انکوائری کا حکم قانونی طور پر درست تھا یا نہیں؛
* حکم جاری کرنے والی اتھارٹی کو اختیار حاصل تھا یا نہیں؛
* متعلقہ سروس قانون کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؛
* کوئی مؤثر متبادل فورم دستیاب ہے یا نہیں؛
* آئینی درخواست آرٹیکل 199 کے تحت قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے خود ازسرِ نو انکوائری کو غیر قانونی قرار نہیں دیا اور نہ ہی درخواست گزار کو مقدمے کے حتمی حقائق کی بنیاد پر کامیاب قرار دیا۔

معمولی سزا پر عبوری تحفظ

مقدمے کے مخصوص حالات میں ازسرِ نو انکوائری کے نتیجے میں عائد معمولی سزا پر عمل درآمد ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک مؤخر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

تاہم یہ حکم:

* عمومی قانونی اصول نہیں تھا؛
* صرف اسی مقدمے کے حالات تک محدود تھا؛
* اور اسے ہر ازسرِ نو انکوائری کے معاملے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

اہم قانونی پیغام

ازسرِ نو انکوائری کا حکم عموماً عبوری نوعیت کا ہوتا ہے، اس لیے اسے ہر صورت میں فوری طور پر آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اگر حکم میں:

* اختیار سے تجاوز؛
* واضح قانونی خلاف ورزی؛
* بدنیتی؛
* فطری انصاف کی خلاف ورزی؛
* یا مؤثر متبادل چارہ جوئی کا فقدان

موجود ہو تو ہائی کورٹ مداخلت کرسکتی ہے۔

خلاصہ

ازسرِ نو انکوائری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوگا کہ انکوائری دوبارہ شروع کی گئی ہے۔

عدالت درج ذیل عوامل کو مجموعی طور پر دیکھے گی:

* حکم کی نوعیت؛
* اتھارٹی کا اختیار؛
* متعلقہ سروس قانون؛
* دستیاب متبادل فورم؛
* فطری انصاف کے تقاضے؛
* اور مقدمے کے مخصوص حقائق۔

📲 واٹس ایپ: 0305-9297957

#آرٹیکل199 #آرٹیکل212 #وکلاء

سرکاری ملازم کی تنخواہ روکنے کے لیے قانونی جواز ضروری ہے — سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہکیس کے حقائقدرخواست گزار ملازمین کی تنخ...
23/08/2026

سرکاری ملازم کی تنخواہ روکنے کے لیے قانونی جواز ضروری ہے — سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ

کیس کے حقائق

درخواست گزار ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ متعلقہ لوکل کونسل کے اقدامات کے باعث پیدا ہوا۔ جواب دہندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ سابقہ درخواست دائر ہونے اور اس پر عدالتی کارروائی کے باعث موجودہ درخواست اصولِ امرِ مختومہ (Res Judicata) کے تحت قابلِ سماعت نہیں۔

عدالت نے یہ اعتراض مسترد کردیا، کیونکہ سابقہ اور موجودہ کارروائی کا موضوع اور سببِ دعویٰ یکساں نہیں تھا۔ سابقہ درخواست منتقلی یا واپسی سے متعلق تھی، جبکہ موجودہ معاملہ تنخواہ کی ادائیگی سے متعلق تھا۔ اس لیے سابقہ کارروائی کی بنیاد پر موجودہ درخواست کو Res Judicata کے اصول کے تحت خارج نہیں کیا جاسکتا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ اصول ہر مقدمے میں خودکار طور پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس کے لیے عموماً فریقین، موضوع، سببِ دعویٰ اور زیرِ بحث معاملہ قانون کے مطابق یکساں ہونا ضروری ہوتا ہے۔

عدالت کی Reasoning

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کسی ملازم کی تنخواہ روکنے یا اس کی ادائیگی معطل کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی کے پاس قانونی اختیار، قابلِ قبول وجہ اور قانون میں مقررہ طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔

عدالت نے تنخواہ کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا، کیونکہ یہ ملازم کی خدمات کے عوض واجب الادا معاوضہ اور اس کے معاشی معاملات کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت میں تنخواہ روکنا مطلقاً ممنوع ہے یا تنخواہ آئین کے تحت ایک غیر مشروط بنیادی حق ہے۔

