Raees Muhammad

Raees Muhammad Advocate High Court at Peshawar. Constitutional, Criminal, Service, Educational Institutes, Civil & Family Laws of Pakistan.

پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز مستقل ججز مقررحکومتِ پاکستان، وزارتِ قانون و انصاف نے 11 اگست 2026 کو نوٹیفکیشن جاری کر...
13/08/2026

پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز مستقل ججز مقرر

حکومتِ پاکستان، وزارتِ قانون و انصاف نے 11 اگست 2026 کو نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے درج ذیل چار ایڈیشنل ججز کو پشاور ہائی کورٹ کے ججز مقرر کر دیا ہے:

1. مس جسٹس فرح جمشید

2. مسٹر جسٹس انعام اللہ خان

3. مسٹر جسٹس ثابت اللہ خان

4. مسٹر جسٹس اورنگزیب

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرریاں آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 193 کے تحت کی گئی ہیں۔

تقرری کا اطلاق اس تاریخ سے ہوگا جس تاریخ کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے مذکورہ ایڈیشنل ججز کو بطور جج مقرر کرنے کے لیے نامزد کیا تھا۔

⚡سپریم کورٹ جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائرمنٹ. ♦️جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس 7 اگست کو ہوگا,♦️فل کورٹ ریفر...
03/08/2026

⚡سپریم کورٹ جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائرمنٹ.

♦️جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس 7 اگست کو ہوگا,

♦️فل کورٹ ریفرنس کیلئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا.

♦️سپریم کورٹ کے وکلا اور لاء افسران کو فل کورٹ کیلئے دعوت دی گئی ہے.‼️

مونال ریسٹورنٹ سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ C.R.P. No. 825 of 2024 & F.C.R.P. No. 44 of 2025 in C.P.L.A. No. 304 ...
16/07/2026

مونال ریسٹورنٹ سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
C.R.P. No. 825 of 2024 & F.C.R.P. No. 44 of 2025 in C.P.L.A. No. 304 of 2022.

لاہور ہائیکورٹ  کانجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں عوامی سہولیات کی زمینوں سے متعلق بڑا فیصلہ جاریسوسائٹیوں میں پارک،سکول، سڑک او...
16/07/2026

لاہور ہائیکورٹ کانجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں عوامی سہولیات کی زمینوں سے متعلق بڑا فیصلہ جاری

سوسائٹیوں میں پارک،سکول، سڑک اور قبرستان کی زمینیں عوام کا حق ہیں۔فیصلہ

رفاعی مقاصد کی مختص زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹی مالکان کو واپس نہیں مل سکتیں۔فیصلہ

عوامی سہولیات کے لیے مختص جائیدادیں ایل ڈی اے کے پاس عوامی امانت ہیں۔فیصلہ

​ایل ڈی اے رفاعی زمینوں کو اپنے اثاثوں کے طور پر فروخت یا استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔فیصلہ

سرکاری افسران عوام کے خادم ہیں حاکم نہیں۔فیصلہ

سکول کی جگہ کو30سال تک تعلیمی مقصد کے لیے استعمال نہ کرنا بدانتظامی ہے ۔فیصلہ

​سوسائٹی کے بچوں کے لیے سکول بنانا افسران کی صوابدید نہیں ان کا فرض ہے۔فیصلہ

انتظامی غفلت رہائشیوں کے وقار اور تعلیم کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔فیصلہ

​3 ماہ کے اندرسکول کی تعمیرکےعمل کا آغاز کیاجائے۔فیصلہ

​شہریوں کو پڑھائی اور اچھا ماحول دینا سرکار کی ذمہ داری ہے۔فیصلہ

عوامی فلاحی کام میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔فیصلہ

ہاؤسنگ سکیم کو منظور کرانے کے لیے پارک، سڑکیں اور اسکول کی زمین سرکار کو دینا لازمی شرط ہے۔فیصلہ

​سوسائٹی نے اپنی مرضی سے یہ زمینیں سرکار کے حوالے کی تھیں۔فیصلہ

اب 30 سال بعد ان زمینوں کےواپس مانگنے کا کوئی قانونی حق نہیں۔ فیصلہ

​آئین کا آرٹیکل 199 ہائیکورٹ کو غفلت کے خلاف ہدایات جاری اور بنیادی حقوق کےتحفظ کا اختیار دیتا ہے۔فیصلہ

عدالت نے سرکاری سکول، سڑک اور پارک کی زمینیں واپس مانگنے کی درخواست مسترد کردی

جسٹس راحیل کامران نے 23 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے جاری کردیا