قانون کے تحت مجاز اتھارٹی، مقررہ شرائط اور باقاعدہ محکمانہ کارروائی کے نتیجے میں تنخواہ یا اس کے کسی حصے کے بارے میں حکم دیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ پوری کارروائی قانون کے مطابق ہو۔

قانونی اصول

🔹 تنخواہ روکنے یا ادائیگی معطل کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی کے پاس واضح قانونی اختیار ہونا ضروری ہے۔

🔹 کارروائی کے لیے قابلِ قبول وجوہات موجود ہونی چاہییں اور جہاں قانون تقاضا کرے وہاں مقررہ محکمانہ طریقہ کار کی پابندی لازم ہے۔

🔹 محض انتظامی سہولت، غیر واضح الزام یا من مانی بنیاد پر تنخواہ روکنا قانونی طور پر قابلِ دفاع نہیں رہتا۔

🔹 اگر تنخواہ روکنے کا اقدام ملازم کو قانونی تحفظات سے محروم کرکے یا بدنیتی سے کیا گیا ہو تو عدالت اسے اختیارات کے ناجائز استعمال یا امتیازی کارروائی کے طور پر جانچ سکتی ہے۔

🔹 تاہم ہر غیر مؤثر یا تاخیر شدہ ادائیگی کو بلا ثبوت بدنیتی یا Victimization قرار نہیں دیا جاسکتا۔

🔹 آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ، قانونی شرائط پوری ہونے پر، کسی سرکاری یا قانونی اتھارٹی کے اقدام، حکم یا کارروائی کا جائزہ لے سکتی ہے اور مناسب ریلیف دے سکتی ہے۔

🔹 آرٹیکل 199 کے تحت اختیار عمومی اپیل کا متبادل نہیں ہوتا۔ اس کے استعمال میں قانونی حدود، متبادل مؤثر remedy اور مقدمے کے مخصوص حقائق کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

عملی نتیجہ

عدالت نے درخواست گزاروں کے تنخواہ سے متعلق دعوے کو قابلِ غور سمجھا اور متعلقہ حکام کے اقدام کو قانونی اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے معیار پر پرکھا۔

فیصلے کا عملی خلاصہ یہ ہے کہ ملازم کی تنخواہ کو بلاجواز یا غیر قانونی طور پر نہیں روکا جاسکتا۔ تاہم تنخواہ کی ادائیگی کا حق متعلقہ سروس قوانین، ملازمت کی حیثیت، حاضری، تعیناتی اور دیگر قانونی شرائط کے تابع ہوسکتا ہے۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو مناسب ریلیف دیتے ہوئے ان کی سروس پوزیشن کے بارے میں بھی حکم دیا۔ اس حکم کو صرف اسی مقدمے کے حقائق اور عدالت کی جانب سے دیے گئے مخصوص ریلیف کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ اسے ہر ملازم یا ہر تنخواہ کے تنازعے پر خودکار طور پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

اہم قانونی پیغام

“ملازم کی تنخواہ روکنے کے لیے قانونی اختیار، قابلِ قبول وجہ اور مقررہ طریقہ کار ضروری ہے؛ تاہم تنخواہ کا دعویٰ متعلقہ سروس قوانین اور مقدمے کے مخصوص حقائق کے تابع رہتا ہے۔”

واٹس ایپ: 0305-9297957

#تنخواہ #آرٹیکل199 #ملازمت #وکلاء

صرف ساتھی ملازم کی شکایت پر سرکاری ملازم کی مستقلی سے انکار نہیں کیا جاسکتااہم قانونی اصوللاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے ...
22/08/2026

صرف ساتھی ملازم کی شکایت پر سرکاری ملازم کی مستقلی سے انکار نہیں کیا جاسکتا

اہم قانونی اصول

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی کارکردگی تسلی بخش ہو تو صرف کسی ساتھی ملازم کی شکایت یا زیرِ التوا درخواست کی بنیاد پر اسے مستقل کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شکایت کی باقاعدہ تحقیقات ہوں اور قانونی کارروائی کے بعد ملازم کے خلاف کوئی منفی بات ثابت بھی ہو۔