نجی ہاوسنگ سکیم انتظامیہ نےمختص زمینوں کی واپسی کی پٹیشن دائرکی تھی

​ایل ڈی اےنےمختص زمینوں پر نہ خود سکول بنایانہ زمینیں واپس کیں۔درخواست گزار کاموقف

تیس سال تک سکیم کےرہائشیوں کوسکول سے محروم رکھنابنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار کا موقف

عدالت مختص جگہ پرسکول تعمیر نہ کرنے پر جگہ سکیم انتظامیہ کےحوالے کرنے کا حکم دے۔استدعا

اہم فیصلہ | پشاور ہائی کورٹپشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قابلِ ادائیگی چیک (Cheque) کے حوالے...
05/07/2026

اہم فیصلہ | پشاور ہائی کورٹ

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قابلِ ادائیگی چیک (Cheque) کے حوالے سے Negotiable Instruments Act, 1881 کی دفعہ 118 کے تحت ابتدا میں یہ قانونی مفروضہ ضرور قائم ہوتا ہے کہ چیک کسی جائز مالی ذمہ داری کے عوض جاری کیا گیا ہے، لیکن یہ مفروضہ حتمی نہیں بلکہ قابلِ تردید (Rebuttable) ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر مدعا علیہ ایک معقول اور قابلِ اعتماد دفاع پیش کر دے، مثلاً یہ مؤقف اختیار کرے کہ چیک بطور سیکیورٹی یا کسی اور مقصد کے لیے دیا گیا تھا، تو پھر صرف چیک پیش کرنا کافی نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں مدعی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالی لین دین، قرض، شراکت داری یا واجب الادا رقم کو آزاد اور ٹھوس شواہد مثلاً معاہدے، حسابات، کاروباری ریکارڈ یا دیگر دستاویزی ثبوت کے ذریعے ثابت کرے۔

مذکورہ مقدمہ میں مدعی مبینہ مشترکہ کاروبار اور 1 کروڑ 51 لاکھ روپے کی واجب الادا رقم ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکا، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ صرف چیک کی بنیاد پر ڈگری نہیں دی جا سکتی۔ نتیجتاً اپیل مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ چیک اگرچہ ابتدائی قانونی مفروضہ پیدا کرتا ہے، لیکن جب اس مفروضے کو مؤثر دفاع کے ذریعے ختم کر دیا جائے تو اصل مالی ذمہ داری کو مضبوط شواہد سے ثابت کرنا مدعی کی قانونی ذمہ داری ہے۔

‏ایم ٹیگ کے بغیر یا کم بیلنس پر 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس کی وصولی کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا گیا ۔ عدالت نے نیشنل ہائی وے ا...
05/07/2026

‏ایم ٹیگ کے بغیر یا کم بیلنس پر 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس کی وصولی کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا گیا ۔ عدالت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا 30 مئی 2025 کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا۔ موٹروے پر ایم ٹیگ نہ ہونے یا کم بیلنس پر اضافی ٹول ٹیکس کی وصولی کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اضافی ٹول ٹیکس وصول نا کرے ، وکیل نے بتایا کہ ایم ٹیگ کے بغیر یا کم بیلنس پر 50 فیصد اضافی ٹول لیا جا رہا۔وکیل کے مطابق این ایچ اے اضافی ٹول قانونی طور پر نہیں لے سکتا ۔این ایچ اے سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔تین اگست تک فریقین تحریری جواب عدالت میں جمع کرائیں ۔ ایڈوکیٹ جلال حیدر نے این ایچ اے کے 30 مئی 2025 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے۔

الحمدللہ، پشاور ہائی کورٹ میں ایک اور اہم آئینی درخواست میں مؤکلہ کے حق میں کامیابی حاصل ہوئی۔ معزز عدالت نے قرار دیا کہ...
03/07/2026