مقدمے کے اہم حقائق

درخواست گزار کنٹریکٹ پر سرکاری ملازمت کر رہا تھا اور اپنی سروس مستقل کرانا چاہتا تھا۔ اس کی کنٹریکٹ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی مستقلی کا معاملہ متعلقہ مجاز اتھارٹی کے سامنے مثبت سفارش کے ساتھ پیش کیا گیا۔

درخواست گزار کی سروس رپورٹس میں اس کی کارکردگی تسلی بخش قرار دی گئی تھی، لیکن ایک ساتھی ملازم کی شکایات کو اس کی مستقلی کے خلاف بنیاد بنا لیا گیا۔

عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ متعلقہ اتھارٹی نے ایک طرف درخواست گزار کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا، جبکہ دوسری طرف عدالت میں اس کی مستقلی کی مخالفت یہ کہہ کر کی کہ وہ 08-09-2023 کے بعد سروس میں موجود نہیں تھا۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ:

* صرف کسی شکایت کا زیرِ التوا ہونا سرکاری ملازم کو مستقل نہ کرنے کے لیے کافی نہیں۔
* ساتھی ملازم کی شکایت کی باقاعدہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بغیر اسے ملازم کی مستقلی کے خلاف فیصلہ کن بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔
* درخواست گزار کا معاملہ جائز توقع Legitimate Expectancy کے اصول کے تحت قابلِ غور تھا۔
* متعلقہ اتھارٹی کا متضاد مؤقف قابلِ قبول نہیں تھا، کیونکہ ایک طرف درخواست گزار کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا گیا، جبکہ دوسری طرف اسی کے برخلاف اس کی مستقلی کی مخالفت کی گئی۔

نتیجہ

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کے کنٹریکٹ میں 09-08-2023 سے توسیع کی جائے۔

عدالت نے مزید ہدایت کی کہ اگر تمام قانونی تقاضے پورے ہوجائیں تو درخواست گزار کی ابتدائی تقرری کی تاریخ سے تین سال مکمل ہونے پر اسے مستقل کرنے کے بارے میں باقاعدہ حکم جاری کیا جائے۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ تسلی بخش کارکردگی رکھنے والے ملازم کی مستقلی کے معاملے میں متعلقہ اتھارٹی کے لیے شفاف، معقول اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔

صرف زیرِ التوا شکایت، خاص طور پر کسی ساتھی ملازم کی شکایت، کسی ملازم کے حق یا اس کی جائز توقع ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔

واٹس ایپ: 0305-9297957

#مستقلی #وکیل

138 گواہ، مگر جرح کا موقع نہیں! — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ بنیادی قانونی اصولسپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ محکم...
22/08/2026

138 گواہ، مگر جرح کا موقع نہیں! — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

بنیادی قانونی اصول

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ محکمانہ انکوائری میں سرکاری ملازم کو استغاثہ کے گواہوں پر جرح کا مناسب اور مؤثر موقع دینا لازم ہے۔

جرح \(Cross\-Examination\) سے مراد گواہ سے سوالات کرکے اس کے بیان کی درستگی، تضادات اور قابلِ اعتباریت جانچنا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ جرح کا موقع فراہم نہ کرنا:

* منصفانہ سماعت Fair Trial کے حق کی خلاف ورزی ہے؛
* فطری انصاف Natural Justice کے اصولوں کے منافی ہے؛
* آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A کی خلاف ورزی ہے۔

مقدمے کے اہم حقائق

درخواست گزار Superintendent of Police \(PSP/BS\-18\) کے عہدے پر تعینات تھا۔

اس کے خلاف Government Servants Efficiency & Discipline Rules, 1973 کے تحت درج ذیل الزامات پر محکمانہ کارروائی شروع کی گئی:

* نااہلی Inefficiency
* بدعنوانی پر مبنی طرزِ عمل Misconduct
* کرپشن Corruption

انکوائری کے دوران 138 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، لیکن درخواست گزار کو ان گواہوں پر جرح کا موقع نہیں دیا گیا۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ اس بنیادی حق سے محرومی کے باعث وہ مؤثر طور پر اپنا دفاع نہیں کرسکا۔

⚖️ سپریم کورٹ کی اہم آبزرویشنز

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:

🔹 جرح سچ کی تلاش کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

🔹 جرح کے ذریعے گواہ کے بیان میں موجود تضادات، اس کی قابلِ اعتباریت اور ممکنہ جانبداری کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

🔹 کسی گواہ کے بیان پر مکمل انحصار اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک مخالف فریق کو مناسب اور مؤثر جرح کا موقع نہ دیا جائے۔

🔹 صرف ابتدائی بیان \(Examination\-in\-Chief\) کسی الزام کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔

🔹 جرح کا حق محض ایک رسمی یا معمولی طریقۂ کار کی شرط نہیں بلکہ دفاع کا بنیادی حق ہے۔

🔹 اس حق سے انکار پورے محکمانہ مقدمے کی قانونی بنیاد کو متاثر کرسکتا ہے۔

سروس ٹربیونل کی ذمہ داری

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ سروس ٹربیونل کو یہ جانچنا لازم ہے کہ محکمانہ انکوائری:

* قانون کے مطابق ہوئی یا نہیں؛
* قانونی طریقۂ کار Due Process پر عمل کیا گیا یا نہیں؛
* فطری انصاف کے اصولوں کو ملحوظ رکھا گیا یا نہیں؛
* ملازم کو گواہوں پر مؤثر جرح کا مکمل موقع دیا گیا یا نہیں۔

سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ نے:

* وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا؛
* معاملہ ازسرِنو انکوائری De Novo Inquiry کے لیے واپس بھیج دیا؛
* نئی انکوائری سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے قانون کے مطابق کرانے کی ہدایت کی؛
* درخواست گزار کو تمام گواہوں، بشمول 138 گواہوں، پر مکمل اور مؤثر جرح کا موقع دینے کا حکم دیا۔

قانونی خلاصہ

“منصفانہ جرح کے مؤثر موقع کے بغیر منصفانہ محکمانہ انکوائری ممکن نہیں۔”

محکمانہ انکوائری کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ:

* حقائق کی غیر جانب دارانہ تلاش؛
* منصفانہ کارروائی؛
* الزامات کی درست جانچ؛
* اور اصل ذمہ دار کا تعین بھی ہے۔

اگر ملازم کے دفاع کے بنیادی حقوق سلب کر دیے جائیں تو ایسی انکوائری کی قانونی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔

اہم پیغام

محکمانہ کارروائی میں صرف الزام لگانا کافی نہیں۔ ملازم کو اپنا دفاع کرنے، گواہوں سے جرح کرنے اور منصفانہ سماعت کا مکمل حق حاصل ہے۔

WhatsApp: 0305-929797

️ سرکاری ملازم کو سزا دینے سے پہلے باقاعدہ انکوائری ضروری — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ...
22/08/2026

️ سرکاری ملازم کو سزا دینے سے پہلے باقاعدہ انکوائری ضروری — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ کسی سرکاری ملازم کو معمولی یا بڑی سزا دینے سے پہلے باقاعدہ محکمانہ انکوائری اور صفائی کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔

اگر کسی صورت میں باقاعدہ انکوائری نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو متعلقہ اتھارٹی کو Rule 5(iii)، Civil Servants (Efficiency & Discipline) Rules, 1973 کے تحت اس کی مناسب وجوہات تحریری طور پر بیان کرنا ہوں گی۔

عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کی پابندی محکمانہ کارروائی میں بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

کیس کے حقائق:

پاکستان ریلوے کے ایک سابق ملازم، جو CSR(B) کے عہدے پر فائز تھے، پر سرکاری رقم 26,53,850 روپے میں خرد برد اور روزانہ کی آمدن نیشنل بینک آف پاکستان میں تاخیر سے جمع کرانے کے الزامات عائد ہوئے۔ انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

بعد ازاں Federal Service Tribunal نے برطرفی کی سزا کو Compulsory Retirement میں تبدیل کر دیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محکمانہ کارروائی میں قانون، قواعد اور مقررہ طریقہ کار پر مکمل عمل ضروری ہے اور ملازم کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے۔

تاہم، سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کیا کیونکہ اس میں کوئی ایسی واضح قانونی یا factual غلطی موجود نہیں تھی جس کی بنیاد پر مداخلت ضروری ہو۔

اہم قانونی اصول:

سرکاری ملازم کو سزا دینے سے پہلے Due Process، Fair Hearing اور Natural Justice کے اصولوں پر عمل کرنا لازم ہے۔