الحمدللہ، پشاور ہائی کورٹ میں ایک اور اہم آئینی درخواست میں مؤکلہ کے حق میں کامیابی حاصل ہوئی۔ معزز عدالت نے قرار دیا کہ جب کسی درخواست گزار کی ویزا توسیع کی درخواست متعلقہ اتھارٹی کے پاس زیرِ التواء ہو تو اسے غیر معینہ مدت تک بغیر فیصلے کے رکھنا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس درخواست گزار کی زیرِ التواء ویزا توسیع کی درخواست پر قانون کے مطابق، وجوہات پر مبنی (Reasoned) فیصلہ 15 دن کے اندر صادر کرے۔ یہ فیصلہ اس مسلمہ آئینی اور قانونی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ ہر انتظامی اتھارٹی اپنی قانونی ذمہ داری بروقت، شفاف اور منصفانہ انداز میں ادا کرنے کی پابند ہے، اور انتظامی تاخیر کسی شہری یا غیر ملکی درخواست گزار کے حقوق کو غیر ضروری طور پر متاثر نہیں کر سکتی۔ اگر آپ کو ویزا، امیگریشن، افغان شہریوں کے قانونی معاملات، NADRA، POC، شہریت یا آئینی درخواست (Writ Petition) کے حوالے سے قانونی معاونت درکار ہو تو پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے رابطہ کریں

Whatsapp
03028188866







الحمدللہ! آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر آئینی درخواست میں معزز پشاور ہائی کورٹ نے مؤکلان کے حق میں ایک اہم فیص...
02/07/2026

الحمدللہ! آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر آئینی درخواست میں معزز پشاور ہائی کورٹ نے مؤکلان کے حق میں ایک اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا کہ پاکستانی شہری سے شادی کرنے والا افغان شہری قانون کے مطابق Pakistan Origin Card (POC) کے حصول کے لیے دوبارہ درخواست دینے کا حق رکھتا ہے، جس پر نادرا قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار Pakistan Citizenship Act, 1951 کے تحت پاکستانی شہریت کے لیے بھی رجوع کر سکتا ہے، جبکہ نابالغ بچوں کی رجسٹریشن بھی قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، عدالت نے درخواست گزار کو چھ ماہ تک یا وفاقی حکومت کے حتمی فیصلے تک ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ POC، پاکستانی شہریت، نادرا، امیگریشن اور خاندانی حقوق سے متعلق مقدمات میں ایک اہم قانونی پیش رفت ہے اور ایسے خاندانوں کے لیے مؤثر قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے جو اسی نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو POC، شہریت، نادرا، بلاک شناختی کارڈ، امیگریشن یا افغان پاکستانی فیملی سے متعلق کسی بھی قانونی مسئلے کا سامنا ہے تو بروقت اور درست قانونی کارروائی آپ کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ �

رئیس محمد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

الحمدللہ، ایک اور اہم آئینی مقدمے میں کامیابی۔مجھے بطور وکیل ان افغان طلبہ کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جو پاکستان...
30/06/2026

الحمدللہ، ایک اور اہم آئینی مقدمے میں کامیابی۔

مجھے بطور وکیل ان افغان طلبہ کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اپنی اسٹڈی ویزا درخواستوں کے زیر التواء ہونے کے باعث گرفتاری، ہراسانی اور ملک بدری کے خدشات کا سامنا کر رہے تھے۔ معزز پشاور ہائی کورٹ نے ان کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ طلبہ اپنی ویزا یا ویزا توسیع کی درخواست مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کریں، جس پر وزارتِ داخلہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس قانون، قواعد اور پالیسی کے مطابق جلد از جلد فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کی قانونی درخواستوں کو منصفانہ، شفاف اور بروقت نمٹانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے تاکہ ان کی تعلیم غیر ضروری تاخیر یا انتظامی رکاوٹوں کی نذر نہ ہو۔

خیبر پختونخوا حکومت نے جمعہ کے روز "ورک فرام ہوم" کا فیصلہ واپس لے لیاپشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے جمعہ کے روز 100 فیصد...
30/06/2026

خیبر پختونخوا حکومت نے جمعہ کے روز "ورک فرام ہوم" کا فیصلہ واپس لے لیا

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے جمعہ کے روز 100 فیصد "ورک فرام ہوم" کی سہولت ختم کرتے ہوئے تمام سرکاری دفاتر میں معمول کے مطابق حاضری بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی کابینہ کے 54ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلے کی روشنی میں 17 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا وہ حکم نامہ، جس کے تحت جمعہ کو سرکاری ملازمین گھر سے کام کرتے تھے، فوری طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اب جمعہ کا دن بھی دیگر ایام کی طرح باقاعدہ ورکنگ ڈے ہوگا اور تمام سرکاری دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق خیبر پختونخوا کے تمام متعلقہ سرکاری محکموں اور دفاتر پر ہوگا۔

Address

Haji Mir Azal Plaza Near MMC General Hopsital
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raees Muhammad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Raees Muhammad:

Shortcuts

Share