WhatsApp: 0305-9297957

خواتین کے جائیداد کے حقوق پر اہم فیصلہاومبڈسپرسن کا اختیار کہاں تک؟ پشاور ہائیکورٹ نے حدود واضح کر دیںاومبڈسپرسن کا دائر...
21/08/2026

خواتین کے جائیداد کے حقوق پر اہم فیصلہ

اومبڈسپرسن کا اختیار کہاں تک؟ پشاور ہائیکورٹ نے حدود واضح کر دیں

اومبڈسپرسن کا دائرۂ اختیار

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2019 کے تحت اومبڈسپرسن کے اختیار کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ اومبڈسپرسن کا مقصد خواتین کو ان کے قانونی جائیدادی حقوق سے غیر قانونی محرومی کی صورت میں فوری اور مختصر نوعیت کا ریلیف فراہم کرنا ہے۔ تاہم اومبڈسپرسن ایسے پیچیدہ تنازعات کا فیصلہ نہیں کر سکتا جن میں ملکیت یا حقِ عنوان کے تعین کے لیے باقاعدہ ٹرائل، تفصیلی شہادت اور جرح ضروری ہو۔

ملکیت، وراثت اور فراڈ کے تنازعات سول کورٹ میں

اگر تنازع میں ملکیت، وراثتی حصے، ہبہ، انتقال، فراڈ، جعلی دستاویزات، حد بندی، تقسیمِ جائیداد یا شریک مالکان کے باہمی حقوق جیسے پیچیدہ سوالات شامل ہوں تو ان کا حتمی فیصلہ اومبڈسپرسن کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔ ایسے معاملات میں فریقین کو مجاز سول کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا، جہاں مکمل شہادت اور جرح کے بعد حقوق کا تعین کیا جا سکے۔

مشترکہ اور غیر منقسم جائیداد

عدالت نے ایک اہم اصول یہ بھی واضح کیا کہ اگر جائیداد مشترکہ اور غیر منقسم ہو تو کسی ایک شریک مالک کو اومبڈسپرسن کی کارروائی کے ذریعے مشترکہ جائیداد کے کسی مخصوص حصے کا خصوصی قبضہ نہیں دیا جا سکتا۔

کسی شریک کا مخصوص حصہ متعین کرنا یا جائیداد کی تقسیم کرنا بنیادی طور پر سول کورٹ کا معاملہ ہے۔

تمام ضروری فریقین کو شامل کرنا لازم

اگر معاملہ مشترکہ جائیداد، تقسیم یا شریک مالکان کے باہمی حقوق سے متعلق ہو تو تمام ضروری شریک مالکان اور متاثرہ فریقین کو مقدمے میں شامل کرنا ضروری ہے۔ کسی ایسے شخص کے حق کو متاثر کرنا جو کارروائی میں فریق ہی نہ ہو، اصولِ قدرتی انصاف اور منصفانہ سماعت کے خلاف ہوگا۔

اومبڈسپرسن کا کردار — معاون، متبادل نہیں

عدالت نے واضح کیا کہ اومبڈسپرسن کا کردار تکمیلی اور اصلاحی ہے۔ جہاں کسی خاتون کو اس کے پہلے سے موجود قانونی حقِ ملکیت، قبضہ یا شریک ملکیت سے غیر قانونی طور پر محروم کیا گیا ہو، وہاں اومبڈسپرسن فوری تحفظ اور مناسب ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔

لیکن اومبڈسپرسن سول کورٹ کا متبادل نہیں اور نہ ہی وہ ایسے پیچیدہ سول تنازعات کا مکمل ٹرائل کر سکتا ہے جن میں ملکیت، عنوان، تقسیم یا خصوصی قبضے کا تفصیلی تعین درکار ہو۔

اہم قانونی اصول

“اومبڈسپرسن موجود اور ثابت شدہ خواتین کے قانونی جائیدادی حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے، لیکن پیچیدہ ملکیتی تنازعات، تقسیمِ جائیداد اور متنازعہ حقِ ملکیت کا حتمی فیصلہ سول کورٹ ہی کرے گی۔”

قانونی نچوڑ

یہ فیصلہ خواتین کے جائیدادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اومبڈسپرسن اور سول کورٹ کے دائرۂ اختیار کی واضح حد بندی کرتا ہے۔ فوری نوعیت کے قانونی تحفظ کے لیے اومبڈسپرسن کا فورم مؤثر ہے، لیکن جہاں اصل تنازع ملکیت، وراثت، ہبہ، فراڈ، جعلی دستاویزات، تقسیم یا شریک مالکان کے متنازعہ حقوق کا ہو اور تفصیلی شہادت درکار ہو، وہاں مناسب فورم مجاز سول کورٹ ہے۔

Legal Consultation / WhatsApp: 0305-9297957

مالک مکان خود نہ آئے تو بھی بے دخلی کی درخواست قابلِ سماعت!Special Attorney کے ذریعے Ejectment Petitionلاہور ہائیکورٹ نے...
21/08/2026

مالک مکان خود نہ آئے تو بھی بے دخلی کی درخواست قابلِ سماعت!

Special Attorney کے ذریعے Ejectment Petition

لاہور ہائیکورٹ نے کرایہ داری کے ایک اہم مقدمے میں قرار دیا کہ مالک مکان اپنی جانب سے مقرر کردہ Special Attorney کے ذریعے Ejectment Petition دائر کر سکتا ہے۔ صرف یہ اعتراض کہ درخواست مالک نے خود دائر نہیں کی بلکہ اس کے مقرر کردہ Attorney نے دائر کی ہے، بذاتِ خود درخواست کو ناقابلِ سماعت نہیں بناتا، بشرطیکہ Attorney کو مناسب قانونی اختیار حاصل ہو۔

Power of Attorney پر بروقت اعتراض ضروری

مقدمے میں Special Power of Attorney عدالت کے سامنے بطور شہادت پیش کی گئی۔ متعلقہ Attorney پر جرح بھی کی گئی، لیکن اس مرحلے پر نہ اس کی حیثیت اور نہ ہی Power of Attorney کے اختیار کو مؤثر طور پر چیلنج کیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بعد کے مرحلے پر محض یہ اعتراض اٹھانا کہ Attorney کو مالک کی نمائندگی کا اختیار حاصل نہیں تھا، قابلِ قبول نہیں، خصوصاً جب فریق نے بروقت اس دستاویز اور اختیار پر اعتراض نہیں کیا۔

Landlord کی قانونی حیثیت

عدالت نے Punjab Rented Premises Act, 2009 کے تحت “Landlord” کی تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح کیا کہ مالک کی جانب سے کرایہ وصول کرنے یا اس کی طرف سے جائیداد کے معاملات دیکھنے کا مجاز شخص بھی قانون کے دائرے میں Landlord کی حیثیت رکھ سکتا ہے۔

کرایہ داری کی مدت میں توسیع ثابت کرنا ضروری

کرایہ دار کا مؤقف تھا کہ کرایہ داری کی مدت مزید دو سال کے لیے زبانی معاہدے کے ذریعے بڑھائی گئی تھی۔ تاہم وہ اس مبینہ توسیع کو قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے واضح کیا کہ محض زبانی دعویٰ، بغیر مؤثر اور قابلِ اعتماد ثبوت کے، کرایہ داری کی مدت میں توسیع ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

ماہ بہ ماہ کرایہ داری

اگر مقررہ مدت کے بعد کرایہ داری میں مزید توسیع ثابت نہ ہو تو حالات اور قانون کے مطابق کرایہ داری ماہ بہ ماہ بنیاد پر جاری تصور ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں قانونی مطالبے یا نوٹس کے بعد کرایہ دار کے لیے جائیداد خالی کرنے کی ذمہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کرایہ دار اپنے مؤقف کو ثابت کرنے میں ناکام رہا اور محض تکنیکی اعتراضات کی بنیاد پر بے دخلی کی کارروائی کو ناکام نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ کرایہ دار کی آئینی درخواست بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دی گئی۔

اہم قانونی اصول

“مالک مکان کے مقرر کردہ مجاز Special Attorney کے ذریعے Ejectment Petition دائر کرنا قابلِ قبول ہے؛ جبکہ کرایہ داری میں زبانی توسیع کا دعویٰ محض بیان کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔”

Legal Consultation / WhatsApp: 0305-9297957

18 سال بعد وراثتی دعویٰ: اصل سوال یہ نہیں کہ حق تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ فراڈ کا علم کب ہوا؟وراثتی حق اور قانونِ معیاد...
21/08/2026

18 سال بعد وراثتی دعویٰ: اصل سوال یہ نہیں کہ حق تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ فراڈ کا علم کب ہوا؟

وراثتی حق اور قانونِ معیاد

بلوچستان ہائی کورٹ نے وراثتی حق، قانونِ معیاد اور مبینہ فراڈ کے حوالے سے اہم اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ صرف یہ مؤقف کہ وارثوں کو اپنے حق یا جائیداد کی منتقلی کا علم نہیں تھا، طویل تاخیر سے دائر کیے گئے دعوے کو خود بخود قابلِ سماعت نہیں بناتا۔

مقدمے کے اہم حقائق

درخواست گزار خواتین نے اپنے نانا کی جائیداد میں شرعی وراثتی حصہ حاصل کرنے کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ ریکارڈ کے مطابق نانا کا انتقال 1990 میں ہوا، جبکہ درخواست گزاروں کی والدہ تقریباً 3 سے 4 سال بعد فوت ہوئیں۔ والدہ نے اپنی زندگی میں نہ اپنے مبینہ وراثتی حق کا دعویٰ کیا اور نہ ہی متعلقہ انتقالات کو چیلنج کیا۔

درخواست گزاروں نے اپنی والدہ کی وفات کے تقریباً 18 سال بعد مقدمہ دائر کیا، جبکہ اس دوران جائیداد مختلف خریداروں کو منتقل ہو چکی تھی اور بعد کے خریدار تقریباً 20 سال سے قبضے میں تھے۔

Section 18 Limitation Act — فراڈ کی صورت میں استثنا

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی شخص کا قانونی حق فراڈ کے ذریعے چھپایا گیا ہو تو Section 18, Limitation Act, 1908 کے تحت مدتِ معیاد فراڈ کے علم میں آنے کی تاریخ سے شمار ہونے کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔

لیکن اس شق کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے صرف فراڈ کا الزام کافی نہیں۔ مدعی کو یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ واقعی فراڈ ہوا، اس کے ذریعے حق چھپایا گیا اور اسے فراڈ کا علم بعد میں ہوا۔

صرف عدمِ علم کا دعویٰ کافی نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ اگر انتقالات، فروخت اور قبضہ کھلے عام موجود ہوں اور ریکارڈ و شہادت سے یہ ظاہر ہو کہ متعلقہ فریق کو ان معاملات کا علم تھا یا حالات کے مطابق علم ہونا چاہیے تھا، تو محض بعد میں “ہمیں علم نہیں تھا” کہنا Section 18 کے تحفظ کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

طویل خاموشی کا قانونی اثر

عدالت نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ درخواست گزاروں کی والدہ نے اپنی زندگی میں اپنے مبینہ حق کے لیے کوئی مؤثر قانونی کارروائی نہیں کی۔ مزید یہ کہ جائیداد بعد میں تیسرے فریق کو منتقل ہوئی اور وہ طویل عرصے تک قبضے میں رہے۔ ایسے حالات میں غیر معمولی تاخیر سے دائر کیا گیا دعویٰ قانونِ معیاد کی زد میں آ سکتا ہے، خصوصاً جب فراڈ قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت نہ ہو۔

اہم قانونی اصول

وراثتی حق اپنی جگہ ایک قانونی حق ہے، لیکن اس کے نفاذ کے لیے قانونِ معیاد کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اور:

“Section 18 کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے محض فراڈ کا الزام نہیں بلکہ فراڈ، حق کے اخفاء اور فراڈ کے بعد علم کی تاریخ کو قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔”

نتیجہ

بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار خواتین Section 18 Limitation Act کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے فراڈ ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ جائیداد کی منتقلی، خریداروں کے قبضے اور طویل خاموشی کے حالات میں بعد میں دائر کیا گیا دعویٰ Limitation سے متاثر تھا۔

لہٰذا Revision Petition مسترد کر دی گئی۔

Legal Consultation / WhatsApp. 0332-9696342

Address

Office No. B-11, Al-Nimra Plaza, Oppisite To Govt College, Faqir Abad, KPK
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali & Zeb law firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share